بے نتیجہ مذاکرات

ڈاکٹر ملیحہ لودھی
ڈاکٹر ملیحہ لودھی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

پاکستان اور بھارت کے مابین گزشتہ دنوں ہونے والے سفارتی رابطے پیر چکی (treadmill)کی مانند ثابت ہوئے، کئی سرگرمیوں کے باجود کوئی پیشرفت نہ ہوئی۔ گزشتہ ماہ دہلی میں ہونے والا ایشیاء یورپ اجلاس اور کولمبو میں دولت مشترکہ کی کانفرنس جیسی کثیرالقومی کانفرنسیں ہوئیں جس میں تواتر کے ساتھ غیرسرکاری طور پر اعلیٰ سطح پر پاک بھارت حکام کی ملاقاتیں ہوئیں لیکن گفت وشنید کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ جس کی وجہ سے باضابطہ مذاکرات رک گئے اور تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں ساکت ہوگئیں۔ اس کی بنیادی وجہ دہلی کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی جانب سے دیئے جانے والے کئی مثبت اشاروں کا جواب نہ دینا ہے۔

ان مثبت اقدامات کے باعث اسلام آباد کو بین الاقوامی ستائش حاصل ہوئی اور عالمی برداری کو یہ پیغام گیا پاکستان امن عمل کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ نہیں ہے۔ بھارت نے پاکستانی حکام کی جانب سے جامع مذاکرات کی بحالی کے متواتر مطالبوں کے باوجود، اسے مسترد کیا، اس بابت مطالبہ حال ہی میں سرتاج عزیز نے نومبر کے وسط میں نئی دہلی کے دورے کے موقع پر کیا تھا۔ اس کے برخلاف بھارت نے باضابطہ مذاکرات کی مشروط بحالی کیلئے مسائل کی ترجیحات کا متبادل راستہ اختیار کیا۔ جامع مذاکرات کی بحالی کا تعطل جاری رہنے کا امکان کم از کم مئی2014ء کے عام انتخابات تک ہے لیکن اس سے دہلی کے انتخابات کے بعد کے موقف اور آئندہ حکومت کی جانب سے پاکستان سے متعلق اختیار کی جانے والی نئی سفارتی حکمت عملی کے بارے میں سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔

رواں برس اکتوبر کے وسط میں بھارت کے خارجی امور کے وزیر سلمان خورشیدنے سرعام دوبارہ یہ بات دہرائی کہ دہلی جامع مذاکرات کی جانب فوری طور پر آگے نہیں بڑھے گا۔ جب سے وزیراعظم نواز شریف نے عہدہ سنبھالا ہے اس وقت سے تعلقات کی بحالی کی یہ خواہش اسلام آباد کی کوششوں سے عیاں ہے۔29ستمبر کی وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم منموہن سنگھ کے مابین ہونے والی ملاقات بھارت کی جانب سے یہ نکتہ پیش کرنے پر ختم ہوئی کہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال میں بہتری، تعلقات میں مزید پیشرفت کیلئے ایک پیشگی شرط ہے۔

حالانکہ لائن آف کنٹرول پر تناؤ کی کیفیت(نومبر کے مہینے میں گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں لائن آف کنٹرول کی بہت کم دفعہ خلاف ورزی ہوئی) کے باعث باضابطہ طور پر مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے بھارت کا موقف تبدیل نہ ہوا۔ یہ بات پاک بھارت حکام کی نومبر میں ہونے والی ملاقاتوں میں واضح رہی، 12 نومبر کو سرتاج عزیز کی سلمان خورشید سے اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن سے ملاقات ہوئی اور بعد ازاں وزیر اعظم منموہن سنگھ سے بھی ملاقات ہوئی اور اس کے ساتھ وزیراعظم کی 16 نومبر کو کولمبو میں سلمان خورشید سے ملاقات ہوئی، ان تمام ملاقاتوں کو دونوں جانب کے حکام کی جانب سے خوش اخلاقی پر مبنی ملاقاتیں قرار دیا گیا۔

تین نتائج اخذ کرنے کیلئے ان ملاقاتوں کے حوالے سے خاطر خواہ معلومات سامنے ہیں۔اول، بھارت کی جانب سے باضابطہ مذاکرات کی بحالی کیلئے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی۔ اب آیا یہ اشارہ بھارت کی انتخابی سیاست کی وجہ سے ہے یا یہ اس بابت ایک نشانی ہے کہ بھارت مستقبل میں پاکستان کے ساتھ معاملات کیلئے کس طرح کا راستہ اختیار کرنا چاہتاہے،یہ تو انتخابات کے بعد ہی معلوم ہو گا۔ دوسرا، بھارت کی جانب سے حکام کے مابین ہونے والی تقریباً ہر ملاقات میں جامع مذاکرات کی بحالی کیلئے شرائط پیش کی گئیں، چاہے وہ اسے ایسا نہ ہی کہیں۔ چاہے لائن آف کنٹرول پر امن کا قیام ہو یا ممبئی حملے کے مقدمے کو انجام تک پہنچانا ہو، پاکستان کیلئے اہداف کا تعین کر دیا گیا۔ بھارت کی جانب سے جامع مذاکرات کی بحالی پر غور کو اسلام آباد کی جانب سے ان شرائط کے پورا ہونے سے مشروط کردیا گیا۔ تیسرا، ان متعدد ملاقاتوں میں بھارت کی جانب سے تجارت اور دہشت گردی کے معاملات پر بات کرنے کا اشارہ دیا گیا لیکن کشمیر، سیاچن، سرکریک اور آبی مسائل جن پر پاکستان کی دلچسپی ہے ان پر بھارت کی جانب سے بات کرنے کا ارادہ نظر نہیں آیا۔ یہ صورتحال مخصوص امور پر مذاکرات کرنے کے طرزفکر کی غماز ہے اور اس کے لئے بھی پاکستان کو پیشگی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ نتیجتاً آئندہ مہینوں میں دونوں ممالک کے حکام کے مابین ملاقاتوں کیلئے تاریخیں مقرر نہیں کی گئیں۔ یہاں تک کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرلوں کی ملاقات جس پر نیویارک میں اتفاق کیا گیا اور جس کی دہلی میں توثیق کی گئی اس کے بھی آثار ابھی تک نظر نہیں آرہے اور دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کی طرف سے تاریخ مقرر کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے تجویز پیش کی تھی کہ ملاقات تنازع کے وسیع تر تناظر میں ہونی چاہئے اور اس میں وزارت خارجہ کے حکام کی شرکت بھی ہو، دہلی کی جانب سے اس تجویز کو مسترد کردیا گیا۔ حالانکہ سرتاج عزیز کے دہلی کے دورے میں تکنیکی سطح پر دو اور ملاقاتوں پر اصولی طور پر اتفاق کیا گیا تاہم ان ملاقاتوں کیلئے تاریخوں کا تعین کیا جانا ابھی باقی ہے۔

اگر یہ ہو بھی جائیں تو بھی یہ جامع مذاکرات کے ڈھانچے سے باہر ہوں گی۔ تکنیکی سطح کی پہلی ملاقات پانی و بجلی کے سیکریٹریوں کے درمیان ہونی ہے جس کا مقصد بھارت سے بجلی کی درآمد کی تجویز پر کام کرنا ہے۔ دوسری ملاقات دونوں ممالک کے سیکریٹری تجارت کے مابین ہوگی، جو کہ ستمبر2012ء کے مذاکرات کے متفقہ روڈ میپ کا تسلسل ہے۔ ملاقاتوں میں یہ تاخیر ایک قابل ذکر مثال پیش کرتی ہے کس طرح باہمی تعلقات میں تناؤ کی فضا ایک ایسے ٹھہراؤ کی جانب لے جاتی ہے جس کے فروغ کیلئے دونوں فریقین کوشاں ہوں۔

پاکستان کی جانب سے نیویارک میں دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ششماہی ملاقاتوں کی تجویز پیش کی گئی جبکہ کہا جاتا ہے کہ سرتاج عزیز کے نئی دہلی کے دورے کے دوران بھارت کی جانب سے اس میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا تاہم شیوشنکر مینن کی جانب سے اس طریق کار پررضامندی کے حوالے سے لب کشائی ابھی باقی ہے۔ یہ تمام جامع عمل کے معاملات ہیں13 نومبر کو بھارتی وزیر اعظم اور سرتاج عزیز کے مابین حیران کن تبادلہ خیال ہوا۔

ملاقات میں جب سرتاج عزیز کی جانب سے تجویز پیش کی گئی کہ سیاچن اور سرکریک کے مسائل حل ہوسکتے ہیں تو وزیر اعظم منموہن سنگھ نے جواب دیا کہ کارگل کے تجربے کا سیاچن کے مسئلے پر اثر پڑا اب یہ صرف جموں و کشمیر کے پر ہونے والے جامع حل کے تحت ہی حل ہوگا۔ اس جواب نے اسلام آباد کے اس تاثر کوتقویت دی جس کے مطابق دہلی کا موقف سخت ہے اور ساتھ ہی اس تاثر کو مسئلے پر مذاکرات کے گزشتہ2 ادوار سے بھی تقویت ملی۔ دونوں ممالک کے مشکلات سے دوچار تعلقات میں سفارتی ملاقاتیں دونوں ممالک کے مابین تعلقات بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گی لیکن سفارتی سرگرمی سے تحریک بھی پیدا ہونی چاہئے، اہداف کے بغیر محض مذاکرات کا راگ الاپنا ترقی کی نہیں مایوسی کی ترکیب ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بھارت میں انتخابات کے بعد تعلقات معمول پر لانے کیلئے کیا ہوگا اس پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔

کیا دہلی جامع مذاکرات کی بحالی کیلئے شرائط پر مبنی مختصر طرز فکر پر کاربندی پر مصر رہے گا؟ اگر ایسا ہی ہونا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ بھارت 2008ء تا2011ء جاری رکھنے والی تذویر کی نقل کرے گا جو کہ بے سود رہی تھی، جس کے تحت بھارت جامع مذاکرات کی بحالی کیلئے پاکستان کی جانب سے ممبئی حملوں کی عدالتی کارروائی کے حوالے سے اقدامات کا متقاضی تھا۔ اس وقت بھارتی حکام جامع مذاکرات کے طریق کار کی افادیت پر سوال اٹھانے لگے جو کہ آٹھ نکاتی ایجنڈے پرمشتمل تھا(جامع مذاکرات کے اس طریق کو 1997ء میں وضع کیا گیا تھاجو کہ 2004ء سے2007ء تک بغیر کسی تعطل کے چلتا رہا۔ ایسا اس سے ظاہر ہوا کہ وہ کچھ مسائل پر تو بات کرنے کو تیار تھے جبکہ دیگر پر نہیں۔ مذاکرات کے ڈھانچے میں تبدیلی کیلئے اشارے دیئے گئے لیکن بھارت نے اپنا سفارتی طرز عمل تبدیل کیا اور 2011ء میں جامع مذاکرات کی جانب آنے کا نام نہاد فیصلہ کیا۔ جس کے بعد مذاکرات کے 2 ادوار ہوئے اور تیسرا ابھی شروع ہی ہوا تھاکہ بھارت نے جنوری2013ء میں لائن آف کنٹرول پر تناؤ کی صورتحال کے بعد سے باضابطہ مذاکرات معطل کردیئے جوکہ اب تک شروع نہیں ہوئے۔ بھارت کی جانب سے ماضی میں مذاکرات کے ڈھانچے یا اس کے طریق کار کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش کارگر ثابت ہوئی اور نہ ہی مستقبل میں ہوگی۔2001ء سے دہلی نے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کے معاملے میں کھل، بند قسم کا طرز عمل اختیار کیا جس میں اس نے مذاکرات کو مراعات اور انعام کے حصول کیلئے استعمال کیا اور جو کہ خود اس کے اپنے اہداف کیلئے ضرررساں ثابت ہوا۔ اس طرز عمل کی وجہ سے تجارت اور عوامی سطح پر رابطوں کی دہلی کی دیرینہ ترجیح کو نقصان پہنچا۔

مزید برآں، مذاکرات کی وسعت میں کمی پر اسلام آباد کی جانب سے مزاحمت کی جائیگی اور اس سے دیرینہ مسائل سے مشکل ہی سے پہلو تہی ممکن ہوسکے گی۔ باہمی تعلقات میں مکمل طور پر یکطرفہ ترجیحات ہی کا انعکاس ممکن نہیں، نہ ہی ایک فریق کسی دوسرے پر کوئی ایجنڈا مسلط کرسکتا ہے۔ پہلے سے طے شدہ کئی پہلوؤں پر ہونے والے مذاکرات تمام مسائل کا احاطہ کرتے ہیں جو کہ تعلقات معمول پر لانے کیلئے سب سے زیادہ حقیقت پسندانہ طریق ہے۔ جامع مذاکرات کی بحالی اختلافات سے نبردآزما ہونے اور اتفاق کو تقویت دینے کا قابل عمل ترین ذریعہ رہاہے، محض تعلقات میں دیرینہ تناؤ کی علامات کیلئے ہی نہیں بلکہ اس کی وجوہات کیلئے بھی کوششوں سے ہی دیرپا امن ممکن ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں