پاگل پن

محمد بلال غوری
محمد بلال غوری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

گمشدگی کے اعلانات اور اشتہارات میں ایک لفظ تواتر سے استعمال ہوتا ہے کہ گم ہوئے فرد کا دماغی توازن درست نہیں ۔دماغی توازن میں معمولی خلل ہو تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فلاں کریک یا خر دماغ ہے،اس کا اسکرو ڈھیلا ہے یا کھسکا ہوا ہے۔اگر پاگل پن اپنی انتہا پر ہو تو فاترالعقل کی اصطلاح بھی بروئے کار لائی جاتی ہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا دماغی توازن مکمل طور پر تو خراب نہیں ہوتا البتہ ان کی یادداشت اور حافظہ کمزور ہوتا ہے،مشاہدے کی صلاحیت مفقود اور جانچنے پرکھنے کی قابلیت معدوم ہوتی ہے،ان عاقبت نا اندیش افراد کو اپنے نفع نقصان،اچھے برے اور دوست دشمن کی پہچان نہیں ہوتی،ہر وقت ان کے اوسان خطا رہتے ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ یہ کب کیا کر بیٹھیں۔

ایسے افراد کو ہم مخبوط الحواس کہتے ہیں ۔انگریزی میں اس کیفیت کو’’ڈیمنشیا‘‘ کا مرض کہا جاتا ہے۔اس وقت دنیا بھر میں مخبوط الحواس افراد کی تعداد کم و بیش پانچ کروڑ بتائی جاتی ہے ہر سال 4.6 ملین نئے کیس سامنے آتے ہیں،اس حساب سے توقع یہ ہے کہ 2050ء تک ایسے افراد کی تعداد تین گنا بڑھ جائے گی اور کرہ ارض پر تقریباً 15کروڑ ڈیمنشیا کے مریض موجود ہوں گے۔ چند روز قبل ایک عالمی ادارے کی رپورٹ نظر سے گزری جس کے مطابق 71فیصد مخبوط الحواس افراد کا تعلق پسماندہ اور غریب ممالک سے ہے حالانکہ یہ کوئی تحقیق طلب بات تو نہ تھی ،غربت اور تنگدستی ہو تو حواس کہاں سلامت رہتے ہیں۔ بہرطور اس رپورٹ کے مطابق چین میں مخبوط الحواس افراد کی تعداد 50لاکھ ہے، مغربی یورپ میں ایسے لوگوں کا تخمینہ 48لاکھ لگایا گیا ہے۔شمالی امریکہ میں 34لاکھ افراد پاگلوں کی اس قطار میں شمار ہوتے ہیں جبکہ برطانیہ میں ڈیمنشیا کے مریضوں کی تعداد 8 لاکھ ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ یہاں مخبوط الحواسی کا کیا عالم ہے۔ویسے یہاں مخبوط الحواس افراد کے بجائے فکری اعتبار سے صحت مند افراد کی گنتی کر لی جائے تو یہ کام بہت جلدی نمٹ جائے گا ورنہ تو اعداد و شمار مرتب کرنے والے خود اپنے حواس کھو بیٹھیں گے۔

ہمارے ہاں چور مچائے شور کے مصداق ہر پاگل باآواز بلند کہتا پھرتا ہے،میں کوئی پاگل نہیں ہوں ۔تمام پاگل خود کو عقل کُل سمجھتے ہیں اور دوسروں کو مخبوط الحواس کہتے پھرتے ہیں۔ مدرسے میں پڑھنے والے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو پاگل پن کا مریض قرار دیتے ہیں ،یہ پینٹ پتلون والے مولوی کو خبطی سمجھتے ہیں۔ دانشوروں کا خیال ہے یہ قوم پرلے درجے کی احمق ہے، عوام بتیسی نکال کر کہتے ہیں ،کتابیں پڑھ پڑھ کر ان کی مت ماری گئی ہے۔ غریب کہتے ہیں ،دولت اور شہرت کی دُھن پاگل پن ہے۔ امیروں کے مطابق سادگی و قناعت پر یقین رکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ فقیہہ شہر کا اصرار کہ مے نوشوں کا خمار پاگل پن ہے اور جام و مینا کی چاہ میں سرشار بادہ خوار کہتے ہیں زاہد خشک کا دماغی توازن درست نہیں۔ لبرل کہتے ہیں ،امریکی ڈرون گرانا پاگل پن ہے،قدامت پسندوں کے مطابق بے غیرتی کی حد تک گر جانا پاگل پن ہے۔ ویسے پاگل بھی اتنے پاگل نہیں ہوتے جتنا ہم سمجھتے ہیں۔

میں نے ایک مرتبہ پاگل خانے میں کسی سے پوچھا،یار تم تو بھلے چنگے لگتے ہو،تمہاری باتوں سے دانش ٹپکتی ہے،بہت دور اندیشی کی باتیں کرتے ہو،تمہیں کس نے مخبوط الحواس قرار دیکر اس اسپتال میں داخل کرادیا۔ان نے حسرت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھا اور ایک سرد آہ بھرتے ہوئےکہنے لگا،یہ سب جمہوریت کا کمال ہے۔ میں ایک دم چونک گیا، جمہوریت؟ کہنے لگا ،ہاں جمہوریت۔آج میں اس نگوڑی جمہوریت کی وجہ سے پاگل خانے میں ہوں ۔میں نے کرپشن کے خلاف آواز اُٹھائی،میں نے جعلی ڈگری والوں کو بُرابھلا کہا،میں نے سیاست کو عبادت قرار دیا،میں نے دولت اور طاقت کے نشے کو پاگل پن کہا،میرا خیال تھا ان باتوں کو جھٹلانے والے پاگل ہیں،ان سب کا خیال تھا کہ یہ کتابی باتیں کرنے والا بے وقوف ہے۔چونکہ جمہوری دور ہے لہٰذا مجھے کثرت رائے سے سب پاگلوں نے پاگل قرار دیتے ہوئے یہاں بھیج دیا۔ میں اس کی فلسفیانہ بات کو سمجھنے کی تگ و دو میں تھا کہ اچانک پاگل خانے کے گرائونڈ سے شور کی آواز آئی،میں دوڑ کر باہر گیا تو ایک پاگل کھمبے پر چڑھ کر تقریر کر رہا تھا اور نیچے کھڑے تمام پاگل نعرے لگا رہے تھے۔

میں نے اسپتال کے وارڈن سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ کہنے لگا،بس جناب کیا بتائوں ،آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ عقلمندی کی انتہا ہو سکتی ہے مگر پاگل پن کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔یہ جو پاگل کھمبے پر چڑھ کر تقریر کر رہا ہے یہ خود کو وزیراعظم سمجھتا ہے اور اس کے آس پاس نیچے جو پاگل کھڑے ہیں ،یہ اس لئے کسی کو خاطر میں نہیں لاتے کہ وہ خود کو اپنے اس وزیراعظم کی کابینہ سمجھتے ہیں اور باقاعدہ ہوٹر کی آواز نکالتے ہوئے جاتے ہیں۔میں نے وارڈن کی فضول باتوں میں الجھ کر وقت ضائع کرنے کے بجائے اسے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا، جناب والا! یہ وزیر اعظم کہیں جوش خطابت میں اپنی ہڈی پسلی نہ تڑوا بیٹھے، اسے نیچے اتارنے کا بندوبست کریں۔ اس نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ اسے نیچے اتارنے کی کوئی صورت نہیں،یہ کسی کی نہیں مانے گا،پھر بھی ریسکیو 1122 والوں کو بلا لیتے ہیں شاید کوئی حل نکل آئے۔ وہ اپنے موبائل فون سے کال کرنے ہی لگا تھا کہ میرے ساتھ کھڑے اسی پاگل دانشور نے فون چھین لیا جس نے مجھے اپنی روداد سنائی تھی۔ ایک لمحے کو مجھے یوں لگا جیسے وہ واقعی کوئی مخبوط الحواس شخص ہے لیکن اس نے کوئی ایسی ویسی حرکت کرنے کے بجائے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا،آپ اگر مجھے ایک میگا فون لا دیں تو میں اس خود ساختہ وزیراعظم کا پاگل پن ایک سیکنڈ میں دور کر کے اسے نیچے اتار سکتا ہوں۔ نہ جانے کیوں مجھے اس کی بات پر یقین آ گیا اور میں بھاگ کر میگافون لے آیا۔ اس نے میگا فون ہاتھ میں لے کر اعلان کیا،جناب وزیراعظم صاحب! میں جی ایچ کیو سے بات کر رہا ہوں ۔آپ شرافت سے نیچے آ جائیں ،ورنہ جس سیڑھی کے ذریعے آپ اوپر گئے ہیں ،ہم اسے کھینچ بھی سکتے ہیں اور آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ سانپ سیڑھی کے اس کھیل میں جیت کس کی ہوتی ہے۔ یہ آواز کانوں میں پڑتے ہی کھمبے پر چڑھے وزیراعظم کا ’’احتساب‘‘ نکل گیا اور وہ چپ چاپ نیچے اُتر آیا۔ اس کے بعد یہ پاگل جب بھی آپے سے باہر ہونے لگتے ہیں ،انہیں قابو میں رکھنے کرنے کیلئے وارڈن یہی تیر بہدف نسخہ استعمال کرتا ہے مگر جس دانشور نے یہ بات کہی اسے اب خطرناک پاگلوں کی فہرست میں شامل کر کے زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔

پاگل خانے میں گزارے گئے ان لمحات نے شاید میرے اسکرو بھی ڈھیلے کر دیئے ہیں اس لئے آج کل میرے دماغ میں بہت عجیب عجیب خیالات آ رہے ہیں۔میں سوچ رہا ہوں کہ اگر الطاف بھائی فلسفہ محبت پر کتاب لکھ سکتے ہیں تو سابق صدر آصف زرداری کو بھی فلسفہ امانت و دیانت پر خامہ فرسائی کرنی چاہئے، وینا ملک فلسفہ شرم و حیا پر روشنی ڈالنا چاہیں تو کوئی حرج نہیں ،مولوی فضل اللہ گاندھی کے فلسفۂ عدم تشدد پر طبع آزمائی کریں تو سواد آ جائے، ایک مشہور مولانا موسیقی کے اسرارو رموز پر اپنے خیالات قلمبند کریں تو ارباب ذوق عش عش کر اٹھیں ۔الماس بوبی جنگی حکمت عملی پر کتاب لکھیں تو ہاٹ کیک کی طرح بکے۔ ایاز امیر اپنے من پسند مشروب کی چسکیاں لیتے ہوئے فقہی مسائل پر ماہرانہ رائے دیں یا مولانا حنیف جالندھری پاکستان پینل کوڈ کی تشریح و تعبیر کے لئے قلم اُٹھا لیں تو سب مشکلیں کافور ہوجائیں اور اندھے راستے پُرنور ہو جائیں۔احمقانہ خواہشات تو اور بھی بہت ہیں مگر اس دانشور کے انجام سے خوف آتا ہے جسے جمہوریت نوازوں نے کثرت رائے کی رُو سے پاگل خانے میں جکڑ رکھا ہے۔اس لئے اس پاگل پن کو یہیں ختم کرتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں