کرکٹ کا کھلاڑی، سیاست کا اناڑی!

افضل ریحان
افضل ریحان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

عمران خان پاکستانی کرکٹ کی ایک مقبول شخصیت ہیں جن کی قیادت میں وطن عزیز نے ورلڈ کپ جیتا بعد ازاں انہوں نے عوام کے چندے سے شوکت خانم کینسر ہسپتال کی تعمیر کا کارنامہ سرانجام دیا تو قومی میڈیا میں ان کی خوب قصیدہ گوئی کی گئی جس سے حوصلہ پا کر انہوں نے وزیراعظم پاکستان بننے کا خواب دیکھا جس کے شرمندۂ تعبیر ہونے کی امید ہنوز کچھ زیادہ دکھائی نہیں دیتی۔ نوجوان طبقے میں اگرچہ ان کے بہت سے مداح ہیں جو ان پر تنقید سننے کا یارا نہیں رکھتےاور جلد آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اس کے باوجود ایسے نقادوں کی بھی کوئی کمی نہیں جو انہیں کرکٹ کا کھلاڑی تو مانتے ہیں لیکن سیاست کا اناڑی قرار دینے سے بھی ذرا نہیں چوکتے۔

یہاں ہم جائزہ لیتے ہیں کہ عمران خاں کے مخالف انہیں ایک مدبر سیاستدان ماننے کی بجائے ایک جوشیلا، جذباتی، انا پرست، خود پسند کیوں خیال کرتے ہیں۔ ان کی پہلی دلیل تو یہ ہے کہ عمران خاں ایک طرف جمہوریت پسندی کا راگ الاپتے ہیں دوسری طرف قبائلی ادوار کے تعصبات اور جرگوں سے آگے کا کوئی وژن نہیں رکھتے اس سلسلے میں ان کے بہت سے انٹرویوز بطور مثال پیش کئے جاتے ہیں۔

دوسروں پر مسلمہ اخلاقی معیارات سے گری ہوئی تنقید کرنے میں وہ ذرا جھجھک یا توقف محسوس نہیں کرتے، ان کے مخالف پوچھتے ہیں کہ کیا وہ خود کوئی پارسا انسان یا فرشتے ہیں؟ محترمہ بے نظیر بھٹو یا میاں نواز شریف جیسے قومی رہنمائوں کو چور لٹیرے قرار دیتے رہے ہیں لیکن ان کےمخالف یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ خود دودھ کے دھلے ہیں۔ ان کے حامی انہیں قائذ اعظم سے ملاتے ہیں یا ان کے لئے وزیراعظم سے نیچے کے عہدے کی بات نہیں کرتے لیکن جب وہ اپنے سیاسی مخالفین کا تذکرہ فرما رہے ہوتے ہیں تو کسی یونین کونسل کے کونسلر کی سطح پر آن کھڑے ہونا بھی انہیں بُرا نہیں لگتا قائد کی تو ساری زندگی قانون کی گتھیاں سلجاتے اور قانون کو اوڑھنا بچھونا بناتے گزری انہوں نے تو اپنی مدبرانہ سیاسی صلاحیتوں کو پورے جنوبی ایشیا کی سیاست و دانش سے منوایا اور کبھی اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف‘‘ غیر معیاری زبان استعمال نہیں کی جبکہ یہاں ہر چیز ہی اس کے الٹ ہے ہر روز میڈیا پر پیش کئے جانے والے ان کے جذباتی و ہیجانی بیانات ان کی فکری سطح اور ’’سیاسی تدبر‘‘ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ قائد کی نہ صرف یہ کہ اپنی پرسنل لائف سب پر واضح ہے بلکہ دوسرے ہم عصر سیاسی رہنمائوں کی ذاتی زندگی پر تنقید کرنے کے مواقع و ثبوت ملنے کے باوجود وہ کبھی نچلی سطح پر نہیں آئے جبکہ اپنا تو وتیرہ ہی یہ ہے کہ ہر ہم عصر کی برائی تلاش کرو نہ ملے تو نعرے بازی و الزام تراشی کے ذریعے ڈال دو۔

اخلاقی بلندی کا یہ عالم ہے کہ (ہم ان مغربی خواتین کے اسکینڈل کی بات نہیں کرتےمحض پرویز مشرف کی بات کرتے ہیں) جب اس شخص نے جسے آپ ڈکٹیٹر ڈکٹیٹر کہتے نہیں تھکتے ہیں اس نے آپ سے ایک ملاقات کی (آپ کے حامیوں نے اس کا مطلب وزارت عظمیٰ کی پیشکش سمجھا) آپ کے مخالف کہتے ہیں کہ اس پیشکش پر آپ مشرف کے حامی بن گئے۔ حتیٰ کہ ریفرنڈم میں اس ڈکٹیٹر کی حمایت کرتے ہوئے آپ نے علامہ طاہر القادری سے بھی بازی لے جانا چاہی۔ دوسرے سیاسی لیڈروں یا ان کی پارٹیوں کے سامنے تو پھر بھی کوئی نہ کوئی قومی کاز یا ایجنڈا ہے اچھی یا بُری ان کی کوئی نہ کوئی پالیسیاں ہیں آپ کے مخالف یہ بھی کہتے ہیں آپ کا کاز، پالیسی، ایجنڈا یا خواب محض وزارتِ عظمیٰ کا حصول ہے قومی مفاد کس چڑیا کا نام ہے مملکت کی خارجہ و داخلہ پالیسیوں کے کیا تقاضے ہیں، آپ کی پارٹی کو اس سے کوئی غرض نہیں آپ کی پارٹی کو تو فوراً اقتدار چاہئے۔ ’’اب نہیں تو کب؟ ہم نہیں تو کون؟‘‘ اس کے لئے چاہئے مذہبی انتہاء پسندی کا لیبل لگوانا پڑے چاہے شدت پسندوں یا دہشت گردوں کا ساتھ دینا پڑے ۔

آپ کو کسی نادان دوست نے یہ ذہن نشین کرا دیا ہے کہ یہ قوم مذہبی جذباتی ہے تو آپ الا اللہ کرتے ہوئے جنونیت کا تاج پہننے کو بھی تیار ہیں اور خود کش حملے کرنے والوں کی حمایت کرنے سے بھی آپ کو کئی عار نہیں ہے ایک نسبتاً چھوٹے صوبے کی حکومت تو آپ سے چلائی نہیں جا رہی ہم پنگے بازی کا لفظ تو استعمال نہیں کرنا چاہتے کہ شاید شرمناک کی طرح یہ بھی تہذیب سے گرا گردانا جائے لہٰذا یہ کہیں گے کہ چھیڑ چھاڑ آپ دوسرے صوبوں میں کرنا چاہ رہے ہیں آپ ہی ایمان سے بتایئے کہ خیبر پختونخوا میں آپ نے مہنگائی کو کتنا کنٹرول کیا ہے جو بلدیاتی الیکشن کی خاطر پالیسی پنجاب اور سندھ کی مہنگائی کا درد آپ لوگوں کے سینے میں امنڈ رہا ہے۔

ANP کوتاہ اندیشی اور نواز شریف کی مہربانی سے اگر آپ لوگوں کو ایک اکائی کی چوہدراہٹ میسر آ گئی تو ادھر دھیان دیں وہاں کی قیمتوں اور جرائم کی ایشو کا دوسرے صوبوں سے تقبابلی جائزہ لیتے ہوئے آخر کوئی تو خوبی دکھائیں جو آپ کے علاوہ غیر جانبدار حلقوں کو بھی نظر آئے۔ بد انتظامی کی حالت یہ ہے کہ آپ کی جیلوں سے مذہبی شدت پسند سینکڑوں خطرناک دہشت گردوں کو بھگا لے جاتے ہیں تو آپ کی ’’ماڈل صوبائی حکومت‘‘ بیٹھی تماشہ دیکھتی یا محبتیں پیش کرتی رہ جاتی ہے اس کے باوجود چیئرمین سے کارکن تک شدت پسندوں کی حمایت میں رطب اللسان دکھائی دیتے ہیں۔ وہ پولیو کے قطرے پلانے والی بچیوں کو دن دھاڑے قتل کر رہے ہیں اور آپ لوگ منتیں کئے جا رہے ہیں پائوں پکڑ رہے ہیں۔ یہ ہے آپ کا اعلیٰ انتظامی نمونہ؟ خدا کے لئے آپ اور آپ کے چاہنے والے ملک و قوم کی حالت زار پر رحم فرمائیں جذباتیت نے پہلے ہی اس مملکت کی چولیں ہلا کے رکھ دی ہیں آپ لوگ نیٹو سپلائی کے کھوکھلے نعروں سے حصول اقتدار کیلئے کوشاں ہیں پہلے خارجہ پالیسی کی ابجد تو سیکھیں پھر اس پر مباحثہ و محاکمہ فرمائیں۔

شتابی اقتدار کی بے جا حرص نے ماقبل اس ملک کا بیڑہ غرق کیا تھا رہتی کسر اب آپ لوگ نکالنا چاہتے ہیں خدارا ٹھنڈی کر کے کھائیں۔ اس مملکت کو عالمی سطح پر کس قدر چیلنجز درپیش ہیں ہماری قومی سیاست کو آج کتنی فراست و تدبر کی ضرورت ہے آپ لوگ انہی کی باریکیوں کو سمجھیں اسے گلی ڈنڈے یا کرکٹ کا اکھاڑہ بنانے سے پرہیز فرمائیں، بصورت دیگر اس کی قیمت آنے والی نسلوں کو ادا کرنی پڑے گی۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں