.

پیپلزپارٹی کا نظریاتی کھنڈر

فرخ سہیل گوئندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان پیپلزپارٹی کا مستقبل؟ یہ سوال آج کل پارٹی کے ان رہنماؤں اور اراکین کی نجی محفلوں میں زیر بحث ہے، جو اس پارٹی میں نظریاتی اور قومی سیاسی مفاد کے حوالے سے سرگرم رہے ہیں۔ ایسی سیاسی قیادت اور کیڈر اب درحقیقت پارٹی میں برائے نام ہی رہ گیا ہے لیکن ان لوگوں کو پارٹی کے سیاسی مستقبل کی گہری فکر ہے۔ وہ پارٹی کے سیاسی مستقبل کو قومی اسمبلی میں عددی اکثریت کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے اس کے سیاست اور پاکستانی سماج کے اندر متحرک کردار کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو آپ پنجاب میں تو تلاش کر سکتے ہیں، سندھ میں شاید نہیں، اس لیے کہ سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی حکومت میں ہے اور یہ اس لیے بھی ممکن ہے کہ یہ پنجاب ہی تھا جس نے اس پارٹی کی عوامی ہیئت بنائی۔ پنجاب نے ہی پی پی پی کو نچلے اور درمیانے طبقے کی جماعت بنا کر ابھارا۔ 70ء کے انتخابات میں پنجاب سے قومی اسمبلی کی نشست جیتنے والے61اراکین اسمبلی کا تعلق درمیانے طبقے سے تھا جس میں صرف ایک شخص انورعلی نون جاگیردارانہ پس منظر رکھتے ہوئے اس پارٹی کے پلیٹ فارم سے منتخب ہوئے، جب کہ سندھ سے ان انتخابات میں پی پی پی کے پلیٹ فارم سے جیتنے والوں کا تعلق جاگیردار خاندانوں سے تھا۔

یعنی یہ پنجاب ہی تھا جس نے پی پی پی کو ایک نظریاتی اور طبقاتی شناخت فراہم کی، گو بعد میں یہ شناخت سندھ میں بھی قائم ہو گئی، لیکن یہ پنجاب ہی تھا، جس نے 1970ء، 1977ء، 1988ء، 1993ء اور 2008ء میں پارٹی کو وفاقی حکومت بنانے کے مقام میں داخل کیا۔ پی پی پی کا پنجاب میں 1988ء کے انتخابات کے بعد کردار نظریاتی بنیادوں سے ہٹنا شروع ہوا۔ اس پالیسی کے تحت سندھ میں تو کوئی خاص فرق نہ پڑا کہ وہاں پر پی پی پی اپنے بانی ذوالفقار علی بھٹو شہید کے جذباتی لگاؤ کی بنیادوں پر Survive کرتی رہی اور اب بھی کر رہی ہے، اور وہاں قیادت جاگیرداروں کے ہاتھوں میں ہے۔ لیکن پی پی پی نے 1986ء کے بعد جس طرح اپنے آپ کو Electoral Politics کی بنیاد پر کھڑا کرنا شروع کیا تو اس نے اس کے پنجاب میں کردار کو محدود کرنا اور شناخت کو دھندلانا شروع کردیا۔ وقت کے دھارے کے ساتھ جب بھی 1988ء کے بعد اس پارٹی نے پنجاب سے انتخابی کامیابیاں حاصل کیں، اس میں نظریاتی حتیٰ کہ عوامی سیاست کی بجائے Electoral Politics کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں 1988ء سے 2008ء تک کے انتخابات میں اس جماعت نے پنجاب سے جاگیردار قیادت کو اہم کردار ادا کرنے کے مواقع دیئے۔ اس حکمت عملی نے پی پی پی کی ہیئت کو ہی بدل دیا۔

پنجاب کا وسطی علاقہ انتہائی حد تک Urbanized ہو چکا ہے اور وہاں نئی مڈل کلاس بھی جنم لے چکی ہے۔ ایسے میں پی پی پی نے پنجاب میں اپنی جاگیردارانہ یا دیہاتی قیادت (یاد رہے کہ یہ کسانوں کی قیادت نہیں) کی بدولت وسطی پنجاب کے اربنائزڈ علاقوں میں بنیاد کھونا شروع کر دی اور جب بھی ان اربنائزڈ علاقوں سے چند شہری یا نیم دیہاتی لوگ منتخب ہوئے تو اس کی وجہ پارٹی کی عوامی سیاست کی بجائے ان خاندانوں کااپنا اثرورسوخ تھا۔ اس میں منڈی بہاؤالدین اور دیگر علاقوں سے جو لوگ منتخب ہوئے، اسے ہم عوامی سیاست کی Product نہیں کہہ سکتے۔ اسی طرح جنوبی پنجاب سے اگر فاروق لغاری، شاہ محمود قریشی، یوسف رضا گیلانی یا دیگر روایتی سیاسی خاندان اس جماعت کے پلیٹ فارم سے ملکی سیاست میں آگے آئے تو اس کو بھی ہم پی پی پی کی سیاسی مشینری کی پیداوار کی بجائے خاندانوں کی سیاست کی پیداوار قرار دیں گے۔ وہ جماعت جو 1970ء میں شہری پنجاب کے درمیانے طبقے کے ترقی پسند نظریات کے سبب شہری اور دیہاتی سارے پنجاب کی قیادت کرتی تھی، اب اس کا مقابلہ 1988ء کے بعد پنجاب کے نئے تاجرطبقے کے ساتھ تھا، جس نے اس کو 1988ء سے 2008ء تک کھلے عام چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران پنجاب سے دکان دار طبقے کے علاوہ کارپوریٹ مڈل کلاس ابھری جو دکان دار طبقے سے زیادہ روشن خیال اور جدیدیت کی اساس رکھتی ہے۔ یہ کلاس پاکستان تحریک انصاف کی جھولی میں جاگری اور ہم آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ 2013ء کے انتخابات میں پی پی پی پنجاب کے شہری مراکز میں بھی محدود ہوگئی اور دیہاتی علاقوں میں، اس لیے کہ پی پی پی نے پنجاب میں طبقاتی، نظریاتی، ترقی پسند، جدیدیت پسند اور ایک روشن خیال جماعت کا کردار از خود محدود کر دیا۔ جب تک بے نظیر بھٹو جیسی قد آور قیادت موجود تھیں ،وہ اس خلا کو کسی حد تک پُر کرتی رہیں چوں کہ وہ اس پارٹی کے بانی قائد ذوالفقار علی بھٹو کی Legacy تصور کی جاتی تھیں۔

2008ء کے انتخابات کے بعد پنجاب کا صوبہ پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کے لیے ثانوی حقیقت اختیار کر گیا۔ پنجاب سے چند جاگیردار، منڈی بہاؤالدین اور لالہ موسیٰ کے انتخابی حلقوں کے منتخب اراکین بھی اس پارٹی کی قیادت ثابت نہ ہو سکے کیوں کہ ان کا کردار اپنے حلقوں تک محدود تھا اور یہ لوگ پارٹی کے قومی یا صوبائی ڈھانچے میں کردار کی بجائے وزارتوں کی طاقت کو بھی حلقوں تک محدود کیے رکھا۔ اگر یہ قائدین برا نہ منائیں تو یہ غلط نہ ہو گا، ان کی سیاسی شخصیت عملاً ایک انتخابی حلقے تک تو تھی، قومی یا صوبائی سیاست ان کا شعبہ نہیں تھا۔ ایسے میں پی پی پی کی اعلیٰ قیادت، جس میں آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ (جو سیاست کی بلدیاتی سطح سے اوپر دیکھ نہیں سکتیں) اور چیئرمین بلاول بھٹو، جن کا کردار ’’پیر غائب‘‘کا اور سیاسی تجربہ صفر تھا، درحقیقت سندھ کی ان گھاگ جاگیرداروں اور ان کے رفقا کے ہاتھوں میں چلی گئی، جن کے ایجنڈے میں قومی سیاست، پی پی پی کی سیاست، نظریات اور خصوصاً پنجاب کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتے تھے۔ شریک چیئرمین پی پی پی اور سابق صدر آصف علی زرداری نے پی پی پی کو حکومتی بیورو کریسی، صدارتی سٹاف کے پرسنل سیکریٹریوں (تین خواتین اور ایک نیم صحافی شخص) کے ذریعے چلانے پر گزارا کیا۔ وہ عوام، پارٹی اور کارکنوں سے کٹے، ایوانِ صدر میں خود ساختہ محصور ہوئے۔ صدر مملکت جو کہ پارٹی کے عملی قائد تھے، انہوں نے اقتدار کے نظام کا ایک ایسا جال تو بُن لیا کہ لوگ آصف علی زرداری کے حکم پر چلیں لیکن انہوں نے اس عرصے میں پی پی پی کا پنجاب کے عوام سے بھی ناتا توڑ دیا۔

اپنے ’’رفقائے کار‘‘ کے ذریعے حکومت کرنا پی پی پی کا نہیں جنرل ضیاالحق کا طرزِ حکومت تھا، جس نے عوام اور سیاست کے بطن سے نہیں بلکہ فوج کی اعصابی طاقت کی بنیاد پر آمرانہ حکومت قائم کی۔ پی پی پی کی سیاسی شناخت کو مسخ کرنے میں گزشتہ حکومت کے طرزِ حکمرانی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا اور پارٹی کے ایک ہمدرد رہنما کے الفاظ میں، اس حکمت عملی نے پی پی پی کو ایک کھنڈر میں بدل دیا ہے۔ پی پی پی کی اعلیٰ قیادت سندھ میں حکمران اور پنجاب جو کہ اس کی نظریاتی اساس بھی تھا اور جہاں سے حاصل کردہ انتخابی اکثریت ان کو اسلام آباد پہنچانے میں کامیاب ہوتی آئی ہے، اب یہی پنجاب اس جماعت کی سندھی قیادت کے لیے ایک زوال یافتہ بازنطینی سلطنت کی تصویر پیش کرتا ہے کہ جہاں پر دوسروں نے اپنے سیاسی سراٹھانا شروع کر دئیے ہیں۔ پی پی پی اپنی عوامی سیاست و نظریات کے ساتھ ساتھ پنجاب کو بری طرح کھو چکی ہے۔ اس کی پنجاب میں واپسی اگر پھر جذباتیت اور Electoral Politicsکے تحت کی گئی تو یہ کوئی بڑا کارنامہ نہ ہو گا کیوں کہ پی پی پی ہی وہ جماعت ہے جس سے آج بھی پنجاب کا نہایت پسماندہ طبقہ آخری امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ اگر پی پی پی اس نہایت پسماندہ طبقے کا پنجاب کے درمیانے طبقے کے ساتھ اتحاد بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے جو کہ ایک نظریاتی، طبقاتی اور عوامی سیاست کے ذریعے ہی ممکن ہے تو پھر یہی وہ جماعت ہو گی جو پنجاب سمیت سارے ملک میں بنیادی تبدیلی کاکردار ادا کرنے کی اہل ہو گی۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.