.

ایک کتاب جو پاکستان میں شائع نہ ہو سکی

رضا علی عابدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمارے دوست کرامت اﷲ غوری نے چار کم چالیس برس سفارت کاری میں گزارے ہیں۔ دنیا کے کتنے ملکوں میں وہ پاکستان کے سفیر بنا کر بھیجے گئے؟ یوں سمجھئے کہ آنکھیں کھولنے کے لئے جتنے کونے جھانکے جاتے ہیں، ان سے بھی زیادہ۔ ہر بار بھیجنے والے نے یہ ضرور کہا کہ اس کام کے لئے اس سے بہتر شخص نہیں ہو سکتا۔یوں تو کتنے ہی سرکردہ لوگ اس منصب پر فائز ہوئے اور سب ہی نے وقت اور حالات کے اتار چڑھاؤ کو قریب سے دیکھا لیکن اس سے بڑھ کر یہ کہ ان سفارت کاری کرنے والوں نے ہمارے رہنماؤں اور کار پردازوں کے شب و روز کے وہ لمحات بہت قریب سے دیکھے جو اکثر ہم عام لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہے۔

کرامت اﷲ غوری کو ان سب میں یہ برتری حاصل رہی کہ وہ سفارت کار سے پہلے قلم کار رہے اور سرکاری فرائض کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنا قلم دان ایک روز بھی بند نہیں کیا۔ انہوں نے ہمارے سرکردہ رہنماؤں اور فوجی حکمرانوں کی زندگیوں کے جن گوشوں میں جھانک کر دیکھا ہے ان کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا تھوڑا بہت علم ہم عام لوگوں کو پہلے سے تھا۔ اب یہ ہوا کہ ایک چشم دید گواہ نے ان پر تصدیق کی مہر لگا دی ہے۔ کرامت اﷲ غوری کی کہی ہوئی اکثر باتوں پر یقین آتا ہے لیکن بہت سی ایسی باتیں بھی ہیں جن کو پڑھ کر پاکستان میں کتاب چھاپنے والوں نے کانوں کو ہاتھ لگائے اور کہا کہ ان کی اس تصنیف سے پاک سرزمین آلودہ ہو گی۔ غوری صاحب نے معمول سے ہٹ کر ایک عمدہ کام کیا ہے۔ انہوں نے جو دیکھا یا محسوس کیا وہ نہ صرف صاف لکھ دیا بلکہ اس پر اپنا واضح فیصلہ بھی صادر کر دیا۔ یہ ان کی سفارت کاری کی تربیت سے ذرا ہٹ کر ہے ۔ یہی سبب ہے کہ کرامت اﷲ غوری کو وقت سے پہلے اپنی سفارت کاری سے دستبردار ہونا پڑا۔

اس دور کے حاکمِ وقت کا ذہن جتنا پختہ تھا، کان اتنے ہی کچّے تھے پھر یہ کہ ہمارے سفیرِ محترم بعض لوگوں کی طبیعت پر گراں گزرتے تھے کیونکہ ان کے شین قاف صاف تھے۔ ہر چند کے وہ فوجی حکمراں پرویز مشرف کے مدّاح نہ تھے، دلّی میں ان کے محلّے دار ضرور تھے۔ پرویز مشرف سے خود انہوں نے کہا کہ آپ کا لب و لہجہ دلّی کا نہیں رہا تو جواب ملا کہ فوج میں رہ کر دہن بگڑا ہے۔کتاب میں اس طرح کے مکالمے جا بجا ملتے ہیں۔ کتاب کا نام بارِ شناسائی ہے، وہی بار جس کو بقول میر یہ ناتواں اٹھا لایا۔ کتاب کا ضمنی نام سارے معاملے کو واضح کرتا ہے اور وہ ہے کچھ لوگ، کچھ یادیں، کچھ تذکرے ان شخصیات کے جنہوں نے پاکستان کی تاریخ بنائی اور بگاڑی۔

کتاب کا آغاز جنرل ضیا الحق کے تذکرے سے ہوتا ہے جن کے بارے میں مصنف کا فیصلہ صاف ہے ’وہ بلاشبہ ایک انتہائی متنازع شخصیت تھے اور رہیں گے لیکن ایک حقیقت جس کا میں آج بھی بلا خوف ِ تردید اعادہ اور توارد کر سکتا ہوں یہ ہے کہ میں نے 35 برس کی سفارتی اور سرکاری ملازمت میں ضیاالحق سے زیادہ نرم خو اور حلیم انسان نہیں دیکھا‘ اپنی اس تحریر میں غوری صاحب نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ زندگی کے صرف ان تجربوں کا ذکر کیا ہے جن میں وہ خود بھی شریک تھے۔ اس سے باہر کس نے حماقت یا صداقت کے کیسے کیسے مظاہرے کئے، مصنف نے اس کا احوال تاریخ پر چھوڑ دیا ہے۔کتاب کے اگلے باب کا عنوان ذوالفقار علی بھٹو ہیں جنہیں شروع ہی میں ایک معمّہ قرار دیا گیا ہے اور وہیں فیصلہ بھی لگی لپٹے بغیر سنا دیا گیا ہے جس میں حالات پر نگاہ رکھنے والوں کے لئے حیرت کی کوئی بات نہیں۔ لکھتے ہیں ’میں نے اپنی زندگی میں ذوالفقار علی بھٹو جیسا ذہین انسان نہیں دیکھا اور میں نے اپنی زندگی میں بھٹو جیسا مغرور اور متکبّر انسان بھی نہیں دیکھا‘۔اس کے بعد ایک واقعہ بیان کیا گیا کہ جب مصنف نے خوشامد کے لئے بے قرار قومی اسمبلی کے ایک رکن اور پارٹی کے معزز کارکن کو بھٹو صاحب کے سامنے جھکتے ہوئے اور ان کے قدموں میں سر رکھتے ہوئے دیکھا۔ اوپر سے یہ کہ بھٹو صاحب نے نہ اس شخص کو اس حرکت سے باز رکھنے کی کوشش کی اور نہ ہی اسے اپنے قدموں پر سے ہٹایا۔ کرامت اﷲ غوری کو اپنی اس بات پر اصرار ہے کہ بھٹو کی سحر بیانی کی تاثیر اور اعجاز اپنی جگہ لیکن کھرچ کر دیکھا جائے تو وہ سخت گیر وڈیرے اور منتقم جاگیردار تھے۔

اس کے بعد بے نظیر بھٹو کا تذکرہ ہے اور دوسرے افراد کی طرح غوری صاحب نے بے شمار واقعات بیان کر کے کتاب کو قابل مطالعہ بنایا ہے۔ بے نظیر کے ساتھ رہ کر ان پر کیا گزری اور انہوں نے کیا دیکھا اس کا نچوڑ یوں نکالا گیا ہے کہ ’ بے نظیر میں جاگیرداری کا خمیر ان کی اس کمزوری کا راز تھا کہ وہ اپنے گرد منڈلانے والے مطلبی جاہ پرستوں کو پرکھنے میں یا تو نادانستہ طور پر ناکام تھیں یا شاید جاگیرداری کلچر کے تقاضے اسی طرح پورے ہو سکتے تھے‘۔

اسی ضمن میں نوابزادہ نصراﷲ کا ذکر ہے جنہیں کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنا کر دنیا کے دورے کرائے گئے کہ وہ شہر شہر جاکر کشمیر کے بار ے میں پاکستان کا موقف اجاگر کریں۔ مغربی دنیا کے بڑے بڑے ہوٹلوں میں قیام کا لطف اٹھاتے ہوئے نوابزادہ صاحب جب لندن میں وارد ہوئے اور ایک پریس کانفرنس بلائی گئی ،میں بھی اس میں شریک تھا۔وہاں برطانیہ کے قومی پریس کے نامہ نگاروں کا کیا کام؟ وہاں تو ساری کارروائی اردو میں ہونی تھی لہٰذا دو یا تین پاکستانی رپورٹر اصلی تھے، باقی مجمع لگانے کے لئے وہ نامہ نگار بلا لئے گئے تھے جنہیں آج کل کی اصطلاح میں دو نمبر کہا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح مولانا فضل الرحمن کو اس سے بھی بڑی بین الاقوامی تعلقات کی کمیٹی کا سربراہ بناکر دنیا کی سیر پر بھیج دیا گیا۔ کرامت اﷲ غوری نے ان کے کویت آنے کے واقعات لکھے ہیں جو اگرچہ پہلے کہیں نہیں لکھے گئے لیکن ان کا حرف حرف اپنے سچّے ہونے کی شہادت دیتا ہے۔ غوری صاحب نے لکھا ہے کہ ’بے نظیر کو آدمیوں کی پرکھ نہیں تھی اور ان کی شخصیت کا یہی جھول پن بالآخر ان کے زوال اور ہر اعتبار سے ناگہانی موت کا سبب بنا جو بلاشبہ ہماری قومی تاریخ کا ایک بہت بڑا المیہ ہے‘۔

کتاب میں فاروق لغاری صاحب کا بھی ذکر ہے، عمران خان کے شفاخانے کے لئے عطیات جمع کرنے کی اس کارروائی کا احوال بھی ہے جو اوپر والوں کی برہمی کا سبب بنا۔اسی موقع پر اسلام آباد سے حکم آیا کہ کویت میں رہنے والے پاکستانی یہ شکایت کیوں کر رہے ہیں کہ تم صرف ایک مخصوص لسانی گروہ کی سرپرستی کرتے ہو۔ اس کے جواب میں مصنف نے لکھا ہے ’میں نے اس بات پر تاسف کا اظہار کیا کہ میری پاکستان کے ساتھ غیر مشروط وفاداری پر ایسے لوگوں کی اول فول کے نتیجے میں شبہ کیا جارہا ہے جن کو نہ پاکستان سے محبت ہے اور نہ ہی پاکستان کے فلسفۂ حیات سے۔

آگے چل کر محمد خان جونیجو کا احوال ہے جن کے بارے میں لکھتے ہیں کہ میری دانست میں وہ پاکستان کے سب سے معصوم اور بھولے سیاست دان تھے اور شاید ان کی اسی صفت کی وجہ سے ضیاالحق نے انہیں وزارت عظمیٰ سونپی کہ وہ ان کے لئے کوئی پریشانی نہیں پیدا کریں گے مگر پھر یہ ہوا کہ جونیجو صاحب نے درپردہ ہونے والی حرکتوں کو درست کرنے کے عزم کا کھلے عام اعلان کردیا۔ اُسی روز ان کا ہوائی جہاز مشرق بعید سے اسلام آباد آرہا تھا اور ابھی فضا ہی میں تھا کہ صدر مملکت نے انہیں نوکری سے نکال دیا۔ ان کے سارے عزائم دھرے کے دھرے رہ گئے۔ پاکستان میں بااختیار لوگوں کو فضا میں معلّق کرنے کا چلن خوب ہے۔

کتاب کےآخر میں میاں نواز شریف، جنرل پرویز مشرف، پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام ، حکیم محمد سعید اورفیض احمد فیض کے متعلق اپنی یادوں کو کاغذ پر آراستہ کیا گیا ہے اور بڑی خوبی سے کیا گیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.