.

عالمی خطرات پر بحث

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی اقتصادی فورم کے حالیہ تین روزہ اجلاس میں بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے کے حوالے سے مختلف نقطہ نظر پیش کئے گئے جن پر تفصیلی بحث ہوئی اور اجلاس کے اختتام پر دنیا کو درپیش سنگین چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مل جل کر کام کرنے پر زور دیا گیا۔ ابوظہبی میں ہونے والی میٹنگ کے دوران ایک ہزار کے قریب قابل فکر رہنما اور ماہرین جمع ہوئے تاکہ دنیا کی تعمیر نو کرنے والی طاقتوں کی قدرو قیمت کا اندازہ لگایا جاسکے اور سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والی عالمی فورم کے سالانہ اجلاس کا ایجنڈا طے کیا جاسکے۔ کانفرنس کے دوران ایک طبقے کا خیال تھا کہ دہشت گردی کا مسئلہ عالمی ایجنڈے میں اب مزید سرفہرست نہیں رہا۔ شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گردی اب پہلے جیسی تیزی سے نہیں پھیل رہی اس لئے اس مضمون کو کم عالمی توجہ دینی چاہئے۔ کانفرنس کے ایک فورم کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ دہشت گردی اب دیگر صورتوں میں پھیل رہی ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک صورتحال اختیار کر چکی ہے جس سے نمٹنا مشکل ہو چکا ہے۔ القاعدہ سے منسلک گروپوں کو اب بھی خطرناک قرار دیا گیا حالانکہ کہیں بعض گروپ خود کو القاعدہ سے منسلک ثابت کر کے لوگوں کو بھرتی کر رہے ہیں اور تربیت تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ اطلاعات اور ذرائع ابلاغ کی ٹیکنالوجی اب بھی دہشت گردی کے اہم ذریعے ثابت ہو رہے ہیں۔ کانفرنس میں ایک شریک کی جانب سے پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال 2012ء میں دہشت گردی کے ریکارڈ واقعات پیش آئے۔ یہ اعدادوشمار یونیورسٹی آف میری لینڈ میں دہشت گردی کی تحقیق کے ادارے کی جانب سے جمع کئے گئے تھے، جو پاکستان سے مناسبت کی وجہ سے انتہائی معنی خیز ہے۔سال 2012ء کے دوران دنیا بھر میں دہشت گردی کے 8ہزار پانچ سو واقعات رونما ہوئے جن میں 15ہزار پانچ سو افراد ہلاک ہوئے حالانکہ رواں برس کے ابتدائی چھ ماہ میں دہشت گردی کے واقعات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ گزشتہ برس پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں ابتدائی 10ممالک میں سرفہرست رہا۔ سال 2012ء میں پاکستان میں دہشت گردی کے 1404واقعات رونما ہوئے جو عراق یا افغانستان میں گزشتہ برس ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے بھی زیادہ ہے۔ عراق میں گزشتہ برس دہشت گردی کے1271 اور افغانستان میں 1,023 واقعات پیش آئے۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں سب سے زیادہ ہلاکتیں 2,632 افغانستان میں ہوئیں جو پہلے نمبر پر رہا جبکہ عراق 2,436 کے ساتھ دوسرے نمبر پر اور پاکستان 1,848 ہلاکتوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا ۔

دنیا بھر میں دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے ابتدائی 10گروپوں میں تحریک طالبان پاکستان چھٹے نمبر پر رہا جس نے سب سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کی۔ افغان طالبان پہلے، بوکو حرام دوسرے، القاعدہ میں عراق تیسرے، الشباب چوتھے اور جزیرہ نما عرب میں القاعدہ گروپ چوتھے نمبر پر رہا ۔ اجلاس میں شریک ایک اسپیکر نے اس نکتے کو اٹھایا کہ دہشت گردی کا ایک متواتر سلسلہ چلا آرہا ہے اور اب ممکنہ طور پر اس کا اگلا شکار افریقہ ہو گا۔ 1970ء کی دہائی میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار یورپ رہا جبکہ اس عرصے میں ایشیاء میں دہشت گردی نسبتاً کم تھی۔ 1980ء کی دہائی میں دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار لاطینی امریکہ کا خطہ رہا۔ 1990ء کی دہائی میں دہشت گردی نے جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کا رخ کیا۔ اجلاس کے دوران شام اور لیبیا کی صورتحال پر بھی خدشات کا اظہار کیا گیا کہ یہاں درپیش چیلنج سے کس طرح نبردآزما ہوا جاسکتا ہے۔ یہ بات جانے بغیر کہ کون کیا ہے اور اس حقیقت کے باوجود کہ بہت سارے لوگ دہشت گردی کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں مغربی ممالک نے خود کو شامی جنگجوئوں کا اتحادی بنایا ہوا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کس طرح خود پیدا کئے گئے چیلنج سے بعد میں نمٹا جاسکتا ہے۔ لیبیا میں ایک دوسرے کے مخالف جنگجوئوں کی وجہ سے بھی خطے کے استحکام کو خطرہ ہے۔ عالمی اقتصادی فورم میں دنیا کو درپیش چیلنجوں کے حوالے سے کسی بھی ایک موضوع پر اتفاق نہ ہو سکا۔ اگر اس ایک نکتے پر اتفاق پایا گیا تو وہ دنیا بھر میں ایک دوسرے پر سے اعتماد کا اٹھنا تھا۔ اعتماد کا یہ فقدان حکمرانوں اور ریاعا کے درمیان اور سوسائٹی میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ریاست کی کمزور حکمرانی اس کی ایک اور حقیقت ہے۔ دنیا تیز رفتاری سے بدل رہی ہے۔ اعتماد کا یہ فقدان اس وجہ سے بھی پیدا ہورہا ہے کیوں کہ ایک ایسے وقت میں جب عوام میں صبر کا پیمانہ کم ہو چکا ہے اور پوری نہ ہونے والی امیدوں کا سمندر بنتا جارہا ہے۔ اطلاعات تک بآسانی رسائی اور نئی نسل کی نیٹ ورکنگ ٹیکنالوجی تک رسائی نے بھی ماحول میں غیر یقینی اور بے چینی کی صورتحال پیدا کردی ہے۔ سوشل میڈیا اس بے اعتمادی کے اظہار کا ایک ذریعہ بنا ہوا ہے۔ اس تمام صورتحال نے حکومتوں کے لئے عوام کی خواہشات پر پورا اترنے کو مشکل بنا دیا ہے۔ ریاست کی لوگوں کو ضروریات زندگی فراہم کرنے کی اہلیت کم ہے اور ریاست کی کمزوری معاشرے میں تفریق کا باعث بن رہی ہے۔ کمزور ریاست کا مطلب یہاں قانون کی حکمرانی نہ ہونا ہے اور یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاملات کیوںکر خراب نہ ہوں گے۔ عالمی ایجنڈے 2014ء کی صورتحال کا اندازہ عالمی اقتصادی فورم کی کانفرنس سے قبل شائع ہونے والی رپورٹ سے بھی کیا جاسکتا ہے جس میں مستقبل کے 10رحجانات کی نشاندہی کی گئی ہے جیسا کہ دنیا بھر میں معاشی پالسیوں پر انحصار کا کم ہونا ہے۔ سروے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حکومتوں اور رعایا کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھ رہا ہے جیسا کہ بینکوں اور وہاں رقوم جمع کرانے والے لوگوں کے درمیان دیکھا جاسکتا ہے۔ جوزف نائے جنہوں نے اجلاس کی مختلف نشستوں کی بحث میں حصہ لیا ،نے اعتماد کے اس مسئلے کو طویل رحجان قرار دیا۔ ان کے خیال میں ایک طویل عرصے سے حکومتوں اوراداروں کے درمیان بد اعتمادی کی فضا قائم ہے۔ اس کا ایک پہلو اداروں میں قانونی طور پر صنعتی سرمایہ کاری کا فقدان بھی ہے جس کا ذکر عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے۔ نائے کے مطابق نئے بااختیار کرداروں کے سامنے آنے کے نتیجے میں حکومتوں اور روایتی رہنمائوں کے لئے اس سے نمٹنا مشکل ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ حکومتوں کو آبادی کے ایک بڑے حصے خصوصاً نوجوانوں کی حکومت پر بڑھتی ہوئی بداعتمادی کو دور کرنے کے لئے بہتر حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ یہ ایک دوسرا اہم موضوع ہے جو عالمی مباحثے میں مسلسل اجاگر ہو رہا ہے جیسا کہ ابوظہبی میں ہوا۔ اس کی وجہ عالمی اداروں میں طرز حکمرانی کی بڑھتی ہوئی کمی ہے جو موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ اداروں پر کڑی تنقید کے بعد عالمی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے اسے نئے سرے سے استوار کرنا ہوگا۔

اجلاس میں اسپیکر نے اپنے تنقیدی نظریئے کا خلاصہ کرتے ہوئے اس کی تین بڑی اہم وجوہات بیان کیں۔ پہلی یہ کہ نمائندگان اور جوابی ردعمل کی کمی، دوسری ان کی ترجیحات اور مالی امداد اور تیسری قائدانہ صلاحیتوں اور انتظامی صلاحیتوں کا فقدان ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان رابطوں میں کمی کی وجہ سے دو طرفہ مسائل بڑھ رہے ہیں یا پھر چند مخصوص ممالک کے درمیان رابطے ہو رہے ہیں تاہم اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔ اسی لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ممالک کے درمیان رابطوں کو فعال کیا جائے اور عالمی اداروں کو دوبارہ سے بااختیار اور ان کی ساخت بحال کی جائے۔ عالمی اقتصادی فورم کے بانی اور چیئرمین کلاوس شواب نے سالانہ رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ موجودہ دور کے سب سے بڑے چیلنج یعنی بہتر مستقبل کے قیام کے لئے عالمی اداروں کی ناکامی پر توجہ مرکوز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ’’ہم موجودہ بحرانوں کو حل کرنے میں اتنے مگن ہیں کہ ایک دوسرے پر منحصر دنیا میں اپنے مستقبل کو بہتر بنانے سے قاصر ہیں‘‘۔ ان کا سب سے اہم نکتہ دنیا کو درپیش سنگین مسائل کے حل کے لئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا تھا۔ انہوں نے ان مسائل کے حل کے لئے انفرادی سوچ کے بجائے نقصان کو کم کرنے کے لئے مختصر مدتی منصوبہ بندی پر زور دیا۔ اجلاس کے عالمی سیکورٹی کے حوالے سے ہونے والے سیشن میں یہ بات خوش آئند طور پر سامنے آئی کہ عالمی دہشت گردی اب دنیا کے لئے سب سے بڑا چیلنج نہیں رہا۔ فوجی کارروائیوں کے سلسلے میں اہم بات یہ سامنے آئی کہ مشرقی ایشیاء میں بحری تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ میں بھی عدم استحکام کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ سیاسی منظرنامے پر جو تبدیلی رونما ہوئی ہے اس میں اہم ترین بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں ریاست کی رٹ کم ہوئی ہے۔ معیشت کے شعبے میں مختلف چیلنجوں کے باوجود چین ترقی کی راہ پر گامزن رہا ہے اور اس نے امریکہ سے بھی بڑی خوش اسلوبی سے تعلقات کو بہتر بنا رکھا ہے۔ ٹیکنالوجی کی بات کریں تو اس وقت پوری دنیا کو سائبر حملوں کا خطرہ درپیش ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آرہی ہے اور لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ معاشرتی سطح پر نوجوانوں کا سوچ کے نئے زاؤیوں کے ساتھ سامنے آنے کی وجہ سے یا تو معاشرہ انتشار کی طرف جا رہا ہے یا پھر سوچنے کی نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ اس سیشن کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سوسائٹیوں کی تبدیلیوں کیلئے اہل قیادت کو منتخب کرنے اور انتخابات کے بعد احتساب کا عمل بھی موجود ہونا چاہئے کیوں کہ عدم احتساب کی وجہ سے ایک بااثر اور ذمہ دار حکومتوں کا قیام ناممکن ہوگا۔ اس بات پر بھی شرکاء میں اتفاق پایا گیا کہ حکومت کو بہتری کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے چاہیئں اور ایسے اقدامات کو اپنے ایجنڈے میں ترجیح دینی چاہئے جن کی بدولت معاشرے میں اتحاد پیدا ہو نہ کہ وہ تقسیم ہو جائے۔

کیا ان باتوں میں پاکستان کے لئے کوئی سبق موجود ہے؟ ہاں بہت زیادہ۔ اسے سیاسی لوگوں اور دیگر عناصر جو طرز حکمرانی میں اپنا اثر رکھتے ہیں، انہیں یہ باتیں سننی اور اس سے سبق سیکھنا چاہئے کہ ہمارے اردگرد دنیا میں کیا ہورہا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.