.

اسمبلیوں کا اندر باہر۔اور کافر ہی کافر!

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک فرانسیسی نوجوان نے انگریزی زبان سیکھنے کے لئے ایک برطانوی ادارے میں داخلہ لیا۔ یہ دو سال کا کورس تھا، کورس کے اختتام پر نوجوان اپنے استاد کی خدمت میں حاضر ہوا اور نہایت مودبانہ انداز میں سینے پر ہاتھ رکھ کر استاد کو مخاطب کیا اور کہا ’’استادِ محترم، میں کل واپس اپنے وطن فرانس جا رہا ہوں۔ وہاں میرے لائق کوئی خدمت ہو تو مجھے ضرور بتائیں‘‘ استاد نے کہا ’’تمہارا بہت شکریہ، خدمت صرف یہی ہے کہ وہاں اگر کبھی کوئی تم سے پوچھے کہ تم نے انگلش کس سے پڑھی ہے تو براہ کرم میرا نام نہ لینا!‘‘

’’جیو‘‘ کے نوجوان رپورٹر امین حفیظ نے مجھے بتایا کہ وہ کالج میں میرا شاگرد رہا ہے، مگر میں نے اسے نہیں کہا کہ وہ یہ بات کسی اور کو نہ بتائے کیونکہ امین ایک نہایت اچھا رپورٹر، اور اپنے کام میں بہترین ہونے کے علاوہ بہت اچھا انسان بھی ہے، گزشتہ روز وہ میرے ساتھ تھا۔ وہ پکا لاہوریا ہے چنانچہ ’’ر‘‘ کو ’’ڑ‘‘ اور ’’ڑ‘‘ کو ’’ر‘‘ بولتا ہے، چنانچہ جب گفتگو کر رہا ہوتا ہے تو مجھے اپنے ٹی وی سیریل ’’خواجہ اینڈ سن‘‘ کی اندرونِ لاہور کی ’’جواد جی‘‘ والی اداکارہ یاد آ جاتی ہے، جس کے ڈائیلاگ میں نے اندرونِ شہر کی زبان ہی میں لکھے تھے۔ گفتگو کے دوران امین حفیظ نے اسمبلی اور اس کی کارروائی کے بارے میں مجھے بہت معلومات افزاء اور اس کے ساتھ ساتھ نہایت دلچسپ باتیں بھی بتائیں، چونکہ امین پنجاب اسمبلی جاتا رہتا ہے، چنانچہ یہ احوال پنجاب اسمبلی کا ہے لیکن یہ سب کچھ پاکستان کی تمام اسمبلیوں بلکہ دنیا بھر کی اسمبلیوں پر بھی کافی حد تک منطبق ہوتا ہے۔ مجھے جو بات سب سے زیادہ دلچسپ لگی، وہ ان چھ عدد مسلح گارڈ کے حوالے سے ہے جن کی ڈیوٹی پنجاب اسمبلی کے مرکزی دروازے پر ہوتی ہے۔ ان کا کام صرف وزیر اعلیٰ، سپیکر، ڈپٹی اسپیکر، وزراء اور اسمبلی میں آنے والے سیکرٹری سطح کے افسران کو گن اٹھا کر سلیوٹ کرنا ہے، چونکہ ان میں سے بہت سے لوگ اسمبلی کا رخ ہی نہیں کرتے لہٰذا انہیں پورے دن میں صرف آٹھ دس سلیوٹ کرنا پڑتے ہیں اور اس کے بعد ان کی ڈیوٹی ختم ہو جاتی ہے۔ اس گارڈ کے علاوہ ڈی ایس پی عہدوں کے دو آفیسر ہیں، ایک مرد اور ایک عورت جو سارجنٹ ایٹ آرمز کہلاتے ہیں، ان کا کام صرف سپیکر کی نشست کے پیچھے بیٹھے رہنا ہے چنانچہ اگر کوئی رکن اسمبلی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرے تو یہ اسپیکر کے حکم پر اسے اٹھا کر ایوان سے باہر پھینک دیتے ہیں لیکن چونکہ ایسا کم کم ہی ہوتا ہے، لہٰذا انہیں صر ف بیٹھنے کی تنخواہ ملتی ہے۔

بالکل اسی طرح جس طرح چھ افراد کو سارے دن میں چھ افراد کو سلیوٹ مارنے کی تنخواہ دی جاتی ہے، ویسے یہ جو سارجنٹ ایٹ آرمز ہیں ان کی حیثیت ان باڈی بلڈر بائونسرز کی سی ہے جو یورپ کے نائٹ کلبوں میں غل غپاڑہ مچانے والوں کے لئے کلب میں متعین کئے گئے ہوتے ہیں۔

اسمبلی میں ’’معاملات ِمن و تو‘‘ کے لئے بھی ایک طریق کار متعین ہے۔ دراصل ارکان اسمبلی قواعد کے تحت اپنی نشستوں پر بیٹھنے کے پابند ہوتے ہیں، تاہم اگر کوئی رکن دوسرے رکن سے بات کرنا چاہے تو وہ قاعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اٹھ کر دوسرے رکن کے پاس جا بیٹھتا ہے، چنانچہ خاتون ارکان مرد ارکان کے پاس اور مرد ارکان خاتون ارکان کے پاس بھی آتے جاتے رہتے ہیں، حالانکہ نامہ و پیام کے لئے اسمبلی میں ایک ’’قاصد‘‘ بھی ہوتا ہے اور سیانے لوگ اسے چٹ پر پیغام لکھ کر دیتے جو پابند ہوتا ہے کہ پڑھے بغیر وہ پیغام متعلقہ رکن یا ‘‘رکنہ‘‘ تک پہنچائے، اس ’’قاصد‘‘ کا ایک کام اور بھی ہوتا ہے اور وہ یہ کہ وقفہ سوالات کے دوران کسی اہم سوال کا جواب وزیر صاحب کے پاس نہ ہو تو وہ وزیر کی چٹ اس محکمے کے افسر کو پہنچاتا اور واپس اس کا جواب لے کر آتا ہے۔ جس سے وزیر موصوف اس امتحان میں پاس ہو جاتے ہیں۔

باقی جہاں تک پنجاب یا دوسرے صوبوں کی کارکردگی کا تعلق ہے تو یہ سوال ’’اسبغول تے کج نہ پھول‘‘ کے زمرے میں آتا ہے، اسمبلیوں کے قیام کا جو مقصد ہے، وہ کماحقہ پورا نہیں ہوتا اور قواعد و ضوابط کی پابندی تو بہت کم ہوتی ہے، ارکان کی اکثریت شکل دکھا کر غائب ہو جاتی ہے، وزراء بھی اسمبلی میں آنے کی زحمت کم کم ہی گوارا کرتے ہیں۔ کورم پورا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اکثر اجلاس اس شرط کو پورا کئے بغیر ہوتے ہیں۔ اسپیکر صاحب کارروائی میں حصہ لینے کی بجائے آپس میں گپ شپ لڑانے والے ارکان اسمبلی کو ’’آرڈر آرڈر‘‘ کہتے رہتے ہیں مگر اس نقار خانے میں طوطی کی کوئی نہیں سنتا۔ وقفہ سوالات کا پروسیجر ایک مکمل ستم ظریفی ہے‘‘ اس وقفے میں مختلف محکموں کی کارکردگی کے حوالے سے سوالات ہونا ہوتے ہیں۔ اس کا دورانیہ ایک گھنٹہ ہوتا ہے، مگر ان سوالات کے جوابات کی تاریخ آگے پڑتی چلی جاتی ہے اور اس کی صورت ویسی ہی ہو جاتی ہے جیسی عدالتوں میں برسوں چلنے والے مقدموں کی ہوتی ہے۔ ذرا پروسیجر ملاحظہ فرمائیں۔

ارکان اسمبلی محکموں سے متعلق اپنا سوال اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کراتے ہیں۔ اسمبلی یہ سوال سول سیکرٹریٹ بھیج دیتی ہے تاکہ متعلقہ محکمہ جواب دے سکے۔ سوال وہاں گھومتا رہتا ہے (اسے یقیناً چکر آ جاتے ہوں گے) اسمبلی کو اس کا جواب تقریباً تین ماہ سے ایک سال کے عرصے تک میں ملتا ہے۔ اب اسمبلی میں اس جواب کی نوک پلک اور جواب کو اسمبلی کی زبان میں ڈھالنے کا کام شروع ہوتا ہے جس میں مزید کچھ ماہ لگ جاتے ہیں بعد ازاں سوالات کے جوابات کی پرنٹنگ کا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے جس میں مزید کچھ ماہ لگ جاتے ہیں، جب یہ سارے کام جو زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے میں ہو جانا چاہئیں مکمل ہو جاتے ہیں تو پھر کچھ نئے مسائل جنم لیتے ہیں (1) سب کام مکمل ہوتا ہے تو اس وقت اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو رہا ہوتا (2) اجلاس ہو رہا ہو تو دن مختص کئے جاتے ہیں کہ فلاں تاریخ کو فلاں محکمے کے سوالات کے جوابات دیئے جائیں گے (3) اجلاس بھی ہو رہا ہو، اس میں متعلقہ محکمے کے متعلق سوال بھی زیر بحث آ جائیں تو سوال کی باری آنے پر متعلقہ رکن جس نے سوال کیا ہوتا ہے، وہ ایوان میں موجود نہیں ہوتا (4) کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایوان میں سوال کا دن بھی ہوتا ہے، متعلقہ رکن بھی ایوان میں موجود ہوتا ہے لیکن شروع کے سوالات اتنا وقت لے لیتے ہیں کہ ایوان میں موجود کئی ارکان کے سوال کی باری ہی نہیں آتی اور مقررہ وقت یعنی ایک گھنٹہ مکمل ہونے پر رکن منہ دیکھتا رہ جاتا ہے (5) وقفہ سوالات کے دوران جب کسی رکن کے سوال کی باری آتی ہے اور وہ موجود نہ ہو تو کوئی دوسرا رکن اس کی طرف سے سوال پڑھ دیتا ہے جس کا جواب وزیر صاحب دیتے ہیں۔ اگر کوئی ایسا دو مرتبہ کر لے تو جب اس کے اپنے سوال کی باری آئے گی تو اسپیکر صاحب یہ کہہ کر اسے بٹھا دیتے ہیں کہ آپ نے ساتھی ارکان کے دو سوال کر کے جواب حاصل کر لئے ہیں، اس لئے اب قانون کے تخت سوال نہیں کر سکتے!

اسمبلیوں کے یہ رلا دینے والے لطیفے سینکڑوں کی تعداد میں ہیں! باقی پھر کبھی سہی آپ اس صورتحال سے یقیناً بد مزہ ہوئے ہوں گے چنانچہ آپ کے منہ کا مزا بدلنے کے لئے ذیل میں ایک نظم نما چیز درج کر رہا ہوں جو ان دنوں پورے ملک میں مختلف پلیٹ فارموں سے گردش میں ہے یہ نظم ہمیں بہت کچھ سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے، سوچیں اور یہ ’’نظم‘‘ پڑھیں!

پھولوں کی خوشبو بھی کافر،
لفظوں کا جادو بھی کافر،
یہ بھی کافر، وہ بھی کافر،
فیض بھی کافر، منٹو بھی کافر،
برگر کافر پیزا کافر،
طبلہ کافر، ڈھول بھی کافر،
پیار بھرے دو بول بھی کافر،
وارث شاہؒ کی ہیر بھی کافر،
چاہت کی زنجیر بھی کافر،
بیٹی کا بستہ بھی کافر،
بیٹی کی گڑیا بھی کافر،
ہنسنا رونا کفر کا سودا،
غم کافر، خوشیاں بھی کافر،
ٹخنوں کے نیچے لٹکے تو اپنی یہ شلوار بھی کافر،
فن بھی اور فنکار بھی کافر،
یونیورسٹی کے اندر کافر، باہر کافر،
میلے ٹھیلے، کفر کا دھندا پھندا
مندر میں تو بت ہوتا ہے
مسجد کا بھی حال برا ہے،
کچھ مسجد کے اندر کافر،
کچھ مسجد کے باہر کافر،
مسلم ملک میں اکثر کافر،
کافر کافر،
تم بھی کافر، …یہ مسلک اور وہ مسلک کافر،
شروع سے لے کر آخر تک کافر،
کافر، کافر، ہم سب کافر!

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.