موسمی پرندوں کی اُڑان

ایاز امیر
ایاز امیر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

ایک شخص جو محبت سے محروم ہوتا ہے، وہ تنہائی کا اتنا شکار نہیں ہوتا جتنا وہ شخص جو اقتدار میں ہو لیکن نامساعد حالات کی وجہ سے اس سے محروم ہو جائے۔ جب وہ منصب پر فائز ہوتا ہے تو اس کے گرد خوشامدیوں، جنہیں عرف عام میں چمچے کہا جاتا ہے، کا ہجوم جمع ہو جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ درباریوں کے درمیان شاہ ِ عالم مسند نشیں ہیں لیکن جب حالات کا بے رحم پہیہ چکر کھاتا ہے، تبدیلی...جو کہ کائنات کا واحد مستقل ہے... اپنا رنگ دکھاتی ہے تو ہیرو، زیرو ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی باغ اجڑ جاتا ہے اور موسمی پرندے پرواز کر جاتے ہیں۔

پی ایم ایل (ن) کا پرجوش نعرہ...’’قدم بڑھائو نواز شریف، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘... رہا ہے۔ نواز شریف، جو زیادہ حس ِ مزاح نہیں رکھتے ہیں، نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ جب بارہ اکتوبر99ء کے شب خون کے بعد اُنھوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پنڈال خالی ہو چکا تھا۔ ان کا ساتھ دینے والا کوئی جاں نثار دکھائی نہیں دیتا تھا...یہ بات سچ ہے اور ناروا بھی ہے۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ اُن کے زیادہ تر مصاحبوں نے ابھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا جب اُنھوں نے ملک سے باہر جانے کے لئے خفیہ مذاکرات شروع کر دیئے تھے۔

اس کے برعکس ذوالفقار علی بھٹو میں انا بہت زیادہ تھی، اس لئے اُنھوں نے جان دے دی لیکن درکار لچک نہیں دکھائی تاہم شریف برادران جاگیردارانہ پس ِ منظر نہیں رکھتے تھے، اس لئے وہ غیر لچک دار انا کے غیر ضروری بوجھ سے بھی آزاد تھے۔ عرب دوستوں کی مدد سے وہ اپنی گردن بچانے میں کامیاب ہو گئے، اس لئے وہ آج ایک مرتبہ پھر میدان میں موجود ہیں جبکہ فریق ِ ثانی کو مقدمات کا سامنا ہے۔ آج ایک مرتبہ پھر قسمت ان پر مہربان ہی نہیں ہے بلکہ ان کے حریف جنرل پرویز مشرف سے روٹھ بھی چکی ہے۔ آج جب وہ منہ پھیر کر دیکھتے ہیں اُنہیں اپنا دربار، جو کبھی انواع واقسام کے خوشامدیوں سے بھرا ہوتا تھا، خالی دکھائی دیتا ہے۔ اُس وقت تقریباً تمام سیاسی رہنما اُنہیں ملک کیلئے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ آج پی ایم ایل (ن) کے بہت سے ارکان ِ اسمبلی پرویز مشرف کے دسترخوان کے مزے لوٹ چکے ہیں۔ گجرات کے چوہدری صاحبان جنرل کے قریبی اتحادی تھے۔ وہ سب چمچے آج کہاں ہیں؟ سیاست دانوں کے علاوہ دفاعی اداروں کے بھی بہت سے افسران ہوں گے جنہوں نے اُن سے مفاد حاصل کیا تھا۔ بہت سے کور کمانڈروں نے ان کے ہاتھ سے ترقی پائی تھی ۔ ان کو اپریل 2002ء کے ریفرنڈم میں اُس وقت کوئی قباحت نظر نہیں آئی ہوگی ... آج وہ کہاں ہیں؟ایک ڈوبتے ہوئے آدمی کو تنکے کا سہارا بھی بہت ہوتا ہے لیکن وہ سب خس وخاشاک آج کہاں بہہ گیا ہے؟ کون ہے جو سابق کمانڈو کی پیٹھ پر تھپکی دے اور اُن کی دھاڑس بندھائے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور ِ اقتدار میں بہت سے ناروا کام، جیسا کہ مخالفین پر تشدد اور قیدوبند کی صعوبتیں، کیے تھے لیکن وہ ایک مقبول عوامی لیڈر تھے اور ان کے الفاظ لاکھوں افراد کو متاثر کرتے تھے تاہم جب وہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کے سامنے پیش ہوئے تو اُس موقع کی دستیاب تصاویر دیکھ کر دل رحم سے بھر آتاہے۔ بھٹو سے غلطیاں سرزد ہوئی تھیں لیکن اُن پر چلنے والا مقدمہ غلط تھا کیونکہ اس کا محرک سیاسی تھا... ضیاالحق کا سر صرف اسی صورت میں سلامت رہ سکتا تھا جب بھٹو کا سر زیر ِ زمین چلا جائے۔ اس لئے اُس مقدمے کا بھٹو کی غلطیوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اقتدار میں نوازشریف سے بھی غلطیاں سرزد ہوئی تھیں لیکن طیارہ اغوا کیس بالکل ایک انتقامی کارروائی تھی، اس کا انصاف کے تقاضوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اسی طرح پرویز مشرف نے آئین اور قانون شکنی کا ارتکاب ہی نہیں کیا تھا بلکہ اُن کے دور میں سیاسی قیدیوں، جیسا کہ پرویز رشید اور رانا ثنا اﷲ کے ساتھ انسانیت سوز سلوک بھی کیا گیا تھا لیکن ان پر چلایا جانے والا موجودہ مقدمہ غلط ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ان کے افعال کے صرف ایک پہلو...تین نومبر2007 کی ایمرجنسی... کا احاطہ کرتا ہے،جبکہ ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے گناہ سے صرف ِ نظر کرتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس گناہ میں بہت سے جنرلوں اور ججوں کا دامن بھی آلودہ ہے۔ کیا یہ مقدمہ بھی ال کیپون جسٹس (Al Capone justice) کی یاد دلاتا محسوس ہوتا ہے(ال کیپون شکاگو کا جرائم پیشہ شخص تھا لیکن اُس پر جب مقدمہ چلا تو وہ لوٹ مار، منشیات فروشی یا بھتہ خوری یا قتل کی وارداتوں کا نہ تھا بلکہ ٹیکس چوری کا تھا )۔ بھٹو اپنے زوال کے بعد علامتی طور پر ایک طاقتور شخصیت بن کر ابھرے لیکن مشرف کا زوال ایسی تصوراتی جہت نہیں رکھتا ہے۔ ان کے لندن میں موجود وکلاء نے غیر ملکی طاقتوں جیسا کہ امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب، سے اپیل کی ہے کہ وہ مشرف، جنھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی معاونت کی تھی، کی مدد کے لئے مداخلت کریں۔ یہ افسوسناک اپیل سن کر مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ اس سے پہلے بھٹو کے بیٹوں نے ان کی جان بچانے کے لئےغیر ملکی طاقتوں سے اپیل کی تھی لیکن انھوں نے کچھ نہ کیا چنانچہ مشرف کے وکلاء کی طرف سے کی جانے والی اپیل کا انجام بھی ایسا ہی ہو گا۔ اس کے برعکس نواز شریف زیادہ ہوشیار اور ذی فہم نکلے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے تھے کہ اکڑ دکھانے کے بجائے خفیہ طور پر بات چیت کرنا زیادہ سود مند ہوتا ہے۔ جب وہ سعودی عرب میں رہ کرجی بھر کر عمرے کرچکے تو اُنھوں نے مشرف کے قریبی ساتھی اور چکوال کے اسلحہ ڈیلر بریگیڈیئر نیاز کے ذریعے مشرف کو قائل کرلیا کہ وہ اُنہیں لندن جانے کی اجازت دے دیں۔ یہ اجازت دلانے میں بریگیڈیئر نیاز نے اہم کردار ادا کیا تھا تاہم لندن جانے سے پہلے نواز شریف کو وعدہ کرنا پڑا کہ وہ سیاست میں حصہ نہیں لیں گے... تاہم یہ وعدہ جتنی جلدی میں کیا گیا، اتنی ہی جلدی توڑ دیا گیا۔اس سے ڈیگال کا قول یاد آتا ہے...’’وعدے گلابوں اور نوجوان لڑکیوں کی طرح ہوتے ہیں، ان کی تازگی چنانچہ افادیت، ایک خاص حد تک ہی برقرار رہ سکتی ہے‘‘۔ جب شریف برادران پاکستان لوٹے تو اُنھوں نے ببانگِ دہل بیان دیا کہ اُنھوں نے دس سال تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ اس پر پرویز مشرف نے سعودی حکمرانوں سے شکایت کی۔ اس پر سعودی انٹیلی جنس چیف شہزادہ مقرن پاکستان آئے اور ایک غیر معمولی پریس کانفرنس میں کیا گیا وہ معاہدہ دکھا دیا۔ اس پر شریف برادران نے بلاتامل کہا کہ وہ معاہدہ دس سال کا نہیں پانچ سال کا تھا۔ سننے والے اس بیان پر چکرا گئے ہوں تو اور بات ہے،شریف برادران کی پیشانی ہر گز شکن آلود نہ ہوئی یقیناً سیاست کرنا کمزور دل افراد کا کام نہیں ہے۔بہرحال مشرف نے واپس آکر بہت بڑا خطرہ مول لیا تھا۔ میں نے ان کے کسی وفادار ساتھی کو یہ کہتے سنا تھا کہ قبرص میں اُن کو کسی صوفی نے نوید سنائی تھی کہ قدرت نے اُن سے ابھی بہت سے کام لینے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس ٹرائل کے دوران وہ اُس صوفی کے الفاظ پر غور کریں گے۔ جہاں تک گزشتہ پانچ سال کے دوران روا رکھے جانے والے محدود انصاف کا تعلق ہے تو ان میں زیادہ تر پی پی پی کے رہنما پر زد پڑی تھی۔ دوسری طرف بہت سے معاملات، جیسا کہ اصغر خان کیس، سے صرف ِ نظر بھی کیا گیا۔

مسٹر حبیب، جو اس سے پہلے کہا کرتے تھے کہ اُنہوں نے شریف برادران کو رقم دی تھی، نے اب سپریم کورٹ کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ اُن کے الفاظ کو غلط سمجھا گیا، اُنھوں نے دراصل کسی اور شریف کو رقم دی تھی اور شریف کا سرائے عالمگیر کے نزدیک دریائے جہلم پر ٹیولپ ہوٹل ہے۔ امید ہے کہ ان کا یہ بیان سچ کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں