.

خواجہ سرا بحالی پروگرام اور ڈاکٹر امجد ثاقب

بشریٰ اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہ ایک عجیب محفل تھی۔۔۔ دل کی محفل جیسی۔۔۔ دلگداز اور ہری بھری۔۔۔ جس میں آنسو بھی تھے اور مسکراہٹیں بھی۔۔۔ روشنی بھی اور نیم روشن اجالے کی ملائمت بھی۔۔۔ سوچوں تو سمجھ نہیں آتا، اسے کن لفظوں میں یاد کروں؟ لگتا ہے جیسے وہ کوئی واردات تھی قلبی واردات، جو محبت کی پہلی آدھی اور ادھوری نگاہ کی طرح دل پر بیت گئی اور دل اس کی ہمیشگی میں مبتلا ہو گیا!

لاہور فاؤنٹین ہاؤس۔۔۔ ڈاکٹر رشید چوہدری اور ان کے بیٹے ہارون رشید کی محبت گاہ میں منعقد ہونے والی یہ دل کی محفل۔۔۔ جس میں بقول منیر نیازی:
’’حرف پردہ پوش تھے اظہارِ دل کے باب میں‘‘
حرف جتنے پتھر میں تھے، حرفِ لا ہوتے گئے!

جیسی کیفیت میں بیٹھی میں، سامنے موجود مہمانوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔ جن میں ساٹھ سال سے بڑی عمر کے ہیجڑے کرسیوں پر بیٹھے سرخ گلابوں کی ان پتیوں کو حیرت سے دیکھ رہے تھے جو ان پر نچھاور کی گئی تھیں۔۔۔ ان لوگوں کو دیکھ رہے تھے، جو انہیں بڑھ بڑھ کر کرسیاں پیش کر رہے تھے، ان چہروں کو دیکھ رہے تھے، جن پر ان کے لئے محبت اور گرمجوشی تھی۔۔۔ جن کے لہجوں میں ان کے لئے توقیر تھی، اور یہی بات قابل ذکر تھی، جس نے اس محفل کو عام محفلوں سے جدا رنگ اور تاثیر عطا کی تھی! ڈاکٹر امجد ثاقبؔ جنہوں نے ڈاکٹر ہارون رشید کی ناگہانی وفات کے بعد، فاؤنٹین ہاؤس کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہے، انہوں نے ہیجڑوں کے اعزاز میں، اس تقریب کا سلسلہ پچھلے سال ڈیڑھ سے شروع کر رکھا ہے۔۔۔ جس کی بابت انہوں نے اپنی حالیہ کتاب اخوت کا سفر میں لکھا ’’ایک خواجہ سرا نے مجھے کہا، ہم نے کبھی چوری نہیں کی، ڈکیتی نہیں کی، قتل نہیں کیا، کسی کو اغوا نہیں کیا، کسی مسجد کو نہیں جلایا، کسی گرجا گھر کو آگ نہیں لگائی، پھر بھی ہمارے دامن میں حقارت کے کانٹے بکھیرے جاتے ہیں؟ میں نے ایک خواجہ سرا سے پوچھا۔۔۔ تمہارے پاس جوتوں کے کتنے جوڑے ہیں۔ وہ زہرخندہ ہنسی سے بولا۔ ایک وقت میں صرف ایک اور وہ بھی قینچی چپل! جب گھسٹ گھسٹ کے وہ کھجور کے پتوں کی طرح باریک ہو جاتی ہے تو کہیں سے اور مانگ لیتا ہوں۔ میں نے آج تک بنیان نہیں خریدی۔۔۔ آج تک جراب نہیں خریدی، بدن پر صرف دو کپڑے ہیں، پھٹ جاتے ہیں تو اور مانگ لیتے ہیں، مجھے شوگر ہے۔۔۔ ہیپاٹائٹس ہے۔۔۔ بلڈپریشر ہے، میرے لئے کوئی دوا نہیں، کوئی ڈاکٹر نہیں، کوئی ہسپتال نہیں۔! ہم ہر وقت زمانے کی ٹھوکریں سہتے ہیں، کھسرے، ہیجڑے، زنانے، خواجہ سرا، ہمارے کئی نام ہیں، لیکن کہانی ایک ہی ہے‘‘۔ اخوت کے ذریعے ہم اب تک سینکڑوں خواجہ سراؤں کی مدد کر چکے ہیں۔ ’’میں نے جب ایک بار، ایک خواجہ سرا کے گرد آلود پاؤں کو گود میں رکھ کر، اس کا زخم دھونے کی کوشش کی تو مجھے لگا، میں نے سب سے بڑی نیکی کی ہے‘‘۔

سٹیج پر۔۔۔ میرے قریب بیٹھتے ہوئے بوڑھے کھسرے۔۔۔ جس نے پیلا چھینٹ کا چولا، سنہری چمکیلا کڑا۔۔۔ کانوں میں بڑے بڑے بالے۔۔۔ اور آنکھوں میں بھر کے سرمہ لگا رکھا تھا، سٹیج پر مائیک کے سامنے، کھڑے ڈاکٹر امجد ثاقب کی طرف دیکھا، تو اس کی بوڑھی آنکھوں میں تیرتی نمی۔۔۔ اس کی لٹکی ہوئی جلد کی گہری لکیروں میں آ کر اٹک گئی، اپنے سرخ پالش زدہ ہاتھوں سے، اس نے اس آنسو کو پونچھا۔۔۔ اور اس کے چہرے پر اس شخص کے لئے ایسی محبت نمودار ہوئی، جو صرف ایک ماں کے چہرے پر اپنے ہونہار اور تابعدار بچے کو دیکھ کر پیدا ہوتی ہے۔ ’’شالا جگ جگ جیویں‘‘ وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔۔۔ اور میں نے، ہال میں بچھی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے، ان ٹھکرائے ہوئے اور محروم لوگوں پر نگاہ کی، تو مجھے لگا، جیسے یہ دعا ان سب کے چہروں پر لکھی ہے۔۔۔ ان کی آنکھوں میں تیرتی نمی اس کا اظہار ہے۔!

خواجہ سرا بحالی پروگرام، جس کی تقریب اخوت کے زیراثر، ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں فاؤنٹین ہاؤس میں منعقد کی جاتی ہے اس میں، ایک دن بھرپور انداز میں، ان کے ساتھ گزارا جاتا ہے، جس میں ان کا میڈیکل چیک اپ، دوائیاں، ان کے ساتھ کھانا اور انہیں پاکٹ منی کے علاوہ۔۔۔ ان سے دل بھر کے باتیں بھی اس پروگرام میں شامل ہیں۔۔۔ جس کے متعلق ان محروم لوگوں کا کہنا ہے ’’ہم سارا مہینہ اس انتظار میں گزارتے ہیں کہ کب اگلے مہینے کا پہلا ہفتہ آئے اور ہم اخوت والوں سے ملیں۔ اس روز ہمیں لگتا ہے، جیسے ہم اپنے گھر جا رہے ہوں۔ بہن بھائیوں، یا ماں باپ کے پاس! ہمیں کسی نے زندگی میں اتنی محبت سے دعوت نہیں دی۔۔۔ اخوت کی ٹیم، جس میں بلال، صائمہ، عائشہ، روبی، عاصم، جمرود، سلیم، زرین، روبینہ اور فاطمہ رشید جیسے صاحبِ دل لوگ موجود ہیں، یہ سب جب ہماری راہ میں اپنا دل بچھاتے ہیں تو یوں لگتا ہے، جیسے ہم اکیلے نہیں! ڈاکٹر امجد ثاقب نے بتایا! گوگی، نیلم، سپنا، بندیا، رانی، مٹھو، چاندنی، بوبی، مالا، شمع ، ان سب نے ایک بار مجھے اپنے ملک گیر کنونشن میں بلایا، میں نے ان کی آنکھوں میں جو محبت دیکھی وہ مجھے حیران کر گئی۔ گوگی نے کہا ’’ہم پیدا ہوتے ہیں تو نفرت کا نشانہ بننے لگتے ہیں، ماں باپ، بہن بھائی ہمیں دنیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں، ہمارا گانا سن کر لوگ سمجھتے ہیں، ہم بھی کوئی ڈھولک یا گھنگھرو ہیں، دل کا آبگینہ ہر روز ٹوٹتا ہے۔۔۔ آج تک ہمیں کسی نے سکول نہیں بھیجا، وراثت میں حصہ نہیں دیا۔۔۔ اس بے بسی میں اگر کوئی صرف ہنس کر بات بھی کرے تو اس کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے‘‘۔ مٹھو کہنے لگی ’’آپ نے ہمیں سکھی کر دیا‘‘ اور اس کے بعد وہ میرے گلے لگ کر اس طرح روئی جیسے ساون بھادوں کی جھڑی لگ گئی ہو۔۔۔ صرف لاہور میں پچاس برس کی عمر سے زائد کئی ہزار خواجہ سرا، بھوک، بیماری اور بڑھاپے کا شکار ہیں۔ وہ منتظر ہیں، کوئی محبت بھرا ہاتھ ان کی طرف بڑھے اور کہے آج سے تمہارے دکھ میرے بھی ہیں۔

میری زندگی کی وہ عجیب ترین محفل۔۔۔ جس کو اس کالم کے آغاز میں، میں نے دل کی محفل کہا ہے۔۔۔ اس میں بیٹھے ہوئے، میں۔۔۔ اپنے سامنے ہال میں بیٹھے ہوئے، ان کالے، پیلے، بوڑھے، ناتواں، بے بس، ٹھکرائے ہوئے، آؤٹ کاسٹ۔۔۔ لوگوں کو دیکھ رہی تھی، جو اپنے وجودوں پر، دکھوں، بے بسیوں، بے چارگیوں اور ذلتوں کی گٹھڑیاں لادے ان کرسیوں پر بیٹھے، اس مسیحا کی طرف دیکھ رہے تھے، جیسے ان کے غموں کا مداوا صرف وہی شخص ہے۔۔۔ جو ان میلے اور گندے پاؤں۔۔۔ کھردرے اور ناپاک سمجھے جانے والے پاؤں کے زخم، محبت سے اپنی گود میں رکھ کر دھوتا ہے۔۔۔ اور اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی نیکی گردانتا ہے۔! پتہ نہیں نیکی اور پھر سب سے بڑی نیکی کیا ہے؟ منبرومحراب میں پیشانیاں ٹکا کر۔۔۔ ماتھے پر محراب کا چاند طلوع کرنا، یا پھر۔۔۔ ٹھکرائے ہوئے کراہت زدہ وجودوں کو محبت کے لمس سے شفا مہیا کرنا؟ سمجھ نہیں آتا، شاید نیکی بھی اک گورکھ دھندا ہے۔۔۔ خدا کی طرح۔۔۔ جس کی شکلیں ہم سب نے اپنی سہولت کے مطابق بنا رکھی ہیں۔

مگر وہ شخص جو اک شمع کی طرح۔۔۔ روشن ہے ۔۔۔ ان مجبور اور بے قرار دلوں کی گھور تاریکیوں میں، اور جو۔۔۔ ان ٹھکرائے ہوئے بے بس و لاچار۔۔۔ بندوں کے لئے نہایت درد سے کہتا ہے:
یہ کون لوگ ہیں
کیا ان کا زندگی پر کوئی حق نہیں
صحنِ فلک پر کوئی ستارہ جو ان کے لئے چمک اٹھے
پیار کی کوئی آواز جو ان کے کانوں میں گھل جائے
مجھے لگا زندگی پر ان کا بھی اتنا ہی حق ہے
گوگی، نیلم، سپنا، بندیا، رانی

اس روز میری بہت سی ایسی ہی شخصیات سے ملاقات ہوئی، فردوس بی اے۔۔۔ لحیم شحیم صائمہ۔۔۔ جس نے بتایا، ہمیں کلمہ نہیں آتا تھا۔۔۔ درود نہیں آتا تھا۔۔۔ نماز نہیں آتی تھی۔۔۔ اور ہمیں دوسروں کی بات کو غور سے سننا نہیں آتا تھا۔۔۔ ہمیں مہذب لوگوں میں بیٹھنے کے طریقے نہیں آتے تھے۔۔۔ اب ہم آہستہ آہستہ یہ سب کچھ سیکھ رہے ہیں۔۔۔ محبت اور خدمت کے اس ادارے سے، جس کا نام ڈاکٹر امجد ثاقب ہے۔۔۔ جو کہتے ہیں، خدارا میرا ذکر مت کریں، میرے نام کو منہا کر دیں۔! مگر کیسے؟ اس عجیب شخص کے ذکر کے بغیر۔۔۔ یہ بات چھیڑی کیسے جا سکتی ہے؟ جس نے صوفیاء کا چلن اختیار کر کے۔۔۔ خود کو خدمت کے لئے وقف کر دیا ہے۔۔۔ کیا یہی نہیں اس دور کا باعمل صوفی؟ جس نے خدمت کو عبادت کا درجہ دے دیا ہے۔۔۔ اور خدا کی مخلوق کا درد اپنے دل کا درد بنا لیا ہے۔!
سوال صرف یہ ہے، کیا ہمارا بھی اس درد میں کوئی حصہ ہے؟
گوگی، نیلم، سپنا، بندیا، فردوس بی اے اور مٹھو، جس مخلوق کا نام ہے۔۔۔ کیا ہمارا بھی اس خالق سے کوئی تعلق ہے، جس کی یہ مخلوق ہے؟؟؟؟ بات زیادہ ٹیکنیکل نہیں، مگر قابل غور ضرور ہے!!

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.