.

بھارتی سیاست میں تشویشناک تبدیلیاں

ظہیر اختر بیدری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی سیاست میں مذہبی انتہاپسند جماعتوں کی طاقت کا اندازہ تو ماضی قریب میں بی جے پی کے رہنما واجپائی کے وزیراعظم منتخب ہونے سے کیا جاسکتا ہے لیکن یہ زیادہ تشویشناک نہ تھی کہ واجپائی کی ٹیم اعتدال پسند رہنماؤں پر مشتمل تھی ۔ اس حوالے سے واجپائی کے دورہ لاہور اور مینار پاکستان پر ان کی حاضری نہ صرف بی جے پی کی اعتدال پسند سیاست کی آئینہ دار تھی بلکہ یہ امید بھی پیدا ہو رہی تھی کہ نصف صدی سے جاری کشیدگی میں کمی ہوگی اور دونوں ملکوں کے درمیان متنازعہ مسائل کے بات چیت کے ذریعے حل کے امکانات بھی پیدا ہوجائیں گے۔ اس مثبت پیش رفت میں رکاوٹ کا سبب کارگل ایڈونچر بتایا جاتا ہے لیکن بھارت کی جس لابی نے اس ایڈونچر کو بہانہ بناکر واجپائی کی کوششوں کو سبوتاژ کیا اس نے دراصل برصغیر کے دو ارب غریب اور مفلوک الحال عوام کے بہتر مستقبل کی کوششوں کو سبوتاژ کیا۔

بھارت میں 8 دسمبر کو ہونے والے چار ریاستوں کے انتخابات میں بھارت کی حکمران جماعت کانگریس کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ بی جے پی کو ان ریاستوں میں بھاری کامیابی حاصل ہوئی۔ بھارت کی سیاست میں بی جے پی راشٹریہ سیوک سنگھ بجرنگ دل جیسی مذہبی انتہاپسند جماعتوں کی طاقت میں بتدریج اضافے سے یہ اندازہ تو ہورہا ہے کہ بھارت کی لبرل جماعت کانگریس تیزی سے بھارتی عوام کی حمایت سے محروم ہورہی ہے۔ یہ مایوس کن صورت حال ہمارے سامنے آتی ہے کہ بھارت میں سیکولرازم کی حامی جماعتوں کو مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور بھارت میں مذہبی انتہاپسند جماعتوں کی عوامی حمایت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صورت حال اس لیے تشویشناک ہے کہ اس صورت حال کے ردعمل میں پاکستان کی مذہبی انتہاپسند جماعتوں کو مزید فروغ حاصل ہوگا، یوں یہ خطہ مجموعی طور پر مذہبی انتہاپسندی کا گڑھ بن جائے گا۔

بھارت میں کانگریس سیکولرازم کی سب سے بڑی حامی جماعت ہے ۔ اگرچہ یہ ناکامی کانگریسی حکومتوں کی ہے لیکن بالواسطہ طور پر اس ناکامی کو سیکولرازم کی ناکامی سمجھا جائے گا اور یہ صورت حال نہ صرف بھارت میں ٹوٹ پھوٹ کا ذریعہ بن سکتی ہے بلکہ اس پورے خطے میں سیکولرازم کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو جنوبی ایشیا کے مستقبل کے لیے بہت برا شگون ہوگا۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جن معاشروں میں اظہار رائے کی آزادی ہوتی ہے ان معاشروں میں ترقی پسند دانشور بڑا فعال کردار ادا کرتے ہیں اور معاشرے کی مثبت سمت میں رہنمائی کرتے ہیں۔ لیکن بھارت میں اس کا الٹ کیوں ہو رہا ہے؟

اس حوالے سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارت کا اہل دانش اور اہل قلم بھی گریٹر انڈیا کے سراب میں مبتلا ہوکر جنوبی ایشیا اور دنیا بھر کے عوام کے مستقبل سے لاتعلق ہوگیا ہے اور اس کی تنگ نظری اور تعصب کا عالم یہ ہے کہ مذہبی انتہاپسندی کے فروغ کا ذریعہ بننے والے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اس کی آواز بھارت کی عاقبت نااندیش حکومتوں کی آواز سے ہم آہنگ ہوگئی ہے۔ دکھ اس بات پر ہوتا ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے کشمیر کے حوالے سے 66 سال سے جو جارحانہ پالیسی اپنائی ہے، ہوسکتا ہے اس کا فائدہ بھارت کے ’’قومی مفادات‘‘ کو ہو لیکن مغربی جمہوریت میں قومی مفاد کی جو اصطلاح استعمال ہوتی ہے اس میں قوم کا کوئی وجود نہیں ہوتا بلکہ صرف لوٹ مار کرنے والے حکمران طبقات کا مفاد وابستہ ہوتا ہے، اس کے علاوہ جنوبی ایشیا خاص طور پر پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی جس خطرناک مقام پر پہنچ گئی ہے اس کی ایک بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ کیا ان تلخ حقائق سے بھارت کے اہل قلم اور اہل دانش لاعلم ہیں؟

بھارت کے ’’سیکولر‘‘ اہل قلم بھی گجرات کے بدنام زمانہ قاتل نریندر مودی کی بی جے پی کی طرف سے آنے والے الیکشن میں بطور وزیراعظم نامزدگی پر سخت چراغ پا ہیں لیکن ان کا المیہ یہ ہے کہ وہ یہ جاننے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ نریندر مودی جیسے ’’مستند‘‘ مسلمانوں کے قاتل کی پارٹی کی عوام میں مقبولیت کی وجہ کیا ہے اور اس خطے کی صورت حال پر اس کے اثرات کس قدر خطرناک ہوسکتے ہیں۔ بھارت کی چار ریاستوں میں بی جے پی کی واضح کامیابی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت کی باقی ریاستوں کے انتخابات میں بی جے پی ایک بار پھر اقتدار کی طرف پیش رفت کرے گی۔ اگر بی جے پی انتخابی نتائج میں مرکز میں حکومت بنانے کے قابل ہو جائے گی (جس کے امکانات نظر آرہے ہیں) تو نریندر مودی بھارت کا وزیراعظم ہوگا جو اپنی وچار دھارا کے حوالے سے واجپائی سے بہت مختلف مانا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کے ساتھ مودی حکومت کی پالیسیاں کیا ہوں گی؟

آج دنیا کے عوام سرمایہ دارانہ نظام کے بدترین طبقاتی استحصال کے علاوہ مذہبی نفرتوں اور علاقائی جنگوں میں گھرے ہوئے ہیں، سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں کے مفادات کا تقاضا یہ ہے کہ یہ صورت حال قائم رہے اور عوام تقسیم در تقسیم کا شکار رہیں۔ بھارت جو ماضی میں غیر جانبدار بلاک کا قائد تھا اور بالواسطہ طور پر امریکا کا مخالف سمجھا جاتا تھا آج اس خطے میں امریکا کا سب سے بڑا اتحادی کیوں بنا ہوا ہے؟ پاکستان کی سیٹو، سینٹو اور بغداد پیکٹ میں شمولیت کو امریکی غلامی سے تعبیر کرنے والے بھارتی حکمران آج ایشیا میں امریکا کے فوجی معاہدوں کے روح رواں اور بنیادی کردار کیسے بنے ہوئے ہیں؟ کیا اس امریکا دوستی میں بھارتی عوام بھارتی حکومتوں کے ساتھ ہیں؟

حیرت ہے کہ بھارتی دانشور بھارتی اہل قلم بھارتی حکمرانوں کی اس امریکا دوستی کے خطے پر منفی اثرات کے خلاف آواز اٹھاتے نظر نہیں آتے۔ آج کی جمہوریتوں کا المیہ یہ ہے کہ اس نے ہر جگہ ’’قومی مفاد‘‘ کا زہر اس طرح گھول دیا ہے کہ بین الاقوامی مفادات پس منظر میں چلے گئے ہیں اور بدقسمتی سے ’’قومی مفاد‘‘ کے اس فلسفے میں قوم کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں رہتا کیونکہ یہ نام نہاد جمہوریت عملاً اشرافیہ کی حکومت ہوتی ہے اور اس جمہوریت میں قومی مفاد کا مطلب اشرافیہ کا مفاد ہی ہوتا ہے۔ اگر اس حقیقت کو سمجھے بغیر کوئی دانشور، اہل قلم قومی مفاد کے سحر میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اس کی دانشوری اشرافیہ کی اتباع بن جاتی ہے۔

اصل مسئلہ بھارت میں تیزی سے بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ ہے۔ کانگریس ہی نہیں بلکہ مغربی بنگال اور کیرالہ کی حکومتوں کی ناکامی نے بھارتی عوام کو سیکولر جماعتوں سے مایوس کردیا ہے۔ وہ اب اپنے مسائل کا حل مذہبی انتہاپسند جماعتوں میں تلاش کر رہے ہیں۔ یہ سادہ لوح عوام یہ نہیں جانتے کہ وہ نادانستگی میں ایسی شیطانی طاقتوں کو آگے لا رہے ہیں جو اپنے ملکوں اور معاشروں کو ہزاروں سال پیچھے لے جانا چاہتے ہیں۔ کاش! ہندوستان کے اہل قلم، اہل دانش ان خطرناک مضمرات کو سمجھتے اور ان کے محرکات کی طرف توجہ دیتے۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.