پاکستان کے منڈیلا

حسن مجتبی
حسن مجتبی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

آج جب ساری دنیا بشمول پیارا پاکستان دنیا کے عظیم ترین رہنما اور کل کی نسل پرست جنوبی افریقی حکومت تلے دنیا کے سب سے طویل ترین قید کاٹنے والے رہنما نیلسن منڈیلا کی موت پر سوگ منا رہی ہے تو مجھے پاکستان کے کئی مشہور و گمنام چھوٹے بڑے سیاسی قیدی یاد آ رہے ہیں جن کی قید بھی کسی طرح یا ان کے لگ بھگ منڈیلا سے کم نہیں تھی- سب سے پہلے جو بغیر کسی تکرار کے کم از کم اپنی میعاد قید کی طوالت کے حوالے سے نیلسن منڈیلا کے شانے کو چھونے لگتا ہے اور جنہیں ان کے حامی چاہے کئی مخالف دیسی نیلسن منڈیلا کہتے ہیں وہ تحریک پاکستان کے ایک رہنما اور بعد میں جدید سندھی قوم پرست نظریئے کے خالق غلام مرتضیٰ شاہ المعروف جی ایم سید تھے۔

جی ایم سید اپنی قید و بند کے حوالے سے نیلسن منڈیلا سے اس لئے بھی کچھ قدم آگے چلے جاتے ہیں کہ ان کی موت بھی طویل نظر بندی کے دوران قیدو بند کی حالت میں ہوئی۔ یہ ”اعزاز‘‘ بھی بے نظیر بھٹو کی حکومت کو جاتا ہے کہ جس نے باوجود اپیلوں کے جناح اسپتال کراچی میں بستر مرگ پر پڑے چورانوے سالہ علیل اسیر کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی طرح جی ایم سید جو آخری بار نوازشریف حکومت میں جنوری انیس سو چھیانوے میں نظربند کر دیئے گئے وہ اپریل1995ء تک تادم مرگ نظربند رہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد انیس اڑتالیس میں جب ملک کے بانی محمد علی جناح نے کراچی کو سندھ سے الگ کر دینے کا حکم صادر فرمایا تو سندھ کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو کو اس کی مخالفت کرنے پر وزارت اعلیٰ سے ہٹا دیا گیا اور جی ایم سید کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ پھر جب انیس سو چوون میں گورنر جنرل غلام محمد کے دنوں میں ملک پر ون یونٹ نظام نافذ ہوا تب بھی جی ایم سید کو گرفتار کر کے کراچی سینٹرل جیل میں نظربند کردیا گیا۔ انیس سو اٹھاون سے لیکر انیس سو اڑسٹھ تک جی ایم سید نے طویل نظربندی یا سینٹرل جیل کراچی یا اپنے گھر حیدر منزل یا پھر اپنے گائوں سن میں نظربندی میں گزاری۔

ایوب خان کے آخری دنوں میں سید آزاد کر دیئے گئے لیکن بعد میں انہیں انیس سو اکہتر میں پھر سابق مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کی حمایت کرنے کے خطرے کے پیش نظر سن میں نظربند کر دیا گیا۔ بھٹو کے حکومت سنبھالتے ہی جب ملک میں سیاسی قیدی رہا ہوئے تو سید بھی رہا کردیئے گئے لیکن پھر 1972ء میں لسانی فسادات کے دوران وہ اپنے سندھ کے دورے کے دوران سکھر سے گرفتار کر کے سن پہنچادیئے گئے، کچھ دنوں بعد سید رہا ہوئے۔ اپریل انیس سو تہتر سے لیکر ذوالفقار علی بھٹو کے تمام دور میں جی ایم سید نظر بند ہی رہے جبکہ ضیاء الحق کی حکومت میں وہ انیس سو اسّی میں گویا ایک وقفے کیلئے رہا ہوئے جبکہ پھر انہیں انیس سو چوراسی میں سندھ کے دورے کے دوران ممتاز بھٹو کے گائوں سے گرفتار کر کے ان کے گائوں سن پہنچا دیا گیا جہاں وہ انیس سو اٹھاسی میں اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو کی حکومت تک نظربند رہے۔ انیس سو نواسی میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کے دوران انہوں نے اپنے پارٹی ساتھیوں اور کارکنوں کے ساتھ سندھ کا دورہ کیا کہ جب انہیں سندھ بلوچستان و پنجاب کی سرحد پر آخری شہر کشمور میں نظربندی کے احکامات پہنچائے گئے جن کو نظرانداز کرتے ہوئے سید اور ان کا قافلہ سندھ کی سرحد عبور کرکے پنجاب میں داخل ہوا اور انہیں ڈیرہ غازی خان کی حدود میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا۔

جی ایم سید کو اس مرتبہ سکھر ایئر پورٹ پر پاکستان کا قومی پرچم کو جلانے کے الزام میں گرفتار کرکے انہیں ان کے گآئوں سن پہنچا کر نظر بند کردیا گیا۔ جہاں وہ بے نظیر حکومت کے خاتمے تک نظربند رہے۔ سید کو آخری بار اسلام آباد میں نواز شریف اور سندھ میں جام صادق علی حکومت کے دوران ان کے نوّے برس پورے ہونے پر نشترپارک میں تقریر کرنے پر جس میں انہوں نے اقوم متحدہ کی ازسرنو تشکیل کے ساتھ دنیا کو مذہبی جنونیت سے بچانے،سرمایہ دارانہ و اشتراکی بلاک کے ساتھ روحانی قوموں کا الگ بلاک قائم کرنے کی بات کی تھی کو گرفتار کر کے بغاوت کا مقدمہ قائم کر دیا گیا۔ یہ جی ایم سید کے خلاف پینتالیس برسوں میں پہلا مقدمہ تو تھا لیکن انہیں ایک دن بھی کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ لامحالہ اسی تقریر میں مبینہ طور پر انہوں نے پاکستان سے سندھ کی علیحدگی کی بات کی تھی لیکن جی ایم سید کو اس نہج پر پہنچنے میں کتنے برس طویل نظربندیوں اور ان کے لوگوں پر ظلم و زیادتیوں یا سیاسی اپارتئھیئڈ کے لگے؟

