.

قابل رحم پولیس

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر اوباما کی تشخیص ہے کہ پاکستان کو اندر سے خطرہ ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف نے ان کی موجودگی میں اعلان کیا کہ ہمیں اندر سے خطرہ ہے اور پہلے گھر کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کی ذمہ دار افواج پاکستان کے سابق سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی باربار فرما چکے ہیں کہ پاکستان کو باہر سے کم اور اندر سے زیادہ خطرہ ہے۔

سیاسی رہنمائوں اور تجزیہ نگاروں کی اکثریت کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ اندر کا خطرہ سنگین ہے لیکن تماشہ یہ ہے کہ اندرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کی ذمہ دار پولیس فورس کو مضبوط نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ وہ خود طرح طرح کے خطرات سے دوچار کردی گئی ہے ۔ اس کی ساکھ ‘ کارکردگی اور وجود کو خطرات لاحق ہیں۔ یہ خطرہ نظام سے ہے ‘ دیگر اداروں سے ہے ۔ پالیسی سازوں سے ہے۔

حکمرانوں سے ہے اور سب سے بڑھ کر وزرائے اعلیٰ سے ہے ۔ جن میں سرفہرست ماشاء اللہ وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کے ڈی ایم جی کے مشیر ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملک میں پولیس ہی اندرونی سلامتی کی ذمہ دار ہوتی ہے ‘ سیکورٹی کی مد میں سب سے زیادہ خرچ بھی اس پر کیا جاتا ہے ۔قانون کے نفاذ کے حوالے سے سپریم اتھارٹی کی حیثیت بھی اسے حاصل ہوتی ہے اور قوانین بھی اس کی سہولت کو مدنظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں ۔ برطانیہ کی مثال لے لیجئے ۔ الطاف حسین صاحب کے معاملے پر آپ برطانیہ کے وزیراعظم سے سوال کریں یا پھر ایم آئی سکس کے سربراہ سے ‘ دونوں اپنی بے بسی اور لاعلمی کا اظہار کرکے یہی جواب دیں گے کہ ہماری پولیس خودمختار ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے کی ذمہ دار پولیس ہے لیکن یہاں قانون کی نہیں اشخاص کی حکمرانی ہے ۔

وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کا کہا ہوا ہی قانون سمجھا جاتا ہے ۔ یہ حکمرانی نیچے تک چلی جاتی ہے اور تھانے کی سطح پر جو بااثر اور بااختیار ہے ‘ قانون کی بجائے اس کی حکمرانی ہوتی ہے ۔ آئی جی سے لے کر عام سپاہی تک‘ اپنی ملازمت اور ترقی و تنزلی کے لئے چونکہ ان بااختیار افراد کے رحم وکرم پر ہیں ‘ اس لئے پولیس کو قانون کی نہیں بلکہ ان کی مرضی و منشاء کی رکھوالی کرنی پڑتی ہے ۔

گویا قانون کی قوت نافذہ عملاً پولیس کے پاس نہیں بلکہ بااثر اور حکمران افراد یا طبقات کے پاس ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں قانون کے نفاذ کے حوالے سے پولیس ہی کو سپریم ادارہ سمجھاجاتا ہے ۔ خفیہ ادارے ہوں یا فوج ‘ ملکی سرحدوں کے اندر وہ پولیس کی مدد کے پابند ہیں لیکن ہمارے ہاں یہ سب ادارے پولیس کو تو حکم دے سکتے ہیں لیکن پولیس ان کو حکم نہیں دے سکتی ۔ وسائل کی کمی کا یہ حال ہے کہ پشاور کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں کے پاس بلٹ پروف گاڑی تک نہیں ۔ وہ بنیادی آلات اور اوزار سے لیس نہیں ہیں لیکن اس کے مقابلے میں اس ملک میں ہزاروں ایرے غیرے بلٹ پروف گاڑیاں لئے پھرتے ہیں ۔ بلوچستان پولیس کے اہلکار مجھے پیغامات بھیج رہے ہیں کہ ان کے سپاہی کی تنخواہ پنجاب کے کلاس فور کے ملازم سے کم ہے ۔ تھانوں کی حالت زار کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ ٹریننگ کو ٹریننگ کہنا اس لفظ کی توہین ہے ۔ اسلام آباد جیسے شہر میں پولیس جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ نہیں کرسکتی۔

مناسب ڈیٹا بیس موجود ہے اور نہ اس تک پولیس کی رسائی ہے ۔ ناکے پر پولیس بیٹھی ہوتی ہے لیکن اس کے پاس کوئی کمپیوٹرائزڈ نظام نہیں کہ وہ یہ جان سکے کہ کس کی گاڑی گزر رہی ہے ۔ یہ تو وہ مسائل ہیں جن سے ہماری پولیس نائن الیون سے پہلے بھی دوچار تھی لیکن پچھلے دس سالوں میں اس کی ڈیوٹی کی نوعیت میں زمین و آسمان کا فرق واقع ہوا ہے۔ پہلے کسی ناکے پر موجود پولیس والے کی ذمہ داری صرف گاڑی کو چیک کرنا اور تلاشی لینا ہوا کرتی تھی لیکن اب اسے یہ خطرہ بھی ہوتا ہے کہ گاڑی قریب آتے ہوئے پھٹ پڑے گی۔

پہلے اسے شہریوں کو تحفظ دینا پڑتا تھا لیکن اب اسے اپنے تحفظ کا مسئلہ بھی درپیش ہے لیکن ان نئے چیلنجوں کے تناظر میں اس کے نہ تو اختیارات بڑھائے گئے‘ نہ وسائل اور نہ تربیت کی جدید سہولتیں فراہم کی گئیں۔ سندھ میں وہ جن جرائم پیشہ افراد کے خلاف میدان میں اتاری گئی ہے‘ انہی کے سرپرست حکمران بنے پھرتے ہیں اور پھر یہی پولیس ان جرائم پیشہ افراد کے ان سرپرستوں کی رحم وکرم پر ہے۔

بلوچستان میں پولیس کو جن لوگوں کے مقابلے کے لئے تعینات کیا گیا ہے‘ انہی لوگوں کے بھائی ‘ بھتیجے ‘ چچا ‘ ماموں یا سیاسی ہمسفر حکمران ہیں یا پھر وی وی آئی پی سہولتوںسے مستفید ہورہے ہیں ۔ خیبرپختونخوا میں یہ پولیس جن عناصر سے برسرپیکار ہیں‘ وہاں ان کے چیف ایگزیکیٹو ان کو بھائی اور اپنا قرار دے رہے ہیں ۔ پنجاب میں نوعیت مختلف ہے لیکن یہاں پولیس کو حکمرانوں کا ذاتی ملازم سمجھا جا رہا ہے۔ یہاں کے حکمران پولیس کے جسم سے اس کے دو تین موثر حصے کاٹنا چاہتے ہیں۔

کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کی مثال لے لیجئے۔ اس کی کارکردگی باقی پولیس اور دیگر صوبوں کے اسی نوع کے اداروں سے بہتر رہی ۔ اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ باقی صوبے اس کے نقش قدم پر چلتے اور پنجاب کے اندر بھی پولیس کے باقی شعبوں کو انہی خطوط پر استوار کردیا جاتا لیکن اسے پولیس سے کاٹ کر اب ہوم ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کیا جارہا ہے ۔ اسی طرح ایلیٹ فورس کا کنٹرول بھی پولیس فورس سے باہر منتقل کیا جارہا ہے جبکہ اسپیشل برانچ کو بھی پولیس سے چھیننے کی کوشش ہورہی ہے ۔ یہ ایسا ہے کہ جیسے پنجاب مسلم لیگ (جس کی کارکردگی دیگر صوبوں کی مسلم لیگوں سے بہتر ہے)کا کنٹرول میاں نوازشریف مخدوم جاوید ہاشمی کو دے دیں ‘ مسلم لیگ (ن) کے جو چند باصلاحیت لوگ ہیں‘ ان کو اپنی جماعت سے کچھ دنوں کے لئے پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف کے حوالے کر دیں اور پھر توقع کریں کہ اب ان کی جماعت پورے ملک میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرلے گی۔

نہ جانے ہمارے حکمرانوں کو یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ کوئی بھی فورس حکم تو ہر اتھارٹی کا مانتی ہے لیکن جان وہ صرف اس اتھارٹی کے حکم پر دیتی ہے جو ان کے ساتھ میدان میں موجود ہو۔ ہوم سیکرٹری ہو یا وزیراعلیٰ ‘ وہ فورس کے ساتھ میدان میں موجود نہیں ہوتا ۔ اگر صفت غیور جیسے لوگوں کے پاس کمانڈ ہوگا تو اس کا سپاہی حکم ماننے کے ساتھ ساتھ جان بھی دے گا۔ سوال یہ ہے کہ آج فوج پاکستان میں واحد منظم اور طاقتور ادارے کی حیثیت کیوں حاصل کرگئی ہے ؟۔ جواب یہ ہے کہ اس کو بیرونی مداخلت سے پاک کر دیا گیا ہے ۔ وزیراعظم تک اس کی تقرریوں اور تبادلوں میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ اس کی ٹریننگ اور ترقی و تنزلی کا اپنا نظام ہے ۔ اس لئے وہ پاکستان جیسے ملک میں بھی ایک مضبوط ادارے کے طور پر کھڑی ہوگئی۔ سوال یہ ہے کہ ہم پولیس کو یہ اندرونی خودمختاری کیوں نہیں دیتے؟ ہمارے حکمران نہ جانے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جس پولیس کو آج وہ ذاتی ملازم بنانا چاہتے ہیں‘ وہ کل ان کے مخالف کے حکمران بن جانے کی صورت میں اس کی بھی ذاتی ملازم اور اس کی مخالف ہوگی۔ پاکستان کو اگر اندر سے خطرہ ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اندرونی سلامتی کی ذمہ دار پولیس کو زیادہ سے زیادہ فنڈدئیے جائیں ۔ اس کو زیادہ سے زیادہ اور جدید وسائل سے لیس کیا جائے ۔ اس کو ادارہ جاتی خودمختاری دی جائے اور اس کے اندر میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر سزا و جزا کا نظام قائم کیا جائے۔ نہیں تو ہزار نیشنل سیکورٹی پالیسیاں بنائیں‘ یہ ملک محفوظ نہیں ہو سکتا ۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.