.

پاکستان، بھارت، افغانستان

حسن اقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم پاکستان نے بجاطور پر کہا ہے کہ پاکستان، بھارت اور افغانستان کے پاس صرف دوستی کا ہی راستہ ہے۔ ایک عرصہ دراز سے پائی جانے والی غلط فہمیوں نے تینوں ملکوں کے عوام کو دکھ، مصیبت، غربت اور مسائل کے علاوہ کچھ بھی نہیں دیا۔ یہ تینوں ایسے بدقسمت ملک ہیں جہاں انا کی خاطر غریب عوام کی فلاح کی خاطر جو رقم میسر ہوتی ہے وہ غیرترقیاتی اور دفاعی کاموں میں صرف کر کے ہر سال غربت میں اضافہ کیا جاتا ہے۔

غیرملکی قرضوں کی تہیں معیشت کو کنگال کرتی جاتی ہیں، تعلیم اور صحت جیسے منصوبے صرف اس لئے آگے نہیں بڑھ سکتے کہ رقم نہیں بچ پاتی۔ حکمرانوں کی زیادہ تر توجہ طاقت اور وقت ملک کے ایسے مسائل کی طرف مبذول رہتے ہیں جن سے عوام کو عملی طور پر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان روزِاوّل سے جو کشیدگی جاری ہے اس کے خطے پر بڑے بھیانک اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دفاع کے نام پر جس طرح رقوم صرف کی جاتی ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔

اس دوڑ میں چلتے چلتے دونوں ممالک ایٹمی قوتیں بن گئیں لیکن اسلحے کی دوڑ اور میزائل کی نسلیں آگے ہی آگے چلتی جا رہی ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات بعض ادوار میں بہتر بھی ہوئے لیکن بعض ادوار میں باقاعدہ جنگیں بھی لڑی گئیں۔ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے کوششیں بھی ہوئیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ سرحدی جھڑپیں بھی چلتی رہیں۔ جہاں تجارت کے لئے ماحول کو سازگار بنانے کی کوششیں ہوئیں وہاں ایک دوسرے کے مفادات کو زک پہنچانے سے بھی باز نہ آیا گیا۔ غرضیکہ بعض اوقات تعلقات معمول پر آنے کے باوجود اندرونی کشمکش اور دل کی رنجشیں بدستور جاری رہیں اور کسی نہ کسی موقع پر دل کے پھپھولے سینے کے داغ بن کر جل اٹھے۔ بھارت نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے ایک سے ایک الزام لگائے۔ کشمیریوں کی جدوجہد کو بزورِ شمشیر دبانے کے لئے ناکامی ہوتی ہے تو اس کا ذمہ دار بھی پاکستان کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں دہشت گردی ہو تو اس کا الزام بھی پاکستان پر ہوتا ہے۔ اگرچہ بعدمیں تفتیش میں ثابت بھی ہو جائے کہ یہ سب بھارت کا اپنا کیا دھرا ہے لیکن پھر بھی کوئی حقیقت پرانے بغض اور عناد کی خاطر ہرگز نہیں مانتی۔ ان سب مشکلات کو محسوس کرتے ہوئے بھی وزیراعظم نے بجا طور پر کہا ہے کہ ہمسائے تبدیل نہیں کئے جا سکتے۔ یہ ہماری جغرافیائی بدقسمتی ہے کہ ہم اس صورت حال میں ہیں۔ اسے ہم تبدیل نہیں کر سکتے اور اسی میں ہمیں رہ کر آگے بڑھنا ہے اور لوگوں کو مشکلات سے نکالنا ہے۔

جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے پاکستان نے افغانستان کی خاطر ایک طویل ترین اور مشکل ترین دور دیکھا ہے ۔ اس دور کی مشکلات اور مسائل ابھی تک بھی ختم نہیں ہوئے اور مستقبل قریب میں ان کے ختم ہونے کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ افغانستان پر روسی حملے سے قبل ہی افغانستان کی اندرونی سیاسی کیفیت ہیجانی صورت حال سے دوچار تھی۔ جس کا براہ راست اثر پاکستان کی سکیورٹی اور معیشت پر پڑ رہا تھا۔ روس کے حملے کے بعد پاکستان کے لئے مشکلات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ افغانستان سے لاکھوں کی تعداد میں افغانی باشندے ہجرت کر کے پاکستان وارد ہوئے۔ انہیں ایک جذبے کے تحت پاکستان میں قیام کی اجازت دی گئی۔ ان کی تعلیم، صحت، رہائش اور دیگر ضروریات کو پورا کیا گیا۔ ان میں سے ایک قلیل تعداد واپس گئی، لیکن لاکھوں لوگ آج بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ ان کی ہر طرح سے ضروریات پوری کرنے کے علاوہ اسی جذبے سے پاکستان میں رکھا ہوا ہے۔ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت اس طرح سے ہے کہ اس کی تمام تر برآمدات اور درآمدات پاکستان کے راستے ہی ممکن ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کیا ہے۔ اگرچہ اس سے پاکستان کی حکومت کو اربوں روپے کے ٹیکس کا ضیاع کا سامنا ہوتا ہے۔ کیونکہ افغانستان کے نام پر درآمد کی جانے والی تمام اشیاء کسی نہ کسی طرح سے پاکستان میں رہ جاتی ہیں اور اس طرح اربوں روپے کے ٹیکس وصول نہیں ہو پاتے۔ افغان جنگ کے دوران آنے والے اسلحے کی وجہ سے پاکستان میں جس قدر دہشت گرد ی ہوئی ہے اس کی بھی مثال نہیں ملتی۔ جرائم پیشہ لوگ پاکستان میں جرائم کر کے افغانستان میں پناہ لیتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں آزادانہ آمدورفت کی وجہ سے دہشت گردوں کو خوب فائدہ ہوتا ہے لیکن پاکستان نے اتنے جانی اور مالی نقصانات کے باوجود افغانستان سے ایک بہترین تعلقات کاسلسلہ برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ افغانستان کی موجودہ حکومت جس کا جھکاؤ زیادہ تر بھارت کی طرف ہے انہوں نے زیادہ تر سردمہری کا ہی مظاہرہ کیا ہے لیکن پاکستان اب بھی افغانستان کے ساتھ بہترین تعلقات کا خواہاں ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ قوموں اور ملکوں کے درمیان تعلقات اپنے فوائد اور افادیت پر مبنی ہوتے ہیں لیکن تعلقات کو مناسب سطح پر نہ رکھنا یا تناؤ پیدا کرنا بھی ملکوں کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔ خاص طور پر پڑوسی ممالک اگر کسی وجہ سے تناؤ کا شکار ہو جائیں تو پھر اس سے ترقی کا عمل اگر رک نہ جائے توسست ضرور پڑ جاتا ہے۔ یہی صورت حال اس خطے کی ہے۔ براعظم ایشیا میں دنیا کی ایک بہت بڑی آباد قیام پذیر ہے جو کہ معیشت کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی منڈی بن سکتی ہے۔ یہاں کے خام مال اور پیداوار کو باہمی اعتماد کے ساتھ استعمال کر کے تجارت کی جائے تو یہاں پر معاشی انقلاب لا کر غربت کو ختم کیا جا سکتا ہے لیکن بداعتمادی کی وجہ سے یہاں کی پیداوار، خام مال اور مصنوعات تیسرے ممالک کا چکر کاٹ کر دوسرے اور تیسرے برینڈ ناموں کے ساتھ واپس انہی ممالک میں آ جاتی ہیں۔ ستم ظریفی ہے کہ بڑے بڑے معاشی ماہرین ان تمام حالات و واقعات کو سمجھتے ہوئے بھی کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔ کیونکہ جب تک ممالک کے درمیان میں سیاسی طور پر حالات درست نہیں ہوتے، امن قائم نہیں ہوتا کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ خطے کے ممالک خصوصاً بھارت پاکستان کے ساتھ پانی، کشمیر، سیاچن، سرکریک اور دیگر معاملات پر بات چیت کے ذریعے تنازعات طے کرے۔ اگر یہ تنازعات طے نہ ہوئے تو ماضی کی طرح یہ معاملات وقتی طور پر تو دب سکتے ہیں۔ صورت حال معمول پر آ سکتی ہے لیکن یہ صورت حال لمبی مدت کے لئے امن کی ضمانت نہیں دے پائے گی۔ ماضی میں بھی یہی ہوتا رہا ہے اور مستقبل میں ان خطرات کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بنیادی مسائل کے پائیدار اور ٹھوس حل تلاش کئے جائیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کا دوررس سلسلہ قائم ہو سکے۔ افغانستان کے لئے سال 2014ء نہایت اہم ہے۔ امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد افغانستان کو پاکستان کے ساتھ معاملات کو جو کہ معمولی ہیں طے کر کے امن و امان کے لئے کام کرنا چاہئے تاکہ دونوں ملکوں کا مستقبل روشن ہو اور عوام خوش اور خوشحال ہو سکیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تینوں ممالک کے پاس دوستی، امن، بھائی چارے، اعتماد، سکون اور تعاون کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ نہ ہو سکا تو سب کا مستقبل مشکلات سے دوچار ہو سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ"نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.