وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے!

مجید اصغر
مجید اصغر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

مقبوضہ کشمیر میں جسے گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈز میں کرہ ارض کا سب سے بڑا فوجی علاقہ قرار دیا گیا ہے‘8 لاکھ سے زائد بھارتی فوج اور دوسری سکیورٹی فورسز کے زیر حراست لاپتہ کشمیریوں کے والدین کی تنظیم اے پی ڈی پی نے انکشاف کیا ہے کہ اضلاع بارہ مولا، کپواڑہ، بانڈی پورہ، راجوری اور پونچھ میں سات ہزار کے قریب گمنام قبریں موجود ہیں۔ سرینگر حکومت کے محکمہ داخلہ کی فراہم کردہ تفصیلات میں بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ شمالی کشمیر کے اضلاع بارہ مولا، کپواڑہ اور بانڈی پورہ کے پولیس اسٹیشنوں میں گمنام قبروں کی موجودگی کے بارے میں 2683رپورٹیں (ایف آئی آر) درج ہیں۔ والدین کی تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان گمنام قبروں میں کئی اجتماعی قبریں بھی شامل ہیں جن میں سے ہر قبر میں پانچ سے سترہ تک افراد کو قتل کر کے دفن کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر درج کرنے کے باوجود پولیس نے گمنام قبروں کے بارے میں کوئی تحقیقات نہیں کی جس سے پتہ چلتا کہ ان میں کن لوگوں کو کس جرم میں قتل کر کے ڈالا گیا۔ یہ سات ہزار وہ قبریں ہیں جن کی متذکرہ اضلاع میں نشاندہی ہوئی ہے۔ ایسی ہی قبریں دوسرے اضلاع میں بھی موجود ہیں جن کے اعداد و شمار دستیاب نہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی تحقیق کے مطابق پورے مقبوضہ علاقے میں ایسی گمنام قبروں کی تعداد دس ہزار کے لگ بھگ ہے اور ان میں ہزاروں کشمیری پیر و جواں مدفون ہیں جنہیں سرکاری ایجنسیوں نے حریت پسند ہونے کے شبہے میں پکڑا، عقوبت خانوں میں اذیتیں دیں اور پھر جان سے مار کر خفیہ مقامات پر زمین میں گاڑ دیا۔

کشمیریوں کو زمین میں زندہ یا مردہ گاڑنے، زندہ کھالیں کھنچوانے، دریا برد کرنے یا گہری جھیلوں میں پھینک دینے کا ’’فن‘‘ مقبوضہ کشمیر کے قابض حکمرانوں کو تاتاریوں، ہنوں مغلوں، افغانوں، سکھوں اور سب سے زیادہ ڈوگروں سے ورثے میں ملا جنہیں تاریخ کے مختلف ادوار میں اس جنت ارضی کو تاراج کرنے کے مواقعے ملے۔ ڈوگرہ شاہی کا بانی گلاب سنگھ جو جموں کے آخری مسلمان چب حکمران سلطان خان کا معمولی سپاہی تھا اور سکھوں کے قبضے کے بعد رنجیت سنگھ کی حاشیہ برداری کے باعث جموں کا گورنر بن گیا تھا اس معاملے میں سب پر بازی لے گیا۔ اس نے انگریزوں سے وادی کشمیر خریدنے سے پہلے ہی قتل وغارت کے ذریعے ایک جلاد کے طور پر یہاں اپنی دھاک بٹھا دی۔

جموں و کشمیر میں پونچھ ایسا مردم خیز خطہ ہے جس کے غیرت مند اور شیردل لوگوں نے ہمیشہ اپنے دلوں میں آزادی کی شمع روشن رکھی اور ہر طرح کے ظلم و زیادتی کے خلاف سینہ سپر رہے۔ یہ 1824 کا واقعہ ہے پونچھ کا ایک جری مجاہد سردار شمس خان ملدیال اپنے جاں نثاروں کے ہمراہ رنجیت سنگھ کی سکھا شاہی کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا۔ رنجیت سنگھ نے مختلف اطراف سے پونچھ پر چڑھائی کر دی۔ اس کا گماشتہ گلاب سنگھ ڈوگرہ آزادپتن کے راستے مجاہدین کے مرکز منگ کی طرف بڑھا۔ شمس خان کے ساتھی سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان بے جگری سے مقابلہ کرتے ہوئے دشمن کے ہاتھ لگ گئے۔ گلاب سنگھ نے ان کی زندہ کھالیں کھنچوائیں، ان میں بھوسہ بھرا اور ایک درخت پر لٹکا دیں۔ وہ درخت آج بھی منگ میں موجود ہے اور اہل پونچھ کو دادِ شجاعت دے رہا ہے۔ گلاب سنگھ کے جانشین رنبیر سنگھ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بڑا ’’ علم دوست اور انصاف پسند‘‘ تھا۔ اس کے دور میں وادی کشمیر میں ہولناک ترین قحط پڑا۔ ہزاروں لوگ فاقہ کشی کا شکار ہو گئے۔ ان گنت لقمہ اجل بن گئے۔ ’’انصاف پسند‘‘ رنبیر سنگھ سے یہ سب کچھ نہ دیکھا گیا۔ اس نے خوراک مہیا کرنے کی بجائے بھوک کے مارے لوگوں کو پکڑ کر کشتیوں میں بٹھانا اور جھیل وولر میں ڈبونا شروع کر دیا۔ اس طرح جو بھوک سے نہ مرے وہ پانی میں ڈوب کر قید حیات سے نجات پا گئے۔

کشمیری عوام کی5ہزار سالہ معلوم ومرقوم تاریخ ویسے تو چند مستثنیات کے ساتھ ساری کی ساری حکمرانوں کے ظلم و جبر کی تاریخ ہے مگر جو مظالم ڈوگرہ راجاؤں نے خصوصاً ریاست کی 82فیصد آبادی کے حامل مسلمانوں پر ڈھائے ان کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ مسلمان مورخین کے علاوہ ہندو تاریخ نویسوں نے بھی بڑے دکھی دل سے ان کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ بہت سی تفصیلات شیخ محمد عبداللہ چوہدری غلام عباس پنڈت پریم ناتھ بزاز‘سردار محمد ابراہیم خان‘ سردار محمد عبدالقیوم خان اور دوسرے کشمیری زعما کی کتابوں میں ملتی ہیں جو انہوں نے کشمیر کی تحریک آزادی یا اس میں اپنے اپنے کردار کے حوالے سے لکھی ہیں۔1947 کے بعد پروان چڑھنے والی نسل کو ان تفصیلات سے آگاہ ہونا چاہئے تاکہ پتہ چلے کہ اس کے آباؤ اجداد کن اذیتوں سے گزرے‘کشمیری مسلمانوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف کیوں ہتھیار اٹھائے اور آج قابض قوت کے خلاف کیوں جان ومال کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ آزادکشمیر کی نوجوان نسل ان مصائب وشدائد کا تصور بھی نہیں کرسکتی جو ڈوگرہ راج کے سوسال میں مسلمانوں کا مقدر تھے۔

ڈوگرہ راجے اپنی مجلسوں میں مسلمانوں کی شکل بھی دیکھنے کے روادار نہ تھے۔ مسلمانوں کو ملیچھ‘ نجس اور ناپاک سمجھا جاتا۔ چند کاسہ لیسوں کا سوا حکومتی وسیاسی معاملات میں کسی بھی مسلمان کا کوئی عمل دخل نہ تھا‘ اس دورستم رانی میں جموں وکشمیر کے 38وزرائے اعظم مقرر ہوئے۔ ان میں ایک بھی مسلمان نہ تھا‘ اکثر علاقوں میں مساجد کی تعمیر اذان دینے اور مذہبی اجتماعات پر پابندی تھی۔ فوج صرف ڈوگرہ کیلئے مخصوص تھی‘ گورکھے اور پنجابی سکھ بھی اس میں ملازمت حاصل کرسکتے تھے مگر مسلمانوں کیلئے یہ شجر ممنوعہ تھی۔60فیصد گزیٹڈ سرکاری نوکریاں ڈوگروں اور باقی اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کو دی جاتیں۔ چھوٹی موٹی ملازمتوں پر بھی اکا دکا مسلمان ہی نظر آتے۔ بھوک اور افلاس کے مارے مسلمانوں کے پاس روزگار کا کوئی باعزت وسیلہ نہ تھا۔ ہندوستان میں شدھی کی تحریک کے نتیجے میں جموں وکشمیر میں بھی مسلمانوں کو زبردستی ہندوانہ رنگ میں رنگا گیا۔ بعض پہاڑی علاقوں میں ہندو اور مسلمان کی کوئی تمیز نہ تھی۔ مسلمانوں کی وضع قطع‘ لباس اور عادات بھی ہندوانہ بنا دی گئیں‘ ان کے گھروں میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں کثرت سے ملتیں جن سے مسلمان مرادیں مانگتے‘ بیگار کی ظالمانہ رسم نے بھی مسلمانوں کا جینا محال کر رکھا تھا۔ اس کی تفصیلات بیان کرنے کیلئے الگ کا لم درکار ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں