امن قائم کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

جہاں شہد ہوتا ہے وہاں مکھیاں آجاتی ہیں، جہاں کہیں دولت ہوتی ہے، وہاں پر ہر طرف سے بڑی اور چھوٹی طاقتیں پہنچ جاتی ہیں، جہاں خوراک ہو وہاں پر انسان تو انسان جانور بھی کشاں کشاں چلے آتے ہیں، جہاں تیل کی دولت ہو تو اُس کے حصول کے لئے جنگ ہونا عام بات ہے۔ اس کے علاوہ ازل سے رسائی کے راستوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور آج بھی امریکہ کا یہ دعویٰ ہے کہ اُس کا دُنیا کے آبی راستوں پر قبضہ ہے۔ رسائی کے راستے نہر سوئز کو مصر کے صدر جمال ناصر نے بند کرنے کی کوشش کی تو برطانیہ اور فرانس اس پر حملہ آور ہوئے، اِس طرح آبنائے ہرمز کو روکنے کی دھمکی دی گئی تو امریکہ نے سیکڑوں جہاز خلیج میں لاکھڑے کئے۔ اس لئے برطانوی دانشور اور ایڈمرل یہ کہتے ہیں کہ جو ملک بھی سمندری راستوں پر قابض ہوگا وہی دُنیا پر حکمرانی کرے گا اور جب یورپ دُنیا کی دولت کو لوٹنے کیلئے ایسا نکلا جیسے شکاری شکار کرنے کو نکلتا ہے تو ہم نے دیکھا کہ دُنیا بھر میں اُن کی کالونیاں بن گئیں۔ برطانیہ، فرانس، ولندیزی اور دیگر ممالک سمندری راستے سے آکر حملہ آور ہوئے، تاجر کے طور پر آئے تو ہندوستان کو کمزور دیکھ کر یہاں قابض ہوگئے۔ ہندوستان ایک زمانے میں سونے کی چڑیا کہلاتا تھا تو سب اُس کی طرف للچائی نظروں سے دیکھتے تھے۔ برطانیہ کے لوگ زیادہ شاطر تھے، انہوں نے ہندوستان پر قبضہ کرلیا اور اس وقت کی سپر طاقت بن گیا۔ امریکہ نے برطانیہ کو دھکیلا تو ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ کئی ممالک آزاد ہو گئے تو ہم نے امریکہ کو اپنا نجات دہندہ سمجھا۔ اگرچہ وہ برطانیہ کو دھکا دے کر پیچھے ہٹا رہا تھا اور خود سپر طاقت بن رہا تھا۔

اِس کے بعد پاکستان کی کئی باتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو ایک خوفناک منظرنامہ بنتا ہے۔ ایک تو یہ کہ ریکوڈک میں 1200 بلین ڈالر کا سونا ہے، اس کے راوی پاکستان کے ایک سائنسدان ہیں، دوسری بات کے راوی بھی وہی سائنسداں ہیں پھر ایک آسٹریلین کمپنی کی رپورٹ اس کی تصدیق کرتی ہے کہ ہنزہ کے پہاڑوں میں سونا ہے اور اس علاقے کوقوس امید ( (Arc of Hope کہا جاتا ہے، تیسرے یہ کہ سندھ میں بے تحاشا کوئلہ اور گیس کے ذخائر ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان ایک امیر ملک ہے، سونے پر سہاگہ یہ کہ پاکستان چین کے ساتھ مل کر خطے میں کھیل کی تبدیلی کی بات کرتا ہے اور معاشی کوریڈو بنانے کا اعلان کردیا ہے اور نواز شریف نے 26 نومبر کو K2/K3 کے سول ایٹمی نیوکلیئر ایٹمی پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے یہ کہا تھا کہ پاکستان اس وقت تنہا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ چین جیسا دوست بھی ہے۔ ہم اِس کے ساتھ وہ بھی جوڑیں گے جو صدر پاکستان ممنون حسین نے ہم سے29 نومبر 2013ء کو ایک ملاقات میں کہا تھا کہ پاکستان نعمت ِخداوندی ہے اور اللہ کی مدد اب ہمارے ساتھ شامل حال ہے۔

اگر یہ ہے تو کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ورنہ پاکستان میں بقیہ پانچ باتیں خون خرابے اور بڑی جنگ کی اطلاع دیتی ہیں۔ ممکن ہے کہ لوگ ہم سے اس بات سے اتفاق نہ کریں اور نہ کریں اور نہ ہو تو اپنے آپ کو غلط ثابت ہوتے ہوئے ہم اچھا محسوس کریں گے ورنہ ہمیں لگتا ہے کہ پاکستان سخت گرداب میں آنے والا ہے۔ اس کی تیاری سول حکومت کو کرنا چاہئے۔ یہ صورتِ حال کئی تقاضے کرتی ہے اور اِس بات کا احساس دلاتی ہے کہ اگر آپ مالدار ہیں تو آپ کو اپنے مال کی حفاظت کے لئے ضروری اقدامات کرنا چاہئیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ طاقتور بھی ہیں مگر ہمیں اپنے مال کی حفاظت کا ادراک نہیں ہے یا ہم اپنے ملک کے مضبوطی کے تصور کو قائم نہیں کر پارہے ہیں۔ ملک مضبوط ہے، ایٹمی قوت ہے مگر ہمارا کوئی حلقہ اثر نہیں۔ ہم ایٹمی قوت ہیں مگر اس کا اظہار نہیں، طاقتور ہیں مگر اپنے ملک میں امن و امان قائم نہیں کرپارہے ہیں۔ اب بنیادی بات یہ ہے کہ پاکستان کے اِن باتوں کا اظہار کرنے کا وقت آگیا ہے کہ اُس کے ملک میں امن قائم ہو، ایسی تنظیمیں جو ریاست کو چیلنج کر رہی ہیں اُن کو سمجھائے یا کچل دے۔ مگر اِس سے پہلے اپنی سرحدوں کی حفاظت کا انتظام کرلے۔ جیسا کہ میاں نواز شریف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی میں کہا تھا کہ ہمارے پاس امن قائم کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے، چاہے وہ مذاکرات کے ذریعے ہو یا طاقت کے ذریعے، ہم امن قائم کرکے چھوڑیں گے۔

