.

جنرل راحیل شریف کا نیا عزم

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بہت عرصے بعد بلوچستان سے کچھ اچھی خبریں آنےلگی ہیں ۔ یہ خبریں فی الحال بریکنگ نیوز بن کر ٹی وی چینلز پر نظر نہیں آ رہیں لیکن بلوچستان کے حالات کی اندرونی خبریں رکھنے والے یہ امید کرنے لگے ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ اچھی خبریں بریکنگ نیوز بھی بنیں گی۔بظاہر تو وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں اور وہ یہ مسئلہ حل کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے ۔ دوسری طرف لاپتہ افراد کے معاملے میں سپریم کورٹ نے آئی جی ایف سی بلوچستان کو بار بار عدالت میں بلایا لیکن وہ ناسازی طبع کا جواز بنا کر عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

ابھی تک عام تاثر یہی ہے کہ بلوچستان میں سیاسی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں اور اصل کنٹرول یا تو ایف سی کے پاس ہے یا خفیہ اداروں کے پاس ہے۔ بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لواحقین نے کراچی سے اسلام آباد کی طرف ایک لانگ مارچ بھی شروع کر دیا ہے جو پنجاب کی حدود میں داخل ہونے کے بعد عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بھی بن جائے گا لیکن پچھلے چند دنوں میں یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ریاستی اداروں کی سرپرستی میں قائم کئے گئے کچھ مسلح گروہوں کے کمانڈر حضرات کو جاری کئے گئے خصوصی کارڈ واپس لے لئے گئے ہیں اور ان گروہوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ٹریننگ کیمپ اور نجی جیل خانے بند کر کے عام شہریوں کی طرح زندگی گزاریں۔

جرائم پیشہ افراد کے اس ’’پیٹریاٹ گروپ ‘‘ پر یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ آئندہ انہیں قانون نافذ کرنے والے کسی ادارے نے بغیر لائسنس اسلحہ یا جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی کے ساتھ پکڑ لیا تو ان کی رہائی کیلئے کسی کو فون نہیں کیا جائے گا۔ ان جرائم پیشہ افراد نے کافی شور مچایا ہے کہ اگر ان کے مسلح گروہ ختم کر دیئے گئے تو بلوچستان میں دفاع پاکستان کی جنگ کون لڑے گا ؟ بلوچستان کے حالات کی خبر رکھنے والے معتبر ذرائع کہتے ہیں کہ ریاست کے حامی ان جرائم پیشہ افراد کو بتا دیا گیا ہے کہ آئندہ بلوچستان میں دفاع پاکستان کی جنگ صرف وہ لڑیں گے جنہوں نے دفاع پاکستان کیلئے آئین پر حلف لے رکھا ہے۔ دفاع پاکستان کے نام پر آئین کی دھجیاں بکھیرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔بہت سے کرم فرما سوچ رہے ہونگے کہ یہ میں کیا کہہ رہا ہوں ؟ جی ہاں! بلوچستان کے حالات اتنے خراب ہیں کہ ایسی خبروں پر یقین کرنا مشکل ہے لیکن یہ سچ ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پر پھینکنے کا سلسلہ کچھ کم ہوا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ جو لاپتہ افراد زندہ ہیں انہیں بازیاب کرایا جائے۔

نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد حکومت کی طرف سے جو پہلا ٹاسک دیا گیا وہ یہی تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی میں حکومت کی مدد کی جائے ۔جنرل راحیل شریف اور کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے ایک طرف بلوچستان کو ریاست کے حامی اور ریاست کے مخالف مسلح گروہوں کے جرائم سے نجات دلانے کا عزم کر لیا ہے تو دوسری طرف وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک کو یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اگر ان کے صوبے میں سیاسی کارکنوں کو اغواء کرنے اور انکی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پر گرانے کا سلسلہ بند ہوگیا تو ناراض بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی آگے بڑھ سکے گا۔

یہاں اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ بلوچستان کے حالات صرف چند دنوں یا چند ہفتوں میں ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، آرمی چیف اور کور کمانڈر مل جل کر جتنی بھی کوشش کرلیں پچھلی چھ دہائیوں کا پھیلایا ہوا گند صاف کرنے میں انہیں کچھ عرصہ تو لگے گا ۔ بلوچستان کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ جب تک فوج اور ایف سی حالات ٹھیک کرنے میں سنجیدہ نہ ہو بہتری نظر نہیں آ سکتی اور جنرل راحیل شریف کے آرمی چیف بننے کے بعد یہ سنجیدگی نظر آنے لگی ہے ۔ ایک طرف ان کی سنجیدگی ہے تو دوسری طرف اپنے آپ کو پاکستان کا اصل مالک سمجھنے والی طاقتیں بڑے غیر محسوس طریقے سے مزاحمت میں بھی مصروف ہیں لیکن کور کمانڈر کوئٹہ کی طرف سے پیٹریاٹ ازم کے نام پر آئین و قانون توڑنے والوں کو یہ واضح پیغام دیدیا گیا ہے کہ ریاست کے اندر ریاستیں قائم کرنے کی پالیسی قبول نہیں کی جائے گی۔

ایک طرف فوج کی نئی قیادت پاکستان کو درپیش اندرونی خطرات کے مقابلے کیلئے سنجیدگی کے ساتھ نئی حکمت عملی بنا رہی ہے تو دوسری طرف فوج کو سیاست میں الجھانے کی مذموم کوششوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے ۔ جنرل راحیل شریف کو خط لکھے جا رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں خلافت قائم کر دیں ۔ اس قسم کے خط لکھنے والوں سے کوئی پوچھے کہ خلیفہ کسی ایک ملک کے مسلمانوں کا نہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کا ہوتا ہے ۔ پاکستان میں اگر کوئی بندوق یا ٹینک کی طاقت سے خلافت قائم کرنے کا اعلان کر بھی دے تو دنیا کے کتنے مسلم ممالک اسکی خلافت کو تسلیم کریں گے ؟ یہ خلیفہ پہلے اپنے ہم وطن مسلمانوں سے لڑ کر خود کو امیر المومنین تسلیم کرائے گا پھر باقی دنیا کے مسلمانوں سے لڑتا پھرے گا ۔ خلافت کو بندوق، ٹینک اور فوجی وردی سے نہیں بلکہ علم اور ایمان کی طاقت سے قائم کیا جاتا تھا ۔ عجیب بات ہے کہ پاکستان میں خلافت کی باتیں کرنے والے ایک طرف عدالتوں میں لاپتہ افراد کے مقدمات میں خفیہ اداروں کی طرف سے بطور وکیل پیش ہوتے ہیں دوسری طرف ایسے عناصر کے نیاز مندوں میں بھی شمار ہوتے ہیں جو پاکستان کے فوجی اڈے امریکہ کے حوالے کرنے میں کوئی برائی نہیں سمجھتے تھے ۔ یہ کیسی اسلام پسندی ہے جس میں ایک طرف خلافت کے ذریعہ اسلامی حکومت قائم کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور دوسری طرف امریکہ کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی اجازت دینے والے جنرل پرویز مشرف کو بچانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ پاکستانی فوج کی اصل طاقت اس کا ڈسپلن ہے ۔ کوئی بھی خلافت کے نام پر یا مشرف کو بچانے کے لئے اس ڈسپلن کو توڑنے گا تو وہ فوج کے دشمنوں کی صف میں شامل ہو گا ۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ فوج میں ڈسپلن کی خلاف ورزی پر بڑی سخت سزائیں ملتی ہیں۔قومی ہیرو میجر شبیر شریف کی مثال دیکھ لیں انہوں نے 1965ء کی جنگ میں ستارہ جرات اور 1971ء کی جنگ میں نشان حیدر حاصل کیا۔ دونوں جنگوں میں دشمن کی سرزمین پر قبضہ کیا اور دشمن کے فوجیوں کو جنگی قیدی بنایا ۔ 1970ء میں شبیر شریف پیرا شوٹ ٹریننگ سکول پشاور میں پیرا شوٹ جمپنگ کورس کیلئے گئے۔ ایک دن انکی فوجی جیپ کا ایک معمولی ایکسیڈنٹ ہو گیا جس کی سزاکے طور پر انکی سنیارٹی میں چھ ماہ کی کمی کر دی گئی حالانکہ وہ ستارہ جرات حاصل کر چکے تھے ۔ اتنے بڑے ہیرو کو فوج نے ایک ٹریفک حادثے پر اتنی بڑی سزا دی لیکن آج کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ فوج کو سیاست میں گھسیٹنے والے اور آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کرنے والے پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ نہ چلایا جائے ۔ اب یہ شخص کہتا ہے کہ مجھ پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے ۔اپنی ذات کیلئے فوج کی آڑ لینے والا یہ کمانڈو ان فوجی جوانوں کی قربانیوں کا دشمن ہے جو ملک و قوم کے وقار کیلئے سب کچھ دائو پر لگا دیتے ہیں ۔ امید ہے کہ فوج کو سیاست میں الجھانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی ۔جنرل راحیل شریف کا تعلق فرنٹیئر فورس رجمنٹ سے ہے اس رجمنٹ سے جنرل عبدالوحید کاکڑ بھی آرمی چیف بنے تھے جن کا نام آج بھی ایک بہادر اور غیر سیاسی سپاہی کے طور پر لیا جاتا ہے ۔ جنرل راحیل شریف نہ صرف جنرل عبدالوحید کاکڑ کے نقش قدم پر چلیں گے بلکہ فرنٹیئر فورس رجمنٹ کی سکستھ بٹالین کی عزت میں بھی اضافہ کریں گے جو صرف ملک و قوم کیلئے لڑنا جانتی ہے، سیاست نہیں جانتی۔

بشکریہ روزنامہ"جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.