نریندر مودی اپنی ریاست عمران خان کے حوالے کر دیں

اسد اللہ غالب
اسد اللہ غالب
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

عمران خاں نے بھارت کے دورے میں کہا تھا کہ اگر بھارتی عوام اگلے الیکشن میں نریندر مودی کو وزیراعظم منتخب کرتے ہیں تو وہ بھی انہیں خوش آمدید کہیں گے، اس کی دلیل کے طور پر عمران خاں نے واجپائی کا حوالہ دیا ، جن کا تعلق بھی انتہا پسند بھارتیہ جنتا پارٹی سے تھا مگر بقول عمران، انہوںنے واہگہ کے راستے بس میں لاہور کا سفر کر کے خطے میں قیام امن میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ واجپائی کا دورہ لاہور، امن کی آشا کے سفر میں پہلا قدم تھا، مگر بد قسمتی سے یہ سفر طویل تر ہوتا جا رہا ہے اور منزل ہے کہ اس کا نشاں نہیں ملتا۔

امن کے ایک ادنیٰ پجاری کے طور پر میرا فرض ہے کہ میں اس میں کوئی کردار ادا کروں اور ظاہر ہے میرے پاس مشورے کے سوا ہے کیا۔ نریندر مودی نے اپنی ریاست میں بڑی طویل اننگز کھیلی ہے، وہ جب سے چیف منسٹر بنے ہیں، یہ بھول ہی گئے ہیں کہ ان کی ٹرم کبھی ختم بھی ہو گی یا نہیں۔ بارہ تیرہ برس سے وہ چیف منسٹری سے چپکے ہوئے ہیں۔ اب ہو سکتا ہے کہ عمران خان کی بات سچی نکلے اور بھارتی عوام گجرات کوان سے سے چھٹکارا دلوانے کے لئے وزیراعظم بنوا دیں تو میری تجویز یہ ہے کہ وہ جاتے جاتے اپنی ریاست کا کنٹرول عمران خان کے سپرد کر دیں۔ اگر عمران خان کو ایک بھارتی ریاست حکمرانی کے لئے مل جائے تو یہ خطے میں دوستی کے بڑھاوے کے لئے اہم پیشرفت ہو گی۔ گجرات کی شہرت ایک خون آشام ریاست کی ہے، یہاں گودھرا ریل سانحے کے بعد ہزاروں مسلمانوں کو انتقام کی بھٹی میں کوئلہ بنا دیا گیا اور عمران کی پارٹی کو بھی ایسے ہی ایک سلگتے صوبے میں حکومت کا کچھ کچھ تجربہ تو ہو گیا ہے۔ ویسے ان کے رابطے وسیع ہیں اور برسوں کے ہیں، عمران صاحب، خان ہیں تو پٹھا ن ضرور ہوں گے، ان کے بہنوئی حفیظ اللہ خان اپنے نام کے ساتھ نیازی لکھتے ہیں۔ عمران نے تو پٹھانوں کو غیرت مند کہا تھا۔ اُسامہ کو جب امریکہ کے حوالے نہ کیا گیا تو میں نے غیور پٹھانوں کو دل ہی دل میں داد دی تھی، پھر وہ اس کے لئے مر مٹے اور بالآخر امریکہ کو مار بھگانے میں کامیاب ہوتے نظر آتے ہیں۔

مگر عمران کی غیر ت کو کیا ہوا کہ نریندر مودی کے گن گانے لگا۔ غیرت مند تو قائداعظم تھے جنہوں نے انگریز کی غلامی کے خلاف جدو جہد کی اور ہندو کی غلامی میں تو جانے سے انکار ہی کر دیا اور مسلمانوںکے لئے ایک آزاد ملک بنا کر دم لیا۔ یہ تھا غیرت کا تقاضا اور لگتا ہے کہ قائد کے ملک کے لیڈر غیرت کا سبق بھولتے جا رہے ہیں۔ پہلے ہندو کہتے تھے کہ یہ واہگہ کی لکیر کیا ہے، اس نے دلوں میں دراڑ ڈال دی ہے۔ اب ہم بھی کہتے ہیں کہ واہگہ کو ویزہ فری ہونا چاہئے۔ ایک دن وزیراعظم نے کہا کہ واہگہ بارڈر چوبیس گھنٹے تجارت کے لئے کھلا رہنا چاہیے ، دوسرے دن چھوٹے میاں جی نے بھی رٹا رٹایا فقرہ اُگل دیا۔

شریف برادران کی بھارت دوستی کی وجہ یہاں تک سمجھ میں آتی ہے کہ وہ کاروباری لوگ ہیں اور کاروبار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ بھارت ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے اور مینو فیکچرنگ کا مرکز بھی، اس لئے کونسا تاجر اور دکاندار ہو گا جو اسے نظر انداز کرے گا مگر یہ عمران خاں کو بیٹھے بٹھائے کیا ہو گیا، وہ اتنی چھوٹی عمر کا ضرور ہے کہ اسے تقسیم کی خونریزی کا علم نہیں ہو گا لیکن بابری مسجد کا المیہ تو اس نے کھلی آنکھوں سے دیکھا ہو گا، بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس کی بنیادیں تک اکھیڑ ڈالی تھیں اور کیا عمران خان بھول گیا کہ ہندو انتہا پسندوں نے کتنی مرتبہ پاک بھارت کرکٹ میچوں کو شعلوں کی نذر کیا، کرکٹ تو عمران خان کا مشغلہ رہا ہے۔ وہ اپنے دماغ کو حاضر کرے اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے غنڈوں کی حرکتوں کو یاد کرنے کی کوشش کرے اور اس روز عمران خان بھارت میں تھے جب تہلکہ کے ایڈیٹر کو دفتر میں ایک ملازمہ کے ساتھ زیادتی کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔ اس پر ارون دھتی رائے سے تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو اس کے تاریخی الفاظ عمران خان نے کیوں نہیں سُنے کہ جو بھارتی شہری، نئی دہلی میں ایک نو عمر بچی اور دوسری خواتین کے ساتھ زیادتیوں پر پھنکار رہے ہیں، وہ کشمیر میں عصمت دری کے المیے پر کیوں خاموش ہیں؟

عمران خاں ایک غیرت مند پاکستانی بنیں اور ارون دھتی رائے کو جواب دیں کہ وہ کشمیری خواتین کی آبروریزی کو بھول کر پاک بھارت دوستی کے خوابوں میں کیوں مست رہنا چاہتے ہیں۔ بجلی بنانی ہے تو کشمیر واپس مانگیں جس کی مسلم آبادی پر بھارت نے ناجائز قبضہ جما رکھا ہے اور جہاں سے وہ سارے دریا نکلتے ہیں جن پر بھارت نے بند باندھ لئے ہیں اور ہمیں پانی اور بجلی سے محروم کر رکھا ہے۔ بھارت تو ان دریائوں سے سَستی بجلی پید اکرے اور ہمیں عمران خان مہنگے ایٹمی بجلی گھروں کی راہ پر لگا رہے ہیں، وہ بھی ہندو کے ساتھ مشترکہ کنٹرول میں۔ ہم پانی اور بجلی کی محرومی کو بھی برداشت کر سکتے ہیں لیکن جس طرح کشمیر میں مسلم نسل کشی کی جا رہی ہے اور کشمیر کی عفت مآب خواتین کی اجتماعی آبروریزی کی جا رہی ہے، اس پر تو غیرت دکھائیں۔ عمران خان اور ان کے ہم نوا شریف برادران چند برس پہلے کے مسلم لیگی وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی دور کے معاہدوں پر ایک نظر ڈالیں جن میں پاکستان نے پیشکش کی تھی کہ اجتماعی آبروریزی کا شکار ہونے والی کشمیری خواتین کی نفسیاتی بحالی میں پاکستان مدد کرے گا۔ پتہ نہیںکس جگرے کے ساتھ بھارت سے امن کی پینگھ جھولنے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ میری باتیں انتہا پسندانہ پراپیگنڈہ لگتی ہیں تو جناب عمران خان کو ارون دھتی رائے کے تبصرے پر ہی غور فرما لینا چاہئے۔

Arundhati Roy: Indian Army using Rape as Weapon in Occupied Kashmir NEW DELHI,INDIA: Prominent Indian writer and human rights activist, Arundhati Roy has said that Indian army and police are using rape as a weapon against people in Occupied Kashmir and parts of India like Manipur.Speaking on the issue of Delhi rape incident during a media interview in New Delhi, she said, "When rape is used as means of domination by the Upper Caste, army and police, it is not even punished." She said that rape was 'legitimately' being used as "there are laws which protect them when they do it." Arundhati Roy questioned why the Indians did not demand death punishment for the perpetrators of such crimes in Occupied Kashmir.یہ پڑھنے کے بعد بھی کسی غیرت مند کا ضمیر نہیں جاگتا تو وہ امن کی آشا کا علم بلند کرے اور ویزے کے بغیر اسے واہگہ پار دھکیل دیا جائے اور نریندر مودی اسے اپنی ریاست کی حکمرانی سونے کی طشتری میں رکھ کر پیش کر دیںاور خود الیکشن کے بعد بھارت کی وزیراعظمی کریں

بشکریہ روزنامہ"نوائے وقت"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں