.

دیویانی کی قوم جتنا

جاوید چودھری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے قانون کے مطابق دیویانی کھوبرا گاڈے مجرم تھی‘ امریکا میں کم سے کم اجرت 9 ڈالر 75 سینیٹ فی گھنٹہ ہے‘ امریکا میں کوئی شخص اس سے کم تنخواہ پر کسی کو ملازم نہیں رکھ سکتا‘ امریکی نظام نے یہ اجرت لوگوں کی کم سے کم ضروریات یعنی ٹرانسپورٹ‘ خوراک‘ کپڑوں‘ جوتوں اور رہائش کو مدنظر رکھ کر متعین کی‘ امریکا کے معاشی ماہرین کا خیال ہے‘ امریکا میں رہنے والا کوئی شخص اگر پونے دس ڈالر فی گھنٹہ سے کم کماتا ہے تو یہ معاشی دباؤ کا شکار ہو جائے گا اور یہ اس دباؤ سے نکلنے کے لیے چوری کرے گا‘ کرپشن کرے گا‘ فراڈ کرے گا یا پھر ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو کر اسپتال میں داخل ہو جائے گا اور ان چاروں صورتوں میں وہ شخص امریکی معیشت پر بوجھ ہو گا‘ حکومت کو اس کے علاج کی قیمت ادا کرنا پڑے گی یا پھر اس کے خلاف عدالتی کارروائی‘ تفتیش‘ پولیس اور جیل کے اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے چنانچہ حکومت پوری کوشش کرتی ہے‘ امریکا میں رہنے والے تمام لوگ کم ازکم پونے دس ڈالر فی گھنٹہ کمائیں‘ حکومت ملازمین کو پورا معاوضہ نہ دینے والے مالکان کے خلاف بھی سخت کارروائی کرتی ہے‘ اگر کوئی شخص ملازمین کو پونے دس ڈالر سے کم معاوضہ دیتے ہوئے پکڑا جائے تو اسے دس سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

دیویانی کھوبرا گاڈے نیویارک میں انڈین قونصلیٹ کی ڈپٹی قونصل جنرل ہیں‘ دیویانی نے 2012ء میں بھارت سے ذاتی ملازم امریکا منگوایا‘ بین الاقوامی سفارتی اصولوں کے مطابق سینئر سفارت کار اپنے ملک سے ملازم منگوا سکتے ہیں‘ میزبان حکومت ملازمین کو ویزے جاری کرنے کی پابند ہوتی ہے لیکن ان ملازمین پر تمام مقامی قوانین لاگو ہوتے ہیں کیونکہ یہ سفارت کاروں کے ملازمین ہونے کے باوجود سفارت کار نہیں ہوتے‘ یہ امریکی سرزمین پر محض ملازم ہوتے ہیں‘ دیویانی نے ملازم نیویارک منگوایا‘ یہ اسے قانونی طور پر پونے دس ڈالر فی گھنٹہ ادا کرنے کی پابند تھی لیکن دیویانی اسے سوا تین ڈالر فی گھنٹہ دیتی رہی‘ یہ اسے 30 ہزار روپے دیتی تھی مگر اس نے کاغذات میں ملازم کی تنخواہ پونے دس ڈالر شو کر رکھی تھی‘ یہ معاملہ پولیس تک چلا گیا‘ پولیس کسی سفارت کار کو اس کے گھر سے گرفتار نہیں کر سکتی چنانچہ پولیس دیویانی کے باہر آنے کا انتظار کرتی رہی‘ دیویانی 12 دسمبر2013ء کو بچوں کو اسکول چھوڑنے گئی‘ پولیس راستے میں کھڑی تھی‘ پولیس نے اس کی سفارتی کار رکوائی‘ اپنی شناخت کروائی اور دیویانی کو گرفتار کر لیا‘ دیویانی کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں‘ پولیس اسٹیشن لایا گیا‘ اس کی جسمانی تلاشی لی گئی‘ اسے حوالات میں بند کیا گیا‘ اس پر چارج فکس کیا گیا‘ اسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا اور مجسٹریٹ نے ڈھائی لاکھ ڈالر کی ضمانت لے کر دیویانی کو رہا کر دیا۔

یہ کیس بظاہر دیویانی کے خلاف جا رہا ہے کیونکہ دیویانی نے سفارتی کاغذات میں بھی غلط بیانی کی تھی اور یہ اپنے ملازم کو بھی کم تنخواہ دے رہی تھی لیکن اس کے باوجود بھارت نے امریکا کے سامنے خوفناک احتجاج کیا‘ بھارت کی سیکریٹری خارجہ سوجیتا سنگھ نے 13 دسمبر کو امریکی سفیر نینسی پاؤل کو دفتر خارجہ طلب کیا اور اس کے سامنے اس رویے پر شدید احتجاج کیا‘ بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے امریکا کے اس رویئے کو بھارت کے لیے ناقابل قبول قرار دیا‘ امریکی کانگریس مین کا ایک وفد بھارت کے دورے پر تھا‘ اس وفد میں پانچ کانگریس مین شامل تھے اور اس کی قیادت جارج ہولڈنگ کر رہے تھے‘ یہ وفد 13دسمبر کو دہلی آیا مگر دیویانی کا واقعہ ہوتے ہی لوک سبھا کی اسپیکر میرا کمار نے اس وفد کے ساتھ اپنی میٹنگ منسوخ کر دی‘ وزیر خارجہ سلمان خورشید‘ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی اور بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی نے بھی امریکی وفد سے ملاقات سے انکار کر دیا‘اس سلوک پر کانگریس مین نے اپنا دورہ مختصر کیا اور یہ امریکا واپس چلے گئے‘ نریندر مودی نے دو دن قبل ٹویٹر پر پیغام دیا‘ میں دیویانی کے ایشو پر پوری قوم کے ساتھ ہوں‘ بھارت صرف یہاں تک محدود نہ رہا بلکہ اس نے منگل کے دن بھارت میں موجود تمام امریکی سفارت کاروں کی مراعات واپس لے لیں‘ امریکی سفارت خانے کی سیکیورٹی مختصر کر دی گئی‘ امریکی سفارتکاروں کے ائیرپورٹ پاسز منسوخ کر دیے گئے اور بھارت میں موجود تمام امریکی سفارت کاروں کے ملازمین کے شناختی کاغذات‘ تنخواہوں اور دیگر مراعات کی پڑتال شروع کر دی گئی‘ بھارت نے امریکا کو یہ پیغام بھی دے دیا۔

ہم بھارت میں صرف اتنے امریکی عملے کی اجازت دیں گے جتنا امریکا میں بھارتی عملہ موجود ہے‘ آپ اضافی سفارتکاروں کو فوراً واپس بلا لیں‘ آپ بھارت کا رد عمل ملاحظہ کیجیے‘ بھارت ایک معمولی سفارت کار کی گرفتاری پر دنیا کی واحد سپر پاور کے سامنے کھڑا ہو گیا اورسفارت کار بھی بظاہر مجرم دکھائی دیتی ہے جب کہ آپ اس کے مقابلے میں پاکستانی قوم کا رویہ بھی دیکھئے‘ امریکا نے پاکستانی سرزمین کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا‘ پاکستان سے پاکستانی شہری اٹھا کر امریکا لے جائے گئے اور گوانتانا موبے کے عقوبت خانوں میں پھینک دیے گئے‘ عافیہ صدیقی کو پاکستان میں سفر کے دوران بچوں سمیت اٹھا لیا گیا‘ یہ پانچ سال بعد بگرام میں سامنے آئی‘ آج بھی اس کے دو بچے غائب ہیں‘ امریکی ہیلی کاپٹروں نے دو مئی 2011ء کی رات پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کی‘ یہ ایبٹ آباد کے کنٹونمنٹ ایریا میں اترے‘ امریکی فوجیوں نے اسامہ بن لادن کو قتل کیا اور کامیاب آپریشن کے بعد افغانستان واپس چلے گئے‘ ہمارے وزراء کو امریکی ائیرپورٹس پر جوتے اتروا کر تلاشی کے عمل سے گزارا گیا‘ ہمارے پارلیمنٹیرینز کی ائیرپورٹس پر تذلیل ہوئی‘ امریکا نے 26 نومبر2011ء کو سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کر کے ہمارے 26 فوجی جوان شہید کر دیے‘ ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں تین معصوم شہریوں کو قتل کیا مگر یہ سفارتی جہاز میں بیٹھا اور امریکا واپس چلا گیا‘ امریکا دس سال تک اپنے کمانڈوز کو سفارتی درجہ دے کر پاکستان بھیجتا رہا‘ یہ کمانڈوز ملک کی سڑکوں پر دندناتے رہے اور پولیس اور عام شہریوں کو ہراساں کرتے رہے مگر ہم خاموش رہے‘ ہم نے کبھی صدائے احتجاج بلند کی اور نہ ہی امریکی سفارت کاروں کی مراعات واپس لیں‘ ہم تو آج تک امریکی ڈرونز کو پاکستان کی سرزمین پر آنے اور میزائل داغنے سے نہیں روک سکے‘ پاکستان میں اب تک 364 ڈرون حملے ہو چکے ہیں اور ان حملوں میں اڑھائی ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں مگر ہماری زبانوں کو تالہ لگا ہوا ہے‘ ہمارے مقابلے میں بھارت نے صرف ایک سفارت کار کی گرفتاری پر امریکا کو ناک سے لکیریں نکالنے پر مجبور کر دیا‘ اس نے امریکا کو معافی مانگنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا اور آپ دیکھئے گا امریکا کسی بھی وقت بھارت سے معافی مانگ لے گا اور آپ یہ بھی ذہن میں رکھئے‘ امریکا اور بھارت کے درمیان 60 ارب ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے اور اگر امریکا اور بھارت کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں تو بھارت کو 60 ارب ڈالر کا نقصان ہو گا جب کہ پاکستان کو امریکا کی اطاعت اور فرمانبرداری کے عوض صرف ڈیڑھ بلین ڈالر سالانہ ملتے ہیں۔

آپ کسی دن دھوپ میں بیٹھ کر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچئے‘ بھارت اور پاکستان میں کیا فرق ہے؟ ہم نے 1950ء میں امریکا سے دوستی کی پینگ چڑھائی تھی‘ یہ وہ دور تھا جب اس پورے خطے میں کوئی ملک امریکا کا دوست نہیں تھا‘ افغانستان‘ ایران اور بھارت روس کے بڈی تھے‘ چین امریکا سے نفرت کرتا تھا‘ تھائی لینڈ‘ تائیوان‘ کوریا‘ سری لنکا‘ انڈونیشیا اور ملائیشیا دوستی کے قابل نہیں تھے‘ یہ اس وقت اپنے قیام اور خودمختاری کی جنگ لڑ رہے تھے‘ ہم نے تنہا اس پورے خطے میں اس وقت امریکا کا ساتھ دیا‘ ہم نے امریکا کو دنیا کے حساس ترین مقام پر فوجی اڈے بنانے کی اجازت دی‘ اپنی فوج کو امریکی فوج بنا دیا‘ امریکا کو ایران اور چین تک راستہ دیا‘ افغانستان میں امریکی مفادات کی جنگ لڑی اور پاکستانی معاشرے کو امریکنائزڈ کر دیا جب کہ ہمارے مقابلے میں بھارت نے 1990ء کی دہائی میں امریکا کی طرف تعلقات کا ہاتھ بڑھایا اور یہ 2000ء تک امریکا کے اس قدر قریب ہو چکا تھا کہ امریکی صدر بھارت میں چار چار دن قیام کرتے تھے اور یہ ہماری منتوں اور گریہ زاری کے بعد صرف دو تین گھنٹے کے لیے پاکستان آتے تھے اور اس دوران بھی ہمیں ڈانٹ کر واپس چلے جاتے تھے‘ یہ حقیقت ہے ہم اگر امریکا کا ساتھ نہ دیتے تو شاید امریکا افغانستان کی پہلی اور دوسری جنگ لڑ سکتا اور نہ ہی جیت سکتا تھا‘ امریکا اور چین کے تعلقات بھی شاید استوار نہ ہو سکتے اور یہ خطے میں اتنا بڑا سفارتی مقام بھی حاصل نہ کر پاتا لیکن ہمیں اپنی ان سروسز کا کیا صلہ ملا‘ بدنامی‘ بھوک‘ بے عزتی اور خوف‘ کیوں؟ بات سیدھی ہے‘ بھکاری خواہ کتنے ہی نیک نیت‘ اہم اور ضروری کیوں نہ ہو جائیں لوگ ان کی عزت نہیں کیا کرتے۔

آپ بھی روزانہ بھکاریوں کو بھیک دیتے ہوں گے‘ آپ ان پر ترس بھی کھاتے ہوں گے اور آپ انھیں کھانا بھی کھلاتے ہوں گے لیکن آپ نے کبھی کسی بھکاری کو اپنے دوست‘ عزیز یا رشتے دار کا اسٹیٹس نہیں دیا‘ کیوں؟ کیونکہ ہم زندگی میں دوست صرف اسی کو بناتے ہیں جس میں عزت نفس ہو‘ جس میں وقار ہو اور جو ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہو‘ بھارت یہ حقیقت سمجھتا تھا جب کہ ہم لوگ آج بھی ساٹھ اور ستر کی ان دہائیوں میں زندہ ہیں جب جغرافیائی صورتحال اور جغرافیائی تنازعے معاشی حیثیت رکھتے تھے‘ آپ 70ء کی دہائی میں سوویت یونین کی سرحد کے نزدیک ہونے کی وجہ سے امریکا کی مجبوری ہوتے تھے اور یہ آپ کا ہر جائز اور ناجائز مطالبہ ماننے پر مجبور تھا لیکن دنیا نہ صرف اب بدل چکی ہے بلکہ اس بدلی ہوئی دنیا کے تمام تقاضے بھی بدل چکے ہیں اور ہم اس بدلی ہوئی دنیا میں بھکاری بن کر زندہ نہیں رہ سکتے‘ ہم جب تک اپنے قدموں پر کھڑے نہیں ہوں گے‘ ہم اس وقت تک اسی طرح بے عزت ہوتے رہیں گے چنانچہ آپ بے شک تاریخ سے سبق نہ سیکھیں لیکن آپ دیویانی ایشو پر بھارتی ردعمل سے ہی کچھ سیکھ لیں‘ آپ اپنا کھویا ہوا وقار واپس لے آئیں ورنہ آپ ماضی کی قبر کا کتبہ بن کر رہ جائیں گے اور دنیا کی پہلی اسلامی نیو کلیئر پاور اس سلوک کی مستحق نہیں ہوگی‘ اسے کم از کم دیویانی کی قوم جتنا مضبوط اور باوقار ضرور ہونا چاہیے۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.