دوغلے پن کا علاج بالمثل

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

حیرت ہوتی ہے جب بعض جہاندیدہ اور سنجیدہ لوگوں کو بھی یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ شمالی وزیرستان پر حملہ آور ہونا ہی دہشت گردی کے مسئلے کا حل ہے۔ یہ خواتین و حضرات یہ نہیں سوچتے کہ شمالی وزیرستان ’’کُل‘‘ نہیں بلکہ ’’جز‘‘ ہے۔ یہی فضا سوات آپریشن سے پہلے بھی بنا دی گئی تھی اور تاثر یہ دیاجارہا تھا کہ سوات میں آپریشن ہوجائے گا تو پورا پاکستان پرامن ہوجائے گا۔ تب بھی ہماری یہی دہائی تھی کہ سوات ایک ’’جز‘‘ ہے ‘ کُل نہیں۔ یقیناآپریشن مسئلے کا حل ہے لیکن شمالی وزیرستان میں کارروائی کو میں آپریشن نہیں سمجھتا۔

آپریشن ضرور ہونا چاہئے لیکن شمالی وزیرستان کے عوام کے خلاف نہیں بلکہ ہماری ریاستی پالیسیوں کے خلاف ہونا چاہئے۔ اس آپریشن کا آغاز وزیرستان سے نہیں بلکہ اسلام آباد اور پنڈی سے ہونا چاہئے جو لاہور اور کراچی سے ہوتا ہوا پشاور اور وزیرستان تک پہنچے۔ یہ آپریشن نظریاتی‘ سفارتی اور ادارہ جاتی محاذوں پر ہونا چاہئے۔ یہ آپریشن ہماری خارجہ اور داخلہ پالیسیوں سے دوغلے پن اور تضادات کو نکالنے ‘ہر فرد اور ہر ادارے پر قانون کے یکساں اطلاق‘ سیاست اور تذویراتی مقاصد کے لئے مذہب کے استعمال کو روکنے ‘ اداروں کو اپنی اپنی آئینی اور قانونی حدود تک محدود کرنے اور ریاستی اداروں کے درمیان کو آرڈی نیشن کو بہتر بنانے کے لئے ہونا چاہئے ۔ یہ آپریشن ہم کرسکے تو عسکریت پسندی کا مسئلہ طاقت کے استعمال کے ساتھ بھی حل ہوسکتا ہے اور مذاکرات کے ذریعے بھی ۔ بلکہ شاید ان دونوں میں سے کسی ایک بھی آپشن کے آزمانے کی ضرورت نہ پڑے اور مسئلہ حل ہو جائے تاہم جب تک یہ آپریشن نہیں کیا جاتا ‘ تب تک نہ ملٹری آپریشن سے عسکریت پسندی کے مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے اور نہ مذاکرات سے۔ جس ملک کے مشرقی سرحد پر اپنے سے کئی گنا بڑے پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوں اور مغربی سرحد پر روزانہ پچاس ہزار لوگ بغیر ویزے اور پاسپورٹ کے آ جا رہے ہوں اور جو ملک دشمن تو کیا نام نہاد دوست اور اسلامی ملکوں کے لئے بھی چراگاہ کی حیثیت رکھتا ہو‘ وہ کیوں کر پرامن رہ سکتا ہے؟

اقتدار سنبھالنے سے قبل میاں نوازشریف یہ تاثر دے رہے تھے کہ وہ ریاست کی غلط‘ فرسودہ اور تضادات پر مبنی پالیسیوں کے خلاف آپریشن کا عزم رکھتے ہیں ۔ اسی بنیاد پر ہم جیسے طالب علموں نے بھی ان سے اس میدان میں خیر کی توقع وابستہ کرلی تھی ۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی وہ یہی تاثر دے رہے ہیں اور مجموعی طور پر ان کی سمت تادم تحریر درست دکھائی دیتی ہے لیکن افسوس کہ ابھی معاملہ صرف خواہش اور ارادے پر اٹکا ہوا ہے ۔ اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جو ہمت چاہئے تھی ‘ وہ نظر نہیں آ رہی ۔ جو قربانی دینی ضروری ہے‘ اس کے لئے میاں صاحب اور ان کے ساتھی تیار نظر نہیں آتے ۔ جس طرح کے لوگوں کی ٹیم چاہئے تھی‘ اس طرح کی ٹیم بنانے کے بجائے وہ چمچوں اور چہیتوں پر انحصار کررہے ہیں۔ وہ پالیسیوں سے تضادات کو نکالنے کا عزم توظاہر کررہے ہیں لیکن خود ان کی پالیسیاں تضادات کی شکار ہیں۔ ظاہر ہے تضادات کو تضادات سے نہیں بلکہ کھرے پن سے ختم کیا جاسکتا ہے اور ریاستی پالیسیوں کے دوغلے پن کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ خود حکمرانوں کی پالیسیاں دوغلے پن کی شکار نہ ہوں۔

طالبان اور شمالی وزیرستان کا معاملہ لے لیجئے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پہلے ہفتے میں میاں صاحب اس مسئلے کی طرف توجہ دیتے لیکن انہوں نے برائے نام اے پی سی بلانے کے لئے بھی تین ماہ انتظار کیا۔جس میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی ۔ یہ دعویٰ سراسر غلط ہے اور میں ہر فورم پر اس کو ثابت کرسکتا ہوں کہ جس دن حکیم اللہ محسود کے خلاف ڈرون حملہ ہوا‘ اسی دن تین رکنی وفد طالبان سے ملنے کے لئے جارہا تھا۔ اس طالب علم نے بالمشافہ ملاقاتوں میں بھی تجویز کیا تھا اور ’’جرگہ‘‘ میں تحریری صورت میں بھی گزارش کی تھی کہ مولانا فضل الرحمٰن‘ عمران خان‘ مولانا سمیع الحق ‘ سید منور حسن اور اسی نوع کے دیگر لوگوں کو گورنر خیبرپختونخوا کی معیت میں طالبان سے مذاکرات کے لئے بھیج دیا جائے ۔ ان کے ساتھ براہ راست مذاکرات بھی مشکل نہیں اور ویڈیو کانفرنس وغیرہ کے ذریعے بھی اہتمام ہوسکتا ہے ۔ وہ اگر ان سے بات منوا لیتے ہیں تو ٹھیک، نہیں تو پھر ان سے کہہ دیا جاتا کہ وہ بھی حکومت کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ یوں سیاسی اتفاق رائے تو حاصل ہو جاتا لیکن ایسا کرنے کے بجائے حکومت نے بے کار رابطوں اور فضول دعووں کے ذریعے وقت ضائع کر دیا۔

اس وقت پوزیشن یہ ہے کہ خلوتوں میں حکومت کے متعلقہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ مذاکرات ہوسکتے ہیں اور نہ کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن قوم کے سامنے آج بھی دعویٰ یہی ہے کہ مذاکرات ہی پہلا آپشن ہے ۔ اب یہ دوغلا پن نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر مذاکرات آج بھی ایک آپشن ہے تو پھر اسے اعلانیہ اور شفاف طریقے سے پورے طور پر آزمایا کیوں نہیں جاتا اور اگر یہ آپشن قابل عمل نہیں اور حکومت نے آپریشن کا فیصلہ کرہی لیا ہے تو پھر اس کا اعلان کر کے اس پر سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی پھر وزیرستان کے لوگوں کو بتایا کیوں نہیں جاتا کہ وہ وہاں سے نکل جائیں۔ اب جو حکمران خود اس قدر کنفیوزڈ ہوں‘ وہ ریاستی پالیسیوں سے کنفیوژن کو کیسے ختم کر سکیں گے اور جن کے ہاں خود اس قدر دوغلاپن ہو‘ وہ ریاستی پالیسیوں میں موجود دوغلے پن کو کیسے ختم کریں گے؟

میاں صاحب اگر اپنے ارادے کو عمل کے روپ میں ڈھالنا چاہتے ہیں اور وہ اگر واقعی اپنی اور باالفاظ دیگر اس قوم کی خواہشات کی تکمیل چاہتے ہیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ سچ اور کھرے پن کی طرف آجائیں۔ خوشامدیوں کے نرغے سے اپنے آپ کو نکال لیں۔ خارجہ پالیسی اور نیشنل سیکورٹی کے لئے ٹیم کا انتخاب میرٹ پر کر لیں۔ انتہاپسندی‘ دہشت گردی اور خارجہ پالیسی کے معاملات کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھ لیں۔ جس طرح انہوں نے کاروباری معاملات پر اپنے آپ کو ایجوکیٹ کیا ہے‘ اسی طرح وقت دے کر خارجہ پالیسی اور نیشنل سیکورٹی کے معاملات پر بھی اپنے آپ کو ایجوکیٹ کرلیں۔ فوج اور اس کے اداروں کے ساتھ سیاست بازی سے کام لینے کے بجائے مشاورت اور کوآرڈی نیشن کی پالیسی اپنالیں۔ مذکورہ موضوعات سے متعلق وہ سیاست سے بالاتر ہوکر تحریک انصاف‘ جماعت اسلامی‘ پیپلزپارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی ہم سفر بنالیں ۔ ایسی ٹیم بنالیں جو انتہاپسندی اور دہشت گردی کے مسئلے کے تمام جہتوں (نظریاتی‘ سیاسی‘ تذویراتی‘ معاشی اور ثقافتی) کو سمجھتے ہوں اور جو ان تمام کو مدنظر رکھ کر ایک جامع پالیسی بنالیں ۔ وہ ایسا کرسکے تو انشاء اللہ پاکستان ایک بار پھر جنت بن جائے گا اور معیشت یا دیگر حوالوں سے وزیراعظم صاحب کے خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوسکیں گے لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو نہ صرف معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی بلکہ خاکم بدہن لاہور بھی وزیرستان بن جائے گا۔

ایک التجا: محترم عطاء الحق قاسمی صاحب کے کالم میں پی ایچ ڈی کرنے والے نابینا شاعر ڈاکٹر تیمور حسن تیمور کے ساتھ زیادتی کا پڑھ کر نہایت دکھ ہوا۔ نابینا ہوکر ایک شخص پڑھے‘ نہ صرف پڑھے بلکہ پی ایچ ڈی بن جائے۔ شاعری ایسی کرے کہ ہم جیسے بے ادب لوگوں کو بھی رلادے‘ ان کے ساتھ میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کی حکومت اور ایسے عالم میں زیادتی ہوجائے کہ عطاء الحق قاسمی صاحب ان کا سفارشی بھی ہو تو اس پر رونے کے علاوہ اور کیا ردعمل ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ نہ جانے ہمارے حکمرانوں کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ عطاء الحق قاسمی جیسے محسنوں اور مداحوں کی ناراضی مول لے کر تو شاید وہ بچ سکیں لیکن ڈاکٹر تیمور حسن تیمور جیسے لوگوں کی بددعائیں سمیٹنے کی صورت میں ان کا بچنا محال ہوجائے گا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں