بزنس

جاوید چودھری
جاوید چودھری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

میاں نواز شریف جولائی 1993ء میں سلیمان ڈیمرل سے ملے‘ چوہدری نثار علی خان اور شاہد خاقان عباسی بھی ان کے ساتھ تھے‘ ترکی میں ای سی او کی کانفرنس تھی‘ میاں صاحب کانفرنس میں شرکت کے لیے استنبول گئے تھے‘ یہ پاکستان سے آئی ایس آئی اور وزارت خارجہ کی بریفنگ لے کر ترکی گئے تھے‘ یہ دونوں ادارے مسئلہ کشمیر پر گفتگو کو اہم سمجھتے تھے چنانچہ میاں صاحب کشمیر پر اعداد و شمار کی گٹھڑی باندھ کر ترکی پہنچ گئے‘ میاں صاحب وفد کے ساتھ ترک صدر کے دفتر پہنچے‘ گو دفتر بہت چھوٹا تھا‘ وہاں بمشکل پانچ چھ لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی‘ چوہدری نثار علی خان اور شاہد خاقان عباسی وزیراعظم کے ساتھ دفتر میں داخل ہو گئے جب کہ باقی حضرات کوریڈور میں کھڑے ہو گئے‘ میاں نواز شریف نے سلام دعا کے بعد پاکستان اور ترکی کی اسلامی روایات پر بات کی‘ دونوں ممالک کے درمیان موجود مشترکات پر بات کی اورپھر مسئلہ کشمیر پر گفتگو شروع کر دی۔

صدرسلیمان ڈیمرل تھوڑی دیر تک یہ گفتگو برداشت کرتے رہے‘ پھر انھوں نے بے چینی سے پہلو بدلنا شروع کر دیے اوربات جب ان کی برداشت سے باہر ہو گئی تو انھوں نے بڑے احترام سے کہا ’’ جناب وزیراعظم! آپ مسلمان ہیں‘ میں بھی مسلمان ہوں‘ ہم دونوں بھائی بھائی ہیں اور پاکستان اور ترکی کے درمیان صدیوں کے رشتے بھی موجود ہیں‘ یہ میں بھی جانتا ہوں اور آپ بھی جانتے ہیں‘ ہمیں اس پر وقت ضایع نہیں کرنا چاہیے‘ آپ بتائیے آپ کے پاس ترکی کو بیچنے کے لیے کیا ہے اور ہم آپ کو بتاتے ہیں ہم آپ کو کیا فروخت کر سکتے ہیں‘ ہمارے تعلقات اس بزنس سے آگے بڑھیں گے‘‘ میاں نواز شریف اس ردعمل کے لیے تیار نہیں تھے لہٰذا یہ ملاقات ختم ہوگئی‘ مجھے 2008ء میں چوہدری نثار نے بتایا’’ ہم جولائی 1993 میں ترکی گئے تو ترکی کے حالات پاکستان سے زیادہ خراب تھے‘ ترکی میں کساد بازاری بھی تھی‘ غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ جرائم اور منشیات بھی‘ لوگ شام کے بعد استنبول شہر میں نکلنے سے گھبراتے تھے‘ ترک فوج نے سیاسی عمل کو بوٹوں کے نیچے دبا رکھا تھا اور ترک معاشرہ بھی بند اور مفلوج تھا لیکن ٹھیک دس سال بعد ترکی دنیا کے خوش حال ترین‘ پرامن ترین اور تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بن چکا تھا۔

جب کہ ہم لوگ پہلے سے زیادہ نیچے چلے گئے‘ میں نے شاہد خاقان عباسی سے 2012ء میں اس ملاقات کے بارے میں پوچھا‘ عباسی صاحب نے بھی نہ صرف اس ملاقات کی تصدیق کی بلکہ یہ بھی بتایا’’ ترک قوم ہم سے زیادہ فوکسڈ‘ غیر جذباتی اور بزنس فرینڈلی تھی‘ یہ لوگ بیس سال قبل پاکستان جیسے ملکوں سے کہہ رہے تھے‘ آپ کے پاس بزنس ہے تو آئیے ہم سے ملاقات کیجیے ورنہ دوسری صورت میں آپ ہمارے بھائی ہیں اور ہم آپ کے بھائی اور بس‘‘۔

یہ سوچ ماڈرن ترکی کی ترقی کی بنیاد ہے‘ ترکی پچھلے 20 برسوں سے اس زاویے سے سوچ رہا ہے جس سے جدید ترقی یافتہ قومیں سوچتی ہیں‘ ہم لوگ اسے ابھرتا ہوا اسلامی ملک سمجھتے ہیں جب کہ ترکی خود کو صرف ترقی یافتہ اور ماڈرن ثابت کرتا ہے‘ ہم ہمیشہ طیب اردگان اور عبداللہ گل کی اہلیہ کے اسکارف‘ ترکی میں اسلامی روایات کی واپسی‘ نئی مسجدوں کی تعمیر‘ شراب پر پابندی‘ مذہبی گفتگو کی آزادی اور امریکا اور اسرائیل کے خلاف ترک لیڈر شپ کے خیالات کی مثال دیتے ہیں اور ان کی بنیاد پر ترکی کو آج کی اسلامی ریاست اور طیب اردگان اور عبداللہ گل کو ماڈرن صلاح الدین ایوبی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں‘ یہ طیب اردگان ہی تھے جنہوں نے 2005ء میں اسرائیل کا دورہ بھی کیا تھا اور اسرائیل کے صدر کو ترکی کے دورے کی دعوت بھی دی تھی‘ اسرائیلی صدر شمعون پیریزنومبر2007ء میں ترکی آئے تو ترکی کی موجودہ قیادت نے نہ صرف ان کا فقید المثال استقبال کیا بلکہ ان سے ترک پارلیمنٹ سے خطاب بھی کروایا‘ یوں شمعون پیریز اسرائیل کے پہلے ایسے صدر بن گئے جنہیں کسی اسلامی ملک کی پارلیمنٹ میں قدم رکھنے اور اس سے خطاب کا اعزاز حاصل ہوا اور ترکی دنیا کا پہلا اسلامی ملک ہو گیا جس نے کسی اسرائیلی صدر کو اتنی اہمیت دی‘ آج بھی ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تجارتی‘ صنعتی اور سیاحتی تعلقات قائم ہیں۔

ہم ترکی میں اسلامی روایات کی بحالی کے گن گاتے ہوئے یہ بھی بھول جاتے ہیں یہ اسلام پسند طیب اردگان اور عبداللہ گل ہی کا دور ہے جس میں ترکی میں عشق ممنوع اور میرا سلطان جیسے فحش ڈرامے بن رہے ہیں اور یہ ڈرامے نہ صرف ترکی میں دکھائے جاتے ہیں بلکہ پاکستان کی ثقافت کو بھی خراب کر رہے ہیں‘ آپ خود سوچئے اگر طیب اردگان اور عبداللہ گل آج کے سلطان صلاح الدین ایوبی ہیں تو یہ پھر اسرائیل کے ساتھ برادرانہ تعلقات کیوں استوار کر رہے ہیں اور یہ میرا سلطان اور عشق ممنوع جیسے غیر شرعی ڈراموں کی اجازت کیوں دے رہے ہیں؟ بات صرف اتنی ہے ہم ترکی میں ریاست مدینہ تلاش کر رہے ہیں جب کہ ترکی صرف اور صرف ایک ترقی یافتہ ماڈرن ملک ہے‘ ہم اسے زیادہ سے زیادہ ترقی یافتہ‘ ماڈرن اسلامی ملک کہہ سکتے ہیں‘ ترک بہت سیدھے‘ اپنے خیالات میں واضح اور بزنس فرینڈلی لوگ ہیں‘ یہ جان چکے ہیں یہ نیل کے ساحلوں سے کاشغر کی خاک تک اسلامی دنیا کی ٹھیکیداری نہیں کر سکیں گے‘ یہ سمجھ گئے ہیں ترقی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‘ وہاں صرف مذہبی آزادی ہوتی ہے‘ آپ حجاب لینا چاہتی ہیں‘ آپ ضرور لیں لیکن آپ کو بے پردہ عورتوں کا مذاق اڑانے کا حق حاصل نہیں ہو گا‘ آپ اسی طرح اگر ننگے سر پھرنا چاہتی ہیں تو آپ ضرور پھریں مگر آپ کو حجاب والی عورتوں کو برا بھلا کہنے کی اجازت نہیں ہو گی‘ آپ مسجد جانا چاہتے ہیں‘ مساجد حاضر ہیں‘ آپ چرچ یا مندر میں جانا چاہتے ہیں یہ بھی موجود ہیں اور آپ کو وہاں عبادت کرنے سے بھی کوئی نہیں روکے گا اور آپ اگر کلبوں‘ ریستورانوں اور بارز میں وقت گزارنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس کی بھی پوری آزادی ہے اور ترکی اس سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

آپ ترکی جائیں تو آپ کو پورے ملک میں یہ ماڈرن کلچر ملے گا‘ آپ کو استنبول کے سلطان احمد کے علاقے میں اسلامی روایات ملیں گی لیکن آپ کو تاقسیم اسکوائر میں یورپ اور امریکا کی معاشرت نظر آئے گی‘ ازمیر اور انطالیہ کے ساحل گرمیوں میں یورپی پرندوں کی پناہ گاہ بن جاتے ہیں‘ ازمیر میں جون جولائی کے مہینوں میں ہر دو منٹ بعد ایک فلائٹ اترتی ہے اور اس سے یورپ کے نیم برہنہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اترتی ہیں اور یہ ازمیر کے ساحلوں پر وہ سب کچھ کرتے ہیں جس کے لیے یورپ اور امریکا بدنام ہیں اور اس سب کچھ کی اجازت اس طیب اردگان اور عبداللہ گل نے دے رکھی ہے جنہیں ہم آج کل سلطان صلاح الدین ایوبی سمجھتے ہیں‘ ترکی میں نماز اور شراب دونوں چل رہی ہیں اور طیب اردگان کی حکومت دونوں کی ضامن ہے۔

یہ درست ہے طیب اردگان ترکی میں گورننس‘ میرٹ‘ ایمانداری اور لاء اینڈ آرڈر کے چیمپیئن ہیں‘ انھوں نے ایشیا کے مرد بیمار کو نہ صرف اپنے قدموں پر کھڑا کیا بلکہ یہ اسے میرا تھن ریس میں بھی لے آئے لیکن آپ یہ بھی ذہن میں رکھئے‘ یہ سب کچھ کرتے وقت طیب اردگان کے دماغ میں اسلام نہیں تھا‘ یہ صرف ترقی‘ امن اور خوشحالی چاہتے تھے چنانچہ انھوں نے ہر وہ کام کیا جس سے ملک میں خوشحالی‘ امن اور ترقی آ سکے اور اس کے لیے انھیں خود اسرائیل جانا پڑا‘ اسرائیلی صدر کو ترکی بلانا پڑا‘ ان سے پارلیمنٹ میں خطاب کرانا پڑا یا پھر انھیں عشق ممنوع اور میرا سلطان کی اجازت دینا پڑی یا پھر اپنے ساحلوں کو یورپ کے لیے سستی تفریح گاہ بنانا پڑا ‘یہ کر گزرے‘ انھوں نے کسی کی پرواہ نہیں کی‘ ترکی کو بزنس چاہیے‘ بھائی نہیں جب کہ ہمارے قائدین طیب اردگان کو اپنا بھائی بنانے میں مصروف ہیں اور ہم عوام ترکی کے دل میں موجود پاکستانیوں کی محبت ٹٹول رہے ہیں‘ ہم آج بھی اس زعم کا شکار ہیں کہ ہم نے 1922ء میں ترک خلافت کے خاتمے پر’’ مسلمان ہو تو ہندوستان چھوڑ دو‘‘ کی جو تحریک چلائی وہ آج تک ترک حافظے میں موجود ہے اور ترکی آج بھی ہمیں اس قربانی کا دودھ پلاتا رہے گا‘ ہم یہ بھول جاتے ہیں‘ یہ دنیا بزنس کی دنیا ہے‘ آپ کے پاس بزنس اور سرمایہ ہے تو پوری دنیا آپ کو سر پر بٹھائے گی لیکن آپ کی جیبیں اگر خالی ہیں یا آپ کسی سرمایہ دار کو خوشحالی کا لقمہ نہیں کھلا سکتے تو آپ خواہ اس کے سگے بھائی بھی ہوں تو بھی یہ آپ کو نہیں پہچانے گا‘ ترکی کو اسرائیل میں بزنس نظر آتا ہے تو یہ اس کے لیے اپنی بانہیں کھول دیتا ہے‘ اسے پاکستان میں اچھی مارکیٹ نظر آتی ہے تو ترک لاہور اور اسلام آباد آ جاتے ہیں‘ ہم جس دن انھیں بزنس نہیں دیں گے یا بھائی کا حصہ مانگ لیں گے‘ یہ ہمیں خدا حافظ کہہ دے گا‘ یہ ہمیں بھول جائے گا۔آپ ترکی کے ساتھ جیسا بھی تعلق رکھنا چاہیں آپ رکھیں لیکن ساتھ ہی یہ یاد رکھیں ’’ بزنس از بزنس‘‘ اور ترکی آج اس فلسفے کی پٹڑی پر دوڑ رہا ہے‘ یہ کسی کا بھائی نہیں ہے۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپرپس"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں