.

سب گول مال ہے!

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہ بالآخر چلا ہی جائے گا، کئی ’’طاقتور‘‘ اُس کی پشت پر ہیں اور اُسے اپنے ساتھ لے جانے کیلئے بے تاب و بے قرار! پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اُسے ’’سزا‘‘ ہو جائے؟ سزا تو اُنہیں دی جاتی ہے جن کا کوئی ’’قصور‘‘ ہوتا ہے …صرف وکیل کے ’’قصوری‘‘ ہونے سے کسی کو خطا کار تو نہیں ٹھہرایا جا سکتا نا!… اصل ’’قصوری‘‘ تو’’شجاعت‘‘ کے ’’اعجاز‘‘ کے ساتھ تبدیلی کا ’’آفتاب‘‘ طلوع ہونے سے پہلے ہی’’شیرپاؤ، شیرپاؤ‘‘ کی آوازیں سن کراُسے پانے کی آس میں ملزم کو کب کا چھوڑ چلے تھے، پَر اِس کے باوجودوہ اصل ’’شیر‘‘ کو نہ پا سکے اور ’’شیرپاؤ‘‘ کا خواب چکنا چُور ہوگیا…کچھ نے ’’انصاف‘‘ کے پہلو میں پناہ لی تو کسی نے ڈیڑھ اینٹ کی ’’ترکیب‘‘ سے اپنا الگ ٹھکانہ بنایا اور جو باقی بچے وہ عزت بچانے کے لئے ’’قائد اعظم‘‘ ہی کے وفادار رہے۔

یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ صرف اُنہی کے ٹرائل کی ٹرائی کیوں کی جارہی ہے؟ کیا صرف اِس لئے کہ اُنہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کے بعد اُس دن کی راہ دیکھی جائے جب وہ بھی ’’ایک خط‘‘ تحریر کریں گے جس کا متن کم و بیش وہی ہو گا جو کبھی ’’کسی اور‘‘ کی درخواست کا ’’مافی الضمیر‘‘ تھا (اِسے ’’معافی الضمیر‘‘ بھی کہا جا سکتا ہے )…کچھ سماعتیں اِس بات کی طالب ہیں کہ وہ بھی ’’التجا‘‘ کریں، گڑ گڑائیں کہ ’’مجھ سے جیل کی تنہائی برداشت نہیں ہوتی، میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگلے دس برسوں تک یا تاحیات سیاست میں حصہ نہیں لوں گا، مجھے دبئی یا لندن (سعودی عرب اِن کے مزاج کوSuit نہیں کرتا) جانے کی اجازت دے دی جائے، باپ کی توبہ جو دوبارہ کبھی پاکستان آنے کا بھی سوچا‘‘…اور پھر ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ ہی دوسری جانب سے لیا جانے والا ’’انتقام‘‘ اپنے نتیجے تک پہنچ جائے گا…عدالت کی ساری محنت ’’اکارت‘‘ ہوجائے گی، ٹرائل کے دن تاریخ بن جائیں گے اور ’’صدرِ ممنون‘‘ کی جانب سے صرف ’’ایک دستخط‘‘’’چل جا! میں نے تجھے معاف کیا‘‘ نامی پروانۂ آزادی میں نئی روح پھونک دے گا…جس کے بعد لالے کی جان کو اسپتال سے ’’چک لالہ‘‘ لے جایا جائے گا جہاں ایک ’’خصوصی طیارہ‘‘ کمانڈو صفت پانڈو کو چپ چاپ اپنی آغوش میں چھپائے قوم کے لئے ’’نامعلوم‘‘ مگر حاکم و مجرم کو ’’معلوم‘‘ منزل کی جانب پرواز کرجائے گا۔

حق، سچ، انصاف اور غیر جانبدار…اِن الفاظ کی تکرار نے ہمیشہ ایسے ہی ’’حادثات‘‘ کو جنم دیا ہے، یہاں جب بھی کسی معاملے میں ’’انصاف، انصاف…سچ سچ…دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی‘‘ جیسی غیر مانوس آوازیں سنائی دیتی ہیں تو دل خود بخود نتیجے تک پہنچ ہی جاتا ہے کہ ’’بھیا سب گول مال ہے‘‘!…خصوصی عدالت مسلسل بلائے جا رہی ہے، چار سماعتوں سے منصف راہ تَک رہے ہیں کہ کب وہ آئیں گے اور کب فردِ جرم کا فیصلہ ہو گا لیکن وہ ہیں کہ آنے کو تیار ہی نہیں، اِتنی سیکورٹی کے باوجود اُن کے گھر کی ’’بغلوں‘‘ سے ہر دوسرے دن ’’دھماکہ خیز مواد‘‘ مل جاتا ہے جس کے ذریعے غیر محسوس انداز میں عدالت کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ’’ہمارے موکل کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ عدالت کو جائیں؟‘‘…اب کل جب منصفینِ کرام کا پیمانۂ صبر لبریز ہوا اور اُنہوں نے ’’سختی‘‘ سے پیش ہونے کو کہا تو’’مارو یا مرجاؤ‘‘ کا درس دینے والے پیشی کیلئے گھر سے نکلے، تھوڑی دُور تک ہی چلے تھے کہ سینے میں درد اُٹھا، ٹیسوں نے سرگوشیاں کیں کہ ’’کمانڈو! گاڑی موڑ لو، تمہاری منزل عدالت نہیں، اسپتال ہے، بس ایک بار وہاں داخل ہوجاؤ، روز روز کی صدائے پیشی سے جان چھوٹ جائے گی اور یاد رکھو کہ سیاست نگری میں اسپتال سے باہر نکلنے کا دوسرا دروازہ سیدھا ایئرپورٹ تک جاتا ہے اور ویسے بھی تمہاری آخری منزل ایئرپورٹ ہی تو ہے، چلو شاباش! جلدی سے بستر پر لیٹ جاؤ اور خبردار جو یہاں کسی سے بھی کہا کہ میں ڈرتا وَرتا کسی سے نہیں ہوں، تمہاری اِنہی ہیکڑیوں کے سبب آج تمہیں یہ دِن دیکھنے پڑ رہے ہیں،چُپ چاپ بستر پر دراز رہنا اور جب تک ’’وکیل شریف‘‘ نہ کہیں تکیے سے سَر اُٹھا کر دیکھنے کی بھی کوشش نہ کرنا‘‘…اور یوں اب وہ’’خیر سے‘‘ اسپتال میں ہیں!!

میں دعا گو ہوں کہ اللہ اُنہیں جلد از جلد ’’صحت یاب‘‘ کرے اور جس مقصد کیلئے اُنہوں نے ’’اتنی محنت‘‘ کی ہے ،میرا رب اُنہیں اِس میں کامیاب کرے… آخر ’’انسانی ہمدردی‘‘ بھی کوئی شے ہے ،ایک شخص ملک سے جانے کیلئے اِتنے پاپڑ بیل رہا ہے اور’’حاکم شریف‘‘ ہیں کہ کچھ سننے کو ہی روادار نہیں، بس ختم کیجئے یہ ساراکھیل،آپ حکمرانوں کا دراصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ ’’پرانے اسکرپٹ‘‘ میں ذرا سا ردوبدل کر کے اُسی ’’کاسٹ‘‘ کے ساتھ’’بلاک بسٹر‘‘ پھینکنے کی کوشش کرتے ہیں جو ظاہر ہے کہ ’’اچھا بزنس‘‘ کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکتی، کھڑکی توڑ تو بہت دُور کی بات ہے …کہانی میں جان ہی نہیں ہے ،بے بس بیٹا، بیمار والدہ،مقدمات کی بھرمار،وکلامیں لڑائی اور بدلے کی جنگ…اِتنے بوسیدہ پلاٹ پر تیسرے درجے کی کاسٹ کے ساتھ اِس فلم کا ہٹ ہونا ممکن ہی نہیں، کمانڈو کو چھوڑ کر تمام کردار ’’اوور ایکٹنگ‘‘ کر رہے ہیں، صرف کمانڈو نے اپنے کردار کے ساتھ انصاف کیا ہے…دیکھا جائے تو یہ کہانی ’’تین شریفوں‘‘ کے گِرد گھوم رہی ہے …پہلے’’حاکم شریف‘‘ دوسرے ’’سپہ سالار شریف‘‘ اور تیسرے’’وکیل شریف‘‘…حاکم شریف متقاضی ہیں کہ وہ کمانڈو کو لاچاری کے عالَم میں سلاخیں تھامے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، اِسی طرح اُن کے کلیجے میں سلگتی آگ ٹھنڈی ہو سکتی ہے جبکہ سپہ سالار شریف کی خاموشی حاکم شریف کو مشورہ دے رہی ہے کہ ’’رو کو مت، جانے دو‘‘…یہ اور بات ہے کہ ’’حاکم شریف‘‘ نے غلط سمجھنے کی اپنی ’’قدیم روایت‘‘ کو برقرار رکھتے ہوئے اِسے یوں سمجھ لیا ہے کہ ’’روکو! مت جانے دو‘‘!باقی بچے ’’وکیل شریف‘‘ ! تو اُن کا اِس مقدمے میں نمودار ہونا ہی اِس بات کا مظہر ہے کہ ’’کوئی چاہتا ہے کہ کمانڈو کو محفوظ راستہ دے دیا جائے‘‘۔

بھئی اب یہ ’’کوئی‘‘ کون ہے؟میرا خیال ہے کہ اِشاروں اِشاروں میں آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے حالانکہ کمانڈو کو ’’نام‘‘ نہیں لینا چاہئے تھامگر کیا کریں کہ کمانڈو کی ایک یہی عادت تو اُن کی کمزوری ہے کہ وہ پیٹ میں بات رکھ ہی نہیں سکتے، اُن کی انتڑیوں میں ایسا کوئی محفوظ مقام نہیں جہاں ’’راز‘‘ باقی ماندہ آرام دہ زندگی گزار سکیں، یہ شروع ہی سے ’’باتیں پھوڑتے‘‘ آئے ہیں جس کے سبب آج اُن کی قسمت اِس مقام پر پھوٹی ہے …خیر! ابھی صورتِ حال اِتنی بھی نہیں بگڑی کہ سنبھل نہ سکے،ہر کام منصوبے کے مطابق ہی ہو رہا ہے اور بہت جلدہم ’’ڈراپ سین‘‘ کی ’’لال پٹیاں‘‘ اپنے ٹیلی ویژن اسکرین پر دیکھ سکیں گے جہاں ’’ایمبولینس سے طیارے تک‘‘ کا سفر دکھایا بھی جائے گا اور سنایا بھی جائے گا۔
چلتے چلتے ایک ’’بھولے بادشاہ‘‘ کا ذکر نہ کروں تو کالم کا حق ادا نہ ہوگا،اِس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ ہمارے پیارے وزیر دفاع اِنتہائی معقول اور معجون صفت انسان ہیں،جنہیں دیکھتے اور سنتے ہی انسان اپنے اندر توانائی کی لہریں محسوس کرنے لگتاہے …اِس لئے بھائی جان حامد میر کے معروف پروگرام ’’کیپیٹل ٹاک‘‘ میں اچھا لگا جب اُنہوں نے ارشاد فرمایا کہ ’’فوج کو بیان جاری کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں وزیر دفاع ہوں، میں کہہ رہا ہوں کہ فوج مشرف کے ساتھ نہیں ہے،آئی ایس پی آر کا یہ کام نہیں کہ وہ جواب دیتی پھرے‘‘…بھولے بادشاہ! تسی وی کنے بھولے ہو، نا مینوں ہک گل تے دسو! وزارتِ دفاع اُس وقت کیوں خاموش تھی جب آئی ایس پی آر کو منور حسن صاحب کے ’’خیالات‘‘ کا جواب دینا پڑا، آپ نے تب آکر یہ کیوں نہیں کہا کہ ’’میں کہتا ہوں کہ ہر فوجی شہید ہے، یہ آئی ایس پی آر کا کام نہیں کہ وہ ہر ایرے غیرے کو جواب دینے بیٹھ جائے‘‘…!

بھولے بادشاہ! بہتر ہے کہ یہ کام بھی آپ آئی ایس پی آر پر ہی چھوڑ دیں، وہ اگر تردید کر دے تو لازم ہے کہ ہم اُسی کو مانیں اور اگر خاموش رہے تو شریعت کی رو سے ’’خاموشی‘‘ کا مطلب ’’اقرارِ نکاح‘‘ کے سوا اور کچھ نہیں…!!!

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.