چک ہیگل اور نیٹو سپلائی

حسن اقبال
حسن اقبال
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل پاکستان کا دورہ کر کے واپس چلے گئے۔ اس دورہ سے قبل انہوں نے افغانستان کا بھی دورہ کیا۔ ویسے تو امریکی حکام کے یہ دورے ان کے خطے میں امریکی مفادات کے سلسلے میں ہوتے ہیں لیکن چونکہ امریکی مفادات کے ساتھ ساتھ ہمارے بھی مفادات یا ’’نقصانات‘‘ منسلک ہوتے ہیں۔ اس لیے ان دوروں میں ہماری دلچسپی بہت بڑھ جاتی ہے۔

ویسے بھی عام طور پر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اس سال اس خطے سے واپسی کا ارادہ رکھتا ہے جو کہ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ اگر امریکہ نے خطے سے مکمل طور پر واپس جانا ہوتا تو امریکی وزیر دفاع جو کہ پچھلے چار سال سے پاکستان نہیں آئے تھے، اب بھی آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کا پاکستان میں آنا بھی اس امر کی دلیل ہے کہ امریکہ حسب سابق خطے میں موجود ہے اور آئندہ بھی موجود رہے گا۔ اس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ابھی تک حامد کرزئی نے افغانستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے دس سالہ معاہدے (2014-2024ء) پر ابھی تک دستخط نہیں کیے۔ اس سے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں کہ دستخط نہ کرنے سے امریکی فوجوں کے قیام کے بارے میں کیا ہو گا۔ ہمارے خیال میں اس بارے بھی شکوک و شبہات میں نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ معاہدہ پہلے سے طے پا چکا ہے جس کی منظوری لویہ جرگہ سے بھی ہو چکی ہے اور حامد کرزئی بھی ’’مناسب وقت‘‘ پر اس پر دستخط کر دیں گے۔ ایک اور حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جب امریکہ افغانستان میں آیا تھا تو اس وقت نہ تو کوئی معاہدہ ہوا تھا اور نہ ہی حامد کرزئی نے امریکہ کو اجازت دی تھی۔ امریکہ نے آنا تھا سو آ گیا۔ اور اب بھی امریکہ کو رہنا ہے سو رہے گا۔ چک ہیگل پاکستان کیوں آئے؟ البتہ یہ اہم سوال ہے۔ ویسے انہوں نے اپنے دورہ کے مقاصد میں بیان کیا کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کو مستحکم، مضبوط، محفوظ اور خوشحال بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن پس پردہ ان کے دورے کے مقاصد میں اولین نیٹو سپلائی کی بحالی،نیٹو افواج کی واپسی اور اس کے علاوہ اہم مقصد 2014ء کے بعد بھی سپلائی لائن کو بحال رکھنا ہے۔ امریکی حکام اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر انہوں نے افغانستان میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنی ہے، یا اپنی فوجوں کو رکھنا ہے تو کام پاکستان کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکے گا۔ اس امر کا تجربہ وہ پہلے بھی کر چکے ہیں اور اب مزید کسی تجربے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس لیے انہیں سپلائی پاکستان کے راستے سے ہی جاری رکھنی پڑے گی چاہے دھونس، لالچ یاردا داری کی پالیسی کیوں نہ اپنانی پڑے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے سپلائی بحال کرانے کے لیے تینوں فارمولے لگانے کی پوری کوشش کی۔

پاکستان تحریک انصاف جو کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت بھی سنبھالے ہوئے ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے بزور سیاسی طاقت نیٹو سپلائی بند کرنے پر مصر ہے۔ ان کے کارکنوں نے پورے صوبے میں مختلف مقامات پر کراچی سے آنے والے ٹرکوں کو روک رکھا ہے اور انہیں افغانستان جانے کی جازت نہیں دے رہے۔ پاکستان تحریک انصاف فاٹا کے علاقے اور خاص طور پر خیبر پختونخوا کے علاقے میں ڈرون حملوں کی سخت مخالف ہے۔ مرکزی حکومت بھی ڈرون حملوں کے خلاف ہے اور انہوں نے امریکہ سے اس بارے بہت احتجاج کیا ہے۔ لیکن امریکہ ڈرون حملوں کی پالیسی ترک نہیں کر سکا۔ ہنگو حملہ جو کہ پہلی بار خیبر پختونخوا کے علاقے میں کیا گیا۔ تحریک انصاف نے عملی طور پر نیٹو سپلائی روکنے کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں نہ صرف عوامی مظاہرے کئے گئے بلکہ سڑکوں کو روکا گیا۔ اس دوران تشدد کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے۔ اگرچہ ظاہری طور پر خیبر پختونخوا کی حکومت نیٹو سپلائی روکنے کے عمل سے باہر ہے لیکن عملی طور پر یہ ممکن نہیں ہے کہ حکومتی پارٹی سپلائی روکھنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے اور اسی پارٹی کی حکومت اس عمل میں شامل نہ ہو۔ البتہ بعض علاقوں میں پر تشدد واقعات اور سپلائی کے ٹرکوں کو روکنے کے سلسلے میں کارکنوں پر مقدمات بھی درج کیے گئے۔ تحریک انصاف کے نیٹو سپلائی کا عمل روکنے کا فیصلہ قانونی ہے یا غیر قانونی، انہیں یہ کام کرنا چاہیے تھا یا نہیں ایک الگ بحث ہے لیکن تحریک انصاف نے نیٹو سپلائی کے راستے میں اس قدر رکاوٹیں ڈالیں کہ بالآخر امریکہ کو نیٹو سپلائی کراچی سے بند کرنی پڑ گئی۔ امریکہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ نیٹو کی سپلائی ڈرائیوروں کے تحفظ کی خاطر بند کی گئی ہے۔

