.

دفترخارجہ کی حالت زار

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غور سے دیکھا جائے تو اس وقت ہمارے اندرونی مسائل کی جڑیں بھی خارجہ پالیسی میں پیوست ہیں۔ انتہاپسندی اور دہشت گردی ہماری افغان اور ہندوستان پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہیں ۔ معیشت کا انحصار بڑی حد تک دنیا کے ساتھ تعلقات پرہے ۔ دفاع اگرخارجی محاذ پر نہ کیا جائے تو صرف افواج کو لڑانے سے نہیں ہو سکتا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو وزارت خارجہ پاکستان کی اہم ترین وزارت بن جاتی ہے ۔ اس کا قبلہ درست ہو تو معیشت ‘ دفاع اور اندرونی سلامتی کا قبلہ درست ہوسکتا ہے لیکن اگر اس کا قبلہ درست نہ ہو تو مذکورہ سب شعبوں میں کاوشیں مثبت نتیجہ نہیں دے سکتیں ۔ مگرافسوس کہ جب سے موجودہ حکومت آئی ہے ‘ اس وزارت کا برا حال ہوتا جا رہا ہے۔

اس وزارت کی کچھ مشکلات تو دائمی ہیں مثلاً یہ کہ دنیا کے سامنے اس وزارت نے پاکستان کے مقدمے کو پیش کرنا ہوتا ہے لیکن پالیسی بنانے کا اختیار اس کے پاس نہیں ہوتا ۔ وہ دفاعی اداروں کو ڈکٹیٹ کرسکتی ہے اور نہ وزیراعظم اس کی رائے کو کماحقہ وزن دیتے ہیں لیکن اسے ان دونوں اطراف سے آنے والی ڈکٹیشن کی روشنی میں پالیسی بنانی پڑتی ہے تاہم اب تو اس کی حالت زار کی ایک بڑی وجہ یہ بن گئی ہے کہ اس کا لیڈر معلوم نہیں ۔ یہ وزارت وزیراعظم نے اپنے پاس رکھی ہے ۔ سرتاج عزیز صاحب قومی سلامتی کا مشیر ہونے کے ساتھ ساتھ مشیر خارجہ ہیں جبکہ طارق فاطمی صاحب کو اسپیشل اسسٹنٹ بنا دیا گیا ہے۔ ڈیفیکٹیو وزیر خارجہ کا کردار شہباز شریف صاحب ادا کر رہے ہیں۔ ترکی ‘ چین اور بھارت جیسے ممالک کے دورے بھی وہ کررہے ہیں اور اصل معاملات کو بھی وہ دیکھ رہے ہیں۔

امریکہ اور افغانستان کے معاملات کو وزیراعظم نے اپنے پاس رکھا ہے اور وہ شہباز شریف صاحب کی مشاورت سے ان کو چلارہے ہیں ۔ اب وزارت خارجہ حیران ہے کہ وہ کس سے رجوع کرے اور کس سے ہدایات لے۔ اس کے افسران حیران و پریشان بیٹھے حناربانی کھر صاحبہ کے دور کو رو رہے ہیں۔ سرتاج عزیز صاحب محنتی اور پڑھے لکھے انسان ہیں ۔ انہیں خارجہ امور کا تجربہ بھی ہے تبھی تو گزارش کی جاتی تھی کہ انہیں صدر مملکت بنا دیا جائے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ بے انتہائی شریف اور باوقار انسان ہیں۔ انہیں اختیارات چھیننے سے زیادہ لکھنے پڑھنے اور کام کرنے سے دلچسپی ہوتی ہے۔ آپ انہیں یونیورسٹی کے حدود کے اندر رکھیں تو وہ وہاں سے باہر نہیں نکلتے اور آپ انہیں کسی وزارت کے اندر کسی ایک جز تک محدود کردیں تو وہ وہاں تک محدود رہیں گے۔ اوپر سے انہیں قومی سلامتی کا مشیر بھی بنا دیا گیا ہے۔ زیادہ وقت انہیں اس شعبے کو بھی دینا پڑتا ہے کہا جاتا ہے کہ وہ لاہوری ہیں اور نہ خوشامد کا فن بخوبی جانتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دفتر خارجہ کے انتظامی معاملات سے عملاً باہر رہتے ہیں اور وہ سب دھندے طارق فاطمی صاحب نے اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہیں۔ صدراوباما کے ساتھ ملاقات میں سرتاج صاحب نہیں بلکہ فاطمی صاحب وزیراعظم کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وزیراعظم صاحب کے لئے فاطمی صاحب بعض غیر ضروری غیرملکی دوروں کا اہتمام اس لئے کراتے ہیں تاکہ انہیں ان کے ساتھ ملاقات اور فرصت کے لمحات میسر آسکیں۔ اب المیہ یہ ہے کہ فاطمی صاحب اس ترقی کے باوجود سوچ کے لحاظ سے عملاً آج بھی سفیر اور سرکاری افسر ہیں۔ انہیں پالیسی سے زیادہ ان چیزوں میں دلچسپی ہوتی ہے کہ کس افسر کو کہاں تعینات کیا جائے‘ کس کو اٹھایا اور کس کو گرایا جائے‘ کس افسر پر افسری کا رعب بٹھا دیا جائے اور کس کو نوازا جائے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمہ وقت دفتر خارجہ کے اندر ایک بے یقینی کی صورت حال رہتی ہے۔ اس حکومت کو اقتدار میں آئے سات ماہ گزر گئے لیکن امریکہ جیسے ملک میں ہمارا سفیر نہیں تھا۔

اب خدا خدا کر کے اگلے مہینے سے جلیل عباس جیلانی صاحب چارج سنبھال لیں گے۔ برطانیہ میں ابھی تک واجد شمس الحسن صاحب سے کام چلایا جارہا ہے ۔ وہاں کے لئے ایک نامزدگی کی گئی لیکن دبائو آنے کے بعد وہ فیصلہ واپس لیا گیا ۔ کئی ماہ قبل جب سیکرٹری خارجہ کو امریکہ میں سفیر بنانے کا فیصلہ کیا گیا تو فاطمی صاحب نے جرمنی میں پاکستان کے سفیر عبدالباسط کو سیکرٹری خارجہ نامزد کیا لیکن سنیارٹی میں ان کا نمبر بہت پیچھے تھا۔ فاطمی صاحب نے سنیارٹی کی شرائط کو مدنظر رکھے بغیر یہ فیصلہ بھی کیا اور اس کا اعلان بھی کرادیا۔ چنانچہ عبدالباسط صاحب نے جرمنی میں الوداعی ملاقاتیں بھی کرلیں لیکن ادھر قانون اور سرتاج عزیز صاحب آڑے آگئے چنانچہ اب اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا اور معلوم ہوا ہے کہ سنیارٹی کے اصولوں کے تحت دفترخارجہ کے سابق ترجمان اعزاز چوہدری کو سیکرٹری خارجہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب اس اقدام کی وجہ سے دفتر خارجہ گزشتہ تین ماہ عملاً سیکرٹری سے محروم رہا ‘ افسران کی آپس میں چپقلش نے جنم لیا اور دوسری طرف عبدالباسط جیسے شریف افسر کے کیرئیر کو خراب کرکے متنازع کردیا گیا۔ اس اندھیرنگری کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ وزیراعظم صاحب چین کے دورے سے واپس تشریف لے آتے ہیں لیکن وہ وزیرستان میں سرگرم عمل چینی عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں بریف نہیں ہوتے اور جب صحافیوں کے ساتھ نشست میں ان سے اس بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ فاطمی صاحب کو دیکھ کر کہنے لگتے ہیں کہ تم لوگوں نے تو اس کے بارے میں مجھے کچھ نہیں بتایا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم امریکی صدر اوباما کے ساتھ پوری دنیا کی میڈیا کے سامنے بیٹھ کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ شکیل آفریدی کا معاملہ عدلیہ کے پاس ہے حالانکہ ان کا کیس پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کے پاس ہوا کرتا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ ایبٹ آباد آپریشن میں امریکہ کے ساتھ تعاون کا نہیں بلکہ منگل باغ کے علاج کا چل رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکیم اللہ محسود کے خلاف ڈرون حملے سے متعلق وزیر داخلہ کچھ اور جبکہ مشیر خارجہ کچھ اور کہہ رہے ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تھائی لینڈ کے مسئلے پر تو دفتر خارجہ بیانات جاری کرتا ہے لیکن بنگلادیش میں پاکستان کی حمایت کے الزام میں جماعت اسلامی کے رہنمائوں کے خلاف ریاستی جبروستم پر پہلے تو دفتر خارجہ خاموش رہتا ہے اور پھر جب بیان جاری کرتا ہے تو ایسا فضول کہ اس سے نہ جاری کرنا بہتر ہوتا ہے۔ ہمارا دفتر خارجہ کہتا ہے کہ یہ بنگلادیش کا اندرونی معاملہ ہے لیکن ڈاکٹر بابر اعوان صاحب کا کہنا ہے کہ جب پاکستان کی طرف سے بنگلادیش کو تسلیم کیا جارہا تھا تو اس وقت یہ معاہدہ ہوا تھا کہ بنگلادیش کے قیام کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف مقدمات نہیں چلائے جائیں گے۔ اس تناظر میں یہ بنگلادیش کا اندرونی معاملہ نہیں رہ جاتا بلکہ دو طرفہ معاملہ بن جاتا ہے۔ اگر واقعی یہ صرف بنگلادیش کا اندرونی معاملہ ہے تو پھر نواز شریف حکومت ہی کے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا ردعمل اس قدر سخت کیوں ہے؟ اگر ہماری وزارت خارجہ کی یہ حالت رہی تو ہمیں اس طرح ہر محاذ پر سبکیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیا اس طریقے سے حکمرانوں کی اپنی کوئی فیکٹری چل سکتی ہے اور اگر جواب نفی میں ہے تو پھر پاکستان کی وزارت خارجہ کو کیوں چلایا جا رہا ہے؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.