.

شرم تم کو مگر نہیں آتی

طارق بٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمارے پیارے صحافی ساتھی عمر چیمہ نے پچھلے سال بھی بڑی عرق ریزی کر کے وزراء اور ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کے ٹیکس کے معاملات کو ایکسپوز کیا تھا۔ بڑے بڑے نام ظاہر کئے گئے جنہوں نے ایک پھوٹی کوڑی بھی ٹیکس نہیں دیا تھا۔ یہاں تک کہ این ٹی این (نیشنل ٹیکس نمبر)تک نہیں لیا تھا۔ کبھی انہیں خیال ہی نہیں آیا کہ ٹیکس کے گوشوارے داخل کرنا بھی لازمی ہے اور قانونی ذمہ داری بھی ہے جسے پورا نہ کرنے سے ان کی سخت گرفت ہو سکتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی اسمبلی کی سیٹیں بھی گنوا سکتے ہیں۔ پچھلے سال بھی ان ٹیکس نادہندگان پرکچھ دنوں تک ایک عوامی بحث تو ضرور چلی مگر کچھ نہیں ہوا۔

ہر متعلقہ ادارے نے نعرہ بازی تو کی مگر بالآخر بے بس ہی ثابت ہوا کیونکہ کسی بھی ٹیکس نادہندہ ایم پی سے پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔ کتنے شرم کی بات ہے، جب قانون سازوں میں ہی ٹیکس کلچر نہیں ہو گا تو دوسروں کی تو بات ہی چھوڑیں۔اگر عمر چیمہ کی کاوش کو بنیاد بنا کر صرف محدود چند بڑے بڑے ٹیکس چوروں کی گرفت کی جاتی تو شاید اس سال صورتحال کافی مختلف ہوتی۔ امریکہ اور یورپ میں سب قانون کی پابندی اس لئے بھی کرتے ہیں کہ کوئی بھی اس سے نہیں بچ سکتا۔ اگر وہاں کسی کو صرف ٹیکس چوری کا نوٹس ہی آجائے تو اس کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں مگر ہمارے ہاں تو ڈھٹائی سے ٹیکس چوری کا دفاع کیا جاتا ہے تاہم ہمارے دوست کی کوشش لا حاصل نہیں رہی کیونکہ اس سے لوگوں میں آگاہی پیدا ہوئی ہے اورانہیں معلوم ہوا ہے کہ ان کے ’’لیڈر‘‘ کتنے ’’ایماندار اور سچے‘‘ ہیں اور ان کے بلند بانگ نعروں پر کتنا اعتبار کیا جانا چاہئے۔

عمر چیمہ کی رپورٹ کے مطابق اس سال بھی 47فیصد سیاستدانوں نے انکم ٹیکس نہیں دیا حالانکہ ہر رکن اسمبلی عہد نامہ جمع کراتاہے کہ غلط معلومات پر اس کاانتخاب کالعدم قراردیا جاسکتا ہے۔ان حضرات میں سے 12فیصد کے پاس این ٹی این ہی نہیں ہے۔ ان ٹیکس نادہندہ ارکان کا تعلق تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے ہے جن میں ن لیگ (54) ،پاکستان تحریک انصاف (19) ٗپاکستان پیپلزپارٹی (13) ٗجمعیت علمائے اسلام ۔ف(7) ٗمتحدہ قومی موومنٹ (5) ٗ پختونخوا عوامی ملی پارٹی اور جماعت اسلامی کے تین ٗ تین ارکان شامل ہیں ۔بہت سے ارکان اسمبلی کے ٹیکس گوشواروں میں بڑا تضاد ہے۔انہوں نے ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو)میں اپنی انکم کچھ ظاہر کی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان(ای سی پی) کو کچھ اور بتائی۔ ان بڑے بڑے ناموں میں وزیراعظم نوازشریف،ٗ عمران خان، مولانا فضل الرحمن، ٗ ڈاکٹر فاروق ستار، ٗ شاہ محمود قریشی ،ٗ نبیل گبول،ٗ مخدوم امین فہیم ،ٗ چودھری پرویزالہٰی،ٗ عذرا پیچوہو اور نفیسہ شاہ بھی شامل ہیں حالانکہ ان سے تو یہ توقع کی جاتی ہے کہ یہ نہ صرف ممبران اسمبلی بلکہ عوام کے لئے بھی ایک نمونہ بنیں گے۔بہت سے ارکان سیخ پا ہیں کہ انہیں غلط طور پر اس رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے مگر وہ اپنا کیس دستایزی بنیاد پر ثابت نہیں کر سکے۔ ہمارے دوست کی رپورٹ ہوائی نہیں ہے بلکہ یہ صرف اور صرف ارکان اسمبلی کی اپنی ہی دستاویز جو انہوں نے ایف بی آر اور ای سی پی کو دی ہیں پر تیار کی گئی ہے بلکہ انہوں نے تو اہم سیاستدانوں جو یا تو خود یا ان کے حمایتی چھوٹے چھوٹے اعتراضات پر بھی بڑی بڑی چیخیں مارتے ہیں اور اعتراض کرنے والوں کی سخت الفاظ میں لعن طعن کرتے ہیں بڑی احتیاط سے کام لیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ لوگ ہر صورت شور مچائیں گے۔

سیاستدانوں کا کڑا احتساب اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ وہی پاکستان میں جمہوریت کی نمائندگی کرتے ہیں اور انہی سے ملک کا اصل امیج ظاہر ہوتا ہے،وہی اہم پالیسیاں بناتے ہیں اگر وہ خود ٹیکس صحیح ادا نہیں کریں گے تو عام لوگوں کو وہ ٹیکس ادا کرنے کا کیسے کہ سکتے ہیں۔ انہیں رول ماڈل بننا ہو گا۔ اس سال بھی ای سی پی نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ ارکان پارلیمان کے گوشواروں کی تحقیقات ازخود نہیں کر سکتا تاہم غلط بیانی پر نااہلی ٗ قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر کسی درخواست کے ای سی پی کو ایکشن لینا چاہئے اور کچھ ٹیکس نادہندگان کو سزا دے کر مثال بنانا چاہئے تاکہ یہ پیغام سب کو جائے کہ اب معافی نہیں ہو گی۔ کچھ ٹیکس نادہندہ سیاستدانوں کا واویلا اپنی جگہ اگر متعلقہ ادارے صرف ان حضرات کے طرز زندگی کو غور سے دیکھ لیں تو انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ وہ کتنا کم ٹیکس ادا کرتے ہیں یابالکل ادا ہی نہیں کرتے۔ان میں سے شاید ہی کوئی ہو جس کا ماہانہ خرچہ کئی لاکھ میں نہ ہو، جس کے پاس کروڑوں کی گاڑیوں کا فلیٹ نہ ہو ٗ جن کے پاس ملازمین کی ایک لمبی قطارنہ لگی ہو ٗجن کے پاس بڑے بڑے قیمتی مکانات اور دوسری جائیدادیں نہ ہوں اور جن کے بڑے بڑے کاروبار نہ ہوں۔ جب ٹیکس دینے کی بات آتی ہے تو لوگوں کی اکثریت بالکل سچ نہیں بولتی۔ سیاستدان یہ دعویٰ تو کرتے ہیں کہ وہ عوام کی حالت بہتر بنائیں گے مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے جب امیر طبقہ بالکل ٹیکس نہ دے اور اگر ٹیکس دے بھی تو بہت ہی کم۔ بجائے اس کے کہ ہم ایک صحافی کی تحقیقاتی رپورٹ کو اپنا اپنا دامن صاف کرنے کے لئے مسترد کر دیں اس پر گہرا غور و خوض کرنا چاہئے۔ حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اپنے ٹیکس نادہندگان سے پوچھ گچھ کریں اور انہیں یہ معاملات درست کرنے کاحکم دیں۔ہٹ دھرمی سے کام نہیں لیا جانا چاہئے اگر غلطی ہوئی ہے تو اسے مان لینا چاہئے۔قانون کی نظر میں کسی کو ٹیکس ادائیگی سے استثنیٰ حاصل نہیں۔

یہ پاکستان کے لئے بہت اچھی خبر ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے اس کو جی ایس پی پلس کا درجہ دینے کی منظوری دے دی ہے اس کی وجہ سے یکم جنوری 2014ء سے 2017ء تک پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی یورپی یونین کے 27ممالک کی منڈیوں میں ڈیوٹی فری رسائی ممکن ہو گئی ہے۔ اس سہولت کے تحت پاکستان کی ٹیکسٹائل کی 900اور دیگر شعبوں کی 1600مصنوعات یورپی یونین کو برآمد کی جاسکیں گی۔ یہ کامیابی یقیناً لگاتار حکومتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ جب ڈیوٹی فری ٹیکسٹائل برآمدات بڑھنے سے ہماری معیشت پر بھی یقیناً اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ دوسری شرائط کے علاوہ یورپین یونین کی ایک یہ بھی بڑی شرط تھی کہ پاکستان ان قیدیوں کو جنہیں عدالتوں نے سزائے موت دی ہے کو تختہ دار پر نہ لٹکائے۔اسی وجہ سے ہی 2008ء کے بعد کسی بھی سزائے موت یافتہ قیدی کو پھانسی نہیں دی گئی۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.