.

حکومت کی کنفیوژن

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم سب جانتے ہیں کہ اس حکومت کے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے کوئی پالیسی نہیں ہے...یہ اور بات ہے کہ یہ اپنی بوکھلاہٹ اور سراسیمگی کو پالیسی کا نام دے دے۔ اس کے باوجود اس نے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لئے خود کو دلدل میں اس طرح اتار لیا ہے کہ اس نے ’’پی ایس پی پنجاب ‘‘ (پولیس سروس آف پاکستان)میں کم وبیش بغاوت کے جذبات پیدا کر دئیے ہیں۔ پی ایس پی کے افسران ہاتھوں میں احتجاجی نعروں والے بینر اٹھائے مال روڈ پر احتجاج کرتے دکھائی دئیے۔ ان کا موڈ خاصا برہم تھا۔ ان کی ناراضگی کی وجہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے دہشت وزیرِ اعظم سیکریٹریٹ کی طرف سے ایک نئی فورس، جس میں پولیس میں بھرتی کے مروجہ قوانین سے صرف ِ نظر کرتے ہوئے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کو شامل کیا جائے گا، کی تشکیل کی تجویز تھی۔

میں ان کا احتجاج دیکھنے کے لئے خود وہاں گیا۔ پی ایس پی کے ایک سو کے قریب افسران سنٹرل پولیس آفس، جہاں آئی جی پولیس کا دفتر ہے، میں جمع تھے ۔ اُن کے درمیان آئی جی پولیس نہیں تھے ، چنانچہ ان کے خلاف افسران کے جذبات خاصے برہم تھے کہ حکومت کے اس احمقانہ فیصلے(اُن کے مطابق) کے بعد وہ اپنے جوانوں کے ساتھ کھڑے کیوں نہیںہوئے ؟میراخیال تھاکہ وہ اپنے تبصروں میں محتاط لہجہ اختیار کریںگے لیکن ایسا نہ تھا ، بلکہ ان کا موڈخاصا جارحانہ تھا۔

پی ایس پی کی ناراضگی کو فوج کی ناراضگی کے ہم پلہ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے کیونکہ ان کے پاس ٹرپل ون بریگیڈ نہیں ہوتا ہے، لیکن ان کے اشتعال کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے۔ ہمیں پہلے ہی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ ملک انتہا پسندوں کے خلاف عملاً حالت ِ جنگ میںہے (یا ہونا چاہئے)لیکن ہم نے بیٹھے بٹھائے ایک اور پنڈورا باکس کھول لیا ہے، حالانکہ اس نازک وقت اس کی ضرورت نہ تھی۔ میں شرطیہ طور پر کہہ سکتا ہوں کہ یہ تجویز وزیر ِاعظم سیکریٹریٹ کے ڈی ایم جی(ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ)کی طرف سے آئی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈی ایم جی کے جری جوان ایسی تجاویز پیش کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ تاہم اس گروپ کے پرنسپل سیکریٹری جاوید اسلم ایک سمجھدار افسر ہیں، پتہ نہیں اُنھوں نے ایسی تجویز پیش کرنے کی اجازت کیوں دی؟مجھے یقین ہے کہ اس کا کوئی بھی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ موجودہ حکمرانوں کو بھی ایسے اچھوتے منصوبے سوجھتے رہتے ہیں... ان کے پیچھے بھی ڈی ایم جی کے افسران کی مشاورت شامل ہوتی ہے۔

مارگلہ پہاڑیوں میں سے سرنگ گزار کر دوسری طرف نیا اسلام آباد تعمیر کرنے کا’’ معرکتہ الآراء‘‘ منصوبہ بھی انہی کی سوچ کا نتیجہ تھا۔ کیا یہ اتنی اہم قومی خدمت تھی کہ حلف اٹھاتے ہی وزیر ِاعظم کو’’ انجینئرنگ کے اس شاہکار‘‘ کا خواب آنا شروع ہو گیا تھا۔ اس دوران ملک کو طالبان، دہشت گردی، غربت، معاشی بدحالی اور جرائم کا سامنا رہا لیکن حکمرانوں کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ ویسے آج کل یہ سرنگ منصوبہ ردی کی کس ٹوکری میںہے؟کارکردگی کے اسی پیمانے کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو لگتا ہے کہ پولیس کے اس نئے منصوبے کا حشر بھی اس سے مختلف نہیں ہو گا لیکن پولیس کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے نقصان تو ہو گیا۔ اس دوران پولیس افسران نے اپنے آئی جی کی ہمت بھی دیکھ لی۔ کیا اب وہ اپنے محکمے میں تکریم کی نگاہ سے دیکھے جائیںگے ؟

دراصل حکومت الجھائو کا شکارہے۔ یہ آئینی اصلاح بھی نہیں کرپاتی ہے، چنانچہ اس نے عوام کو چکمہ دینے کے لئے کچھ شارٹ کٹ تلاش کررکھے ہیں۔ وزیراعظم کے سیکریٹریٹ کا کوئی افسر کاغذی کارروائی کرکے حکمرانوں کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ عام طور پر ایسے منصوبوں سے کوئی نہ کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنا درکار ہوتا ہے لیکن اس منصوبے میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ یہ کسی ڈی ایم جی افسر کی حماقت کا نتیجہ ہے اور اس نے پی ایس پی کو مزاحمت پر آمادہ کرتے ہوئے حکومت کو اس مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ اب حکومت کو راستہ دکھائی نہیں دے رہا کہ اس مسئلے پر کیسے قابو پائے؟

کہا جاتا ہے کہ شریف برادران کو اپنا موقف پیش کرنے میں دقت کا سامنا رہتا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف ڈی ایم جی کے نوجوان افسران زبان و بیان کی مہارت رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ چاہے معاملہ کتناہی احمقانہ کیوں نہ ہو، اچھے طریقے سے پیش کرنے سے یہ تاریخی اقدام دکھائی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ان افسران کے درمیان اتفاق و اتحاد اور تعاون کی غیر معمولی روایت پائی جاتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کا ساتھ بھی دیتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کی خامیوں پر پردہ بھی ڈالتے ہیں۔

گزشتہ پانچ سال سے پنجاب میں احمقانہ منصوبوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں... سستی روٹی، سستا تندور، دانش اسکول، آشیانہ اسکیم، لیپ ٹاپ وغیرہ۔ آج ایسی اسکیموں پر عمل کیوں نہیں ہو رہا ہے؟ یہ تمام اسکیمیں وزیراعلیٰ پنجاب کے گرد جمع نوجوان افسران کی طرف سے سامنے آئی تھیں۔ حکومت ِ پنجاب کو ان حماقتوں کا سیاسی نقصان اس لئے نہیں ہوا کیونکہ مرکز میں پی پی پی کی حکومت تھی اور جب لوگ پی پی پی کی کارکردگی کی طرف دیکھتے تو پنجاب جرمنی دکھائی دیتا تھا۔ جہاں اپنے امور ، جیسا کہ ریونیو اکٹھا کرنا، کا تعلق ہے تو ڈی جی ایم نے کبھی مثالی کارکردگی نہیں دکھائی ہے لیکن حکومتوں کو ایسی اسکیموں میں الجھائے رکھا ہے۔

ان افسران کی یہ روایت بھی رہی ہے کہ اپنی کوتاہی کا تمام تر الزام پولیس پر لگا کر خود سائیڈ میں ہو جاتے ہیں۔ میں پی ایس پی کا مداح نہیں ہوں.... صحیح پوچھیں تو حکومت کا کوئی محکمہ بھی قابل ستائش نہیں رہا ہے۔ ایک ڈاک خانہ تھا، جس کی کارکردگی بہت عمدہ تھی لیکن ہم نے اس کوبھی ریلوے کی طرح تباہ کردیا ہے۔ میرے شہر چکوال کا سابقہ ڈی پی او بہت باتونی افسر تھا۔ اُس کی حرکتیں ایسی تھیں کہ کوئی تھانیدار بھی ایسا کرنا اپنی توہین سمجھتا۔ ایک مرتبہ میں نے اپنے دوست سابق ایم این اے اختر کانجو سے پوچھا کہ کوئی کانجو (ڈی پی او کانجو تھا) ایسی حرکتیں کیسے کرسکتا ہے تو اس پر مسٹر اختر نے جو جواب دیا وہ ناقابل اشاعت ہے ۔

میں بہت سے ڈی جی ایم افسران سے واقف ہوں جو اپنے سرکاری دفتروں میں گائے بکریاں رکھتے تھے اور محکمہ ٔ زراعت کے ملازم ان کے پاس کام کرتے تھے۔ میں ذاتی معلومات کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ یہ افسران بھی کمیشن وغیرہ لینے میں اپنے دیگر ہم منصبوں سے کم نہیں ہیں۔ اب وہ دن گئے جب ڈی جی ایم افسران کو ریاست کا فولادی ڈھانچہ کہا جاتا تھا۔ چنانچہ ان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ شیشے کے گھروں میں بیٹھ کرپولیس افسران پر پتھر پھینکیں۔

کالم نگار اعجاز حیدر نے اپنے حالیہ مضمون میں لکھاہے کہ اس وقت پنجاب پولیس ملک کی ایک بہت بڑی قوت ہے۔ اس کے جوانوں کی تعداد 170,000 ہے اور یہ تین ڈویژن فوج کے برابر ہے۔ اس وقت برطانوی فوج کی تعداد اسی یا نوے ہزار کے قریب ہے۔ آپ اس عظیم فورس کے کام میں مداخلت کرتے ہوئے یہ توقع نہیں کرسکتے کہ یہ اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔ کیا فوج کے افسران سیاست دانوں کے مشورے سے لگائے جاتے ہیں؟ اگر ایسا ہوتو کیا فوج مطلوبہ کارکردگی دکھا سکتی ہے؟ اسی طرح، اگر کوئی آئی جی اپنے محکمے پر بھی کنٹرول نہیں رکھتا ہے اور اس کی بجائے وزیراعلیٰ کا سیکریٹریٹ اس کے کاموں میں مسلسل مداخلت روا رکھتا ہے تو پھر پولیس کس طرح کارکردگی دکھا سکتی ہے؟اسی طرح اگر لاہور کی زیادہ تر پولیس وی آئی پی، جن میں حکمرانوں کے اہل خانہ بھی شامل ہیں، کی حفاظت پر لگی ہوگی تو عوام کا پرسان حال کون ہو گا؟

کیا عام سپاہی دہشت گردوں کے براہ ِ راست نشانے پر نہیں ہیں اور ہر روز ملک بھر میں وہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش نہیں کر رہے ہیں؟اس کے باوجود حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ وہ دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے لئے کوئی جامع حکمتِ عملی بنانے سے قاصر ہے۔ چوہدری نثار عوام کو کنفیوژن میں ڈالنے سے باز آنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں، چنانچہ یقین رکھیں ، ان سے ایسی کارکردگی کی ہی توقع ہے ۔

بشکریہ روزنامہ"جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.