.

مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش

فرخ سہیل گوئندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرقی پاکستان کی علیحدگی پاکستان کی مختصر سی تاریخ کا ایک المناک سانحہ ہے۔ جدید تاریخ میں یہ واحد مثال ہے کہ جہاں ایک وفاقی نظام میں اکثریت نے وفاق سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سانحے کے حوالے سے پاکستان میں پچھلے چالیس برسوں سے بحث جاری ہے، لیکن افسوس کہ حمودالرحمن کمیشن رپورٹ ایک طویل عرصے تک پاکستان کے عوام سے اوجھل رکھی گئی اور جب چند سال قبل منظر عام پر لائی گئی تو اس رپورٹ کے اہم اوراق سینسر شپ کا شکار ہو گئے۔ قوم نے اس سانحے کا تجزیہ کرنے کی بجائے، اس کی ذمہ داری دوتین افراد پر ڈال کر دراصل اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کی۔ اس سانحے پر ہمارے ہاں واقعاتی اور جذباتی بنیادوں پر تحریریں تو شائع ہوئیں لیکن افسوس کہ ریاست اور سماج کے کسی شعبے یا فرد نے بھی کوئی تحقیقی کام پیش نہیں کیا اور یوں سانحہ مشرقی پاکستان پر صرف مرثیہ خوانی اور الزام تراشی پر ہی اکتفا کیا گیا۔ البتہ سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے ملک سے باہر اب بھی تحقیقی بنیادوں پر کام جاری ہے اور آہستہ آہستہ اس المیے کے اسباب اور حقائق ہمارے ہاں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

اس عظیم المیے کے حوالے سے ایک ایسی ہی ایک کتاب مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب، حقائق اور بعد از علیحدگی یعنی شیخ مجیب الرحمن کی قیادت میں ایک آزاد ریاست میں کیا ہوا، کچھ عرصہ پہلے ہی منظر عام پر آئی ہے۔ یہ کتاب متحدہ پاکستان کے ایک ایسے بنگالی فوجی افسر کی رُوداد حیات ہے، جس نے مشرقی پاکستان میں سیاسی، سماجی اور قومی ناانصافیوں کو برداشت کرنے یا خاموش رہنے کی بجائے بنگلہ دیش کی آزادی میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ لیفٹیننٹ شریف الحق دالیم، متحدہ پاکستان کا پہلا کمیشنڈ فوجی افسر تھا جو بغاوت کرکے مغربی پاکستان کی سرحد عبور کرکے ڈرامائی انداز میں بھارت پہنچااوروہاں وزارت خارجہ سے رابطہ کرکے بنگلہ دیش کے لیے جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا۔ پھر وہ بھارتی انٹیلی جینس ایجنسی را کے جنرل اوبان سنگھ کا قریب ترین ساتھی بنا اور جب بنگلہ دیش آزاد ہو گیا تو وہ شیخ مجیب کا منہ بولا بیٹا بن گیا۔ حتیٰ کہ شیخ مجیب الرحمن اپنی بیٹی کا ہاتھ اس کے ہاتھوں میں دیکھنے کا خواہاں ہوا۔ شریف الحق دالیم نے آزاد مملکت بنگلہ دیش کی بچی کچی فوج کو منظم کیا۔ کرنل شریف الحق دالیم کو بنگلہ دیش کا سب سے بڑا ایوارڈ ’’بیر اُتم‘‘ بھی عطا کیا گیا۔ وہ شیخ مجیب کا اتنا قریبی ساتھی تھا کہ جب 1974ء میں شیخ مجیب نے دوسری اسلامی کانفرنس میں آنے کا فیصلہ کیا تو کرنل شریف الحق دالیم کو اپنے دورے کی تیاری کے لیے لاہور بھیجا اور یوں وہ پہلا بنگلہ دیشی تھا جس نے باقی بچ جانے والے پاکستان میں قدم رکھا۔

شریف الحق دالیم نے بنگلہ دیش کی اہم سفارتی ذمہ داریاں بھی نبھائیں اور ڈھاکہ میں بیٹھ کر آزاد مملکت کی تعمیر میں حصہ بھی لیا۔ شریف الحق دالیم جو کبھی پاکستان کا شان دار فوجی افسر جانا جاتا تھا، بعد میں وہ بنگلہ دیش کی آزادی کا ہیرو ٹھہرا لیکن شریف الحق دالیم اور اس کے ساتھیوں نے اگست 1975ء میں دنیا میں پہلا ایسا فوجی انقلاب برپا کیا جس کی تیاری اور قیادت ریٹائرڈ فوجی افسروں نے کی اور انہوں نے اپنی آزادی کے ہیرو جنرل ضیاالرحمن کو مسنداقتدار پر بیٹھا دیا۔ شیخ مجیب کا ساتھی شریف الحق دالیم، اب شیخ مجیب کا تختہ الٹنے کی قیادت کر رہا تھا۔ کرنل شریف الحق دالیم نے ان واقعات کی داستان جو اس کے ہاتھوں سے اور آنکھوں کے سامنے برپا ہوئے، اپنی کتاب Bangladesh Untold Facts میں تحریر کر دی جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی، بنگلہ دیش کے قیام اور قیام کے بعد شیخ مجیب کے بنگلہ دیش کے اَن کہے واقعات کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ کتاب اردو میں ’’پاکستان سے بنگلہ دیش۔اَن کہی جدوجہد‘‘ کے نام سے شائع ہوئی اور یہ ایک ایسی دستاویز ہے جو پاکستان کے ہر گھر میں موجود ہونا لازمی ہے کہ ہمیں اُس عظیم المیے کے اسباب، چھپے حقائق اور اَن کہے واقعات سے آگاہی ہو سکے جس کا ہم ہر سال رونا روتے ہیں۔ ناشر، جُمہوری پبلیکشنز -2 ایوان تجارت روڈ لاہور۔فون 042-36314140۔ قیمت 580/- روپے۔ کتاب سے چند اقتباسات حاضر خدمت ہیں:

’’انتظار میں کھڑے صحافی ہم پر جھپٹ پڑے، چند کیمروں کی فلیش لائٹس بھی جلیں۔ جوائنٹ سیکریٹری خارجہ مسٹر رائے ان صحافیوں سے جنہوں نے ہمیں گھیر رکھا تھا، درخواست کر رہے تھے، ’’برائے مہربانی ہمیں راستہ دے دیں۔‘‘ انہوں نے بڑی ہوشیاری سے مجھے بنگالی زبان میں کچھ بھی نہ کہنے کو کہا۔ یہ سارا معاملہ بہت سنسنی خیز تھا۔ مسٹر رائے ہمیں اپنے کمرے میں لے گئے۔ صرف ایک سکھ جوان ہمارے ساتھ کمرے میں آیا۔ اس سکھ جوان نے سفید قمیص اور سفید ہی پتلون پہن رکھی تھی۔ اس سکھ کا تعارف جنرل اوبان سنگھ کے طور پر کرایا گیا۔ مسٹر رائے نے جنرل سے ہمارا تعارف کرادیا۔ خوش پوش بیروں نے پہلے ہی جب ہم ایک دوسرے سے تعارف ہی کر رہے تھے ،چائے لا کر رکھ دی تھی۔ ہم چائے پیتے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے:’’میں ایک مرتبہ پھر حکومت ہندوستان کی جانب سے آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ آپ کی جرأت اور ہوشیاری قابل تعریف ہے۔ اس تاریخی شہر دہلی تک پہنچ کر آپ نے ناممکن کام کو ممکن بنا دیا ہے۔ ایک تاریخ ہے جو آپ نے رقم کی ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے جنرل صاحب؟‘‘ مسٹر رائے خوشگوار انداز میں بات کر رہے تھے‘‘۔۔۔’’جنرل اوبان سنگھ بھی ہمارے ساتھ تھا۔ مسٹر رائے نے وزیر خارجہ کے پی اے سے کوئی بات کی اور ہمیں ساتھ لے کر کمرے میں داخل ہو گئے۔ وزیر خارجہ مسٹر سورن سنگھ بھی ایک سکھ تھے۔ انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ یہ ایک مختصر سی رسمی ملاقات تھی‘‘۔۔۔’’اندراگاندھی نے اُن کی درخواست کو بڑے دھیان سے اور بہت زیادہ دلچسپی کے ساتھ سنا۔ ہندوستانی منصوبے کے مطابق طویل المدتی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بنگلہ دیش لبریشن فورس( بی ایل ایف) جسے بعد میں مجیب باہنی کا نام دیا گیا، تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ والی پالیسی کا ایک مثالی اظہار تھا اور ساتھ ہی مستقبل میں ایک دوسرے محاذ کے قیام کی ایک کوشش بھی تھی۔ اس طرح سے ’’بی ایل ایف‘‘ یا مجیب باہنی قائم کی گئی تھی‘‘ ۔۔۔’’ہم نے ان تمام حقائق سے کرنل عثمانی کو آگاہ کیا اور انہوں نے راز داری کے ساتھ اس سارے معاملے کے بارے میں وزیراعظم تاج الدین کو بھی آگاہ کر دیا۔ بعد میں تاج الدین نے یہ معاملہ دہلی میں موجود ہندوستانی حکام کے سامنے اٹھایا اور اپنی ناراضی کا اظہار بھی کیا۔ لیکن پی این ہکسر، ڈی پی دھر، ’’را‘‘ کے رام ناتھ راؤ اور جنرل اوبان نے بڑے آرام سے سارا معاملہ ٹال دیا اور تاج الدین کی شکایات پر خاموشی اور لاتعلقی کا مظاہرہ کیا۔ تاج الدین، دہلی سے مایوس اور ناکام واپس آگئے۔ بعد میں کرنل عثمانی نے ہمیں بتایاکہ تاج الدین، ہندوستان کے اس فیصلے کو تبدیل کرنے میں مکمل نا کام رہے ہیں۔ تاہم بعد میں کرنل عثمانی اور تاج الدین اس مخصوص باہنی کو مجیب نگر حکومت کے تحت لانے کی سر توڑ کوششیں کیں لیکن مکمل ناکام رہے۔ انہوں نے ان کے احتجاج پر کان نہیں دھرے۔‘‘

’’ ایک دن وزیراعظم تاج الدین میرے پاس آئے اور اس فوج کے بارے میں استفسار کیا۔ میں نے چیف جنرل مانک شا سے رابطہ کیا اور اس فوج کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ فوج ہماری انٹیلی جینس ایجنسی ’’را‘‘ نے قائم کی ہے۔ جب مجیب باہنی اور آزادی کے مجاہدین کے درمیان اختلاف میں مزید اضافہ ہو گیا تو ڈی پی دھر (درگا پرشاد دھر، جو کہ بنگلہ دیش کے معاملات پر اندرا گاندھی کے خصوصی مشیر تھے)نے مجھے بتایا کہ موجودہ صورتِ حال کے پیش نظر یہ معاملہ خفیہ رکھا گیا تھا، لیکن مناسب وقت پر عبوری حکومت کو اس بارے میں آگاہ کر دیا جائے گا‘‘۔۔۔’’58 بالی گنج میں جن لوگوں کا ہجوم رہتا تھا ،ان کو دیکھ کر یہ تصور کرنا نا ممکن تھا کہ قوم حالتِ جنگ میں ہے۔ یہ لوگ قوم کی تحریک آزادی کی قیادت کرنے والے رہنماؤں کی بجائے کسی شادی کی تقریب میں شامل براتیوں کی طرح نظر آتے تھے۔

یہ سب صحت مند اور خوش باش نظر آتے تھے گویا کہ وہ وہاں چھٹیاں گزارنے آئے ہوں‘‘۔۔۔’’میں میجر جنرل ضیاالرحمن اور فوج، بحریہ اور ایئر فورس کے تینوں چیفس آف سٹاف کو لانے کے لیے چھاؤنی کی جانب چلا گیا۔۔۔ایک گھنٹے کے بعد میں میجر جنرل ضیا الرحمن ، میجر جنرل شفیع اﷲ، آرمی چیف آف سٹاف، ایئروائس مارشل اے کے کھنڈکر اور نیول چیف آف سٹاف وائس ایڈ مرل ایم ایچ خان کے ساتھ بنگلہ دیش ریڈیو واپس پہنچ گیا۔ڈائریکٹر جنرل بی ڈی آر میجر جنرل خلیل الرحمن اور آئی جی پی مسٹر نورالاسلام کو بھی ریڈیو سٹیشن پہنچنے کے لیے کہا گیا‘‘۔۔۔’’یہ بات صاف ظاہر ہے کہ عشروں پہلے بنگلہ دیش کے قیام سے ہی اگر ملک میں قانون کی حکمرانی، بنیادی اور انسانی حقوق کی پاسداری اور آزادئ تحریر و تقریر موجود ہوتی اور اگر حکومت کو تبدیل کرنے کے لیے جمہوری اور آئینی طریقے اور ذرائع میسر ہوتے تو عوام کو شیخ مجیب الرحمن کی فاشسٹ بکسال حکومت کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لیے 15اگست 1975ء کے انقلاب کی ضرورت نہ پڑتی۔‘‘

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.