.

افغانستان میں قیدیوں کی رہائی کا معاملہ

حسن اقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سال 2014ء کا آغاز ہو چکا ہے جس طرح پاکستان کے لیے 2013ء کا سال بڑی بڑی تبدیلیوں کا سال تھا۔ اسی طرح 2014ء افغانستان کے لیے بڑی تبدیلیوں کا سال ہے۔ اس سال میں امریکی اور غیر ملکی افواج کا ممکنہ طور پر انخلا ہے۔ افغانستان میں انتخابات متوقع ہیں جس کے تحت ایک نئی حکومت عمل میں آئے گی۔ موجودہ افغان صدر جو طویل عرصہ سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں رخصت ہو جائیں گے۔ آنے والے انتخابات میں وہ حصہ نہیں لے سکیں گے کیونکہ اس سے قبل وہ دوبار بذریعہ انتخابات صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی وہ نامزد صدر رہ چکے تھے۔ لیکن وہ عبوری دور تھا اور اسے آئین کے مطابق ہونے والے انتخابات کے عرصہ میں شامل نہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ جو مشکل صورت حال جنم لے رہی ہے وہ امریکی، ایساف افواج اور افغانستان کی حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات ہیں۔ یہ اختلافات بڑھنے کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ایک بڑا تنازع جو پہلے سے چل رہا تھا۔ وہ امریکہ اور افغانستان میں اگلے دس سال کے لیے تھا جس کے تحت امریکی افواج کے دستوں نے 2024ء تک افغانستان میں قیام کرنا تھا۔ یہ معاہدہ ایک لمبے عرصے تک زیر بحث رہا۔ جب اس پر اتفاق ہوا اور اسے لویہ جرگہ نے بھی منظور کر لیا تو افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ معاہدہ اب تک افغان صدر کے پاس دستخط کے لیے موجود ہے۔ امریکہ نے ہر سطح پر کوشش کی لیکن تاحال معاملات حل نہیں ہو سکے ہیں۔ اگر اس معاہدے پر دستخط نہیں ہوتے تو امریکی فوجوں کا 2014ء کے بعد افغانستان میں قیام مشکوک ہو سکتا ہے۔ اگرچہ جب امریکی فوجیں افغانستان میں آئی تھیں تو اس وقت بھی امریکہ کا افغانستان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں تھا اور شاید اب بھی بغیر معاہدے کے امریکی فوجیں افغان سرزمین پر اپنا قیام جاری رکھیں گی۔ لیکن جس خوش اسلوبی سے معاہدہ کی جزئیات طے کی گئی تھیں۔ اس طرح سے اس معاہدے کو نہ تو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے اور امریکی پالیسی ساز اس بات پر پریشان ہیں کہ اس مسئلے کا حل کیسے نکالا جائے کیونکہ ایسے مسائل میں پلان بی اگرچہ ہوتے ہیں لیکن اتنی اہمیت کے حامل نہیں ہوتے۔

جہاں معاہدہ پر دستخط کا مسئلہ موجود ہے۔ وہیں ایک تازہ ترین مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ افغان حکومت نے بعض ان قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔۔۔ اور بعض دوسروں کو رہا کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ جنہیں ایساف اور امریکی فوجوں نے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ان میں ایسے قیدی بھی شامل ہیں جو امریکی فوجیوں پر حملوں اور قتل میں شامل ہیں۔ ان قیدیوں کی تعداد فی الحال 85 بتائی جا رہی ہے۔ ان اطلاعات سے امریکی فوجی جو ابھی تک افغانستان میں موجود ہیں سخت خوف و ہراس کا شکار ہو چکے ہیں۔ امریکی حکومت کو الگ پریشانی لاحق ہے کیونکہ اگر 2014ء کا معاہدہ طے پا گیا تو اس صورت میں بھی پیچھے رہنے والے فوجیوں کو سخت خطرات لاحق ہوں گے۔ افغانستان میں موجود امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ قیدی براہ راست امریکی اور ایساف فوجیوں پر حملے اور قتل میں ملوث ہیں۔

بلکہ انہوں نے افغان فوجیوں پر بھی حملے کیے ہیں۔ اس لیے انہیں رہا کرنا ایک خطرناک عمل ہے جس سے سکیورٹی خطرات میں اضافہ ہو جائے گا لیکن ان قیدیوں کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے جو کمیشن قائم کیا گیا ہے وہ امریکی مؤقف سے مختلف ہے۔ تین رکنی کمیشن کے مطابق صرف ان قیدیوں کو چھوڑا جا رہا ہے جن کے خلاف کوئی شہادت منظر عام پر نہیں آئی۔ اس لیے ان قیدیوں کو رہا کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ کمیشن نے اب تک 650 قیدیوں کو یا تو رہا کر دیا ہے یا انہیں رہا کرنے کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔ ان میں وہ 85 خطرناک قیدی جن کا تذکرہ امریکی حکام کر رہے ہیں شامل ہیں۔ امریکی حکام کا مزید مؤقف یہ ہے کہ یہ قیدی 117 امریکیوں کے قتل میں براہ راست یا بالواسطہ ملوث ہیں۔ اگر افغان حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ان کے خلاف مؤثر شہادتیں موجود نہیں تو اس پر مزید کام کر کے مزید شہادتیں بھی دی جا سکتی ہیں۔ ان قیدیوں نے نوجوان لڑکوں کو بھرتی کر کے خود کش حملے کروائے ہیں۔ بم چلوائے ہیں اور فائرنگ کر کے قتل و غارت کی ہے۔ ان قیدیوں کو رہا کرنے کے معاملات اس وقت سے چل رہے ہیں جب پچھلے سال مارچ میں ایک حکمت عملی کے تحت افغانستان کی جیلوں کا نظام افغانستان کی حکومت کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ ان قیدیوں کو رہا کرنے کے بعد انہوں نے دوبارہ اپنے گروپ تشکیل دینے شروع کر دیے ہیں اور اگر یہ صورت حال نہ روکی گئی تو حالات ایک بار پھر بے قابو ہونے جا رہے ہیں۔

امریکیوں کے اس مؤقف میں کسی حد تک وزن ہے کہ ان قیدیوں کو رہا نہیں کیا جانا چاہیے لیکن یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ان قیدیوں کے خلاف وہ شہادتیں بھی موجود نہیں ہیں جن کے بغیر انہیں قید میں رکھنا قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے اور دوسری طرف جب جنگ جاری تھی تو ایسے جرائم کرنے والے قیدیوں کے خلاف قانونی ثبوت حاصل کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔ بہرحال یہ ایک خطرناک صورت حال ہے جس کا اثر براہ راست افغانستان کی آئندہ سیاسی صورت حال پر پڑ سکتا ہے۔

آئندہ انتخابات میں رہا کیے جانے والے 650 قیدی جو کہ جنگ کی تربیت حاصل کیے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں ایک دفعہ پھر جنگی نقشہ پیدا کر سکتے ہیں۔ امریکی فوجیوں کے لیے یہ خطرناک اس لیے ہے کہ واپس جاتے ہوئے فوجیں مزید کمزور پوزیشن میں ہوتی ہیں اور ان پر حملہ کرنا آسان ہوتا ہے۔ اگر امریکہ اور افغانستان میں معاہدے پر دستخط نہ ہوئے تو اس صورت میں معاملات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی کس منصوبہ بندی کے تحت معاہدے پر دستخط نہیں کر رہے اور کس حکمت عملی کے تحت ان قیدیوں کو رہا کر کے ان کی ہمدردیاں حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے خدوخال بھی واضح ہونا شرو ع ہو گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ افغان صدر ایک بار پھر ماوراء آئین اپنے دوراقتدار کو آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ امریکی فوج اگر افغانستان میں موجود رہی اور انتخابات ہو گئے تو حامد کرزئی صدر نہیں بن سکیں گے۔البتہ امریکی فوج چلی گئی اور حالات خرابی کی طرف خدانخواستہ گئے تو شاید ’’لوگ‘‘ حامد کرزئی کے کام آ سکیں۔ لیکن صدر صاحب کو یاد رکھنا چاہیے کہ خطرناک صورت حال میں ہر کوئی سخت خطرے سے دو چار ہوتا ہے۔ چاہے وہ صدر کیوں نہ ہو۔ تاریخ اس امر کی گواہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.