.

گم شدہ کڑی

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مستقبل میں افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک میں امن کیلئے آئندہ 13 ماہ اہم ہیں۔ افغانستان اور دیگر بین الاقوامی فریقین 3 اہم تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے کتنی اچھی طرح تیار ہیں؟ یہ تبدیلی سیاسی، سیکورٹی اور معاشی طرز کی ہے۔ چوتھی وقوع پذیر ہونے والی تبدیلی بھی اہم ہے جوکہ 2014ء کے بعد افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک سے تعلقات کا معاہدہ ہے، جس کی وضع قطع واضح ہونے میں ابھی وقت درکار ہے۔ ان وقوع پذیر ہونے والی تبدیلوں کے اپنے ملک کے امن اور استحکام پر واضح اثرات کی وجہ سے پاکستان کی ان میں بنیادی دلچسپی ہے۔ اس لئے کلیدی سوال یہ ہے کہ آیا ایک دوسرے پر منحصر ان تبدیلیوں کو افغانستان کے بنیادی فریقین کی جانب سے توجہ دی جارہی ہے۔ کئی وجوہ کی بنا پر جواب ہے کہ ابھی تک نہیں۔

اس ضمن میں عسکری تبدیلی زیادہ توجہ کا باعث بن رہی ہے جس میں بین الاقوامی برادری کی توجہ امریکہ اور افغانستان کے باہمی سیکورٹی کے معاہدے (بی ایس اے) پرہے، جس کے باعث نیٹو کی باقی ماندہ افواج 2014ء کے بعد بھی افغانستان میں قیام کر سکے گی۔ بی ایس اے معاہدے کے حمایتیوں کے دعوے کے مطابق ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر اس قسم کا فوجی قیام اپریل 2014ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اعتماد کی فضا قائم کرنے میں معاون ثابت ہو اور جنگ سے اکتائے ہوئے مغربی اراکین مقننہ کی جانب سے معاشی امداد و معاونت جاری رکھنے کو یقینی بناسکے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بی ایس اے واشنگٹن اور کابل کے مابین لمبے عرصے تک موضوع بحث بنا رہا، جس کی بنیادی وجہ صدر حامد کرزئی کا رویہ تھا، جس کی وجہ سے تبدیلی کے اہم ترین پہلو ترجیحی فہرست میں خاصی تنزلی اختیار کر گئے گو کہ وہ مکمل طور پر پس پشت نہیں ڈالے گئے۔

افغانستان کی سیاست کے تقریباً سب ہی اندرونی محرکات اسے تسلیم کرتے ہیں اور 2014ء کے بعد کے دور میں ملک میں استحکام کیلئے خطے کے دیگر ممالک کا کردار بنیادی نوعیت کا ہے لیکن اس طرف سفارتی توانائیاں اور توجہ صرف نہیں کی جارہی۔ گزشتہ کئی ماہ سے بی ایس اے پر مذاکرات ایجنڈے پر حاوی ہیں اور یہی صورتحال آج بھی ہے۔ امریکی حکام نے ایک ایسے افغان صدر سے معاہدے کیلئے جدوجہد کی جو کہ بی ایس اے کے معاملے کو انتہائی نچلی سطح تک لے گیا اور اس بارے میں معاہدے کو مذاکرات سے مشروط کر دیا اور گزشتہ ماہ اس حوالے سے لویہ جرگے کی جانب سے توثیق ہونے کے بعد بھی نئی شرائط پیش کر دیں۔ کرزئی نے بی ایس اے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کرنے کا اعلان کردیا اور کہہ دیا کہ اس معاہدے کو حتمی شکل دینا انتخابات کے بعد ان کے جانشین پر منحصر ہے حالانکہ ان کی ابتدائی تقریر میں اس معاہدے کی منظوری کاذکر تھا۔ اوباما انتظامیہ اور اس کے نیٹو اتحادی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ معاہدہ رواں برس کے اختتام سے قبل ہی طے پاجائے۔

3 دسمبر کو نیٹو کے ایک وزارتی اجلاس میں اس انتباہ کے ساتھ مزید دباؤ ڈالا گیا کہ بی ایس اے کے معاہدے کے بغیر 2014ء کے بعد کوئی مشن جاری نہیں رکھا جائے گا لیکن گزشتہ ہفتے کرزئی سے کابل میں ملنے والے امریکہ کے ایک خصوصی ایلچی جیمز ڈوبنز نے کہا کہ افغان صدر اب بھی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ جس کے فوراً بعد امریکی وزیر دفاع نے کابل کا دورہ کیا لیکن وہ صدر کرزئی سے نہیں ملے جو کہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ تعطل اب بھی جاری ہے۔ مایوس امریکی حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کرزئی کی آخری چال کے پیچھے یہ ادراک پوشیدہ ہے کہ بی ایس اے معاہدے پر دستخط کرزئی کیلئے آخری مہرہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں بی ایس اے کا معاملہ ختم ہونے کے بعد کرزئی کی حیثیت ختم ہو جائےگی، اس لئے ہوسکتا ہے کہ کرزئی بی ایس اے معاہدے پر دستخط کے بدلے میں اپنے سیاسی مستقبل کو یقینی بنانے کیلئے واشنگٹن کی جانب سے اپنے امیدوار کی خفیہ حمایت کے خواہاں ہوں۔ صدارتی امیداوار عبداللہ عبداللہ سمیت ان کے مخالفین نے ان کی چال کو اسی طرح سمجھا ہے، انہوں نے صدر کرزئی کی جانب سے بے ایس اے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کو ان کے من پسند امیدوار یا انتخابات میں مداخلت نہ کرنے کی سودے بازی قرار دیا ہے تاکہ اس انتخابی عمل میں دھاندلی کے حوالے سے کوئی افراتفری نہ پھیلے۔

امریکی حکام نے انتخابات میں حمایت کے حوالے سے کرزئی کی حالیہ شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے لیکن وہ اس بات کے تعین سے قاصر ہیں کہ افغانستان سے افواج کے مکمل انخلاء کا راستہ اختیار کرنے کے سوا کیا کیا جائے تاہم کرزئی کے معاونین کی جانب سے اسے جھوٹی یقین دہانی کے طور پر مسترد کردیا گیا، اسی طرح امریکہ کی دھمکیاں بھی ہیں جو کہ بین الاقوامی عسکری اور معاشی امداد کے خاتمے کے آغاز کے حوالے سے ہیں۔

بی ایس اے معاہدے پر ہونے والا پرسوز تنازع اپریل2014 ء کے صدارتی انتخاب کے ماحول پر منفی اثرات مرتب کرے گا، تقویت پانے والی یہ غیر یقینی صورتحال انتخابی عمل کو اس حد تک متاثر کر سکتی ہے جس کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی، اس عمل سے بڑی حد تک توجہ ہٹے گی کہ انتخابی مشق کو غیرجانبدار اور شفاف بنانے کیلئے ایسا کیا کیا جائے کہ یہ انتخاب 2009ء کے صدارتی انتخاب کو دہرایا جانا نہ سمجھا جائے جسے انتخابی دھاندلیوں کی وجہ سے نقصان پہنچا تھا۔ زیادہ اہم یہ ہے کہ سیاسی تبدیلی کا عمل افغانستان کے مستقبل کیلئے زیادہ اہم ہے، (ایک ایسا سیاسی عمل جو کہ ملک میں سیاسی مفاہمت کا موجب بنے)، اس پہلو پر بامقصد طور پر ابھی تک توجہ نہیں دی گئی۔

اگر مئی میں طالبان کے دوحا میں دفتر کے قیام کی معنی خیز پیشرفت کے بعد سفارتی عمل کا آغاز کیا جاتا، قدرے کم تشدد کے انتخابات یقینی بنانے کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جاتیں۔ پرامن انتخابات کیلئے طالبان کی کم حمایت میسر ہے، جسے ان کے رہنما ملاعمر نے غیر متعلقہ قرار دیا تھا اور عوام سے اس میں شرکت نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ واشنگٹن نے اس خوف سے دوحا امن عمل کو بحال کرنے کی کوشش نہیں کی کہ کرزئی کی ناراضی ان کی جانب سے بی ایس اے معاہدہ کے انکار کی وجہ بن سکتی ہے حالانکہ طالبان کے نمائندوں نے اپنا دفتر بند ہونے کے باوجود قطر نہیں چھوڑا تھا جو کہ ان کی جانب سے سفارتی کاوشوں کی تجدید میں مزید دلچسپی کی نشانی تھی۔

امریکہ نے اس اقدام پر پیش قدمی سے پہلو تہی کی جس کے باعث تعطل کے خاتمے میں مدد مل سکتی تھی اور جس کے باعث داخلی سطح پر افغانستان میں مذاکرات کی سبیل بن سکتی تھی۔ جس میں ایک امریکی قیدی کے بدلے5 قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ بھی شامل تھا، اس معاہدے میں طالبان کی تحویل میں واحد امریکی جنگی قیدی بوبرگڈھال کے بدلے گوانتانامو بے سے5 طالبان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا حالانکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے غور کیا جا رہا ہے لیکن اس پر عملدرآمد کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔اس اثناء میں جبکہ کرزئی کے عہدہ صدارت کی مدت بمشکل چار ماہ کی رہ گئی ہے، وہ ان مذاکرات کیلئے ان شرائط پر مصر ہیں جن کا پورا ہونا ناممکن ہے کیونکہ طالبان کابل سے مذاکرات کے انکار کے حوالے سے اپنے دیرینہ موقف پر قائم ہیں۔ اس تمام صورتحال نے اس موقف کو جنم دیا کہ افغان مفاہمتی عمل کی بابت کسی بھی سنجیدہ کوشش کیلئے اپریل کے الیکشن کا انتظار کرنا ہوگا۔ یہ صورتحال اپریل تا دسمبر2014ء کے مابین میسر سفارتی راستے کو تنگ بناتی ہے جوکہ افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء سے قبل سیاسی مفاہمت کی جانب پیش قدمی کا مصدقہ ذریعہ تھا۔ مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افغانوں اور طالبان کے نمائندوں کے مابین ہونے والی ٹریک دوم کی ملاقاتیں جو کہ داخلی مفاہمت میں اہم کردار ادا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی تھیں، گزشتہ برس وہ کرزئی کی سخت مخالفت کی وجہ سے ترک کردی گئیں۔ ایک سال یا اس سے زائد عرصہ قبل مختلف فریقین کو یہ توقع تھی کہ اب تک جامع امن عمل اور دسمبر2014ء سے قبل خطے کی سطح پر بھی لڑائی کو ختم کرنے کا بھی آغاز ہو چکا ہو گا لیکن ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا، یہ صورتحال سیاسی تبدیلی کے لئے مشکلات پیدا کررہی جس پر ہر چیز لٹکی ہوئی ہے۔

نتیجتاً خطے کی سطح پر تبدیلی بھی رکی ہوئی ہے، جیسے کہ 2014ء کے بعد افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے کام جاری ہے خطے کی سطح پر بھی اتفاق رائے کے ضمن میں اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے۔ گزشتہ برسوں میں افغانستان پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں میں کئی متبرک اعلامیے جاری کئے گئے جس میں افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے احترام کا عہد کیا گیا۔ لیکن درپیش چیلنج ،اعلامیوں سے آگے بڑھ کر عملی طور پر اقدامات کرنے کا ہے، جس میں مسابقانہ سیکورٹی تذویرات سے احتراز برتا جائے اور ہر کسی کو ایک ہی طرح کے قواعد پر عمل پیرا ہونے کو یقینی بنایا جائے بجائے اس کے کوئی خاص فریق 2014ء کے بعد کے متوقع سیکورٹی خلاء کو پُر کرنے کی کوشش کرے۔ اگر 2014ء کے بعد کی صورتحال کے حوالے سے بنیادی امور طے پاجائیں تو خطے سے سیاسی محرکات کے حل ہونے کے بہتر امکانات پیدا ہو جائیں گے۔ یہ صورتحال خطے کی سطح پر اتفاق رائے کرنے کیلئے اچھی بنیاد فراہم نہیں کرتی۔سردست، بی ایس اے معاہدے پر مذاکرات میں بہت وقت ضائع ہو گیا اور افغانستان میں امن کی کوششوں پر عدم توجہ نے ملک میں اہم تبدیلیوں کو کھٹائی میں ڈال دیا اور دسمبر2014ء کے بعد افغانستان کے غیرمستحکم ہونے کے امکانات کو طول بخشا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.