دوران نظربندی انہوں نے تصنیف و تحقیق کا کام جاری رکھا اور تقریباً ساٹھ کتابیں تصنیف کیں۔ انیس سو سڑسٹھ میں اپنی نظربندی کے دوران اپنے دوستوں ساتھیوں اور واقف کاروں پر اپنی تصنیف’’جنب گذرایم جن سیں‘‘ (جنکے ساتھ عمر گزاری میں نے) میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں:’’ مارشل لا کا نفاذ ہوا تو پھر قید و نظربندی کا قرعہ فال میرے نام نکلا، نہ میں نے اسمگلنگ کی تھی اور نہ عہدوں کا طلبگار رہا تھا نہ پرمٹ لیکر املاک میں اضافہ کیا تھا، نہ ہی وطن سے غداری کی تھی اور نہ ہی میں پاکستان کا مخالف رہا تھا بلکہ ایک حد تک تو اس کے (پاکستان کے) قیام میں میرا خاص ہاتھ رہا تھا، سندھ اسمبلی میں پاکستان کی قرارداد میں نے ہی منظور کرائی تھی، سندھ میں مسلم لیگ کی تحریک کو زور پکڑوانے میں بھی جتنا میرا بس چلتا تھا ہر کوشش کی تھی، اس کے باوجود بھی مجھے ساڑھے سات سالوں تک نظربند کردیا گیا، اس کیلئے میرا کوئی اور قصور تو نہ تھا ماسوائے اس کے کہ میں ون یونٹ کا مخالف تھا، میں سندھ کے حقوق کی حفاظت کا حامی تھا۔ اس کا غیروں کو پتہ گر نہیں بھی تھا مگر اپنوں کو تو تھا" یعنی

غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دیوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری

تو پس عزیزو! انیس سو اڑسٹھ میں باوجود برسوں پر محیط نظر بندی کے پاکستان کا حامی اور اس کے قیام میں اپنا حصہ ڈالنے والے جی ایم سید نے مارچ انیس سو تہتر میں اس سے علیحدگی کی بات کیوں کی۔ یہ ان کے اور سندھ اور سندھ کے لوگوں کے ساتھ سیاسی اپارتھیئڈ نہیں تھی تو اور کیا تھی۔ جی ایم سید نے بھی آج کے پاکستان میں قید و بند اٹھائیس برس تک کاٹی تھی۔ اسی طرح ان کے ہم عصر پاکستان میں دوسرے بڑے منڈیلا باچا خان عبدالغفار خان تھے جنہوں نے اکثر نظربندیوں میں نہیں تو اپنی عمر کا بڑا حصہ جلاوطنی میں کاٹا- پختونوں کا یہ ناز اور گاندھی ہمیشہ قید و بند میں رہا۔ آزادی صرف چھوٹے وقفوں میں آئی۔ ولی خان اور ان کے ساتھی، افراسیاب خٹک، اجمل خٹک اور کئی نیپ، اے این پی اور پختون اسٹوڈنٹس کے کارکن، عوامی شاعر حبیب جالب، شورش کاشمیری، مری، مینگل، بزنجو، خان عبدالصمد خان اچکزئی اور سوبھو گیان چـندانی، محمد امین کھوسو، حیدر بخش جتوئی، قاضی فیض محمد، جام ساقی اور ان کے ساتھی رسول بخش پلیجو مع اہل و عیال ہر دور کی حکومتوں میں قید و بند کی مزید مثالیں ہیں جو منڈیلا کے نقش قدم پر رہے- جی ایم سید کے ساتھی دوست اور کارکن حفیظ قریشی، عبدالواحد آریسر، اللہ بچایو مرناس اور جئے سندھ کے گل محمد جکھرانی، دودو مہری، ہیرالال سمیت کئی نوجوانوں نے طویل قیدیں کاٹیں۔ شاعر شیخ ایاز، ابراہیم منشی، مدیر طارق اشرف، انور پیرزادو، رشید بھٹی، زاہد مخدوم کسے یاد رکھا جائے کسے بھول جائيں۔

بھٹو کے ہزاروں جیالے اور ان کی بیٹی، خاندان، میں آپ چاہیں یا نہ چاہیں آصف علی زرداری جنہیں بھی ان کے کئی حامی پاکستان کا منڈیلا کہتے تھے۔ میں مذاق میں کہتا تھا وہ نیلسن نہیں ونی منڈیلا نکلے لیکن آصف علی زرداری اور نیلسن منڈیلا میں ایک مماثلت ہے کہ پریٹوریا کی نسل پرست سرکار کے زیر قید نیلسن منڈیلا کی طرح پاکستانی ریاست نے ان کو جیل میں رکھ کر ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچے بڑے ہوتے دیکھنے سے روکے رکھا۔ پاکستان کے ہر دور کے کئی سیاسی قیدیوں کے یا سیاسی وجوہات پر نظر بند قیدیوں کیلئے نیلسن مینڈیلا کی کتاب ’’لانگ واک ٹو فریڈم‘‘ بائبل کے مترداف رہی کیونکہ پاکستان میں جو جمہوریت کی تحریک رہی ہے وہ مسلم دنیا میں اور کہیں نہیں تھی۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں