پاکستان :سیاسی خلا

ڈاکٹر منظور اعجاز
ڈاکٹر منظور اعجاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

پاکستان کی سیاست میں بہت بڑا خلا ہے جس کو موجودہ سیاسی پارٹیاں پُر کرنے سے قاصر ہیں ۔اس خلا کے پیدا ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں ابھرتی ہوئی معاشی اور سماجی صورت حال بھی ہے اور موجود سیاسی پارٹیوں کا محدود نقطہ نظر اور ایجنڈا بھی ہے۔ ملک کے اکثر حصوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بڑھتی ہوئی غیر مقبولیت، عمران خان کا محدود نظریہ اور ایجنڈا اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی روایتی قدامت پرستی کی طرف بار بار لوٹنا سیاسی خلا کو وسیع تر کر رہا ہے۔اس سیاسی خلا میں کسی بھی نئی پارٹی کا یکدم ابھر کر آنا عین ممکن ہے۔ غالب امکان ہے کہ آئندہ چند سالوں میں ایسا ضرور ہوگا کیونکہ ہر خلا کو کسی نہ کسی طرح سے پُر ہونا ہوتا ہے۔

اسی نوع کا خلا انیس سو ساٹھ کی دہائی میں پیدا ہوا تھا جسے پیپلز پارٹی نے بہت تیزی سے پُر کیا تھا۔ 1967ء سے پہلے یہ تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا کہ کوئی پارٹی آناً فاناً ملک پر چھا جائے گی اور الیکشنوں میں روایتی پارٹیوں کا بستر گول کردے گی لیکن ایسا ہوا اور پیپلز پارٹی روشن خیال اور معاشی و سماجی پہلو سے پسے ہوئے عوام کی نمائندہ جماعت بن کر سامنے آئی۔ پیپلز پارٹی کا تصور ایک آزاد خیال عوام دوست پارٹی کا تھا جو کہ کافی عرصے تک برقرار رہا۔ پیپلز پارٹی کی عوام میں جڑیں اتنی گہری تھیں کہ ضیاء الحق کے ہتھکنڈے اسے ختم نہ کر سکےاور اس کے بعد بھی اسٹیبلشمنٹ کی کوئی چال بھی اسے ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہونے کے اعزاز سے محروم نہ کر سکی۔

پیپلز پارٹی کا زوال نوّے کی دہائی سے غیر محسوس طریقے سے شروع ہو چکا تھا۔ اس کی دو وجوہات تھیں۔ اول تو پاکستان کی معیشت جس تیزی سے تبدیل ہو رہی تھی اس میں پیپلز پارٹی کی روایتی ترقی پسندی غیر موثر تھی۔ اب روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ اتنا دلکش نہیں تھا جتنا ستّر کی دہائی میں تھا۔ دوم پیپلز پارٹی کی نوّے کی حکومتی کارکردگی بھی کوئی قابل رشک نہیں تھی۔ دو ہزار سات کے الیکشن تک آتے آتے پیپلزپارٹی اپنے پرانے گڑھ مرکزی پنجاب میں کافی حد تک بے اثر ہو چکی تھی۔ اس پر مستزاد یہ کہ پیپلز پارٹی نے آزاد عدلیہ کی تحریک کی حمایت نہ کرتے ہوئے مرکزی پنجاب پاکستان مسلم لیگ کے حوالے کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں باوجود محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بہت اچھے نتائج حاصل نہ کر سکی۔ اگرچہ وہ حکومت بنانے کے قابل تو ہو گئی لیکن یہ رجحان واضح ہو گیا کہ پنجاب میں اس کی حیثیت کافی حد تک ختم ہو چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کی آخری حکومت کی کارکردگی بھی انتہائی ناقص تھی۔ پیپلز پارٹی کی غیر مقبولیت اور ملک میں بدلتے ہوئے معاشی اور سماجی تناظر کی بنا پر سیاسی خلا کا پیدا ہونا لازم تھا۔ اس خلا کو مسلم لیگ (ن) ایک حد سے زیادہ پُر نہیں کر سکتی تھی کیونکہ اس کا تصور ایک روایتی قدامت پرست پارٹی کا تھا۔ اس خلا میں عمران خان یکدم ابھر کر سامنے آئے اور ملک کے طول و عرض میں اس کو ایک مصلح کے طور پر لیا گیا۔

