.

حکومت اور طالبانِ پاکستان میں تصادم

پروفیسر شمیم اختر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک خبر غیر متوقع تو نہیں لیکن تشویشناک ضرور ہے: کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے حکومت پاکستان سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا کیونکہ بقول اس کے حکومت پاکستان ان کے خلاف فوجی کارروائی کرنے والی ہے۔ تنظیم نے پاکستان کی حکومت کو ’’کٹھ پتلی ،ڈالر کی بھوکی اور کمزور‘‘ قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حکومت کو ہٹانے اور ملک میں شرعی نظام کو جاری رکھنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

ان کا یہ بیان 17 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے اس اعلان کے ردعمل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جس میں کونسل نے طالبان پاکستان سے امن مذاکرات کو پہلی ترجیح قرار دیتے ہوئے دیگر طریق کار استعمال کرنے کا ذکر کیا ہے۔
یہ کونسل پاکستان کی کابینہ سے بھی زیادہ طاقتور معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس میں داخلہ، خارجہ، اطلاعات اور دفاع کے وزراء سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان مشترکہ فوجی کمان کے سربراہ کے علاوہ اعلیٰ حکام نے وزیراعظم کے زیر صدارت شرکت کی۔

علاوہ ازیں اس کونسل نے افغان سرحد پر حفاظتی اقدام، خفیہ معلومات کے تبادلے ، بھارت سے تعلقات میں بہتری اور جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کا فیصلہ کیا۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اجلاس 24 نومبر کو واشنگٹن میں منعقدہ پاکستان امریکہ دفاعی مشاورتی گروہ کے بائیسویں اجلاس میں کیے گئے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے منعقد کیا گیا۔ اس میں پاکستان کی وزارت دفاع کے سیکرٹری (ر) لیفٹیننٹ جنرل آصف ملک اور امریکہ کے نائب سیکرٹری دفاع جیمس ابن ہلر نے شرکت کی۔ اس میں طرفین نے امریکہ اور پاکستان کی دفاعی شراکت، علاقائی اور عالمی سلامتی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے آئندہ بھی جاری رکھنے کا عزم کیا اور 2014ء میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد بھی آپس میں دفاعی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا کیونکہ یہ ’’دہشت گردی‘‘ اور ’’انتہا پسندی‘‘ کو کنٹرول کرنے کے لیے اہم ہے۔

پاکستانی وفد نے افغان سرحد پر اپنی فوجی مہم کے حوالے سے آگاہ کیا جبکہ امریکی وفد نے پاکستان کو دھماکہ خیز مواد سے نپٹنے کے لیے اہم اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس کے معنی تو یہ ہیں کہ 2014ء میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد بھی پاکستان امریکہ کی جنگ میں اس کے حلیف کی حیثیت سے اس کے ساتھ مل کر ’’انتہا پسندی‘‘ اور ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔ یعنی اپنے ہی پختون بھائیوں کے خلاف جو افغانستان کی آزادی کے لیے قابض فوج سے لڑ رہے ہیں۔

حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کے وفد نے امریکی وفد سے امریکہ سے تعاون اور پاکستان پر ڈرون حملوں کی بندش سے اسے مشروط نہیں کیا۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ امریکہ کی یہ جنگ 2014ء کے بعد بھی جاری رہے گی اور افواج پاکستان اس کے شانہ بشانہ امریکہ مخالف عناصر سے (جنہیں دونوں حلیف انتہا پسند اور دہشت گرد‘ کہتے ہیں) جنگ کریں گی۔ پھر تو گویا یہ جنگ قیامت تک جاری رہے گی۔

پاکستان اس لاحاصل جنگ میں بیس سال سے ملوث ہے۔ آٹھ سال (1988ء ۔۔۔1980ء) تک روس کے خلاف اور بارہ سال (2013ء ۔۔۔ 2001ء) تک اماراتِ اسلامیہ افغانستان کے خلاف اور یہ جنگ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب اس کا رخ تحریک طالبان پاکستان کی جانب ہونے والا ہے کیونکہ انہوں نے امریکہ پاکستان گٹھ جوڑ کے پیش نظر حکومت پاکستان کی مذاکرات کی پیش کش کو مسترد کر دیا۔

یہ صورت حال ناقابل قبول ہو گی۔

حکومت نے بھی مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں طالبان کے خلاف فوری کارروائی کا گویا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ یہی کچھ 2009ء میں صوفی محمد کے خلاف کیا گیا تھا۔ حکومت پاکستان نے ان سے کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی پر مذاکرات کی بجائے مقامی آبادی کو انخلاء کا موقع دیئے بغیر ان پر لڑاکا بمبار طیاروں، بمباری فوجوں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بمباری کرکے بڑی تباہی پھیلائی ہے جس پر پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے کارروائی کرنے والوں پر کڑی نکتہ چینی کی تھی اور اجتماعی قبروں کا انکشاف کیا تھا۔ ساتھ ہی بکھری ہوئی لاشوں پر پن سے نتھی کی ہوئی پرچیوں کی عبارت کا بھی ذکر کیا تھا جو حسب ذیل تھیں: جو بھی طالبان کی حمایت کرے گا اس کا یہی حشر ہو گا۔

ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ حرکت قانون جنگ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ خاص کر Additional Protocol II reating to Non-International Confcict 1977 کی۔

اسی طرح خیبر میں ’’شدت پسندوں‘‘ کے خلاف جو فوجی کارروائی کی گئی، اس کے نتیجے میں چار لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے جو اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔

اب اگر تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی ہوئی تو آسمان سے ان پر امریکی ڈرون حملے ہوں گے جبکہ زمین سے فوجی کارروائی۔

جہاں حکومت پاکستان اس المیہ کی ذمہ دار ہو گی وہاں تحریک طالبان پاکستان میں موردِ الزام ٹھہرائے جائیں گے۔ ان کی حکومت پاکستان سے لاکھ شکایت سہی لیکن جب انہیں مذاکرات کے لیے مدعو کیا جا رہا ہے تو انہیں اس دعوت کو مسترد نہیں کرنا چاہیے۔
آخر جنگ میں متحاربین ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں کہ نہیں؟

ہم ان کا یہ مؤقف کسی صورت تسلیم نہیں کرتے کہ وہ حکومت پاکستان کو بزور طاقت ہٹا کر سارے ملک پر اپنی پسند کی شریعت نافذ کریں جبکہ ملک کے جمہور علماء کا اسلامی دستور پر اجماع ہے اور اسے قوم نے تسلیم کیا ہوا ہے۔

کیا تحریک طالبان پاکستان کے علم میں یہ نہیں ہے کہ دستور پاکستان کی رو سے ہر وہ قانون کالعدم ہو جائے گا جو قرآن و سنہ کے خلاف ہو؟

اگر طالبان اس سے مطمئن نہیں ہیں تو ملک کے قومی دھارے میں شریک ہو کر رائے عامہ کو اپنے مؤقف کے حق میں ہموار کر کے انتخاب میں کامیابی حاصل کر لیں۔

کیا ملک کی مذہبی جماعتیں سیاست میں حصہ نہیں لیتیں اور حزب اختلاف کی حیثیت سے حکومت پر نکتہ چینی نہیں کرتیں لیکن اگر طالبان بندوق کے ذریعے شریعت نافذ کریں گے تو سیکولر عناصر بھی اپنا نظریہ بزور طاقت نافذ کریں گے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.