.

حکومت کے دو سو دنوں کا ایک جائزہ

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روایتی سیاسی سوچ کے مطابق ایک نئی منتخب حکومت کو اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ کے اندر اندر تمام مشکل اور ناپسندیدہ فیصلے کر لینے چاہئیں تاکہ جب چند ایک سال بعد ان فیصلوں کے اچھے نتائج برآمد ہونا شروع ہوجائیں تو عوام کئے گئے اُن فیصلوں کی سختی کو بھول جائیں اور حکومت اگلے انتخابات میں پر اعتماد طریقے سے عوام کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہو۔ اس دانائی کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ عوام کا اجتماعی حافظہ زیادہ مضبوط نہیں ہوتا اور انتخابات میں ووٹ پڑنے کا دارومدار انتخابات کے موقع پر چھا جانے والے اچھے یا برے موڈ پر ہوتا ہے چنانچہ جو جماعت انتخابات کے قریب عوام کے دل جیت لیتی ہے، کامیابی اس کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ سیاسی سوچ کے اس پیمانے پر پورا اترنے میں زرداری حکومت بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد اس نے مشکل مگر ضروری فیصلے کرنے سے احتراز کیا، چنانچہ آگے چل کرعوام کو معاشی مشکلات، ناقص سیکورٹی اور سیاسی عدم استحکام کے عذاب سے گزرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال کے آغاز میں ہونے والے عام انتخابات میں سابق حکمران جماعت کا صفایا ہو گیا۔ دوسری طرف نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلے دو سو دنوں میں نسبتاً اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

نواز شریف نے اچھی ترجیحات کے ساتھ آغاز کیا ہے۔ ان کے ایجنڈے میں سب سے اوپر بھارت، افغانستان اور امریکہ کے ساتھ ایسے تعلقات قائم کرنے کی پالیسی ہے جس کے نتیجے میں ملکی معیشت کو فائدہ پہنچ سکے اور عوام کو جنگ، دہشت گردی اور خوف کے بجائے تجارت اور امن کے مواقع میسر آسکیں۔ ماضی میں عوام نے ہمسایہ ممالک کے حوالے سے سرحد پار دہشت گردی اور پراکسی جنگوں کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا ہے۔ چنانچہ یہ بات خوش آئند ہے کہ موجودہ حکومت اس ضمن میں بہتر فیصلے کررہی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم پیشرفت دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کی ملاقات ہے۔ گزشتہ چودہ سال میں پہلی مرتبہ ہونے والی اس ملاقات کے بعد امید پیدا ہو چلی ہے کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں کمی آئے گی اور ان اچانک رونما ہونے والے واقعات کا اعادہ نہیں ہو گا جن کا مظاہرہ حال ہی میں دیکھنے میں آیا ہے۔ ماضی میں پاکستان کی طرف سے افغانستان کے سیاسی معاملات میں مداخلت کی جاتی رہی ہے تاکہ وہاں ہماری من پسند حکومت اقتدار میں آسکے لیکن پاکستان کی موجودہ حکومت کو اس امر کا احساس ہے کہ سیاسی طور پر مستحکم افغانستان پاکستان کے لئے بہتر ہے۔ اسی طرح مسٹر شریف پاک امریکہ تعلقات کی بحالی کے خواہاں ہیں۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد انھوں نے وزیراعظم من موہن سنگھ ، صدر حامد کرزئی اور صدر اوباما کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں برف پگھل رہی ہے۔ اس سے پہلے ایسا گمان ہوتا تھا کہ پاکستان عالمی تنہائی کے خطرے سے دوچار ہونے والا ہے لیکن اب صورت ِ حال کچھ سنبھلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

خارجہ پالیسی کا قبلہ درست کرنے کے بعد نواز شریف کے سامنے دوسرا اہم ترین مرحلہ معیشت کی بحالی کا ہے۔ اس ضمن میں موجودہ حکومت نے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے پہلی توجہ توانائی کے بحران پر مرکوز کی ہے کیونکہ اس کے بغیر توانائی کا پہیہ نہیں چل سکتا ہے۔ جب حکومت نے اقتدار سنبھالا تو توانائی کا بحران بہت سنگین تھا چنانچہ اُس وقت زیر ِ گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لئے نوٹ چھاپنے پڑے تاکہ وقتی طور پر سکون کاسانس لیا جاسکے تاہم اس مسئلے کے دیر پاحل کے لئے بھارت سے بجلی، ترکمانستان اور ایران سے گیس اور یورپ سے سولر انرجی کی ٹیکنالوجی کا حصول حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ملک میں گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی (مائع قدرتی گیس) کے حصول کی کوشش جاری ہے۔

مالی بحران سے نمٹنے اور خزانے پر بوجھ کو کم کرنے کے لئے حکومت دو درجن کے قریب اداروں کو نجی تحویل میں دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس کے علاوہ تھری جی لائنس کی نیلامی بھی ہونے جارہی ہے۔ اس سے حکومت کو بھاری رقم ملے گی۔ موجودہ حکومت کی ایک اہم کامیابی یورپی یونین سے ٹیکسٹائل کی مصنوعات، جو ان ممالک کو پاکستان سے برآمد کی جائیں گی، پر ترجیحی بنیادوں پر ڈیوٹی میں رعایت حاصل کرنا ہے۔ اس سے ملک میں کپڑے کی صنعت کو فروغ ملے گا اور بیروزگاری اور تجارتی خسارے میں کمی آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف سے سات بلین ڈالر سے زیادہ قرضہ جبکہ امریکہ کی طرف سے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں ڈیڑھ بلین ڈالر اور کیری لوگر امدادی پیکج کے کئی سو ملین ڈالر بھی ملیں گے۔ چین بھی ٹرانسپورٹ، کان کنی اور نیوکلیئر انرجی میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ترکی میونسپل ترقی کے کاموں میں معاونت کررہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک عالمی تنہائی کے خطرے سے باہر نکل رہا ہے۔

نواز شریف نے ملک میں امن و امان کی صورت ِ حال کو بہتر بنانے اور دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ہوم ورک کو تیز کر دیا ہے۔ ’’پروٹیکشن آف پاکستان بل‘‘ کے نفاذ سے انسداد ِ دہشت گردی کے قانون کی گرفت مضبوط ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والی فورس کو جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے، رینجرز کراچی کو جرائم پیشہ افراد سے پاک کرنے کے لئے کارروائیاں کررہے ہیں، بلوچستان کے علیحدگی پسندوں سے بات چیت کرنے کے لئے بلوچستان کی صوبائی حکومت کو وفاقی حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے جبکہ فوج بھی وزیرستان کو شرپسندوں سے پاک کرنے کے لئے کارروائیاں کرنے کے لیے آزاد ہے۔

یہ تمام اقدامات قابل ِ تحسین ہیں لیکن اگر ان کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور نہیں کیا جاتاہے تو یہ تمام کاوشیں رائیگاں جائیں گی اور یہ تمام عمل پٹڑی سے اتر جائے گا۔ ان میں سے سب سے پہلی رکاوٹ ٹیکس کے نظام کی خامی ہے۔ حکومت کی طرف سے ٹیکس چوروں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کمزور اور نیم دلانہ ہے۔ یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ بدعنوان،نااہل اور کمزور ٹیکس انتظامیہ ٹیکس چوروں پر، جن میں بڑے بڑے نام شامل ہیں ہاتھ ڈالے گی۔ ارکان ِ پارلیمنٹ کی دولت اور ٹیکس کی ادائیگی کی تفصیل ، جو حالیہ دنوں میڈیا میں شائع ہوئی ہے، شرمناک ہے۔ جب تک لیڈر ٹیکس ادا نہیں کریں گے، عوام سے اس کی توقع کرنا عبث ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مسٹر شریف ریٹیل فروخت اور سروسز پر جی ٹی ایس عائد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں لیکن جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا، ٹیکس اور جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ نہیں ہو گا۔

حکومت کے سامنے دوسری بڑی رکاوٹ نیٹو سپلائی روٹ کی بحالی ہے۔ یہ حکومت کی ایک سنگین غلطی ہے کہ اس نے انتخابات کے بعد اپوزیشن لیڈر عمران خان کو خارجہ معاملات اور انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت دے دی۔ اس سے حکومت کے عالمی طاقتوں کے ساتھ سفارتی تعلقات اور کئے گئے معاہدے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ چنانچہ ضروری ہے کہ ایساف فورسز کی سپلائی لائن کھلی رہے اور طالبان کو پوری ریاستی طاقت سے کچل دیا جائے۔ اسی طرح نواز شریف کی طرف سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لئے ٹیکس میں دی گئی چھوٹ بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے گی۔ خدشہ ہے کہ نوجوانوں کو دیئے جانے والے قرضوں کا حشر بھی ماضی کی ’’پیلی ٹیکسی اسکیم ‘‘ جیسا ہوگا۔ وفاقی حکومت کی طرف سے Counter-Terrorism Force، جو وزارت ِ داخلہ کے ماتحت ہوگی، بھی ایک غلط اقدام ہے کیونکہ اس سے پولیس کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ آخر میں، پنجاب میں ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات کے حوالے سے قبل ازوقت الزامات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کی وجہ سے پی ٹی آئی کو عوامی حمایت مل سکتی ہے۔ چنانچہ نواز شریف کی ٹیم کو مربوط حکمت ِ عملی سے معاملات پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہوگی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.