.

جب میں نے صدر مشرف کو قیدی بنے دیکھا

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ صدر مشرف نے کہا ہے کہ انہیں یہ خیال نہیں تھا کہ ان پر غداری کا مقدمہ چل سکتا ہے، اس لئے واپس چلے آئے۔ان کے مخالفین اس کا یہ مطلب لے رہے ہیں کہ مشرف صاحب کڑکی میں پھنس چکے۔مگر میںنے مشرف کو اس وقت بھی کڑکی میں پھنسے دیکھا تھا جب وہ منتخب صدر تھے۔

یہ دو ہزار آٹھ کی بات ہے، جون کا مہینہ تھا اور دوسرا ہفتہ۔ایک ٹی وی پروگرام میں عباس اطہر نے مجھے طعنہ دیا کہ تم مشرف کے کیسے حامی ہو کہ انہوں نے میڈیا کو اپنے ہاں بلایا مگر تمہیں نہیں بلایا اور اگلے روز مجھے بھی اسلام آباد سے بلاوا آ گیا۔ میرا خیال تھا کہ جو صحافی پہلی میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے، ان سے ملاقات کے لئے دوسری محفل سجائی گئی ہو گی ، مگرمیں اسلام آباد پہنچا تو پتہ چلا کہ میری میٹنگ ون ٹو ون ہے۔

میں نے وہاں پہنچ کر کچھ اور بھی دیکھا۔ ایک تو مجھے آنے جانے کی کوئی ٹکٹ نہیں دی گئی تھی۔دوسرے دارالحکومت کے کسی ہوٹل میں میرے لئے کمرہ بک نہیں تھا۔میں نے اپنے طور پر ایک سستے سے ہوٹل میں رات گزاری، اگلے روز میرا خیال تھا کہ مجھے کوئی لینے آئے گا، میں بار بار کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکتا۔ مجھے کوئی لیموز ین دکھائی نہیں دیتی تھی۔ میری مایوسی بڑھتی جا رہی تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرے ساتھ مذاق کیا گیا ہے۔ لیکن پھر سوچتا کہ دعوت تو خود جنرل راشد قریشی نے دی تھی۔

طویل انتظار کے بعد ایک شناسا چہرہ دکھائی دیا۔ یہ صاحب جنرل راشد قریشی کے دفتر میں کام کرتے تھے۔ اپنی چھوٹی سوزوکی کار میں آئے تھے اور اسی میں مجھے بٹھا کر پنڈی کی طرف چل دیئے۔ ہم آرمی ہاﺅس پہنچے۔ مجھے یوں لگا جیسے کسی جیل میں داخل ہو رہا ہوں۔ کچھ ہی عرصہ پہلے یہاں صدر مشرف کی ایک بریفنگ میں شرکت کر چکا تھا جس میں انہوں نے اپنے ایک سفر کی روداد سنانا تھی جو انہوں نے مشرق وسطی میں قیام امن کے لئے کیا تھا مگر بات انہوں نے وار آف ٹیرر کی شروع کر دی اور وہ سارا وقت امریکی ڈو مور کے تقاضوں پر برستے رہے۔ میں یہاں جنرل ضیا الحق کے دور میں صدیق سالک سے بھی ملنے آتا رہا تھا۔ لیکن اس وقت میرے سامنے جو آرمی ہاﺅس تھا، اس پر ویرانیوں کا گمان ہوتا تھا۔ جنرل راشد قریشی کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ سیٹ پر نہیں تھے۔ پتہ نہیں کتنی دیر میں وہاں اکیلا بیٹھا رہا۔ آخر راشد قریشی آئے، علیک سلیک کے بعد پوچھنے لگے کہ کیا محسوس کرتے ہو، میں نے کہا کہ آپ لوگ کسی قید خانے میں ہیں۔ کہنے لگے کیا مطلب، میں نے بتایا کہ آپ محاصرے میں نظر آتے ہیں، میں جب آرمی ہاﺅس میں داخل ہوا تھا تو ہر شخص نے مجھے کاٹ کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا۔انہوں نے کہا کہ کیا آپ یہ باتیں صاحب کو بھی بتا سکتے ہیں۔میں نے نفی میں جواب دیا۔ جنرل نے پوچھا کیوں نہیں۔ میں نے کہا کہ ایک انسان شدید بیمار ہو تو اس کی عیادت کے لئے آنے والا شخص اگر یہ کہہ دے کہ حضرت! آپ گھڑی دو گھڑی کے مہمان لگتے ہیں، اس کی موت نہ بھی آئی ہو تو اس کی جان یہ سنتے ہی نکل جائے گی۔ مجھے کسی کے سانحے کی ذمے داری بلا وجہ قبول کرنے کا کوئی شوق نہیں۔ اور میری صدر سے ویسے بھی کوئی بے تکلفی نہیں۔

میری صدر مشرف سے ملاقات ہوئی، میں بے چین تھا کہ یہ ملاقات جلدی ختم ہو لیکن لگتا تھا کہ صدر صاحب ویہلے ہیں، گھنٹہ گزر گیا، مزید پندرہ بیس منٹ اوپر ہو گئے۔ یا اللہ! ملک کے صدر کے پاس مجھ ناچیز کے لئے اتنا وقت۔ میں حیران تھا اور پریشان بھی۔ اب مجھے اپنے ملک کے صدر پر ترس آنے لگا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ صدر کے ذہن کے کسی گوشے میں اپنی تنہائی کا احساس جاگزیں ہے اور وہ مجھ سے یا کسی بھی دوسرے شخص کے ساتھ باتوں میں مصروف رہ کر اس احساس تنہائی کو کم کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ میں باتوں میں لگا رہا۔

اس طویل ملاقات میں کئی باتیں ہوئی ہوں گی، میں نے ملاقات کے حوالے سے دو تین کالم لکھے اور مسلسل دو ٹاک شوز میں شرکت بھی کی مگرایک ایجنسی کو نجانے کیا معلومات درکار تھیں کہ اس کا ایک ا فسر میری جان کو آ گیا۔ اس کا راز محسن گورایہ جانتے ہوں گے جنہوں نے مجھ سے میرے گھر کا فون اور پتہ پوچھا تھا اور ساتھ ہی میرا ٹیلی فون دھڑا دھڑ بجنے لگا، ظاہر ہے مجھے تنگ کیا جا رہا تھا، کیوں تنگ کیا جا رہا تھا، اس کی وجہ میری سمجھ سے باہر تھی، میں نے اس افسر سے لاکھ کہا کہ میں صدر پاکستان سے مل کر آیا ہوں، بھارتی صدر سے نہیں اور اب تو بھارتی صدر سے ملنے والوں کا بھی کوئی پیچھا نہیں کرتا۔ مجھ پر یہ عتاب کیوں۔

میں اتنا نا سمجھ بھی نہیں تھا۔ جان چھڑانے کے لئے ایک روز اس ایجنسی کے دفتر میں چلا گیا۔ وہاں متعلقہ افسر تو نہیں تھے لیکن بڑ ے صاحب سے رابطہ کر کے مجھے بتایا گیا کہ ان کے پاس میرے بارے میں کوئی ہدایات نہیں ہیں۔ اور اگر کوئی مجھے دوبارہ فون کرے تو اسے کہہ دوں کہ اپنے صاحب سے بات کرو۔ اس طرح میری جان چھٹ گئی اور میں سکون کا سانس لینے کے قابل ہو گیا لیکن میں رہ رہ کر اپنے آپ کو کوستا رہا کہ میں ایک ناپسندیدہ صدر سے کیوں ملا۔اس کی وردی اتر چکی تھی اورایک بار وردی اتر جائے توپھر ترکی تمام شد۔ مگر صدر کو اس بات کا احساس نہیں تھا اورنہ ان کے ارد گرد کوئی ایسا مصاحب موجود تھا جو انہیں اس تلخ حقیقت سے آگاہ کرتا۔

مشرف اس ملک کا آرمی چیف رہ چکا تھا، وہ مارشل لا نافذ کر کے ملک کا چیف ایگزیکٹو بھی بنا۔ چیئرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف بھی رہا۔ اس کے سر پر کئی ٹوپیاں تھیں، اسے صورت حال کا ادراک کرنے میں کوئی غلطی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ شیکسپیئر کہتا ہے کہ یہ دنیا ایک اسٹیج ہے، ہر انسان اپنا کردار ادا کرتا ہے اور رخصت ہو جاتا ہے، کسی کو دوام حاصل نہیں۔ مشرف کو گارڈ آف آنر دے کر رخصت کر دیا گیا، اسے دنیا نے بھی عزت دی اور وہ لیکچر دے کر ڈالر کمانے لگا، اسے یہ ساری عزت راس کیوں نہ آئی۔

مشرف کے ساتھ ملاقات میں، میں نے اگر اسے خوفزدہ دیکھا تو ڈاکٹر مجید نظامی سے، میں نے ان سے ملتے ہی کہا کہ میں دو ہزار دو میں آپ کی اس بریفنگ میں موجود تھا جس میں آپ نے کشمیر کے جہاد کو دہشت گردی قرار دیا تھا اور اس پر ڈاکٹر مجید نظامی نے آپ کو خبر دار کیا تھا کہ اگر آپ نے کشمیر کاز سے غداری کی تو اس کرسی پر آپ قائم نہیں رہ سکتے۔ مشرف نے میری بات سن کر کہا کہ نا بابا! بعد میں تو میں ان سے کبھی نہیں ملا۔

اب مشرف کو رحیم یار خاں میں اترنے والے خلیجی مہمان کے دورے کے نتیجے کا انتظار کرنا چاہئے، یا سعودی مہمان کی آمد کا انتظار کرنا چاہئے۔ وہ جو حماقت کر چکے ہیں، اس کی سزا بھگتیں یا معجزے کی دعا کریں۔

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.