ایک اور 16 دسمبر بھی گزر گیا

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی سلطنت پاکستان میں جب کوئی ملا عبدالقادر پیدا ہوتا ہے تو وہ پاکستان کے نظریاتی جواز کی شہادت دیتا ہے۔ ہمارے بڑوں نے جن میں سرسید، قائداعظم محمد علی جناح اور ہمارے سیاسی و جذباتی قائد علامہ اقبال بھی شامل تھے سرزمین ہند پر موجود غیر مسلموں سے تنگ آ کر بالآخر اپنی جداگانہ قومیت کا اعلان کر دیا اور پھر ایک آزاد ملک کی صورت میں پاکستان قائم ہو گیا تو دنیا بھر میں اسلام دشمنوں میں تھرتھرلی مچ گئی کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہِ کامل کیسے بن گیا۔ تب سے اب تک ملا عبدالقادر جیسے پاکستانی تک یہ تھرتھلی مچی ہوئی ہے ویسے ہمارے بابا نے تو یہ کہہ کر پاکستان کو سرزمین ہند کا ایک حصہ بنا دیا تھا کہ جب اس سرزمین پر اس کا کوئی پہلا باشندہ مسلمان ہوا تھا تو وہ پاکستان کا پہلا شہری تھا۔ اس سے بڑی بات کوئی کیسے کہہ سکتا ہے اور پاکستان کا اس سے بڑا اور بھرپور تعارف اور کیا ہو سکتا ہے جو اس ملک کے بانی نے کر دیا تھا۔

ہم بے حس اور بدقسمت یا اس سے کسی برے تعارف کے قابل پاکستانی ہر سال ٹھنڈے پیٹوں سولہ دسمبر کے دن اپنے اس پاکستان کو یاد کر لیتے ہیں جس میں وہ خطہ بھی شامل تھا جہاں ملا عبدالقادر رہتا تھا اور جو 16 دسمبر 1971کو سقوط ڈھاکہ کے بعد ایک الگ ملک قرار پایا لیکن اصلی اور کھرے پاکستانی اسے کوئی الگ ملک تسلیم نہیں کرتے اور 16 دسمبر کے دن کو پاکستان کی تاریخ میں شامل نہیں کرتے۔ یہ دن جیسا بھی تھا پاکستان کی تاریخ کا دن نہیں تھا۔ مجھے اس بنگلہ دیش کے ایک صدر جنرل حسین محمد ارشاد کی دھاڑیں مار مار کر رونے کی آواز یاد ہے اور پھر یہ بھی کہ ’ہم ایک تھے، ایک ہیں اور ایک رہیں گے‘۔ یہ سارک کے ملکوں کی ایک تقریب تھی جس میں بھارت کی نمایندگی اندرا کے وزیر اعظم بیٹے کر رہے تھے اور پاکستان کی جنرل ضیاء الحق۔

جنرل ضیاء بنگلہ دیش کے سیلاب زدگان کے لیے بہت ساری امداد بھی لے گئے تھے اور اسے حکومت کے حوالے کرنے کے لیے ایوان صدر میں دونوں صدروں کی ملاقات ہوئی۔ ہم صحافی جگہ تنگ پڑجانے کی وجہ سے قریبی کمرے میں بیٹھے تھے جہاں اندر کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ جنرل ارشاد کے پاکستان کی یاد میں رونے کی آواز آ رہی تھی اور متذکرہ الفاظ بھی ہم نے سنے تھے۔ بنگلہ دیشیوں کے پاکستان کو مسلسل یاد رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کے قیام میں سب سے بڑا ہاتھ مشرقی پاکستان کا تھا۔ مجیب الرحمن تو وزارت عظمیٰ کا جائز مطالبہ کر رہے تھے لیکن ان کا مطالبہ مان لیتے تو قائد عوام کا کیا بنتا اس لیے بہتر یہی تھا کہ پاکستان کا ٹنٹا ہی ختم کر دیا جائے اور ادھر ہم ادھر تم ہو جائے جو ہو گیا اور آج ہم 16 دسمبر کو یوم الم مناتے ہیں لیکن ہماری بزدلی اور پاکستان سے لاتعلقی یا رعایتاً یوں کہیں کہ تعلق کی کمزوری اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ سرکاری سطح پر بھارت سے ڈر کر ہم کسی ملا عبدالقادر کا ذکر بھی نہیں کرتے لیکن بھارت کے ساتھ دکاندارانہ تعلق کے لیے مرے جا رہے ہیں۔

دو قومی نظرئیے کی ایک صداقت تو یہ صحافی اور جماعت اسلامی کا کارکن تھا ملا عبدالقادر دوسرا سب سے بڑا اور ناقابل تردید اور ناقابل یقین مشرقی پاکستانیوں کا یہ فیصلہ تھا کہ وہ بھارت کے ہندو سے ایک الگ قوم ہیں اور مغربی بنگال میں ان کے بھائی نہیں ہندو آباد ہیں۔ ذرا غور کیجئیے کہ ان دونوں خطوں کے بنگالی بظاہر ایک تھے۔ ایک زبان ایک کھانا پینا ایک لباس بالکل ایک جیسا رہن سہن سب کچھ یکساں کوئی بھی انھیں دو قومیں نہیں کہہ سکتا تھا لیکن اس کے باوجود یہ ایک نہیں دو قومیں تھیں کیونکہ دو قومی نظریہ پورے ہندوستان میں پھیل چکا تھا، ہر مسلمان کے دل میں گھر کر چکا تھا اس کو پاکستان کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی نظریاتی کمزوری نے بھارتی مسلمانوں کے دلوں میں ہی دبا کر رکھ دیا۔ ہمارے حصے میں بوڑھے نورالامین کے آنسو اور ملا عبدالقادر کی وہ مسکراہٹ آئی جو تختہ شہادت کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے چہرے پر تھی۔ بنگلہ دیش کے کونے کونے میں ایسی چنگاریاں سلگ رہی ہیں اور پاکستان کو یاد کر رہی ہیں جب کہ ہمارے ہاں پاکستان میں ان چنگاریوں کو بجھانے کے لیے ان پر پانی ڈالا جا رہا ہے۔

ہمیں مزید ذلیل کرنے کے لیے بھارتی منصوبہ سازوں نے ملا کی پھانسی میں اتنی تاخیر کر دی کہ وہ 16 دسمبر کے قریب تر ہو جائے تا کہ اگر کوئی غیرت مند پاکستانی باقی رہ گیا ہے تو وہ جل بھن جائے اور بے چین اور بے تاب ہو کر باہر نکلے تا کہ وہ پھانسی چڑھ جائے یا عمر قید۔ آزادانہ زندگی سے بہر حال محروم ہو جائے۔ ان دنوں میں نے موقع کے جن گواہوں یعنی بنگلہ دیش بننے کے موقع پر موجود جن لوگوں کی تحریریں پڑھی ہیں۔ وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ جو زیادہ سرگرم نہیں تھے وہ بھی پاکستان سے علیحدگی ہر گز نہیں چاہتے تھے۔ بس چند پالیسیوں میں تبدیلی کا مطالبہ تھا جو ایک معمول کی بات تھی۔ قصہ مختصر 16 دسمبر کا سانحہ مغربی پاکستانی سیاستدانوں کی بدنیتوں اور خود غرضیوں کا نتیجہ تھا جس کو ہم روتے رہیں گے اور پاکستان توڑ کر اقتدار پانے والے ہم پر ہنستے رہیں گے۔ کئی 16 دسمبر گزر گئے اور نہ جانے کتنے گزر کر جائیں گے فی الحال تو ایک اور 16 دسمبر گزر گیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں