.

نسل تو نہ بدلی جغرافیہ بدل گیا

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ ایک عجیب مقدمہ تھا۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما عبدالقادر مُلا کو 1971ء میں پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر قتل عام میں حصہ لینے کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔

ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی کئی عالمی تنظیموں نے عبدالقادر مُلا کے خلاف بنگلہ دیشی عدالتوں کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا لیکن دوسری طرف ڈھاکہ کے شاہ باغ میں کئی مہینوں سے ایک دھرنا جاری تھا جس کے شرکاء 1971ء کے جنگی جرائم میں ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ آخر کار عبدالقادر مُلا کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ اس پھانسی نے بنگلہ دیش میں تشدد کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے۔ بنگلہ دیش میں 5؍ جنوری 2014ء کو نئے انتخابات ہونے والے ہیں۔

بنگلہ دیش کی بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اس الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا ہے کیونکہ یہ الیکشن غیر جانبدار نگران حکومت کی بجائے حسینہ واجد کی حکومت کروا رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں جماعت اسلامی نے عبدالقادر مُلا کی پھانسی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور دعویٰ کیا کہ مُلا صاحب کو پاکستان کا ساتھ دینے کے جرم میں پھانسی دی گئی۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ عبدالقادر مُلا کی پھانسی نے سقوط مشرقی پاکستان کے زخموں کو تازہ کر دیا ہے۔ عبدالقادر مُلا کو دسمبر میں پھانسی دی گئی اور اسی مہینے کی 16 تاریخ کو پاکستان دو لخت ہوا تھا۔ افسوس کہ ہر سال 16 دسمبر آتا ہے اور گزر جاتا ہے لیکن ہم نے کبھی اس دن اپنی غلطیوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔ ہم نہ تو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی کوئی ایسا راستہ تلاش کر پائے جو پاکستان اور بنگلہ دیش میں نفرتوں کو ختم کر سکے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بھی جھوٹ بولتے ہیں اور اپنے آپ کے ساتھ بھی جھوٹ بولنے میں مصروف ہیں۔ جھوٹ نے ماضی میں بھی پاکستان کو توڑا اور جھوٹ آج بھی پاکستان کو اندر سے توڑ پھوڑ رہا ہے لیکن افسوس کے جھوٹ بولنے والے حب الوطنی کے نقاب پہن کر سب کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔

ہم نے آج تک یہ نہیں سوچا کہ وہ شیخ مجیب الرحمان جو تحریک پاکستان کا سرگرم کارکن تھا، جو قائداعظمؒ کا ایک سپاہی تھا اور جس نے 1947ء میں خود ہندوئوں کے ساتھ دست بدست جنگ کی وہ پاکستان کا دشمن کیوں بنا؟ کیا کوئی سیاستدان یا دانشور یہ اعتراف کرنے کی جرأت رکھتا ہے کہ شیخ مجیب الرحمان 1964ء تک محترمہ فاطمہ جناحؒ کو اپنا لیڈر سمجھتا تھا اور اس نے صدارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناحؒ کا بھرپور ساتھ دیا لیکن جنرل ایوب خان نے قائداعظمؒ کی بہن کو بھارتی و امریکی ایجنٹ قرار دے کر دھاندلی سے الیکشن میں ہرا دیا۔ اس دھاندلی نے پاکستان توڑنے کی بنیاد رکھی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنرل ایوب خان نے کچھ علماء کے ذریعہ محترمہ فاطمہ جناحؒ کے خلاف فتویٰ دلایا کہ عورت کی حکومت غیر اسلامی ہے لیکن شیخ مجیب سمیت خان عبدالولی خان اور مولانا مودودی نے فاطمہ جناحؒ کا ساتھ دیا۔ افسوس کہ 1970ء میں جماعت اسلامی جنرل یحییٰ خان کے ساتھ جا کھڑی ہوئی۔ 1970ء کے انتخابات میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کی لیکن جنرل یحییٰ خان نے عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنے کی بجائے اس کے خلاف فوجی آپریشن شروع کر دیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب بھارت کو مشرقی پاکستان میں مداخلت کا موقع ملا اور بھارت نے مکتی باہنی کی مدد شروع کر دی۔

جماعت اسلامی ابتداء میں عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنے کی حامی تھی لیکن جب فوجی آپریشن شروع ہوا تو جماعت اسلامی کے رضا کاروں نے البدر اور الشمس میں شامل ہو کر پاکستانی فوج کا ساتھ دیا۔ یہ حقائق نظر انداز نہ کئے جائیں کہ پاکستانی فوج کے آپریشن سرچ لائٹ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔ 1971ء کے اس آپریشن میں ہونے والی قتل و غارت اور آبرو ریزی کے بارے میں بنگلہ دیشی حکومت کے اعدادوشمار کو مبالغہ آرائی قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا ہے لیکن کیا اس سلسلے میں پاکستانی فوج کے افسران کے دعوے بھی مسترد کر دیئے جائیں؟ 1971ء میں ڈھاکہ میں فرائض سرانجام دینے والے میجر جنرل خادم حسین راجہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ 10 مارچ کو جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے ہمیں کہا کہ ’’میں اس حرامزادی قوم کی نسل بدل دوں گا یہ مجھے کیا سمجھتے ہیں۔‘‘

نیازی کے یہ الفاظ سن کر پاکستانی فوج کا ایک بنگالی افسر میجر مشتاق ایسٹرن کمانڈ ہیڈ کوارٹر کے باتھ روم میں گیا اور اس نے اپنے سر میں گولی مار کر خود کشی کر لی۔ مشرقی پاکستان میں فرائض سرانجام دینے والے ایک اور فوجی افسر میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا نے اپنی کتاب ’’بمبئی سے جی ایچ کیو تک‘‘ میں لکھا ہے کہ ہمارے خفیہ ادارے مشرقی پاکستان میں بنگالی سیاسی کارکنوں کو اغواء کر کے لاپتہ کر دیتے تھے۔ جنرل مٹھا نے کئی مرتبہ ملٹری انٹیلی جینس کے افسران کو کہا کہ لوگوں کو لاپتہ کرنے سے نفرتیں بڑھ رہی ہیں لیکن انہوں نے میری ایک نہ سنی۔ ایک دفعہ جنرل مٹھا نے ملٹری انٹیلی جینس کو ایک میجر کی شکائت کی جو بنگالیوں کو اغواء کر کے لاپتہ کرنے میں ملوث تھا لیکن اس میجر کا کہیں اور تبادلہ کر دیا گیا۔ اسی قسم کی شکایات حمود الرحمان کمیشن کے سامنے بھی آئیں لیکن مشرقی پاکستان میں ظلم و ستم کرنے والوں کا کوئی احتساب نہ ہوا۔ سچ تو یہ ہے کہ جنرل یحییٰ خان اور ان کے چند ساتھیوں نے پوری فوج کو بدنام کیا۔ حقائق یہ ہیں کہ پاکستانی فوج کے نوجوان افسران اور جوانوں نے 1971ء کی جنگ میں بڑی بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا۔ میجر محمد اکرم نے مشرقی پاکستان کے علاقےھلی میں جام شہادت نوش کیا اور ہتھیار پھینکنے کی بجائے شہادت کو ترجیح دی۔ میجر محمد شریف نے سلیمانکی میں بھارتی فوج کے چھکے چھڑائے لیکن جنرل نیازی نے اپنی جان بچانے کے لئے سرنڈر کر دیا حالانکہ وہ چاہتا تو اقوام متحدہ کے عملے کے ساتھ مل کر صرف سیز فائر کے ذریعہ بھی جان بچا سکتا تھا۔ جنرل نیازی کو سرنڈر پر آمادہ کرنے میں بھارتی فوج کے یہودی افسر جنرل جیکب نے اہم کردار ادا کیا حالانکہ جنرل جیکب کا ابتداء میں یہی خیال تھا کہ جنرل نیازی بمشکل سیز فائر پر راضی ہو گا لیکن اس کا خیال غلط نکلا اور نیازی نے 93 ہزار جنگی قیدیوں کے ہمراہ خود کو بھارت کے حوالے کر دیا۔

یہاں یہ نکتہ اہم ہے کہ سقوط ڈھاکہ 16 دسمبر 1971ء کو رونما ہوا لیکن پاکستانی فوج کے ایک بنگالی افسر میجر ضیاء الرحمان نے 27 مارچ 1971ء کو بغاوت کر کے اپنے افسر کرنل جنجوعہ کو قتل کر دیا اور چٹاگانگ ریڈیو سے بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اسی میجر ضیاء الرحمان کے ساتھیوں نے 1975ء میں شیخ مجیب الرحمان کو قتل کیا اور پھر یہ فوج کا سربراہ بن گیا بعد ازاں جنرل ضیاء الرحمان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ شیخ مجیب نے بھی پاکستان کے خلاف بغاوت کی اور ضیاء نے بھی بغاوت کی۔ شیخ مجیب خود کو بنگلہ بندھو یعنی بابائے بنگلہ دیش کہتا تھا اور ضیاء الرحمان خود کو بنگلہ دیش کی تحریک آزادی کا اصل ہیرو قرار دیتا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ شیخ مجیب نے 1971ء میں جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی اور ضیاء الرحمان نے 1975ء میں یہ پابندی ختم کر دی۔ جماعت اسلامی کے ذریعہ ضیاء الرحمان اور پاکستانی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق میں قربتیں پیدا ہوئیں اور یوں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی پاکستان کی اتحادی بن گئی لیکن 1981ء میں ضیاء الرحمان کو قتل کر دیا گیا۔ یہ درست ہے کہ 1971ء میں جماعت اسلامی نے تقسیم پاکستان کی مخالفت کی لیکن بعد ازاں جماعت اسلامی پاکستانی فوج اور ریاست کے خلاف بغاوت کرنے والوں کی اتحادی بن گئی اور انہیں پاکستان کے قریب لے آئی۔

بنگلہ دیش کی سیاست میں پاکستان کی مداخلت نے پرانی نفرتوں کو مزید بھڑکایا ہے۔ عوامی لیگ کا خیال ہے کہ بی این پی اور جماعت اسلامی کو پاکستان سے امداد ملتی ہے لہٰذا عوامی لیگ بدستور پاکستان کی مخالفت کر رہی ہے حالانکہ ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمان میں کئی معاملات طے ہو گئے تھے۔ شیخ مجیب نے 1972ء میں پاکستانی فوج کے 195 افسران کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا۔ یہ افسران بھارت کی قید میں تھے۔ 16 جون 1972ء کو بھارت نے 150 پاکستانی افسر بنگلہ دیش کے حوالے کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی لیکن بھٹو صاحب نے بھارت سے 2 جولائی 1972ء کو شملہ معاہدہ کیا اور اپنے 93 ہزار قیدی واپس لے آئے۔ 1974ء میں بھٹو نے بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا۔ شیخ مجیب الرحمان نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی اور نفرتیں کم ہو گئیں لیکن جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان نے بنگلہ دیش میں مداخلت شروع کر دی اور معاملات پھر بگڑ گئے اور اب ایک پھانسی تک پہنچ گئے۔ عبدالقادر مُلا کی پھانسی نے پاکستان میں بنگلہ دیش کے خلاف جذبات کو ہوا دی ہے۔ بنگلہ دیش کی حکمران جماعت کی مذمت اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کی طرف سے بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کی جائے۔ 1971ء میں جو کچھ ہوا اسے ہم بھلا سکتے ہیں بنگلہ دیشی عوام کی اکثریت نہیں بھلائے گی۔ پرانی نفرتوں کو ختم کرنے کے لئے بنگلہ دیش سے صرف ایک معذرت کافی نہیں جو مشرف کی تھی۔ ہمیں باقاعدہ معافی مانگنی چاہئے جس کا مطالبہ دو سال قبل عمران خان بھی کر چکے ہیں۔ مت بھولئے کہ ہمارا جنرل نیازی مارچ 1971ء میں بنگالیوں کی نسل بدلنے نکلا تھا۔ بنگالیوں نے بھارت کے ساتھ مل کر 16 دسمبر 1971ء کو پاکستان کا جغرافیہ بدل ڈالا۔ بنگالی کہتے ہیں کہ تم لوگوں نے فاطمہ جناحؒ کو غدار قرار دے دیا ہم پھر بھی پاکستان کے ساتھ رہے لیکن جب تمہارے جرنیل ہماری نسل بدلنے پر اُتر آئے تو ہم کیا کرتے؟ مان لو کہ ہم نے غلط کیا اور اب بنگلہ دیشی حکومت نے عبدالقادر مُلا کو پھانسی دے کر بھی غلط کیا۔ دونوں کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا چاہئے اور دونوں کو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہئے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.