عمران خان کی تحریک انصاف نوجوانوں اور عوام کے ان حلقوں میں مقبول ہوئی جو سمجھتے تھے کہ پاکستانی ریاست کی طرز نو پر تعمیر لازم ہے۔ عمران خان کے حامیوں کی اکثریت ان کے ڈرون حملوں کے خلاف نعرہ بازی سے متاثر نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے حامی یہ سمجھتے تھے کہ ان کا امریکہ کے خلاف جنون ان کے ایجنڈے میں مرکزی حیثیت نہیں رکھتا۔ ان کے تصور میں عمران خان ایک جدید ریاست کے تقاضے پورے کرنے والے غیر روایتی سیاستدان تھے۔

لیکن جب عملی طور پر عمران خان کے گرد روایتی سیاستدان جمع ہونا شروع ہوئے اور الیکشن کے ٹکٹوں کو روایتی انداز سے تقسیم کیا گیا تو ان کے بہت سے حامی ان سے مایوس ہونا شروع ہو گئے۔ عمران خان کی خیبر پختونخوا حکومت کی کار کردگی کوئی قابل تحسین نہیں رہی۔ غالباً خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کی خراب کارکردگی کی طرف سے توجہ ہٹانے کیلئے انہوں نے ڈرون حملوں کے خلاف دھرنے دینے شروع کئے اور نیٹو سپلائی بند کرکے اپنا باغیانہ امیج قائم رکھنے کی کوشش کی۔ یہ ان کی بھول تھی کیونکہ ان کے حامیوں نے انہیں صرف ڈرون حملے بند کرانے کیلئے ووٹ نہیں دئیے تھے بلکہ وہ ان سے حکومتی اصلاح کی توقع کر رہے تھے جس میں وہ کافی حد تک ناکام نظر آئے۔ ان کی خیبرپختونخوا میں حکومت دوسرے صوبوں سے بہتر ثابت نہیں ہوئی لہٰذا ان کی عوامی مقبولیت بہت حد تک ختم نہیں تو کم ضرور ہو چکی ہے۔ غرضیکہ جس سیاسی خلا کو عمران خان نے پُر کرنے کی کوشش کی تھی وہ پُر نہ ہو سکا۔

قرائن سے ظاہر ہے کہ مسلم لیگ (ن) اکثریتی پارٹی ہوتے ہوئے بھی اس خلا کو پُر نہیں کر سکتی کیونکہ وہ روایتی قدامت پرستی سے اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتی۔ پارٹی میں تاثر یہ ہے کہ اسے عمران خان کی رجعت پرست سیاست سے خطرہ ہے، اسی لئے وزیر داخلہ چوہدری نثار ڈرون حملوں سے لے کر عبدالقادر ملا کی پھانسی تک کے معاملات میں عمران خان سے بڑھ کر دائیں بازو کے دعویدار بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید متوازن اور معتدل سوچ کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کو روشن خیال پارٹی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن ابھی تک مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف سے مایوس نئی سوچ رکھنے والے حلقوں کے لئے پر کشش نہیں بن سکی۔

حقیقت یہ ہے کہ دائیں بازو کے خیالات رکھنے والے حلقوں کیلئے سیاسی پارٹیوں کی بھرمار ہے۔ اگر کمی ہے تو آزاد اور روشن خیال حلقوں کی ترجمانی کی۔ پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر بائیں بازو کی پارٹیاں ان کی نمائندگی کرتی تھیں لیکن وہ بری حکومتی کارکردگی کے باعث ان کا اعتماد کھو چکی ہیں جس کے باعث سیاسی افق پر بہت بڑا خلا ہے۔ عمران خان تو اس خلا کو نہ پُر کر پائے لہٰذا اب دیکھنا ہے کہ یہ خلا کس طرح سے پُر ہوتا ہے۔ اس خلا میں پیپلزپارٹی یا تحریک انصاف جیسی کسی نئی جماعت کے ابھرنے کے امکانات کافی قوی ہیں۔ یہ بھی زیر نظر رہے کہ اس طرح کی پارٹیاں دنوں اور مہینوں میں آندھی کی طرح چھا جاتی ہیں۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں