.

ایران، امریکہ اور پاکستان

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیشنلزم اور سفارتکاری کوئی ایرانیوں سے سیکھے۔ حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو ایران کی مثالیں دے دے کر پاکستان کو ایران کی طرح ممولے کو شہباز سے لڑانے کا درس دیتے ہیں۔ حالانکہ کہاں ایرانیوں کا نیشنلزم اور کہاں پاکستانیوں کا۔ کہاں ان کی پراکسی وارز اور کہاں ہم لوگوں کی۔ کہاں ان کی سفارتکاری اور کہاں ہماری۔ ایرانی پہلے ایرانی ہیں اور اس کے بعد کچھ اور جبکہ ہم پاکستانی بہت کچھ پہلے ہیں‘ سب سے آخر میں پاکستانی ہیں۔ ایرانی ہمہ وقت قومی غرور اور تفاخر کے احساس سے سرشار ہوتے ہیں جبکہ ہماری صفوں میں ان لوگوں کی کمی نہیں جو پاکستان سے زیادہ ایران‘ سعودی عرب یا امریکہ وغیرہ کے وفادار ہیں۔ ایران ہر وقت پراکسی جنگیں لڑتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں اس نے ہر محاذ پر اپنی پراکسیز سرگرم عمل کر رکھی ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ ہر حربہ استعمال کررہا ہے لیکن ایرانیوں کا کمال یہ ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کے لوگوں کو اپنے پراکسیز کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اپنے شہریوں یا اپنے نظام کو اس سے آلودہ نہیں ہونے دیتا۔ اس کے برعکس پاکستان واحد ملک ہے جو اپنے شہریوں کو بھی بطور پراکسی استعمال کرتا ہے اور جو پراکسی جنگوں کے لئے اپنے نظام کو بھی درھم برھم کردیتا ہے مثلاً سوویت یونین کی مزاحمت ایران نے بھی کی اور وہاں پر مضبوط پراکسیز بھی رکھیں لیکن نہ تو مہاجرین کو اپنی سوسائٹی میں ضم ہونے دیا اور نہ اپنے ملک میں انہیں اپنے نظام کے اندر کوئی رعایت دی۔ اس کے برعکس ہم نے اس جنگ کی خاطر اپنے ملک میں کلاشنکوف کلچر کو فروغ دیا اور اپنے ہی شہریوں کے جتھے بنا کر انہیں اسلحہ تھما دیا۔

ایران القاعدہ اور طالبان کو اپنا دشمن نمبرون سمجھتا تھا اس لئے نائن الیون سے قبل اس نے افغانستان میں ان دونوں کی مخالف شمالی اتحادیوں کی پراکسیز کو بھرپور طریقے سے مدد فراہم کی لیکن نائن الیون کے بعد جب امریکہ خطے میں آگیا اور عراق میں بھی اس کے گھس جانے کے بعد جب ایران کو احساس ہوا کہ وہ درمیان میں سینڈوچ ہوگیا ہے تو ایک طرف اس نے عراق کی شیعہ تنظیموں کو سپورٹ دے کر اپنی پراکسیز کے طور پر استعمال کیا اور دوسری طرف ماضی کے دشمنوں یعنی القاعدہ اور طالبان کے ساتھ خفیہ روابط استوار کرلئے۔ عراق میں اس نے اپنے پراکسیز کا اس خوبصورتی سے استعمال کیا کہ امریکہ جھکنے پر مجبور ہوگیا اور عراق کی سیاسی بساط میں استحقاق سے بڑھ کر ایران کو حصہ دے دیا۔ اب دوسری طرف القاعدہ اور طالبان کے مقابلے میں امریکہ کے ساتھ ایٹمی پروگرام کے معاملے پر ڈیل کر لی لیکن کمال ملاحظہ کیجئے کہ پچھلے آٹھ دس سالوں میں اس نے بیک وقت حامد کرزئی‘ طالبان اور شمالی افغانستان کی تنظیموں سے پراکسیز کا کام لیا۔ پچھلے دس سالوں میں افغانستان کے اندر میڈیا ‘ کلچر اور سیاست کے میدانوں میں امریکہ کے بعد اگر کسی ملک نے افغانستان میں اپنی لابیوں کو مضبوط کرلیا ہے تو وہ ایران ہے۔

اب سفارتکاری کی طرف آجائیے ۔ گزشتہ تین عشروں کے دوران ایران عالمی سطح پر امریکہ اور علاقائی سطح پر ایک عرب ملک کے ساتھ محاذ آرائی میں مگن رہا ۔ درمیان میں عراق کے ساتھ جنگ کا مرحلہ بھی آیا لیکن ایرانی بہترین سفارتکاری کے ذریعے ہر موقع پر نکلنے میں کامیاب رہے ۔ ایک طرف ملک کے اندر اور باہر اس نے اپنے انقلابی ہونے کا جعلی امیج برقرار رکھا اور دوسری طرف جہاں ضرورت پڑی امریکہ اور دیگر عالمی قوتوں سے درپردہ ساز باز بھی کی۔ جہاں ضروری سمجھا لچک دکھادی اور جہاں مجبوری قرار پائی‘ پسپائی بھی اختیار کی۔ ایرانی قیادت صدر خاتمی کے دور میں اس نتیجے تک آگئی تھی کہ اسے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے چاہئیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر کے ایشو کے وقت بھی ایران نے پاکستان سے بے وفائی کرکے امریکہ اور آئی اے ای اے کو معلومات فراہم کئے تھے لیکن درمیان میں نائن الیون کے بعد کی مخصوص صورت حال اور احمدی نژاد کے دور کا وقفہ آگیا۔ اب اچانک ایران نے ایک بار پھر ایٹمی پروگرام سے متعلق اپنے موقف میں لچک، امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے ساتھ مفاہمت کر لی جس نے دنیا بھر کے تجزیہ کاروں کو حیرت میں تو ڈال دیا لیکن اس اقدام کے ذریعے ایران نے پورے مشرق وسط اور خطے میں اپنا کام آسان کردیا۔ یہ ایرانی سفارتکاری کا ایسا اچانک اور ہمہ جہت وار ہے کہ اس نے ہر محاذ پر اس کے حریفوں کو ششدر کر کے رکھ دیا۔ اس اقدام سے اس کی اقتصادی مشکلات کے خاتمے کی راہ ہموار ہو گی۔ سفارتی محاذوں پر اس کی لابنگ مضبوط ہوجائے گی۔ روس اور چین پہلے سے اس کے ساتھ کھڑے تھے‘ اب مغربی دنیا کے ساتھ بھی اس کی نئی دوستی میں گرمجوشی دیکھنے کو ملے گی۔

افغانستان کے باقی پڑوسیوں کو یہ امید تھی اور خود ایران کو یہ ڈر تھا کہ افغانستان سے نکلنے کے بعد امریکہ وہاں جو سیاسی بساط بچھا کر چھوڑے گا اس سے ایران کو باہر رکھ کر اس کی مخالف قوتوں کو مسلط کرنے کی کوشش کی جائے گی لیکن اب جب امریکہ کے ساتھ مفاہمت ہو گئی تو ایران عراق کی طرح یہاں پر بھی اپنے پراکسیز کو استعمال کرکے مستقبل کی بساط میں اپنے لئے خاطر خواہ حصہ لے لے گا۔ سوال یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کی اس مفاہمت کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ جواب ہے کہ نہایت بھیانک اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ اس مفاہمت کے بعد افغانستان کے حوالے سے امریکہ کا پاکستان پر انحصار مزید کم ہوجائے گا۔ امریکہ کو اس وقت واحد اور اصل ضرورت پاکستان کے راستے اپنے حربی سامان کوواپس لے جانے کی تھی۔ اب اگر پاکستان نے اس بارگیننگ چپ کو سختی کے ساتھ استعمال کرنے کی کوشش کی تو ایران یہ خدمات امریکہ کو فراہم کردے گا۔ سمندر سے ایران کے راستے افغانستان تک سڑکیں بھی بہتر ہیں‘ ریلوے کی سہولت بھی ہے اور وہاں ان کے کنٹینروں پر حملوں کا بھی خطرہ نہیں ہے۔ ایران نے بندرعباس سے افغانستان تک ہندوستان کے تعاون سے آمدورفت کی زبردست سہولتیں فراہم کی ہیں۔ اب اگر پاکستان نے زیادہ نخرے بازی کی تو امریکہ اور ایران نیٹو سپلائی کے حوالے سے ڈیل کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔

اسی طرح افغانستان کے ضمن میں ایران پاکستان سے زیادہ ہندوستان کا اسٹریٹجک اتحادی ہے۔ اس وقت افغانستان میں ہندوستان کا جتنا بھی اثرورسوخ ہے وہ سب ایران کے راستے سے ہے۔ پہلے تو چونکہ امریکہ ایران کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا تھا اس لئے ہندوستان کا کام بھی مشکل ہوجاتا تھا لیکن اب ایران کے راستے ہندوستان کا اثر ورسوخ اس لئے مزید بڑھ جائے گا کیونکہ امریکہ رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ پاکستانی پالیسی سازوں کا یہ خیال تھا کہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے امریکی صرف پاکستان کی بات سنیں گے لیکن اب اس میں ایران بھی دخیل ہو گیا۔

وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اپنے تاریخی رابطوں اور روس کے ساتھ بہتر تعلقات کو استعمال کرکے ایران اپنی مرضی منوانے کے لئے اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرسکتا ہے۔ اسی طرح ایران کے ذریعے ہندوستانی مفادات کو بھی مزید تحفظ مل سکتا ہے۔ اس تناظر میں بھی پاکستان کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ تیسرا اثر پاکستان کے اندرونی معاملات پر منفی صورت میں یوں پڑے گا کہ ایران اب پاکستان کے اندرونی معاملات کو مزید توجہ دے سکے گا۔ امریکہ جیسے بڑے دشمن کا خطرہ موجود تھا تو ایران پاکستان جیسے پڑوسیوں کے ساتھ بگاڑسے ممکن حد تک گریز کرتا تھا۔

اب جبکہ ایران اس بڑے محاذ سے فارغ ہوگیا ہے تو یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ پاکستان میں عرب ممالک کی پراکیسز کے مقابلے کے لئے یہاں پر موجود اپنے پراکیسز کو مزید متحرک کردے گا۔ سوال یہ ہے کہ ان سفارتی چیلنجوں کا مقابلہ پاکستانی وزارت خارجہ کر سکے گا؟ جواب نفی میں اس لئے ہے کہ یہاں تو معاملات فاطمی صاحب کے سپرد کردیئے گئے ہیں جو چھ ماہ کے دوران میرٹ پر سیکرٹری خارجہ یا پھر امریکہ اور برطانیہ جیسے اہم ممالک میں سفیروں کا فیصلہ تک نہ کرسکے۔ انہوں نے تو سب سے زیادہ دفتر خارجہ کے افسران کو پریشان کررکھا ہے اور ان کی ساری صلاحیتیں تو سرتاج عزیز صاحب کے خلاف اندرونی سفارتکاری میں صرف ہو رہی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.