.

چین کی افغان پالیسی

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اپنی جارحانہ ایشیائی پالیسی کے ایک حصے کے طور پر چین، افغانستان میں کہیں زیادہ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران چین نے اپنی سفارتی اور معاشی سرگرمیوں میں بہت حد تک اضافہ کر لیا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ چین اپنی سابقہ سست رو پالیسی کو ترک کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔یہ واحد بڑ ی قوت ہے جس کی سرحد افغانستان کے بالکل قریب ہے۔ اس وقت چین کی افغان پالیسی، حال ہی میں اپنے سرحدی علاقوں، خاص طور پر ژنجیانگ صوبے کی حفاظت اور مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ کی طرف سے علیحدگی پسند کارروائیوں کو روکنے پر مبنی ہے، جس کا رابطہ افغانستان میں لڑنے والے عسکریت پسندوں سے ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے افغانستان کے ساتھ باہمی تعاون کو بہت حد تک فروغ دیا ہے۔

اب جبکہ افغانستان سے نیٹو اور امریکہ کی مشترکہ افواج کی واپسی کے لیے تاریخ مقرر کی جا چکی ہے، افغانستان میں چین کی طرف سے سفارتی اور معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ ایک چینی آفیسر کے مطابق ، اس وقت چین منتظر ہے کہ افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج واپس چلی جائیں اور پھر افغانستان کے ہمسایوں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ افغانستان کے امن اور سلامتی کے لیے مربوط اور مشترکہ کوششیں کریں۔ افغانستان میں چینی سرگرمیوں پر مشتمل لائحہ عمل چار عناصر پر مشتمل ہے یعنی امن اور سلامتی کا فروغ، معاشی ترقی میں تعاون، سیاسی مصالحت کی معاونت اور بین الاقوامی تعاون کی مضبوطی۔

چین کی افغان پالیسی کے چار عناصر میں سے ایک عنصر کے لحاظ سے بیجنگ کے انداز فکر اور عملی سرگرمیوں کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ چینی سفارت کاروں کے نزدیک اگلا سال غیر یقینی صورت حال سے بھرپور ہے۔ اپریل 2014ء میں صدارتی انتخابات کا پرامن انعقاد، افغانستان کی اس صلاحیت کے لیے اہم ہے کہ ملک کی سلامتی کا انتظام نیٹو افواج سے افغان افواج کے حوالے کیا جائے۔ بیجنگ نے واشنگٹن اور کابل کے درمیان باہمی سلامتی کے معاہدہ کے لحاظ سے ایک محتاط حیثیت تشکیل دینے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ اس معاہدہ پر دستخط ہونے کے بعد 2014ء کے بعد افغانستان میں نیٹو افواج کی موجودگی کا جواز پیدا ہوجائے گا۔ چینی سفارت کاروں کا موقف ہے کہ کابل اپنے طور پر آزادانہ فیصلہ کر سکتا ہے لیکن ان کا اصرار ہے کہ ہمسایہ ممالک کے سلامتی کے خدشات کو بھی دور کرنا چاہیے۔ بیجنگ کی نازک حیثیت چین کی طرف سے اس کوشش کی عکاس ہے کہ دو مختلف خدشات کے درمیان توازن پیدا کیا جائے۔

پہلے خدشہ یہ ہے کہ اگر افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج کی واپسی کے بعد حالات نہ سنبھالے گئے تو پھر سلامتی کے متعلق خلا پیدا ہونے کا امکان ہے، دوسرا خدشہ ، علاقے میں مغربی افواج کی کھلی یا طویل المدت موجودگی ہے جس کے متعلق چین کو شدید تحفظات ہیں۔ افغانستان کے متعلق چین کی توقعات کا کھلا اظہار اس مشترکہ بیان سے ہوتا ہے جو 2013ء میں کرزئی کے بیجنگ کے دورے کے بعد جاری کیا گیا۔ اس بیان کے ذریعے دونوں فریقوں نے عزم کیا کہ وہ اپنی اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔ عرصہ درازسے ہی چین کا یہ موقف ہے کہ افغانستان کا فوجی حل ممکن نہیں۔ چین سیاسی مصالحت کی حمایت کرتا ہے، نیز وہ افغانستان کی سیاسی قوتوں اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی بھی حمایت کرتا ہے تاکہ اس خطے میں پائیدار امن کے لیے حل تلاش کیا جائے۔ بیجنگ کی طرف سے طالبان کے بارے میں غلط فہمیوں کے باوجود بیجنگ کی یہ خواہش ہے کہ طالبان، افغانستان میں پرامن استحکام کے امن مذاکرات میں شریک ہوں۔

چینی حکام کا خیال ہے کہ نیٹو افواج کی واپسی کے لیے تاریخ مقرر ہونے کی صورت میں مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجہ پر پہنچنے کے لیے وقت بہت محدود ہے۔ لیکن اپریل کے انتخابات سے قبل سفارتی کوششیں تیزتر ہو جانی چاہئیں اگرچہ مذاکرات کے لیے امکان بہت حد تک معدوم ہیں۔ چین کی اب خواہش ہوگی کہ وہ دوحا میں مذاکرات کے انجماد کے باعث پیدا ہونے والی مایوسی پر قابو پانے کی کوشش کرے اور مصالحت کے لیے افغانستان کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرے۔ اس ضمن میں چین، افغانستان کی کئی ایک سیاسی قوتوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ وہ کسی پرامن حل کی طرف بڑھیں۔ بہرحال اس کا انحصار اس امر پر 2014ء کے بعد طالبان کابل کے ساتھ بدستور لڑتے رہیں گے یا کابل کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ سنہ 2002ء سے چین نے افغانستان کی معاشی ترقی اور تعمیر نو میں فعال انداز میں حصہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ چین کی طرف سے افغانستان کی مالی معاونت کا اظہار، افغانستان میں بہت سے ترقیاتی منصوبوں میں شرکت سے بھی ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ 2002ء ہی سے چین نے افغانستان میں امن کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی معاونت کی ہے اور اب وہ افغانستان کے ہمسایوں کی طرف سے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے لحاظ سے اپنے لیے ایک بڑا اور اہم کردار ادا کرنے کی تیاری میں مصروف ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.