.

پاکستان کے ان گنت نیلسن منڈیلا

انجم نیاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب بھی پاکستان میں کوئی خود کو نیلسن منڈیلا کے ہم پلہ قرار دیتا ہے تو اس کے اپنے لوگ اُس کی حماقت کا جواب طنزیہ ہنسی سے دیتے ہیں۔ چونکہ خود کو اُس عظیم افریقی رہنما کے مساوی قرار دینے والے اپنے کیے کا ’’پھل‘‘ فوراً ہی پالیتے ہیں، اس لیے ان کا نام لکھ کر میں اُن کو مزید شرمند ہ نہیں کرنا چاہتی۔تاہم ہمارے ہاں نیلسن منڈیلا منظرِ عام پر آنے سے باز نہیں آتے ہیں۔ پاکستان میں ہر دور میں، ہرسیاسی جماعت میں اور ہر حکومت میں ایسے فولاد صفت افراد واقعی موجود ہوتے ہیں جو مصائب کا سامناکرتے ہیں لیکن کیا اُنہیں نیلسن منڈیلا ہونے کا دعویٰ زیب دیتا ہے؟

اصل نیلسن منڈیلا اب اس دنیا میں نہیں رہے ہیں لیکن وہ اپنے پیچھے ایک روثہ چھوڑ کر جارہے ہیں کہ اس دنیا میں رہنے والے تمام انسان برابر ہیں۔ چناچہ آج جب وہ عظیم انسان اس دنیا سے انسانی مساوات کا علم بلند کرتے ہوئے رخصت ہوچکا ہے، اور دنیا بھر کے لوگ انہیں خراجِ عقیدت پیش کررہے ہیں تو پاکستانی رہنماؤں کے پا س بھی اس کا ایک موقع ہے…سچے دل سے عہد کرلیں کہ وہ آئندہ کبھی بھی خود کو پاکستانی نیلسن منڈیلا نہیں کہیں گے(خاص طور پر جب وہ بدعنوانی اور لوٹ مار کے الزام میں ’’ اندر ‘‘ ہوں)۔ درحقیقت اس وقت دنیا کا کوئی انسان بھی ان کا ہم پلہ نہیں ہے۔ اُنھوں نے طویل عرصہ جہدوجہدکی، قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں اور انسانوں کو نسلی امتیاز کے جہنم سے آزاد کرایا۔ ایک مشہور اخبارمیں ایک بلاگ لکھنے والے نے ان الفاظ میں اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کیا…’’بہادری، دلیری اور برادشت زندہ باد!منڈیلا نے وہ کچھ کیا جو صرف پیغمبروں سے ہی منسوب کیا جاسکتا ہے۔ اُنھوں نے جس طرح ان لوگوں، جنھوں نے تیس سال تک اُن کو اذیتیں دیں، کومعاف کردیا، عام انسانی فعل کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔ ‘‘

عمر بھر نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کرنے والا جنوبی افریقہ کا عظیم سپوت اپنے پیچھے دانائی اور برداشت کا روثہ چھوڑ گیا ہے۔ ان کے کہے گئے الفاظ انسانوں کو نسل در نسل تحریک بخشتے ہوئے جوش و جذبے سے سرشار کرتے رہیں گے۔ اپنی زندگی کو آزادی اور مساوات کی جدوجہد کے لیے وقف کرتے ہوئے منڈیلا اس بات پر یقین رکھتے تھے …’’تمام انسان آزاد پیدا کیے گئے ہیں اس لیے ان کا حق ہے کہ وہ نہ صرف غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوں بلکہ ایسی زندگی بسر کریں جس کی بنیاد دوسروں کے حقوق کے احترام پر ہو۔‘‘

ایک لمحے کے لیے رک کر ذرا سوچیں کہ کیا پاکستان کا کوئی رہنما، بابائے قوم کے سوا، اس قابل ہے کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے یہ دعویٰ کر سکے کہ اُس نے بھی پاکستان کے لوگوں کو بھوک، غربت اورخوف سے رہائی دلانے کے کچھ کیا ہے؟یقیناًدور دور تک ایسا کوئی دکھائی نہیں دیتا ہے۔ گیارہ سال پہلے میں نے ایک پاکستانی ، عمر نعمان،جو یو این میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے، کا انٹرویو کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر اُس وقت کے صدرِ پاکستان ،جنرل مشرف، پاکستان کی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرسکیں تو وہ بھی نوبل انعام کے حقدار ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی معیشت کو بہتر بنانے کے دو انتہائی ادق مسائل، کراچی اور کشمیر، کا حل ضروری ہے۔ ان کے بغیر معاشی ترقی کا خواب بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔ عمر نعمان نے یہ دیکھنے کے لیے کہ عالمی سطح پر یہ بات کس طرح سمجھی یا سنی جاتی ہے، ہر فورم پر ان خیالات کا اظہار کرنا شروع کردیا۔ اُنہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ امریکہ اور دیگر ممالک میں اُن کی بات کو توجہ سے سنا گیا ہے۔

پھر اُنھوں نے دنیا بھر کے سرکاری افسروں، قانون سازوں ، این جی اوز کے نمائندوں اور بااثر اور سوچ سمجھ رکھنے والے افراد سے بات کی تو اُنہیں بہت مثبت ردِ عمل ملا۔اُنھوں نے کہا…’’ آج جنر ل مشرف کے پاس اہم فیصلے کرنے اور ایسا کرتے ہوئے ، تاریخ رقم کرنے کا وقت ہے۔پرویز مشرف بھی اُسی طرح بھارت مخالف ہیں جس طرح صدر نکسن کیمونسٹ مخالف تھے لیکن اُنھوں نے روس کے ساتھ معاہد ہ کیا، چناچہ مشرف بھی بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا سکتے ہیں۔ اسی طرح مشرف ڈی کلرک(de Klerk) کی مثال بھی سامنے رکھ سکتے ہیں ۔ وہ نسل پرستی کے پرزور حامی تھے لیکن آخر کار اُنھوں نے نیلسن منڈیلا کے ساتھ مل کر جنوبی افریقہ سے نسلی امتیاز کا خاتمہ کیا۔ ‘‘ صد افسوس، جنرل مشرف اپنے ہاتھ مضبوط بنانے کے بعد (یا کے لیے) پٹری سے اتر گئے۔ زیادہ سے زیادہ دیر تک اقتدار میں رہنا، نہ کہ پاکستانیوں کے مسائل حل کرنا، ان کی پہلی اور آخری ترجیح بن گیا… یہاں تک کہ ان کا لہرایا گیا فولادی مکہ ملک کا سب سے بڑا لطیفہ بن گیا۔ تاہم وہ حقائق کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔

عمرنعمان کو امید تھی کہ جنرل مشرف کی رہنمائی میں پاکستان اکیسویں صد ی میں ایک جدید اور ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں…’’ مشرف ایک پرجوش اور عملی انسان ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ تصورات بھی رکھتے ہیں۔ جب نواز شریف کے دور میں بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان آئے تو اُس موقع پر ہونے والا احتجاج برائے نام تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے عام لوگ بھی بھارت کے ساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں۔ اس عوامی موڈ کو سامنے رکھتے ہوئے مشرف کے پاس تاریخ ساز فیصلے کرنے کا موقع تھا۔‘‘یہ بات یادداشت کا حصہ ہے کہ جس شخص نے پاکستان میں روشن خیالی (Enlightened moderation) کی بات کی وہ کوئی اور نہیں بلکہ جنرل مشرف ہی تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ مذہبی عقائد کے بارے میں میانہ روی اختیارکرتے ہوئے انتہائی نظریات سے اجتناب کریں۔ اُنھوں نے 2002 میں ملائیشیا میں ہونے والے او آئی سی کے اجلاس میں کہا …’’ تمام اسلامی دنیا کو انتہا پسندی اور جنگجو نظریات کو ترک کرتے ہوئے سماجی بہبود اور معاشرتی ترقی کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔ مغربی دنیا اور امریکہ کو چاہیے کہ ان کاموں میں اسلامی دنیا کی معاونت کریں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے سیاسی تنازعات کا بھی حل نکلنا چاہیے۔‘‘

افسوس، یہ تمام دکھاوا تھا اور اس کا مقصد امریکہ سے مزید حمایت اور رقم حاصل کرنا تھا۔ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ مشرف ، جو روشن خیالی کا پرچم لہرانے چلے تھے، کے دور میں ہی انتہا پسندی اور تنگ نظری اور دھشت گردی کا جن بوتل سے باہر آیا۔ اس سے پہلے ہم خود کش حملوں کے بارے میں نہیں جانتے تھے اور نہ ہی ہمیں ’’آئی ای ڈی‘‘ کا علم تھا، لیکن پھر پاکستان میں ان کا ’’دور دورہ ‘‘ ہوگیا اور بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہنے لگا۔ یہ مشرف دور ہی تھا جب لوڈ شیڈنگ نے و ہ بھیانک شکل اختیار کی جس کے مہیب سائے ہنوز باقی ہیں۔افسوس، آج مشرف کہاں ہیں؟ اب وہ عدالت کے کٹہرے میں اور اب وہ پاکستان سے باہر نہیں جاسکتے ہیں۔ ان پر ہمیشہ مقدمات چلتے رہیں گے۔

اس کے بعد مزید پاکستانی نیلسن منڈیلا … بے نظیر بھٹو، آصف زرداری اور نواز شریف…کی تصویر آنکھوں کے سامنے ابھرتی ہے۔ کیا ان میں سے کوئی رہنما اتنا پر خلوص تھا یا ہے کہ وہ پاکستان کو دنیا کے عظیم ممالک کی صف میں دیکھنا چاہتا ہے؟آصف زرداری کاخیال ہے کہ چونکہ اُنھوں نے طویل وقت جیل میں گزارا ہے اس لیے وہ بجا طور پر پاکستان کے نیلسن منڈیلا کہلانے کے حقدار ہیں۔ چناچہ پاکستانیوں پر واجب ہے کہ پانچ سال، جب وہ صدر کے عہدے پر فائز رہے، تک ان کی طرف سے کی گئی ہر بدعنوانی اور بدانتظامی کو خندہ پیشانی سے برادشت کریں۔ ان کی طرف سے دنیا بھر میں خریدی گئی جائیداد پر کوئی پوچھ گچھ نہ کی جائے۔

دوسری طرف افریقی نیلسن منڈیلا اتنے چالاک نہ تھے۔ اُنھوں نے نہ تو کوئی محل خریدا، نہ دنیاکے مہنگے ترین شہروں میں ولاز بنائے، نہ اربوں روپے مالیت کے پولو گھوڑے خریدے(پتہ نہیں کیسے رہنما تھے کہ اُنہیں پولو اور گالف کا ذوق ہی نہ تھا؟)، نہ کبھی جنوبی افریقہ سے باہر کہیں رہنے کا سوچا اور نہ ہی اُنھوں نے جلاوطنی، جو ہمارے رہنماؤں کا محبوب مشغلہ ہے، کی لذت اٹھائی۔شریف برادران سے پوچھیں کہ اُنھوں نے پاکستان کے لیے کیا قربانی دی ہے؟ بدقسمتی سے وہ ایک مرتبہ اقتدار میں ہیں اور وہی کچھ کررہے ہیں جس فن میں انہیں مہارت حاصل ہے ۔ آج پاکستان میں اقربا پروری کا دور ہے۔ بہت جلد آپ ہائیڈ پارک اور مے فیئر جیسے بہت سے اعلیٰ درجے کے مقامات پر بنے ہوئے عالی شان مکانات دیکھیں گے۔ کون کہہ سکتا ہے یہ پاکستان ’’بیرونی دنیا ‘‘ میں ترقی نہیں کررہا؟ جہاں تک نیلسن منڈیلا کا تعلق ہے تو وہ تمام تر عظمت کے باوجود اُن’’صفات ‘‘سے محروم تھے جو پاکستان رہنماؤں کو ودیعت کی گئی ہوتی ہیں… نصیب اپنا اپنا۔

بشکریہ روزنامہ "دنیا"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.