نیٹو سپلائی لے جانے والے ڈرائیوروں کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کو اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ یہ ٹرک نیٹو سپلائی لے کر جا رہا ہے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا ہے یا کسی اور ادارے کا سامان لے کر جا رہا ہے کیونکہ طور خم کے راستے جانے والا سامان کئی معاہدوں کے تحت جاتا ہے۔ ان میں اقوام متحدہ کے مختلف اداروں اور رفاحی اداروں کا سامان بھی شامل ہے۔ تحریک انصاف کے مظاہرے اور دباؤ جاری ہے اور ان کا مؤقف ہے کہ ڈرون حملوں کے خاتمے کی یقین دہانی تک نیٹو سپلائی بحال نہیں کی جائے گی۔
نیٹو سپلائی کی بندش کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی کئی دفعہ نیٹو سپلائی بند کی جا چکی ہے۔ ان میں سب سے اہم واقعہ سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملہ تھا جس میں پاکستانی فوجی شہید ہوئے تھے جس کے جواب اور احتجاج کے طور پر پاکستان سے نیٹو سپلائی مکمل طور پر بند کر دی گئی تھی۔ پاکستان کی طرف سے نیٹو سپلائی کی یہ معطلی اتنی طویل اور مؤثر تھی کہ امریکہ کو اس پر نہ صرف معذرت کرنی پڑی بلکہ اسے آئندہ کے لیے ان معاملات میں سخت احتیاط بھی برتنی پڑی۔ اس مرتبہ معاملہ کچھ اور ہے کہ صرف خیبر پختونخوا کی حکومت نیٹو سپلائی کی مخالفت کر رہی ہے جو کہ اپنی حکومت ہونے کے سبب طور خم کے راستے اس سپلائی کو مؤثر طریقے سے روک سکتی ہے لیکن مرکزی حکومت کی شمولیت اور مدد نہ ہونے کے سبب نیٹو سپلائی کا دوسرا بڑا راستہ جو کہ صوبہ افغانستان کی طرف سے چمن سے ہے۔ اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن چونکہ چمن کے راستے جانے والی نیٹو سپلائی کو زیادہ راستہ افغانستان سے گزر کر جانا ہوتا ہے اس لیے اس میں خطرناک راستے کی لمبائی بڑھ جاتی ہے جس کی سکیورٹی کا انتظام مشکل ہو جاتا ہے ۔ اس لیے امریکہ، نیٹو اور افغانستان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ تمام تر سپلائی طور خم کے راستے سے ہو۔ ان حقائق کی بنا پر امریکہ کے وزیر دفاع چک ہیگل کو پاکستان کا دورہ کرنا پڑا۔ دورے کے دوران انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور نئے بری فوج کے کمانڈران چیف سے بھی ملاقات کی۔

ان ملاقاتوں میں بھی انہوں نے صرف اور صرف نیٹو سپلائی کی بحالی پر زور دیا۔ خاص طور پر پاکستان کو دی جانے والی امداد کا بطور خاص ذکر کیا کہ اگر نیٹو سپلائی بحال نہ ہوئی تو امریکہ امداد جاری نہیں رکھ سکے گا کیونکہ اس سے امریکہ میں عمومی رائے پاکستان کے خلاف جا سکتی ہے اور امریکی حکومت کے لیے ممکن نہیں رہے گا کہ وہ عمومی رائے کے خلاف پاکستان کی امداد جاری رکھ سکے۔ دوسرے لفظوں میں طریق کار وہی پرانا تھا۔ اگر اس کا تجزیہ کیا جائے تو چک ہیگل کو امریکی رائے عامہ کا کس قدر خیال ہے کہ نیٹوسپلائی روکنے پر تو رائے عامہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا اور پاکستان کی امداد بند کی جائے گی لیکن پاکستان میں رائے عامہ اگر ڈرون حملے روکنے کے لیے کہہ رہی ہے۔ ملک کے منتخب وزیراعظم بار بار اس کے خلاف امریکہ کو توجہ دلا رہے ہیں اور انہیں پاکستان کی خود مختاری کے خلاف سمجھا جا رہا ہے تو امریکہ اس پر توجہ دینے کی ضرورت کو محسوس نہیں کرتا۔

نیٹو سپلائی اس وقت جزوی طور پر معطل ہے جس کا امریکہ کو ملال ہے۔ تکلیف بھی ہے اور اس کے کھولنے کے لیے کوشش بھی جاری ہے۔ اس بارے کیا درست ہے ۔۔۔ کیا غلط۔۔۔ کیا قانون ہے ، کیا غیر قانونی۔ اس کا فیصلہ مرکزی حکومت کو کرنا چاہیے۔ تحریک انصاف نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر معاملات کو مزید طول دینا صوبائی حکومت یا ایک سیاسی جماعت کے دائرہ کار میں نہیں ہونا چاہیے۔ یہ مقامی مسئلہ نہیں ہے، یہ مسئلہ خطے کا بھی نہیں ہے بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جسے مرکزی حکومت کو دیکھنا چاہیے۔ نیٹو میں صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ یورپی اور دیگر ممالک کی بھی افواج شامل ہیں۔ اس سلسلے میں پالیسی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے مرکزی حکومت کو بنانی چاہیے اور تمام صوبائی حکومتوں کو اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ ملکی وحدت ہی ایسے موقعوں پر کامیابی کو یقینی بناتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نئَی بات"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں