.

انگور کا پانی اور جنرل رانی

حافظ شفیق الرحمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یادش بخیر! جنرل رانی ہماری حکومتی تاریخ کا ایک ضخیم لیکن رنگین باب تھی۔ اس کے سینے میں کئی رازہائے سربستہ دفن تھے۔ وہ واحد’’ دلیر عورت‘‘ تھی جو یہ بتا سکتی تھی کہ کس کس دور میں اس کی کون کون سی ’’معاصر‘‘ ہم جولیوں نے ایوان ہائے اقتدار میں شراب و شباب کی محافل آراستہ کرنے کی ذمہ داری لے رکھی تھی۔ وائے افسوس ! یہ راز اُن کے پیوند خاک ہوتے ہی رزقِ خاک بن گئے۔ ان’’ جگردار‘‘ اور ’’چٹخارے دار‘‘ خواتین کو جنرل نیازی ’’خوشبودار دیوداسیاں ‘‘کہا کرتے تھے۔ ان دیو داسیوں نے اس معاشرے اور مملکت میں ’’پنج تارا ادا فروشی اور حیا فروشی‘‘ کو متعارف کروایا۔ جنرل رانی ’’پنج تارا ادا فروشی ‘‘کی بانیوں میں سے ایک تھیں۔۔۔ جنرل یحییٰ خان کے عہد اقتدار میں رانی کا چرچا ہوا۔ ’’راجہ رانی‘‘ کی رنگ رلیوں اور چونچلوں کی ہوش ربا داستانیں یحییٰ خان کے ایوان اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد منظر عام پر آئیں۔ رانی اور یحییٰ خان کے مابین گل و بلبل اور شمع و پروانہ کا سا تلازماتی تعلق تھا۔ یحییٰ خان ’بوجوہ‘ ان پر جان چھڑکتے تھے، اس دور کی بیورو کریسی اور سیاست کے کئی دیگر جرنیل بھی اقلیم اختر عرف جنرل رانی کی چشمِ سرمگیں سے شرابِ التفات کشید کرتے رہے۔ جنرل رانی کی رقابت اگر کسی سے تھی تو وہ ملکہ ترنم نور جہاں تھیں۔ اب یہ ایک کھلا راز ہے کہ یحییٰ خان کی محافل شبینہ میں نور جہاں بھی ساقی گری کے فرائض بحسن و خوبی ادا کرتی رہیں۔

بھٹو دور میں جنرل رانی نے اپنے ڈیرے شارع قائداعظم پر واقع انٹر کانٹی نینٹل کے ایک ’’سوئیٹ‘‘ میں آباد کر رکھے تھے۔ وقت کے حکمران ان کے آستانے پر جبینِ نیاز لے کر حاضر ہوتے اور اپنے ’’شرارتی من‘‘ کی مرادیں پاتے۔ کھر گورنر بنے تو اس قسم کی اطلاعات موصول ہونا شروع ہوئیں کہ جنرل رانی کی ’’جلوہ گاہِ جمال و وصال‘‘ سازشوں کا گڑھ بن رہی ہے۔ نیلے آسمان کی بوڑھی آنکھوں نے اس طاقتور عورت کی دہلیز پر جانے وقت کے کتنے اعلیٰ افسران کو ناصیہ فرسائی کرتے دیکھا۔ آسمان نے رنگ بدلا، حالات نے پلٹا کھایا، لیل و نہار کی گردش نے کروٹ لی اور پنجاب پولیس حرکت میں آئی۔ ایک شب جنرل رانی کو بمع ساز و سامان’’ سازش گاہ‘‘ سے حفاظتی حراست میں لیکر کوتوالی تھانے پہنچادیا گیا۔ کوتوالی تھانے کی حوالات میں بیسویں صدی کے جہانگیر کی یہ نور جہاں’’ مزارِ بے کسی بنی’’ دیدۂ عبرت نگاہ ‘‘کو دعوت غور و فکر دے رہی تھی۔ اخباری نمائندوں کو اطلاع ملی تو ہر کوئی بھاگم بھاگ کوتوالی پہنچا۔ تھانہ کا وسیع و عریض احاطہ رپورٹرز اور فوٹو گرافرز کی فوجِ ظفر موج کے سامنے تنگ دامانی کا شکوہ کرنے لگا۔ بارسوخ اخباری نمائندوں کو موصوفہ تک پہنچنے کی خصوصی اجازت دی گئی۔ وہ تصویرِ بے بسی بنی سرجھکائے ہر سوال سنتی رہی لیکن کسی بھی سوال کا معقول جواب دینا اس نے مناسب نہ جانا۔ صحافی چٹکی بھرتے، یحییٰ خان کے حوالے سے یادوں کو ساز دینے کی استدعا کرتے لیکن جنرل رانی کا تو حال وہ تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ بعداز خرابی بسیار اس کے ہونٹ پھڑپھڑائے اور اس نے کپکپاتے لہجے میں جواب دیا’’بس نقشہ بگڑ گیا‘‘ سمندر کی پاتال اور آسمان کی پہنائیوں سے خبر ڈھونڈ نکالنے والے کھوجی رپورٹر بصد حسرت و مراد ناکام لوٹے۔ وہ یہ نہ جان سکے کہ کونسا نقشہ بگڑ گیا۔ اس رات یہ کھوجی کوئی بڑی خبر حاصل کرنے میں ناکام رہے۔۔۔

کھر دور میں جنرل رانی مفرور اشتہاری ملزموں کی طرح جابجا چھپتی پھرتی رہی۔ اگلے وقت کے مہربانوں کے دروازے در توبہ کی طرح بند ہو چکے تھے۔ نیا ایوانِ اقتدار ان کیلئے شجر ممنوعہ تھا۔ نیا زمانہ تھا، ساز اور راگ بدل چکے تھے۔ جنرل رانی کوزندگی میں پہلی بار اس قسم کے ناخوشگوار حالات کا سامنا کرناپڑا۔ وہ اپنے آشناؤں سے رابطہ کرتی، ہر ایک کی منت سماجت کرتی، جائے اماں اور دارالاماں فراہم کرنے کی’’ بنتی ‘‘کرتی لیکن نئے دور میں حکمرانوں کے عتاب سے بچنے کیلئے ہمہ نوعی بیورو کریسی کے اسفندیار اور افراسیاب بھی اپنی اس چہیتی سے آنکھیں چرانے لگے۔ وہ روایتی طوطے کی طرح صاف آنکھیں پھیر چکے تھے۔

کوچہ بہ کوچہ، کو بہ کو اور قریہ بہ قریہ خا ک چھاننے کے بعد اسے یہ معلوم ہوا کہ پورے پاکستان میں اگر کوئی ایک شخص اسے پناہ دے سکتا ہے تو وہ لاہور کا ایک صحافی ہے۔ ایک رات اُس عظیم صحافی کے گھر ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ صحافی کی بیگم نے ٹیلی فون کا ریسیور اٹھایا۔ دوسری جانب خوفزدہ لہجے میں ایک خاتون موجود تھیں۔ کہنے لگیں:’’ بیگم صاحبہ! مجھے پناہ چاہئے، میں ایک مظلوم خاتون ہوں، مجھے زمانے نے دھتکار دیا ہے، کل تک میری چوکھٹ بڑی بڑی نامور پیشانیوں کی سجدہ گاہ تھی اور آج میں جس بھی دروازے پر جاتی ہوں مجھے کھوٹے سکے کی طرح لوٹا دیا جاتا ہے‘‘ نامور صحافی کی بیگم نے کہا :’’آپ جانتی ہیں کہ آپ نے کس کے گھر فون کیا ہے؟‘‘ رانی نے بتایا کہ ’میں نے آپ کے شوہر آغا شورش کاشمیری کی جگرداری اوربہادری کی داستانیں سن رکھی ہیں، مجھے میرے ملنے والوں نے بتایا ہے کہ وہ مظلوموں کا ساتھ دینے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے‘۔ بیگم صاحبہ نے کہا :’’آغا صاحب اس وقت آرام کر رہے ہیں، وہ جب سو رہے ہوں تو ہم میں سے کوئی بھی یہ جرأت نہیں پاتا کہ انہیں جگا سکے۔ وہ جب لکھنے میں مصروف ہوں یا آرام کر رہے ہوں تو کسی قسم کی مداخلت اور خلل برداشت نہیں کرتے‘‘۔۔۔ ایک دو گھنٹے گزرنے کے بعد فون کی گھنٹی دوبارہ بجی، دوسری جانب بولنے والی خاتون نے یہ اعلان کیا کہ میں انتہائی مجبور ہوں اور میرے پاس بجز اس کے کوئی اور چارہ نہیں رہاکہ میں بنفس نفیس آپ کے دولت کدے پر حاضر ہو جاؤں۔۔۔چند گھنٹے گزرنے کے بعد رات کے پچھلے پہر جنرل رانی آغا شورش کاشمیری کے گھر کے دروازے کے باہر موجود تھیں۔ آغا صاحب کو بامر مجبوری نیند سے جگایا گیا، وہ باہر آئے اور پرسشِ احوال کی۔

جنرل رانی نے حکومتی مظالم کی ایک طولانی دستان سنائی اوراس کے بعد پناہ کی طلب گار ہوئی۔ آغا صاحب نے کہا کہ میں تمہیں تادیر اپنے ہاں پناہ نہیں دے سکتا۔ یہ سننا تھا کہ جنرل رانی نے ایک ضخیم البم آغا صاحب کو پیش کی اور کہا کہ’ اس البم میں پاکستان کے سول و ملٹری بیورو کریٹوں، سیاستدانوں اور سرمایہ داروں کی زندگی کے مخفی گوشے تصویری زبان میں حقیقتِ حال بیان کر رہے ہیں‘۔

آغا صاحب نے جنرل رانی کو اپنے ہاں ایک رات ٹھہرنے کی اجازت دے دی۔ یہ رات جنرل رانی نے آغا شورش کاشمیری کے گھر کے عقب میں بھینس کیلئے بنے ایک چھپر کے نیچے گزاری۔۔۔ پنج تارا ہوٹلوں، صدارتی محلوں اور وزارتی ایوانوں کے مخملیں اور گداز بستروں پر راتیں بسر کرنے کی عادی خاتون کیلئے یہ رات یقیناً قیامت کی رات تھی۔ صبح ہوتے ہی وہ چل دی۔ آغا صاحب نے اس کے دیئے ہوئے’’تحفہ‘‘ کو اس کی آنکھوں کے سامنے نذرِ آتش کر دیا۔ کہا ’’اقتدار سے محروم ہونے والے لوگوں کے عیب اچھالنا بزدلوں کا کام ہے،

آج تم یہ تصویریں اٹھائے پھر رہی ہو، کل تم ان لوگوں کے نگارخانہ عیش کی رونق ہوگی‘‘آغا صاحب نے جو کچھ کہا وہ سچ ثابت ہوا۔ بھٹو حکومت سے جنرل رانی کی’’ خفیہ ڈیل‘‘ ہو گئی۔ جنرل رانی بھی زیرِ زمیں چلی گئیں اور اس کے بارے میں اچھالی جانے والی رنگین داستانوں پر بھی پردہ ڈال دیا گیا۔

خواجہ ناظم الدین، لیاقت علی خان، چودھری محمد علی،محمد خان جونیجو اور جنرل ضیاء الحق کے سوا پاکستان کے اکثر حکمران کسی نہ کسی جنرل رانی کے زیر اثر رہے۔ ہر دور کسی نہ کسی جنرل رانی اور اس کی ’’بٹالین‘‘ کی حکمرانی کا دور ہے۔ جنرل رانی مر چکی مگر وہ مطمئن ہے کہ اس کی روح زندہ ہے۔ وہ مطمئن ہے کہ اس کے بعد بھی اقتدار کے ایوانوں میں کسی نہ کسی جنرل رانی کے قہقہوں اور چہچہوں پر دل و جان نثار کرنے والے رنگیلے یحییٰ خان موجود رہیں گے۔ جنرل رانی صرف ایک نام نہیں، وہ صرف ایک عورت نہیں بلکہ وہ ایک استعارہ اور ادارہ تھی۔ یہ ادارہ اب ناقابل تسخیر حد تک مستحکم ہو چکا ہے۔ جنرل رانی نے مقتدر طبقات کے ایوانوں کو ہرنیوں، تتلیوں،بلبلوں اور میناؤں سے سجانیکا فن متعارف کروایا تھا۔ یہ فن اب بالغ ہو چکا ہے۔ جنرل رانی کل بھی ایوان اقتدر پر قابض تھیں اور اس کی تربیت یافتہ کئی دیگر ’’کاریگر اور فنکار رانیاں‘‘ آج بھی ایوان ہائے اقتدار کی ’’انٹریئر ڈیکوریشن‘‘ میں مصروف ہیں۔۔۔ ایک تقریر کے دوران سقوط مشرقی پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے مرشد آغا شورش کاشمیریؒ نے کہا تھا کہ ’اس کے ذمہ داران ان گنت ہیں لیکن ان میں انگور کا پانی اور جنرل رانی نمایاں ہیں‘۔

بشکریہ روزنامہ"نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.