”یرغمال“

مطیع اللہ جان
مطیع اللہ جان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

بلاول بھٹو زرداری کی تقریر نے ہمارے سیاسی قائدین کے کردار کے مختلف پہلووں سے ایک بار پھر پردہ اٹھایا ہے ان میں سے ایک پہلو ان کی اقتدار سے محبت اور اقدار سے نفرت ہے ‘ اقتدار سے محبت اور اس قدر کہ اگر وزیراعظم ہاوس اور ایوان صدر میں ان قائدین کو مرغا بنا کر ان کی لتر پریڈ بھی کی جائے تو شاید یہ حکومتی مدت پوری کرنے کے عوض یہ بے عزتی بھی خاموشی سے برداشت کر لیں گے‘ یہ اور بات ہے کہ ایسی لتر پریڈ کرنے والے ”قوم کے بیٹے“ صرف ”گھریلو تشدد“ کرنے میں شیر ہوتے ہیں اور اڑوس پڑوس کے مخالفین پر ان کا بس نہیں چلتا‘ آخر ملک پاکستان بھی تو ہمارا گھر ہے۔

بلاول بھٹو نے اپنی والدہ اور قوم کی وزیراعظم بےنظیر بھٹو کی چھٹی برسی کے موقعے پر انکشاف کیا کہ ان کے والد گرامی اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری ایوان صدر میں ایک قیدی کی سی زندگی گزار رہے تھے مطلب یہ کہ مملکت خداد داد پاکستان کے صدر اور ہماری افواج کے سپریم کمانڈر جناب آصف علی زرداری کو کسی نے یرغمال بنا رکھا تھا اگر تو یہ سچ ہے تو پھر قوم کو یہ بتانا ضروری ہے کہ آخر کس نے صدر پاکستان کو یرغمال بنائے رکھا تاکہ ایسے افراد کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے اور یہ اقدام تو جنرل مشرف کے 3 نومبر 2007 ءکے اس فرمان سے بھی زیادہ سنگین ہوگا جسے سپریم کورٹ نے آئین سے سنگین غداری کے مترادف قرار دیا‘ کیونکہ اس وقت کا فرمان تو ایک باوردی صدر نے جاری کیا تھا بحیثیت ایک آرمی چیف کے اور ان دونوں عہدوں پر برقرار رہنے کی اجازت جنرل مشرف کو خود سپریم کورٹ اور پھر پارلیمنٹ نے ہی دی تھی نجانے سپریم کورٹ کس آئین اور جمہوریت کی بات کرتی ہے جس کی 3 نومبر 2007 ءکے مشرفی فرمان سے پامالی ہوئی تھی ‘ تو بات ہو رہی تھی صدر زداری کے ایوان صدر میں قیدی یا یرغمال بنائے جانے کی‘

یہ واقعہ یقیناً 3 نومبر 2007 ءکے فرمان سے بھی زیادہ سنگین غداری ہے کیونکہ جناب زرداری کوئی باوردی جرنیل نہیں بلکہ ایک منتخب سویلین صدر تھے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے سنگین جرم پر خاموشی اختیار کرکے کیا جناب زرداری خود بھی آئین سے غداری کے مرتکب نہیں ہوئے‘ کیا بلاول بھٹو اتنے کمزور دل باپ کے سپوت ہیں جو اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی لاچار اور بے بس تھے اور محض اقتدار سے چپکے رہنے کی خاطر زباں بندی پر مجبور ۔کیاایوان صدر سے ایمبولینس میں جانے کا بیان بھی بطور قیدی دیا گیا تھا ؟بظاہر تو ایسی خاموشی سے ایوان صدر سے جمہوریت کی ”لاش“ ہی ایمبولینس میں نکل گئی تھی ‘ آخر ہماری سیاست دانوں کے کونسے پوشیدہ کالے کرتوت ہیں جن کے باعث وہ اسٹیبلشمنٹ سے بلیک میل ہوتے رہتے ہیں؟ کوئی بھی ”عزت دار“ شخص اپنی اور اپنے عہدے کی اتنی بے عزتی آخر کیسے برداشت کر سکتا ہے کیا پاکستان میں صدارت ”اسٹیبلشمنٹ“ کی طرف سے دی جانے والی خیرات ہے جو سیاستدانوں کے کشکول میں پھینکی جاتی ہے اور پھر ایک ”یرغمال صدر“ کو کیسے زیب دیتا ہے کہ وہ آئین و قوانین میں ترامیم کے ڈرامے کرکے جمہوریت مضبوط کرنے کا دعویدار بنے؟آخر اقتدار میں پہنچ کر عوامی مینڈیٹ کی ایسی توہین پر کونسے ذاتی مفادات و کمزوریوں کے باعث چپ سادھ لی جاتی ہے؟ آخر اقتدار کا نشہ حاصل کرنے کے لئے گلی محلے سے حاصل شدہ عوامی ووٹوں کو کوڑ کباڑ کی مانند کیوں بیچا جاتا ہے مگر پھر اپنے قائدین کے عدالتی قتل اور دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے پر خاموش رہنے والوں سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے ‘ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے ذمہ داران کے ساتھ سودے بازی کرکے دو مرتبہ وزیراعظم بننے والی محترمہ بےنظیر بھٹو کے ساتھ بھی آخر یہی کچھ ہوناتھا۔ انہوں نے بھی اپنے دو ادوار میں 1977ءکے مارشل لاءاس کا ساتھ دینے والوں کے خلاف محض اقتدار کی خاطر کوئی کارروائی نہ کی‘ بلکہ قوم کے ساتھ ”تمغہ جمہوریت“ کا فراڈ کیا مگر اس دوستانہ پالیسی کے باوجود اسٹیبلشمنٹ نے ان سے کوئی رعایت نہ برتی جس کا ثبوت 1990 ءکے انتخابات میں آئی ایس آئی کی طرف سے ان کے مخالف سیاست دانوں میں پیسوں کی تقسیم تھی محترمہ بےنظیر بھٹو کو بھی اقتدار سے نکالے جانے کے بعد اپنے ”یرغمال“ ہونے کا یاد آیا‘ پہلے خود محکمہ دفاع‘ خارجہ اور فنانس صدر اسحاق کے ذریعے فوج کے حوالے کیا اور پھر بعد میں ایٹمی پروگرام پر اعتماد میں نہ لئے جانے کا رونا رویا۔

صدر زرداری کی طرف سے بذریعہ بلاول ایوان صدر میں ”قیدی“ بنائے جانے کا رونا بھی اقتدار کا نشہ ٹوٹنے کی علامت ہے۔ شاید اسی نشے کی حالت میں ایک ”قیدی“ صدر نے فوج کے اس وقت کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت عہدہ میں تین سال کی توسیع کی اور اس طرح آئی ایس آئی کے سربراہ کی مدت عہدہ میں بھی اسی حالت غیر میں توسیع کی گئی۔ تو پھر اقتدار کے ان نشئیوں سے ہم کیسے توقع کریں کہ وہ اپنے ہی خاندانی سپوتوں اور قوم کے لیڈروں کے قاتلوں کو تلاش کرنے میں سنجیدگی کامظاہرہ کریں گے حتٰی کہ اقوام متحدہ کے انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو بھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سنجیدہ کارروائی کی بجائے اسے بلیک میل کرنے کےلئے استعمال کیا گیا اور پھر معاملات طے ہونے کے بعد اس بین الاقوامی رپورٹ کو بھی اعتراضات کے ساتھ مسترد کیا گیا‘ ایسی صورت میں اب کوئی بھی بین الاقوامی ادارہ مستبقل میں اعلٰی پاکستانی شخصیات کے قتل (خدانخواستہ) پر تحقیقات کرنے کیوں آئے گا۔

اسی تناظر میں چھڑی کی نوک دیکھ کر استعفیٰ دینے جیسے واقعات سے بھی پردہ اٹھنا چاہئے۔ آج ایک بار پھر جمہوری حکومت ہے اور جنرل مشرف اور ان کے ساتھیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا آئینی و قانونی موقعہ بھی اور اگر حکومت نے سیاسی سودا بازی کرکے یہ موقعہ بھی گنوا دیا تو پھر ایسی حکومتوں اور نام نہاد جمہوری قائدین کے ساتھ وہی کچھ ہونا چاہیئے جو ان کے ساتھ ہوتا آیا ہے کوئی دباو یا دھمکی ہے تو قوم کو آج ہی بتایا جائے‘ ورنہ لڑائی کے بعد یاد آنے والا ”مکا“ اپنے منہ پر مار لینا چاہیے۔

بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں