.

دیکھ لیا ترکی۔۔۔

فرخ سہیل گوئندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کہتے ہیں جس نے لاہورنہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا ، یقیناًاسی کہاوت کا اطلاق زیادہ سے زیادہ برصغیر پاک و ہند پر ہی ہو گا۔ مشرقِ وسطیٰ، روس، یورپ،افریقہ یا لاطینی امریکہ کے باسی اس کہاوت کے دائرے میں کیسے آ سکتے ہیں؟ کالج کے دنوں میں ہم لاہور کی اومنی بس میں روزانہ سفر کرتے تھے جو لاہور کی ایسی شاہراہ سے روز گزرتی تھی جس کاذکر متحدہ ہندوستان کی خوب صورت شاہراہوں کے ساتھ ہوتا تھا ، یعنی ’’دی مال‘‘۔ لاہور چھاؤنی کے آر اے بازار سے سنت نگر تک تقریباً سیدھی راہ پر چلنے والی اس اومنی بس پرسواری کا مطلب تھاکہ آپ لاہور کا دل دیکھ رہے ہیں ۔ انہی دنوں میں سے ایک روز، ہم بس میں سوار ہوئے تودیکھا کراچی کے دو نوجوان لاہور کی ’’اومنی بس میں سیاحت‘‘ کر رہے ہیں، اوہ یہ ہے ملکہ کا بت، آہا یہ ہے انارکلی ، اوہ یہ بڑا قلعہ(فوٹریس سٹیڈیم) کس دَور کا ہے۔ ہم ان دونوں Karachitesکا زندہ سفر نامہ سن رہے تھے جو بڑے دلچسپ محسوسات پر مبنی تھا۔ یہ سفید عمارت کیا ہے؟ انہوں نے اپنے ہمیں پاکر یہ سوال داغا ۔ یہ واپڈا ہاؤس ہے! خوش گو ارفضاجان کر ہم نے کہا،آپ کو علم ہے کہ کہا جاتا ہے، ’’جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ جما(پیدا) ہی نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا ،یقیناًسنا ہے ۔ تو پھر آپ ابھی ’’جم‘‘ رہے ہیں۔

ہمارے ہاں رونے دھونے کے لاتعداد موضوعات ہیں ، جن میں ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں دنیا کی خوب صورت وادیاں ، پہاڑ اور قدرتی نظارے ہیں مگر سیاحت کا شعبہ کمزور ہے اور سیاح اِدھر کا رخ نہیں کرتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان قدرتی نظاروں کی تخلیق میں ہمارا کوئی کردار نہیں، یہ تو قدرت کے تخلیق کردہ ہیں۔ جہاں ہم نے ان مناظر یا دھرتی کی سیاحت کے لوازمات و انتظامات نہیں کیے، وہیں ہم نے ان مناظر کو اپنے بے ذوقی کامظہر بھی بنا دیا ہے ۔ مری کی پہاڑیاں کبھی قدرتی حسن کا شان دار نظارہ پیش کرتی تھیں، اب وہاں پر پنجاب اور کراچی کے ’’کباڑیہ طرز‘‘کے سیاح جاتے ہیں اور وہاں پر کھانے پینے اور گند اور تعفن پھیلانے کے سوا کرتے ہی کیا ہیں۔

جیسے سیاحت ایک شعبہ ہے ایسے ہی سیاحت کا ذوق بھی ایک اسلوب ہے، جس سے ہم آشکار نہیں ۔ میں نے گزشتہ پندرہ برسوں میں سکردو جیسے دشوار گزار سفر سے اجتناب برتتے ہوئے لاہور سے صرف اڑھائی گھنٹوں میں ایسی وادیاں تلاش کر لی ہیں کہ ان کے سامنے سکردو کی وادیاں اور جھیلیں ماند پڑجاتی ہیں ۔ ایک بار اپنے اہل قلم اور کالم نگار دوستوں کو اس شرط پر وہاں لے گیا کہ آپ اس علاقے پر کالم نہیں لکھیں گے، اس لیے کہ جب جب کالموں کے ذریعے ان قدرتی تخلیقات کی اطلاع ہمارے نودولتیے طبقات تک پہنچے گی وہ تو اس Virgin Landکے ساتھ ریپ کر دیں گے ۔ سیاحت کے ذوق کا تعلق ہی تہذیبی ترقی سے ہے اور تہذیبی ترقی تعلیم و تربیت کے بغیر ناممکن ہے۔ اپنی سیاحت کے اوائل ایام میں ہم پر دہلی دریافت کرنے کا جنون سوار تھا۔ درجنوں سفر کر ڈالے ،بلبن کا مقبرہ، التمش کا مقبرہ، قطب مینار ، کوٹلہ فیروز شاہ ،اراولی پہاڑ کی وادیاں، اور نہ جانے کیا کیا۔ ہم دہلی کی تلاش میں ایسے گھومتے تھے کہ اہل دہلی ہمیں پاکستان کا جاسوس سمجھنے لگے۔ ہمارا قیام چاندنی چوک کی تاریخی گلی ، بَلی ماراں میں مہراب گیسٹ ہاؤس میں ہوتا تھا، جو کبھی حکیم اجمل خان کی حویلی (شریف منزل)تھی اور اب اس تاریخی حویلی کے ایک حصے کو ان کے پوتے جناب مسرور احمد خان نے گیسٹ ہاؤس اور اوپر اپنی رہائش میں بدل دیا تھا، اس تاریخی عمارت میں متحدہ ہندوستان کا کوئی ایسا لیڈر نہیں تھا، جو نہ آیاہو۔مہاتما گاندھی، مولاناابوالکلام آزاد ، محمد علی جناح، سبھاش چندر بھوش، یہیں پر مرزا غالب بھی رہتے تھے۔

’’ دہلی کی تلاش‘‘ میں مہراب گیسٹ ہاؤس میں قیام درحقیقت میرے لیے ایک پناہ گاہ تھا۔ بَلی ماراں کی گلیوں ، بیچوں بیچ اجمیری گیٹ جا نکلنا یا پھر چلتے چلتے گورو تیغ بہادر کے گوردوارے میں جاکر دیسی گھی کا مفت حلوہ کھانا۔۔۔میرا کیمرہ اور ڈائری لنڈے بازار کے چینی ساخت کے بیگ میں اور بیگ کندھوں پر، ماؤ کیپ اور جیکٹ پہنے تلاش میں،کھنڈرات ہی نہیں بلکہ بھارت کے دانشوروں اور رہنماؤں کی بھی تلاش اس سیاحت کا ایجنڈا ہوتی تھی، اورراما پلاؤ والے سے لے کر ہلدی رام کی مٹھائی کی لذت کی تلاش بھی۔ ایک سفر کے دوران ہمارے پہلو والے کمرے میں کراچی کے دو نوجوان بھی ٹھہرے تھے، ان سے دوستی ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم دہلی کی سیر کرنے آئے ہیں ۔ لیکن جب انہوں نے سیر کا ایجنڈا میرے سامنے پیش کیا تو میں ان علاقوں سے واقف تو تھا لیکن راستوں کا علم نہ تھا۔ ’’گاندھی روڈ‘‘ جہاں پر روز گار رات آٹھ بجے شروع ہوتا تھااور نہ جانے کون کون سے کلب۔ جب کراچی کے دوتاجر سیاح اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے تو ہم حسرت کرتے کہ اگر ہمارے پاس اس قدر مال ہو تو ہم چار بار پاکستان سے یورپ اور روس سے Trans-Mangolian ٹرین میں سفر کی خواہش پوری کر لیں۔

چند دنوں بعد تاجر طبقے کے یہ سیاح ہماری سیاحت سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا، ’’ فرخ بھائی ہم نے قطب مینار دیکھنا ہے۔‘‘ ہم نے ان کی رہنمائی کی۔ ان دنوں بلی ماراں سے قطب مینار کے علاقے مہرولی آنے جانے اور سیاحت میں ایک دن صرف ہوتا تھا۔’’ تاجر سیاحوں‘‘ نے مجھے اس وقت حیرت میں ڈال دیا، جب دونوں دوپہر دو بجے مہراب گیسٹ ہاؤس سے نکلے اور ساڑھے تین بجے قطب مینا ر کی سیاحت کر کے واپس لوٹ آئے۔ ہم نے استفسار کیاکہ آپ نے دیکھ لیا قطب مینار؟ جی بالکل۔ ہم نے گیسٹ ہاؤس کے باہر سے ہی سائیکل رکشہ پکڑا اور رکشہ کھینچنے والے سے یہ کہا کہ لے چلو قطب مینار اور اس سے پچیس روپے میں لے جانے اور واپس لانے کا سودا طے کیا ۔ ہم نے کہا، آپ ٹانگوں سے کھینچتے جانے والے رکشے پر وہا ں نہیں جاسکتے، وہ یہاں سے کم از کم بیس پچیس کلومیٹر فاصلے پرہے ۔ مزید تفتیش پر ہمیں معلوم ہوا کہ سائیکل رکشہ کی انسانی مشقت والے مزدور نے ان سیاحوں کے ’’علمِ کُل‘‘پر نہ کرنے کی بجائے ہاں کی اور ان صاحبان سیاحت کو بَلی ماراں سے چاندنی چوک ہوتے ہوئے دہلی کی قطب روڈ لے گیا، وہاں پر فضا میں بلند گٹر کے کھمبے کا نظارہ کروایا اور کہا،یہ ہے قطب روڈ اور یہ رہا اس کا مینار!

آج کل ہمارے ہاں ہر کسی پر ترکی دیکھنے کا جنون سوار ہے۔ کچھ روز پہلے پاکستان کے صف اوّل کے ایک پولیس افسر شاید تین چار روز کے لیے ترکی گئے اور واپسی پر انہوں نے ڈیڑھ فٹ لمبا سفر نامہ ترکی لکھا ۔ موصوف ،پولیس کانفرنس کے لیے ترکی کے سیاحتی شہر انطالیہ(Antalya)گئے اور اس ’’علم کُل‘‘ پر انہوں نے انطالیہ کو اناطولیہ بھی قرار دے دیا اور اپنی تحریرکو اس ’’علم کُل ‘‘کی بنیادپر گڈ مڈ کرنے کی مکمل کوشش کی۔ انہی دنوں چند دانشور بھی ترکی کے سفر پر تھے، ان میں سے ایک دانشور کو تاریخ انسانی کے تمام ادوار کا علم ہونے کا دعویٰ ہے، مگر ترکی کے حالیہ سفر میں ان کی تحریروں سے ہمیں معلوم ہوا کہ وہ اپنے پہلو (ترکی) میں برپا ہم عصر تاریخ سے دہائیوں سے محروم تھے مگر اس کا علم انہیں اس چھے روزہ دورے میں ہو گیا اور تحریر سے لگتا ہے کامل علم ہو گیا۔ اسلام کو کوستے ان کا قلم نہیں رکتا تھا، سیکولر ترکی دیکھنے کے بعد لگتا ہے وہ مشرف بہ اسلام ہو گئے ہیں ۔ لیکن ترکی دیکھنے میں ہمارے ایک دوست نے تو کمال کر دکھلایا، ان کا استنبول میں قیام دو راتوں اورڈیڑھ دن کا تھا ، ہمیں smsملا کہ فون کرو۔ ہم نے فون کیا اور ہدایت کی کہ تاکسیم سکوائر سے ٹیکسی لو اور سیدھا جاؤ سلطان احمت کے علاقے۔ ان ڈیڑھ دنوں کی سیاحت میں ہم انہیں فون کر کے حال چال معلوم کرتے رہے۔ ایک بار کہنے لگے، معلوم نہیں،میں کہاں سے اس فیری پر چڑھا ہوں ، سمندر کا نام نہیں آتا ، لیکن استنبول سمیت سب خوب صورت ہے۔ میں ابھی ایک معلق پُل کے نیچے سے گزر رہاہوں ۔ اوہ کتنا خوبصورت ہے استنبول ۔ ہمارے اس دوست نے استنبول سے واپسی پر ہمیں فون پر کہا، کیا آپ اڑتیس بار ترکی گئے ہیں؟ اب ترکی اور استنبول میں ہم آپ کی رہنمائی کریں گے کہ صرف دس لیروں میں کیسے سیاحت کی جا سکتی ہے اور استنبول کو کیسے اور کہاں سے دیکھنا ہے۔ ہمیں ان کے ’’علم کُل‘‘پہ رشک اور اپنے تیس سال اوراڑتیس بارترکی دیکھنے پر ندامت محسوس ہوئی،اور جو وقت کے ضیاع کا دکھ ہوا وہ علیحدہ تھا۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.