ہم میاں نواز شریف کی بات کی مکمل حمایت کرتے ہیں پھر صدر مملکت ممنون حسین نے بھی یہ کہا تھا کہ پاکستان مزید نیچے کی طرف اب نہیں جاسکتا ہے، اب ہمیں آگے بڑھنا ہے، اگر میاں نواز شریف کی پہلی حکومت نہیں گرائی جاتی تو اب تک پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں شامل ہوتا۔ میاں نواز شریف نے برملا کہا کہ وہ کراچی کو سنگاپور اور دبئی سے آگے دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب وقت کے پہئے نے خوش قسمتی کو کراچی کے در پر لاکھڑا کیا تھا اور وہ دبئی کی طرح ترقی یافتہ ہونے کیلئے تیار تھا تو اس وقت کراچی میں خونریزی کرا کر خوش قسمتی کی دیوی کا رُخ دبئی کی طرف موڑا گیا۔ مشرق اور مغرب کے فضائی راستے جوڑنے کیلئے کراچی واحد ایئرپورٹ تھا، اس کی جگہ دبئی نے لے لی اب نواز شریف جو خواہش کررہے ہیں وہ صحیح ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ کراچی کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں۔ کراچی اور ملک بھر میں اس وقت ہر طرح کی دہشت گردی ہورہی ہے، وہ مسلکی ہے تو لسانی بھی ہے، وہاں لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا سرگرم عمل ہیں، ٹرانسپورٹ مافیا اور پانی مافیا کی سرگرمیاں بھی عروج پر ہیں، اس لئے اِن تمام معاملات کو آہنی ہاتھوں سے نمٹ کر اِس شہر اور ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کی سخت ضرورت ہے۔

ویسے بھی کراچی شہر سے فی الحال 68 فیصد ریونیو وصول ہوتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی معدنی دولت کو بھی نکالنا ہوگا جس کو نہ نکالنے دینے کیلئے عالمی سازشیں روبہ عمل ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں جہاں ملکی سرحدوں کے غیر معمولی انتظامات کرنا ہوں گے اور اس کا اظہار فوجی مشقوں سے یا پھر عملاً کوئی سائنسی تجربہ کرکے دُنیا بھر کے مہم جوئوں کو پاکستان سے دور رہنے کا پیغام دینا ہو گا۔ اِس کے ساتھ ساتھ کھیل کی تبدیلی کی اصطلاع بہت گہری اور عالمی طاقتوں کو چیلنج کرنے والی ہے، اِس کے معنی اور اِس کے اثرات دور رس ہیں۔ اس کی پاکستان کو تیاری کیلئے موثر کن اقدامات اٹھانا ہوں گے ورنہ عالمی قوتیں جہاں اندرونی خلفشار برپا کرنے پر تلی ہوئی ہیں وہ ایک جنگ بھی پاکستان پر مسلط کرسکتی ہیں۔ اِس سلسلے میں جہاں پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کو ایک صفحہ پر لانا ضروری ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے متحرک ہوں اور اُن کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کس قدر مشکلات میں گھرا ہوا ہے کہ اُس کی بقا تک کو خطرہ لاحق ہے اس لئے وہ سب اچھے ہوں یا بُرے، بڑے ہوں یا چھوٹے، اپنے ملک کی حفاظت اور جو کام اُن کے سپرد ہے اُس کو انجام دینے کیلئے کمربستہ ہوجانا چاہئے۔ دیکھئے اگر پاکستان ہوگا تو سب کچھ ہے ورنہ تو کچھ بھی نہیں۔ بے ایمانوں کو بے ایمانی کے لئے راستہ چاہئے، کوئی بعید نہیں کہ اگر گڑبڑ ہو تو وہ کام میں آجائیں۔ اسمگلروں سے لے کر دہشت گرد کہلانے والے یا انتہاپسند کہلانے والے لوگ یا کسی مسلک یا زبان کے بولنے والے لوگ سب کو متحد ہونا ہوگا۔ حکومت کو بھی یکسو ہو کر ملک کا نظام آئین و قانون کو سختی سے لاگو کرکےپاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی رکاوٹ دور کرنا چاہئے۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہے، اپنے آپ کو بھی سنبھال سکتا ہے اور دوسرے ملکوں کو ایٹمی مواد فراہم کر سکتا ہے اسی لئے ایک سائنسدان نے کہا کہ آج پاکستان کا کوئی دشمن نہیں، ہمارے سیاستدانوں کی ٹانگیں کیوں کانپتی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں