.

جمہوریت اور حکمرانی

انجم نیاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمارے ملک میں کون سا اندازِ حکمرانی ہو نا چاہیے؟ برٹش کونسل کے ایک سروے، جس کی تفصیل قارئین کی ایک بڑی تعداد کے سامنے آچکی ہیں، کے مطابق پاکستانی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نظامِ شریعت کی حامی ہے۔ کیا ا س سے یہ مراد لی جائے کہ پاکستانی نوجوان بے حد مذہبی نظریات کے حامل ہیں یا پھر یہ کہ وہ جمہوریت سے بیزار ہیں۔ کیا وہ جمہوریت یا مذہب کی روح کو سمجھتے ہیں؟ کیا وہ انہیں ایک دوسرے کے متصادم قرار دیتے ہیں؟ یہ اتنے غیر اہم سوال نہیں ہیں جتنی آسانی سے انہیں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ درحقیقت میڈیا میں ان پر کچھ آرٹیکل لکھے گئے اور معاملہ نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے۔

اس پر بہت سے قنوطی لوگوں نے یہ کہہ کر معاملے کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی ہے کہ برٹش کونسل کے کیے گئے سروے کچھ علاقوں تک ہی محدود ہوتے ہیں، اس لیے ان کو تمام پاکستان کی رائے نہیں کہا جاسکتا۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ اس سروے کو چھوڑ دیں اور اپنے گرد ونواح موجود نوجوانوں سے اُن کی رائے دریافت کرنے کی کوشش کریں تو آپ کو احساس ہو گا کہ معاملہ اُس سے کہیں زیادہ سنگین ہے جتنا دکھائی دیتا ہے۔ بھٹو کے خلاف چلنے والی تحریک، ضیا دور اور پھر موجودہ جمہوریت کے سفر میں جس طرح مذہب کا ’’خانہ ‘‘ شامل کر لیا گیا ہے، وہ مذہب کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی مذموم کوشش ہے۔

اگر ماضی کو بھول کر حال کی طرف دیکھیں تو پاکستان کے بہت سے حلقوں سے منتخب ہونے والے افراد مذہبی پسِ منظر رکھتے ہیں۔ یہ ایک بری بات نہیں ہے لیکن اس کے برتے پر ووٹ لینا یقیناًبہت سے سوال اٹھا دیتا ہے۔ درحقیقت جس چیز نے پاکستانی نوجوان کو جمہوریت سے برگشتہ کیا ہے وہ مذہبی حلقوں کی طرف سے اس کے خلاف چلائی گئی مہم ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر پھیلے ہوئے دینی ادارے اور مساجد اُسے اسلامی نظام کے بارے میں بتاتے ہیں۔ تاہم اُسے یہ بات نہیں بتائی جاتی ہے کہ اسلام ، یا دنیا کا کوئی بھی مذہب، نظام نہیں اہداف مقرر کرتا ہے۔ مثلاً حکم ہے کہ تعلیم حاصل کرنا مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے لیکن تعلیمی نظام، نصاب، امتحانات کا شیڈول، اساتذہ کی بھرتی اور تنخواہیں وغیرہ تو انسانوں کی حکومت نے ہی طے کرنی ہیں۔ اسی طرح مذہب عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے لیکن عدالت کی عمارت، ججوں کی تعلیم ، تنخواہ، اوقات وغیرہ کے فیصلے انسانوں نے ہی کرنے ہیں۔ چناچہ نوجوانوں کو یہ بات باور کرانا ضروری ہے کہ نظام انسان ہی بناتے ہیں… مذہب احکامات دیتا ہے۔ گزشتہ کئی ایک صدیوں سے اگر ہم زمانے کے تقاضوں کے مطابق نظام اور ادارے بنانے میں ناکام رہے ہیں تو اس میں کس کا قصور ہے؟ چونکہ ہم ادارے نہیں بنا پائے ہیں، اس لیے ہمیں مجبوراً مغرب کی نقالی کرنا پڑتی ہے۔ ریاست کے نظام، جس کو عقیدے کے ساتھ گڈ مڈ کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے، کو بنانے کے لیے انسانوں کے اجتماعی رائے درکار ہوتی ہے۔ اب تک عوامی رائے حاصل کرنے کے لیے انتخابی جمہوریت سے بہتر کوئی نظام سامنے نہیں آیا ہے۔

بہرحال جمہوریت کے حق میں بہت سے دلائل دیے جاتے ہیں لیکن جب جمہوری حکمران آمریت ، اقرباپروری، بدعنوانی اور لاقانونیت کی راہ اپناتے ہیں تو پھر اس کی وکالت کیسے کی جاسکتی ہے۔ سرونسٹن چرچل کا کہنا ہے…’’جمہوریت کے خلاف حقیقت پر مبنی تنقید سننی ہو تو کسی بھی عام ووٹر سے پانچ منٹ کے لیے بات کرلیں، آپ پر سب حقیقت واضح ہو جائے گی۔‘‘ ہمارے ملک میں عوام کی اکثریت جمہوریت کی حامی تو ہے لیکن وہ اس سے مطمئن نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رہنما عوام کو باور کرادیتے ہیں کہ وہ ملک کو پیرس ، لندن یا سنگاپور بنا دیں گے، لیکن وہ انہیں یہ نہیں سمجھاتے کہ اُنھوں نے حکومت کو ٹیکسز بھی اداکرنے ہیں، قانون کی پاسداری کرنی ہے اور ریاست ان سے بطور شہری بہت سے مطالبا ت کرتی ہے۔ چناچہ جب عوام کو بتایا جاتا ہے کہ ووٹ ڈالتے ہی ان کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے لیکن اُنہیں حقائق سے بے خبر رکھا جاتا ہے۔ چناچہ کچھ دیر کے بعد وہ مایوس ہوجاتے ہیں۔ اسی دوران مذہبی قوتیں اُنہیں بتاتی ہیں کہ یہ لادینی نظام ہے تو اُنہیں اس پر کوئی شک نہیں رہتا ہے۔ ستم یہ ہے یہی مذہبی قوتیں جمہوری کے ذریعے وجود میں آنے والے نظام سے مفاد بھی حاصل کرتی ہیں۔

ایک جمہوری حکومت کا سب سے پہلا، اور شاید آخری ، فرض ریاست کے امور کی انجام دہی ہے۔ سب سے پہلے اس نے ریاست کے تمام علاقوں پر اپنی رٹ قائم کرنی ہے اور شہریوں سے واجب محصولات وصول کرنے ہیں تاکہ شہریوں کے فلاحی ریاست کا وعدہ پورا کیا جا سکے۔ جو جمہوریت امن و امان قائم کرنے میں ناکام رہتی ہے یا قاتلوں کے سامنے نرمی دکھاتے ہوئے صرف مذاکرات کی بات کرتی ہے یا دولت مند طبقوں سے ٹیکس وصول نہیں کرسکتی تو شہریوں کو اس کے خلاف احتجاج کرنے کا حق ہے۔ جمہوریت کا حسن یہ بھی ہے کہ یہ احتجاج کرنے کا حق بھی دیتی ہے۔

چناچہ اس وقت، جب کہ ملک میں میڈیا رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے قابل ہو چکا ہے، عوام کو بتانا چاہیے کہ ریاست نظام عقائد کا متبادل نہیں ہوتا ہے۔ درحقیقت عقائد افراد کا ان کے معبود سے تعلق واضح کرتے ہیں جبکہ ریاستی نظام ان کو ایک معاشرے میں رہنے کے قابل بناتا ہے۔ اکٹھا رہنے کے لیے ہر معاشرہ اپنے اپنے معروضی حالات کے مطابق کچھ قوانین وضح کرلیتا ہے۔ تمام شہری ان قوانین کی پاسداری کرتے ہیں اور ریاست اس بات کی یقین دہانی کراتی ہے کہ کسی شہری کی حق تلفی نہ ہو۔ اس کے علاوہ جمہوریت کا اور کیا مقصد ہوسکتا ہے؟

کیا ہم مغربی جمہوریت کے قابل نہیں ہیں ؟ کیوں نہیں؟ اگر ہم ان کی بنائی ہوئی گاڑیاں چلا سکتے ہیں، انکے کمپیوٹر استعمال کرسکتے ہیں، ان کے موبائل فون گاڑی چلاتے وقت بھی ہمارے ہاتھ سے نہیں چھوٹتے ہیں اور ان کے ممالک میں جانے کے لیے ہم کچھ بھی کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں تو ان کا اچھا نظام اپنانے میں کیا حرج ہے؟ ایک اور بات ، جارج برناڈ شا نے کیا عمدہ بات کی ہے…’’جمہوریت وہ نظام ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہمارے حکمران اُس سے بہتر نہ ہونے پائیں جن کے ہم مستحق ہیں۔‘‘ چناچہ جب آپ حکمرانوں کو برا کہتے ہیں کچھ دیر رک کر سوچا کریں کہ ہم سے کیا اور کہاں غلطی سرزد ہوئی ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.