طویل عمری

جاوید چودھری
جاوید چودھری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
13 منٹ read

خوشونت سنگھ بھارت کے معروف ترین صحافی اور مصنف ہیں‘ یہ اس وقت ننانوے سال میں داخل ہو چکے ہیں‘ یہ زندگی کی تقریباً سو بہاریں دیکھنے کے باوجود ابھی تک چاک و چوبند ہیں‘ یہ روزانہ سیر کے لیے جاتے ہیں‘ روز مطالعہ کرتے ہیں‘ روز لطیفے گھڑتے ہیں اور روز قہقہے لگاتے ہیں‘ یہ 80 کتابوں کے مصنف ہیں‘ ہفتے میں دو کالم لکھتے ہیں‘ یہ کالم مختلف اخبارات میں شائع ہوتے ہیں اور کروڑوں لوگ یہ کالم پڑھتے ہیں‘ یہ پاکستانی علاقے میں پیدا ہوئے‘ دہلی میں رہے‘ پاکستان بننے سے قبل لاہور میں وکالت شروع کی‘ یہ لاہور میں قیام کو اپنی زندگی کا بہترین وقت قرار دیتے ہیں‘ یہ وکالت میں ناکام ہو گئے‘ یہ سفارت کے شعبے میں گئے‘ اس میں بھی دل نہیں لگا‘ یہ صحافت میں آ گئے‘ یہ یوجنا‘ السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا‘ نیشنل ہیرالڈ اور ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر رہے‘ ہندوستان ٹائمز بھارت کا سب سے بڑا اخبار ہے‘ خوشونت سنگھ نے ’’ہسٹری آف سکھ‘‘ کے نام سے سکھوں کی تاریخ لکھی۔

’’دہلی‘‘ ان کا شاندار ترین ناول تھا‘ ان کی بائیو گرافی’’سچ‘ محبت اور تھوڑا سا کینہ‘‘ 2002ء میں شائع ہوئی اور پوری دنیا میں دھوم مچا دی‘ خوشونت سنگھ نے لطائف کی کتابیں بھی تحریر کیں‘ یہ لطائف کی کتابوں کو اپنی بہترین تصنیف کہتے ہیں اور یہ 1980ء سے 1986ء تک پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے اور ہندوستان کی حکومت نے انھیں پدما بھوشن اور پدماوی بھوشن جیسے اعلیٰ ترین ایوارڈز سے بھی نوازا‘ خوشونت سنگھ بھارت بلکہ تمام سارک ممالک کے سینئر ترین اور سب سے بڑے صحافی اور مصنف ہیں‘ انھوں نے پچھلے دنوں ’’دی لیسنز آف مائی لائف‘‘ (میری زندگی کے سبق) کے نام سے اپنی آخری کتاب شائع کی‘ سردار صاحب نے یہ کتاب 98 سال کی عمر میں لکھی اور ان کا خیال ہے یہ ان کی آخری کتاب ثابت ہو گی‘ یہ کتاب ان کی زندگی کے فلسفے پر مشتمل ہے‘ یہ کیا سوچتے ہیں‘ زندگی کی اصل حقیقت کیا ہے‘ جوانی اور بڑھاپا کیا چیز ہے‘ یہ خطہ کیا صورتحال اختیار کر رہاہے‘ ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں اور عوام کو کیا کرنا چاہیے‘ بڑھتی ہوئی شدت پسندی کیا رخ اختیار کر رہی ہے‘ غالب کتنا بڑا شاعر تھا اور ہندوستان اور پاکستان نے اسے کیوں بھلا دیا‘ اردو زبان اور شاعری کیوں زوال پذیر ہے‘ مذہب کیا چیز ہے‘ مہاتما گاندھی کیا تھے‘ لکھنے کا طریقہ کیا ہے‘ صحافت کیا ہے‘ یہ ماضی میں کیسی تھی اور یہ اب کیا ہو چکی ہے‘ موت کیا چیز ہے‘ اور بڑھاپا کسے کہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

میں سفر پر نکلتے ہوئے خوشونت سنگھ کی یہ کتاب ساتھ لے آیا اور مجھے جہاں وقت ملتا ہے‘ میں یہ کتاب پڑھنا شروع کر دیتا ہوں‘ یہ مختصر سی دلچسپ کتاب ہے‘ آپ اس کے بعض صفحات پر اپنی ہنسی نہیں روک پاتے‘ مثلاً خوشونت سنگھ ایک جگہ لکھتے ہیں‘ خالصتان کی تحریک کے دوران میں نے سکھ قیادت کی غلطیوں کی نشاندہی کی‘ میری اس جسارت پر سکھ برادری مجھ سے ناراض ہو گئی اور مجھے سکھوں نے دنیا بھر سے گالیوں بھرے خط لکھنا شروع کر دیے‘ سکھ مجھے راستے میں روک کر بھی برا بھلا کہہ دیتے تھے‘ میں یہ خط پڑھتا تھا اور ہنس پڑتا تھا‘ مجھے گالیوں سے بھرا ہوا کلاسیک خط کینیڈا سے کسی سکھ نے لکھا‘ یہ خط گورمکھی زبان میں تھا‘ صرف لفافے پر انگریزی کے چار حرف لکھے تھے ’’باسٹرڈ خوشونت سنگھ انڈیا‘‘۔ یہ خط کینیڈا سے پوسٹ کیا گیا اور میں بھارتی محکمہ ڈاک کی کارکردگی پر حیران رہ گیا کیونکہ محکمہ ڈاک نے سوا ارب کی آبادی میں موجود واحد باسٹرڈ کو تلاش کر کے یہ خط مجھ تک پہنچا دیا‘ میں بڑے عرصے تک یہ خط اپنے دوستوں اور ملاقاتیوں کو دکھاتا تھا اور اس کے بعد ان سے کہتا تھا‘ تم لوگ اس کے باوجود محکمہ ڈاک کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہو‘ میں لوگوں کو بہت عرصے تک خط دکھاتا رہا لیکن پھر ایک دن میری بیوی نے غصے میں آ کر یہ خط پھاڑ دیا‘ میں اسے اپنی زندگی کا بہت بڑا نقصان سمجھتا ہوں‘ خوشونت سنگھ نے اس طرح اپنی ’’اینڈو اسکوپی‘‘ کا واقعہ بھی لکھا۔

آپ اس واقعے کے آخر میں بھی ہنسی نہیں روک سکتے‘ سردار صاحب نے شاندار اور بھرپور زندگی گزاری‘ یہ بڑی سے بڑی بات بڑی آسانی سے کر جاتے ہیں اور آپ یہ بات سن کر حیران رہ جاتے ہیں‘ سردار جی نے اس کتاب میں اپنی طویل زندگی کے بارہ اصول لکھے ہیں‘ یہ بارہ اصول ان کی سو سالہ بھرپور زندگی کا نچوڑ ہیں اور یہ نچوڑ اس کالم کا اصل محرک ہے‘ خوشونت سنگھ نے دعویٰ کیا‘ انسان کی لمبی عمر کا جینز کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے‘ آپ کے بزرگ اگر لمبی زندگی پاتے ہیں تو آپ کی عمر طویل ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں آپ لمبی عمر حاصل نہیں کر سکتے‘ آپ اگر بارہ اصولوں پر عمل کریں تو آپ میری طرح طویل عمر پا سکتے ہیں‘ سردار جی کا کہنا ہے‘ آپ روزانہ کوئی نہ کوئی کھیل ضرور کھیلیں‘ اسپورٹس آپ کا معمول ہونی چاہیے‘ آپ کوئی مشکل کھیل نہیں کھیل سکتے تو آپ اسکوائش‘ ٹینس‘ بیڈمنٹن یا گالف کھیل لیں‘ یہ ممکن نہ ہو تو آپ ایکسرسائز کریں‘ یہ بھی ممکن نہ ہوتو آپ روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ تیز واک کریں‘ دوڑ لگائیں یا پھر تیراکی کریں‘ آپ کو روزانہ جسمانی مشقت بہرحال کرنی چاہیے‘ دوسرا اصول۔ آپ اگر کھیل نہیں سکتے تو پھر آپ روزانہ مساج کروائیں‘ یہ مساج سخت ہاتھوں سے کروایا جائے اور یہ پاؤں کی انگلیوں سے لے کر سر تک کیا جائے‘ یہ آپ کے خون کی گردش کو بہتر بنا دے گا اور یہ آپ کی صحت کے لیے اچھا ہو گا۔ تین‘ خوراک کا باقاعدہ معمول طے کریں‘ خوراک کم کھائیں لیکن اچھی کھائیں‘ خوشونت سنگھ نے خوراک کے معاملے میں اپنی مثال دی‘ ان کا کہنا ہے میں روزانہ صبح ساڑھے چھ بجے ناشتہ کرتا ہوں‘ دوپہر کو ہلکا لنچ کرتا ہوں‘ شام سات بجے ڈرنک کرتا ہوں اور آٹھ بجے رات کا کھانا کھاتا ہوں‘ میں دن کا آغاز امرود کے جوس سے کرتا ہوں‘ یہ ایک گلاس جوس کو معمول بنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ چار‘خوشونت سنگھ لا دین ہیں‘ یہ شراب کو غلط نہیں سمجھتے چنانچہ یہ شام کے وقت ایک پیک کو اپنی طویل عمری کی ایک وجہ قرار دیتے ہیں‘ ان کا خیال ہے‘ اس سے ان کے خون کی گردش اور ہاضمے کا نظام ٹھیک رہتا ہے‘ ہم مسلمان ہیں‘ ہمارے مذہب میں شراب حرام بھی ہے اور گناہوں کی ماں بھی چنانچہ میں ان کے اس چوتھے اصول سے سخت اختلاف کرتا ہوں‘ ہم مسلمان ہیں چنانچہ ہمیں خون کی گردش کو بحال رکھنے اور بڑھاپے میں ہاضمے کا نظام بہتر رکھنے کے لیے طب نبویؐ میں سے کسی چیز کا انتخاب کرنا چاہیے جس سے ہمارا بڑھاپا صحت مند رہ سکے۔ پانچ‘ آپ ہر کھانا کھانے سے قبل خود کو سمجھائیں‘ میں نے زیادہ نہیں کھانا‘ خوشونت سنگھ کھانا اکیلے اور خاموشی سے کھانے کے قائل ہیں‘ ان کا کہنا ہے‘ آپ جب لوگوں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں تو آپ کھانے کے بجائے لوگوں کو انجوائے کرتے ہیں اور یہ آپ کی صحت کے لیے ٹھیک نہیں‘ آپ اکیلے کھائیں گے تو آپ کھانے سے پوری طرح لطف اندوز ہوں گے۔ چھ‘ ایک وقت میں صرف ایک قسم کی سبزی یا گوشت کھائیں اور اس کے بعد کوئی دیسی چورن ضرور استعمال کریں۔ سات‘ بڑھاپے میں قبض سے بچ کر رہیں‘ یہ آپ کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے‘ آپ روز پیٹ صاف کر کے سوئیں۔ آٹھ‘ آپ کا بینک بیلنس ٹھیک ہونا چاہیے‘ بڑھاپے میں مناسب رقم آپ کو دماغی سکون دیتی ہے‘ آپ کے پاس اگر ضروریات اور علاج کے لیے رقم نہیں ہوگی تو آپ بے سکون ہو جائیں گے‘ آپ کی پریشانیوں میں اضافہ ہو جائے گا اور یہ پریشانی آپ کو بہت جلد بستر مرگ تک لے جائے گی چنانچہ آپ بڑھاپے کے لیے مناسب رقم بچا کر رکھیں۔ نو‘ آپ غصے سے بچ کر رہیں‘ آپ روزانہ قہقہے لگائیں‘ غصہ آپ کے بڑھاپے کو خراب کر دیتا ہے۔ دس‘ آپ جھوٹ بالکل نہ بولیں‘ جھوٹ انسان کی عمر کھا جاتا ہے۔ گیارہ‘ سخاوت کریں‘ آپ کا دل کھلا ہو گا تو آپ کی عمر میں بھی اضافہ ہو گا اور آپ کا بڑھاپا بھی اچھا کٹے گا‘ یہ یاد رکھیں آپ اپنے تمام اثاثے دنیا میں چھوڑ کر جائیں گے چنانچہ اپنے ہاتھ سے دینا شروع کر دیں اور بارہ ‘کوئی نہ کوئی شغل ضرور پالیں‘ باغبانی کریں‘ موسیقی سنیں‘ ضرورت مندوں کی مدد کریں یا بچوں کو پڑھائیں‘ آپ اپنے آپ کو ہر وقت مصروف رکھیں‘ آپ کا دماغ اور ہاتھ دونوں ہر وقت مصروف رہنے چاہئیں‘ یہ طویل عمری کے لیے ضروری ہے۔

یہ خوشونت سنگھ کی طویل عمری کے بارہ اصول ہیں‘ ہمیں ان صولوں سے اختلاف ہو سکتا ہے‘ یہ ہمارے خیالات‘ مذہب یا لائف اسٹائل سے متصادم بھی ہو سکتے ہیں اور یہ ضروری نہیں ہم ان تمام اصولوں پر عمل کریں لیکن اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے‘ خوشونت سنگھ کی عمر اس وقت ننانوے سال ہے‘ یہ آج بھی بھرپور زندگی گزار رہے ہیں‘ دنیا بھر سے لوگ ان سے ملاقات کرنے آتے ہیں‘ کروڑوں لوگ ان کو پڑھتے ہیں اور ان کے خیالات کی داد بھی دیتے ہیں‘ ہم ان کے خیالات سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر یہ سچ ہے‘ یہ جھوٹ نہیں بولتے‘ یہ ایسی ایسی خوفناک بات سیکڑوں ہزاروں لوگوں کے منہ پر کہہ دیتے ہیں جسے ہم تنہائی میں بھی بیان کرنے کی جسارت نہیں کر سکتے‘ خوشونت سنگھ نے اپنی کسی کتاب میں لکھا‘ ان کی والدہ کی آخری خواہش شراب کا ایک گھونٹ تھا‘ خوشونت سنگھ نے ماں کی یہ آخری خواہش پوری کی‘ ماں نے گھونٹ بھرا اور اس کی روح پرواز کر گئی‘ یہ حلیے سے سکھ ہیں‘ انھوں نے گولڈن ٹیمپل پر حملے کے بعد اپنے سرکاری اعزاز بھی واپس کر دیے لیکن یہ اس کے باوجود خود کو لادین کہتے ہیں‘ یہ غالب اور اقبال کے عاشق ہیں اور انھوں نے ان دونوں کے کلام کا بڑا حصہ انگریزی میں ترجمہ بھی کیا‘ یہ لاہور سے عشق کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے جس نے لاہور کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی‘ یہ بڑھاپے کے باوجود اس کی والدہ کے ساتھ بہت برا سلوک کریں گے‘ یہ پنجابی بولتے ہیں‘ انگریزی میں لکھتے ہیں‘ پاکستان کو یاد کرتے ہیں اور آج کل کھڑکیاں دروازے کھول کر موت کا انتظار کرتے ہیں‘ یہ انتہائی دلچسپ انسان ہیں‘ ہم ان کے خیالات سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن ہمیں اس کے باوجود یہ ماننا پڑے گا‘ یہ ننانوے سال کے عملی انسان ہیں اور یہ اپنی اس عملیت کو اپنے ان بارہ اصولوں کے نتیجہ قرار دیتے ہیں‘ یہ ہنسنا اور ہنسانا بھی جانتے ہیں‘ یہ دعویٰ کرتے ہیں جو انسان اپنے اوپر نہیں ہنس سکتا وہ کبھی اچھی اور بھرپور زندگی نہیں گزار سکتا‘ اس کی زندگی ‘زندگی کم اور سزا زیادہ ہوتی ہے چنانچہ ہو سکتا ہے ان کے یہ بارہ اصول یا پھر ان میں سے آٹھ دس اصول ٹھیک ہوں اور یہ واقعی طویل عمری اور شاندار عملی زندگی کے لیے ضروری ہوں‘ آپ اگر بوڑھے ہیں یا خوشونت سنگھ جیسی عملی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ ان اصولوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں