.

نواز شریف کا مسئلہ

شاہین صہبائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اکثر لوگ بار بار پوچھتے ہیں اور کئی ٹاک شوز میں لوگ اس موضوع پر بحث بھی کررہے ہیں کہ نواز شریف کی حکومت میں اتنی افراتفری اور بدانتظامی کیوں ہے۔ کئی مضمون بھی لکھے جا چکے اور اکثر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صرف ایک خاندان کی حکومت ہے باقی لوگ زیادہ سے زیادہ تماش بین ہیں یا تالی بجانے والوں میں شامل ہیں۔ اسمبلیاں بے توقیر اور بے اختیار ہیں، کابینہ صرف انگوٹھا لگانے کی مشین ہے اور شریف خاندان اور ایک یا دو بااختیار وزیر انتہائی جلدی میں ہیں۔

بڑی چوری اور ڈاکے ابھی شروع نہیں ہوئے مگر سوائے گھر والوں کے کسی پر بھروسہ نہیں کیا جا رہا ہے۔ زرداری صاحب نے تو پھر 70-60 ارب سالانہ کا انتظام فرزانہ راجہ کے حوالے کر دیا تھا جن کا کام صرف لوگوں میں پیسے بانٹنا ہی تھا۔ وہ اربوں کس کے کام آئے۔ ایک ہزار روپے کسی کو دینے کا مطلب شہری زبان میں ایک پیزا مہینے میں کھانے کی تفریح لیکن وہ بے نظیر کے نام پر اربوں لٹانے والے کیا بتائیں گے کہ کس خاندان کے حالات بہتر ہوئے اور کتنے۔ 70-60ارب سالانہ میں سے کتنے صحیح حقداروں کو بانٹے گئے اور کتنے لوگوں کی جیب میں گئے۔ شاید اسی لئے اب فرزانہ راجہ کہیں گوشہ تنہائی میں آرام سے دن گزار رہی ہیں کہ ان کا کام تو ہوگیا مگر اب نواز شریف صاحب نے ان سے بڑھ کر 100 ارب لوگوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ اپنی ہی صاحبزادی کو دے دیا ہے۔ اس حکومت میں کتنے بڑے بڑے اداروں کے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد اور ماہرین ہیں جن کے پاس بیک جنبش قلم 100 ارب کا خزانہ صرف لوگوں میں تقسیم کرنے کے لئے موجود ہے۔ تو نواز شریف کی حکومت جلدی میں اس لئے ہے کہ صبح صبح ہی ناشتے میں اچھے قسم کے پراٹھے اور حلوے مانڈے کھا لئے جائیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی ناراض ہو جائے یا کوئی جج الٹا سیدھا فیصلہ سنا دے، کسی پرانے یا نئے کیس میں یا کوئی سیاسی پارٹی لشکر لے کر جسے نواز شریف لانگ مارچ کے نام سے خوب پہچانتے ہیں اسلام آباد پر گھیرائو کے لئے آدھمکے۔ اگر یہ سب بھی نہ ہوا تو کہیں 11 مئی کے انتخابات کا پول نہ کھل جائے اور یہ ثابت ہو گیا کہ الیکشن کمیشن نے جناب فخرو بھائی کی قیادت میں ملک اور قوم کے ساتھ ایک گھنائونا فراڈ کیا اور بقول نثار علی خان کے ہر حلقے میں اگر 60 سے 70 ہزار ووٹوں کی تصدیق ہی ممکن نہ ہوئی تو کہیں مڈٹرم انتخابات کا مطالبہ زور نہ پکڑ جائے۔

بات تو ابھی سے شروع ہوگئی ہے اور ابھی لوگ صرف دبے دبے لفظوں میں اشارتاً کچھ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر یہ بات فوراً آگے بڑھ سکتی ہے۔ ان سارے پریشان کن معاملات کے درمیان نواز شریف کچھ اس طرح گھرتے چلے جا رہے ہیں کہ راستہ نظر نہیں آ رہا اور کیونکہ کسی پر بھروسہ کرنے کی صلاحیت نہیں یا ہمت نہیں، حکومت کی افراتفری اور پریشانی سب کو نظر آنے لگی ہے۔ اگر سب کچھ کسی طرح قابو میں رکھ بھی لیا جاتا ہے اور جن کو بوتل کے اندر ہی رکھا جاتا ہے تو بھی ایک اور بڑی بوتل والا جن تو لنگوٹ کس کر کشتی، بھنگڑا یا کبڈی کے لئے تیار ہی ہے اور وہ ہے بلدیاتی انتخابات۔

اب میاں صاحب جانتے ہیں کہ اگر بلدیاتی اداروں پر تحریک انصاف اور دوسری جماعتوں کا ایسا قبضہ ہوگیا کہ ان کی ن لیگ ن غنہ ہی نظر آنے لگی تو پھر میاں صاحب کی پوری سیاست ہی دھڑام سے نیچے آ گرے گی، ان کے مئی 11 کے انتخابات میں فتوحات کو اس شدت سے چیلنج کیا جائے گا کہ نادرا یا الیکشن کمیشن مجبور ہو کر اعلان کر دیں کہ واقعی وہ الیکشن ان کے بس سے باہر تھے اور پہلے سے بٹھائے گئے لوگ وہ کام کر گئے جو قوم اور جمہوریت کے ساتھ بڑا ہاتھ کر گیا۔ میں اور کئی لوگ شروع سے ہی کہہ اور لکھ رہے تھے کہ فخرو بھائی صرف ایک شو پیس ہیں اور ان کا نام اس آخری عمر میں بے دردی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے اور وہ بھی اس جھانسے میں آ گئے اور زرداری کی چال میں پھنس گئے۔ اب اگر میں یہ کہوں کہ جب کسی بھی شخص کو چاہے وہ کسی شعبے یا پیشے سے تعلق رکھتا ہو حکومت کرنے اور طاقت کے اس نشے کی بھنک لگ جائے اور چاہے تھوڑا سا ہی سہی موقع مل جائے تو پھر کسک جاتی نہیں۔

فخرو بھائی ایک معزز جج کے طور ریٹائرہوئے مگر جب وہ ایک دفعہ گورنر بن گئے اور سیاسی عہدہ لے لیا تو یہ شراب منہ کو تو لگ گئی۔ اسی پیپلزپارٹی نے انہیں دوبارہ گھسیٹ لیا اور اس دفعہ فخرو بھائی پھنس گئے اور اپنی بنی بنائی اور سالہاسال میں کمائی عزت کو دائو پر لگا گئے۔ آج کل اور بھی کئی ایسی مثالیں ہیں اور کئی پیشوں سے ان کا تعلق ہے۔ کچھ صحافت سے بھی وابستہ ہیں۔ میں نے تو ہمیشہ یہ لکھا اور کہا ہے اگر کوئی صحافی ایک دفعہ سیاسی یا انتظامی عہدہ قبول کر لیتا ہے تو وہ پھر دوبارہ اپنی صحافتی غیر جانبداری اور ساکھ واپس نہیں لا سکتا۔ اب غور کر لیں جتنے سفیر، وزیر اور اعلیٰ عہدوں پر صحافی لگے وہ جب نکالے جاتے ہیں تو واپس صحافت میں آ کر دوسری نوکری کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور جب وہ نہیں ملتی تو ان کی تحریروں اور تقرریوں میں تلخی اور بے ایمانی صاف نظر آنے لگتی ہے۔ جو سیاست میں مستقل چلا جائے وہ تو قابل معافی ہو سکتا ہے لیکن جو ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر چھلانگیں لگاتا رہے وہ بس کرائے کا ٹٹو ہی بن جاتا ہے۔ تو فخرو بھائی اپنی ساری کمائی ہوئی عزت کیش کر چکے مگر ابھی آخری موقع ہے کہ وہ کچھ بچی ہوئی عزت اور نام بچا لیں اور سچ بول کر ساری اصلی کہانی سب کو سنا کر اپنا نام ان لوگوں میں لکھوا لیں جو استعمال تو ہوئے مگر پھر حق انصاف ادا کیا اور اپنی عزت اور ساکھ بچا گئے۔

اب نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر پچھلے انتخاب متنازع ہو جاتے ہیں اور سسٹم کو بدل کر بلدیاتی انتخابات کرانے پڑتے ہیں تو پھر ان کے پاس بالکل بھی وقت نہیں ہے۔ نواز شریف اورباقی سب لوگ جانتے ہیں کہ یہ اب شریف خاندان کی آخری اننگ ہے کیونکہ چوتھی بار تو میاں صاحب نے وزیراعظم بننا نہیں اور زرداری صاحب کی طرح ان کو کوئی خیرات میں پورے پانچ سال دے گا بھی نہیں کیونکہ ان کے ساتھ کوئی بے نظیر کی شہادت کی طرح کا واقعہ تو ہوا نہیں تو پھر وہ کریں تو کیا کریں۔ ایک طرف وہ جلدی جلدی بڑے بڑے منصوبے شروع کر کے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ معاشی حالات قابو میں آ جائیں مگر دوسری طرف ان کے انتخاب پر اور اب ان کی کارکردگی پر جو سوالات کھڑے ہو رہے ہیں وہ پریشان کن ہیں۔ طالبان نے بھی ان پر اب بھروسہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ عمران خان ناتجربہ کار سہی خاص کر میاں صاحب کے مقابلے میں مگر وہ اتنی تیزی سے نیچے نہیں جا رہے کیونکہ ان کے پاس ابھی پوری حکومت اور اختیار تو ہے نہیں۔ لگتا یوں ہے کہ میاں صاحب نے جو اندازہ لگایا تھا کہ نئے آرمی چیف اور چیف جسٹس کے آنے کے بعد وہ کھل کرکھیل سکیں گے، وہ بھی غلط ثابت ہو رہاہے تو میاں صاحب وقت کم ہے اور مقابلہ سخت، بلدیاتی انتخاب تو کرانے ہوں گے اور اگرعمران کا ڈر ہے تو عمران تو ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ"جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.