.

مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش کا خونی سفر

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں وہاں کی جماعت اسلامی کے ’’شہید‘‘ عبدالقادر ملّا کو دی جانے والی سزائے موت کی بنیادی گواہی ایک پچپن سالہ خاتون کی تھی جس کے پورے خاندان کو 1971 میں ملّا عبدالقادر کی قیادت میں انتہا پسندوں نے ذبح کردیا تھا۔ اس وقت اس خاتون کی عمر 13 سال تھی۔ اس واردات کی قیادت کرنے پر عبدالقادرملّا کو ’’میرپورکے قصاب‘‘ کا نا م دیا گیا تھا اور یہی واردات اس کے پھانسی پر لٹکائے جانے کی وجہ بنی۔

بنگلہ دیش کے اخبار ’’ڈیلی سٹار‘‘ میں چھپنے والی اس واردات کی تفصیل کے مطابق اس تیرہ سالہ بچی کے والد حضرت علی لشکر ایک روشن خیال شخص تھے۔ الزام یہ ہے کہ اس جرم کی پاداش میں کالاپانی لین میرپور (بنگلہ دیش) میں واقعہ حضرت علی لشکر کےگھر پر مبینہ طور پر جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیموں کے شدت پسند عناصر نے حملہ کیا۔ ان کو گھر کے اندر سے گھسیٹ کر گلی میں لایا گیا جہاں خوفناک اذیتیں دے کر اسے قتل کردیا گیا۔ اس کی دو جوان بیٹیوں کے گلے کاٹے گئے۔ یہ منظر دیکھ کر جب اس کادو سالہ معصوم بچہ رونے لگا تو اسے ٹانگوں سے پکڑ کر فرش پر پٹخ کر مار دیاگیا۔ تیرہ سالہ بچی کو تیزدھار کے خنجر سے گھائل کیا گیا اور اسے مردہ سمجھ کر وہاں چھوڑ دیا گیا مگر وہ 42 سال بعد اس واردات کی چشم دید گواہی دینے کے لئے زندہ ہے۔

ایسے اور اس سے بھی زیادہ بھیانک واقعات 1971 کی خانہ جنگی اور فوجی آپریشن کے دوران وقوع پذیر ہوئے۔ جنگوں میں یہی کچھ تو ہوتا ہے۔ خونریزی، انسانیت سوزی اور قتل و غارت کے سوا جنگ کا مطلب ہی کیا ہے۔ یہ جنگ ایک طبقاتی جنگ کو کچلنے کے لئے پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے حکمران طبقے نے مسلط کی تھی جس میں غریب اورمحنت کش عوام برباد ہوئے اور اس انقلاب کو ناکام بنا دیا گیا جو برصغیر کے حکمران طبقے کے خلاف تھا۔ سرمایہ داری نظام کے دلالوں کے خلاف تھا۔

یہ خیال بہت حد تک صحیح ہے کہ تاریخ جتنی تاخیر سے مرتب ہوتی ہے اتنے ہی واضح اور ٹھوس حقائق سامنے آسکتے ہیں کیونکہ جذبات کی گرد بہت حد تک بیٹھ چکی ہوتی ہے۔ تفاخر اور تعصب یا پسند اور ناپسند کی عینکیں اتر چکی ہوتی ہیں۔ خفیہ پہلو بھی ننگے ہوچکے ہوتے ہیں۔ تاریخ کا قتل کچھ زیادہ آسان نہیں ہوتا۔ کسی بھی طبقاتی معاشرے اور سماج میں تاریخ ہمیشہ حکمران طبقات مرتب کرتے یا کرواتے ہیں۔ ریاستی مورخ اور سرکاری یا حکومتی دانشور تاریخی واقعات کو بالادست طبقوں کے نظریات و مفادات سے مطابقت رکھنے والے زاویوں سے پیش کرتے ہیں۔ جہاں بات نہ بن رہی ہو وہاں ’’’نظریہ سازش‘‘ استعمال کرتے ہیں اور اس کو تاریخ کا قتل کہا جاتا ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ حکمران طبقوں کے باہمی تضادات خود بہت سے تاریخی حقائق اور رازوں کو بے نقاب کردیتے ہیں۔ تاریخ جہاں جھوٹ بولنے والوں سے خود انتقام لیتی ہے وہاں محنت کش عوام کے انقلابی ریلے نہ صرف سفر کے نئے راستے تراشتے ہیں بلکہ ایسے مورخین کو بھی جنم دیتے ہیں جو حکمرانوںکے فریب اور دھوکے اور تاریخ کو مسخ کرنے کی واردات کو ناکام بنا دیتے ہیں۔

پاکستان کے ریاستی موقف کے مطابق مشرقی پاکستان میں عوامی بغاوت ایک بین الاقوامی سازش کا نتیجہ تھی اور بھارت کی پشت پناہی سے ’’غدار بنگالیوں‘‘ نے پاکستان سے علیحدگی اختیار کرلی۔ تاخیرسےمرتب ہونے والی تاریخ سے یہ حقائق واضح اور ٹھوس ہو کر سامنے آتے ہیں کہ یہ تحریک پورے علاقے میں ابھرنے والی سامراج دشمنی کی تحریک کاحصہ تھی اور اس تحریک کا ا ٓغاز مشرقی پاکستان سے نہیں راولپنڈی میں طلبہ کے جلوس پر پولیس کی فائرنگ سے طالب علم عبدالحمید کی شہادت سے ہوا تھا۔ بظاہر معمولی دکھائی دینے والا یہ واقعہ برصغیر میں وہ چنگاری ثابت ہوا جس نے بارود کو آگ لگا دی اور تحریک بھڑک اٹھی جو پاکستان اور ہندوستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی تھی۔

سرکاری تاریخ کے برعکس مشرقی پاکستان کی تحریک قومی بنیادوں پر نہیں اٹھی تھی اس کا مقصد بنگلہ زبان کو قومی زبان بنانا ہی نہیں تھا۔ اس طبقاتی جدوجہد کامقصد دنیاکی بائیس فیصد آبادی کو سامراج سے نجات دلانا تھا۔ سامراجی ایجنٹوں سے واگزار کروانا تھا۔ مشرقی پاکستان میں تحریک کی قیادت شیخ مجیب سے زیادہ مولانا بھاشانی کر رہے تھے جس کا اثر و رسوخ مغربی پاکستان میںبھی بڑھ رہا تھا۔ مولانا بھاشانی کے مشورے پر ہی ڈاک خانوں کو ہڑتال کرواکے تحریک کو دیہات تک پہنچایا گیا تھا۔ تحریک کو انقلاب میں بدلتے دیکھ کر مولانا بھاشانی کو بیجنگ میں بلایا گیا سازشی تھیوری یہ بیان کی جاتی ہے کہ جہاں پاکستان کے فوجی آمر کے دوست مائوزے تنگ نے مولانا کو تحریک سے دستبردار ہونے کا مشورہ یا حکم دیا۔ وطن واپس لوٹ کرمولانا بھاشانی تحریک کو چھوڑ کر اپنے گھر چلے گئے اور تحریک بنگالی سرمایہ دار طبقے کے نمائندہ شیخ مجیب الرحمٰن کے مکمل قبضے میں آگئی۔ بھاشانی تحریک میں موجود اپنے اور ان کی پارٹی عام انتخابات میں حصہ لیتی تو عوامی لیگ کو ظالمانہ اکثریت نہیں مل سکتی تھی اور وہ تنہا ’’بنگلہ بندھو‘‘ بن کر بنگالی عوام کو گمراہ کرکے طبقاتی تحریک کو قومی تحریک میں نہیں بدل سکتے تھے۔

بھارتی اسٹیبلشمنٹ اپنے دفاع میں یہ کہتی ہے کہ تحریک میں ہندوستان کی مداخلت کسی ’’سازش‘‘ کے تحت نہیں تھی خود حفاظتی پالیسی کے تحت تھی۔ مشرقی پاکستان میں پورے نظام کو اشتراکی انداز میں چلایا جارہا تھا۔ اس کے اثرات سے ہندوستانی بنگال اور خود دہلی کا تخت بھی خوفزدہ تھا۔ بھارتی فوج پاکستانی فوج کو شکست دینے کے لئے نہیں عوامی پنچائتوں کو کچلنے کے لئے ڈھاکہ میں آئی تھی۔

اس حقیقت کو چھپایا نہیں جاسکتا کہ نام نہاد آزادی کے 42 سال بعد بھی بنگلہ دیش کےمحنت کش ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ جبر اور استحصال کا شکار ہیں۔ دنیا کی 22فیصد آبادی والے خطے میں دنیا کی 48فیصد غربت پلتی ہے۔ یہ کوئی قہر خداوندی یا تقدیر کا لکھا نہیں کہ برصغیر کی بے حس، ظالم ، منافع خور، بدعنوان اور رجعتی اشرافیہ کی ہوس زر اور لالچ کا نتیجہ ہے جو ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے محنت کش بھگت رہے ہیں۔ حکمران سمجھتے ہیں کہ طبقاتی کشمکش ختم ہوگئی ہے۔ ختم ہوگئی ہوتی تو اس کی تحریک کا رخ موڑنے کی کیا ضرورت تھی۔ حضرت علی لشکر اوراس کے بیوی بچوں کو ذبح کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ جب تک ’’بنگلہ دیش‘‘ نہیں بن گیا مغربی پاکستان کے جاگیرداروں اور زمینداروں نے پاکستان کا آئین نہیں بننے دیا؟ اپنی جاگیروں اور زمینوں کو بچانے کےلئے آدھے سے زیادہ ملک قربان کر دیا!

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.