.

میں ہی تو ایک راز تھا

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہ جو ڈرتے ورتے ہرگز نہیں تھے کسی سے بھی یعنی خواہ وہ وزیر اعظم بھی کیوں نہ ہو اپنے سامنے کوئی بِلّا دیکھ کر اس قدر بوکھلا گئے ہیں کہ پہلے تو ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے، جسم سُن ہوتا ہوا محسوس ہوا اور حالت اس قدر بگڑی ہوئی دکھائی دی کہ روانہ تو عدالت کو ہوئے تھے جا پہنچے اسپتال میں کیونکہ عدالت میں بھی تو وہ بھیانک مناظر سامنے آ سکتے تھے بلکہ بہت زیادہ کُھل کر جن کی وجہ سے ڈرنا ورنا لَوٹ آیا تھا۔ گھبراہٹ کے اس عالم میں حالت اس قدر بگڑ گئی کہ اپنے بچاؤ کا آخری پتہ بھی بہت جلدی میں اور وقت سے بہت پہلے ہی پھینک دیا کیونکہ ڈرنے ورنے نے پوچھنا شروع کر دیا تھا کہ یہ تم ہی تھے جو نہ ڈرتے تھے نہ ورتے تھے۔ اب بتاؤ اب بھی ڈرتے ورتے ہو یا نہیں۔

یاد آ رہا ہے کہ ڈر ور سے محفوظ جرنیل دِلّی کا بیٹا تھا اور اردو اس کی حقیقی ماں کی بولی تھی لیکن وہ اردو کا سرپرست ہونے کے باوجود اردو والوں کی جماعت سے دور رہتا تھا اور فوجی نوکری میں ایسا ہی ضروری تھا لیکن یہ رسمی دوری حقیقی تو نہیں تھی۔ جب بھی جرنیل کے خلاف کوئی معمولی سی ہلکی سی بات بھی لکھ دی جاتی تو بڑی نستعلیق زبان اور لہجے میں شکوہ پہنچ جاتا تھا۔ ویسے بھی اندازہ یہی تھا کہ اس جرنیل کا اگر کسی سیاسی جماعت سے کوئی واسطہ ہے تو وہ ایم کیو ایم ہی ہے۔ اب جب ان پر فرضی سا بُرا وقت آیا جس میں وہ اپنے فارم ہاؤس کے محل سے نکل کر اسپتال کے بستر پر دراز ہو گئے اور اتنے گھبرا گئے اور اتنے گھبرا گئے کہ مخفی راز بھی افشاء کرنے لگے اور سات سمندر پار لندن سے سب سے بڑی دھمکی کے ساتھ ملفوف سفارش آئی کہ اگر ہمارے جرنیل کو سزا دینی ہے تو ان کے ساتھی دوسرے بھی تھے ان کو بھی پکڑیں اور اس طرح دوسروں کے نام لے کر جرنیل کو بھی معاف کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

جناب الطاف حسین صاحب کی پوری تقریر ہی پرانے رازوں کو افشاء کرنے والی تھی۔ سینۂ کائنات میں ایک ہی راز تھا جو فاش کر دیا گیا، بڑی ہی عجلت میں اور ایک زبردست دھمکی کے ساتھ۔ کوشش یہ کی گئی کہ ان کی اس تقریر سے ملک کی جان پر بن جائے‘ ملک میں جو انتشار پہلے سے موجود ہے اسے دیکھ کر ہی اس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ میں نے پاکستان کے ایک ٹی وی چینل پر دِلّی میں الطاف صاحب کی ایک تقریر سنی تھی اسے ہی دوسرے الفاظ میں اب بیان کیا گیا ہے۔

میں ایم کیو ایم کے بارے میں کچھ نہیں لکھتا اور شاید پہلی بار کالم میں اس کا ذکر کر رہا ہوں۔ کراچی میں آباد مہاجرین بھائیوں کی اس جماعت کے قیام کے بارے میں مجھے براہ راست معلومات حاصل ہیں۔ کسی فوجی حکمران کا سب سے بڑا اور بنیادی جرم تو خود اس کا اقتدار ہوتا ہے لیکن بعض فوجی جیسے تیسے بھی اقتدار میں تو آ جاتے ہیں کچھ اچھے برے کام بھی کر جاتے ہیں اور کچھ اچھے بھی۔ مثلاً ایوب خان نے ملک کی صنعت و زراعت کی ترقی میں شاندار کام کیا تھا جسے بعد میں بھٹو صاحب نے قومیا کر ختم کر دیا۔ اس کے بعد ضیاء الحق آئے تو کچھ نظریات کا دعویٰ لے کر بھی آئے۔ سوویت یونین کے ساتھ ان کی بدسلوکی کا ذکر میں بار بار کر چکا ہوں لیکن انھوں نے ایک اور کام بھی کر دیا اور کراچی میں جماعت اسلامی کے اثرات کو کمزور کرنے کے لیے اس کے مقابل ایک جماعت کھڑی کر دی۔ اس جماعت کو کھڑا کرنے والے نے ایک فضائی سفر کے دوران مجھے پوری تفصیلات سے بڑے فخر اور کارنامے کے طور پر آگاہ کیا تھا۔

اب چونکہ یہ اس سے مُکرتے ہیں اس لیے میں ان کا نام نہیں لکھتا اور ان کی بزرگی کا احترام کرتا ہوں۔ جنرل ضیاء کے اس کارنامے کی سزا ہم بھگت رہے ہیں۔ ہم لوگ جو اپنے مہاجرین کی خاص عزت کرتے ہیں جو ایک نادیدہ ملک کی محبت میں گھر بار چھوڑ کر آئے ہیں۔ سچی بات ہے میں ہوتا تو ایسا ہرگز نہ کرتا۔ اپنی جدی پشتی زندگی کو کسی بڑے ہی اعلیٰ مقصد کے لیے ترک کیا جا سکتا ہے جیسے قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے کیا تھا اور جہاں سے مہاجرین اور انصار کی اصطلاحیں سامنے آئی تھیں لیکن کون داد دے سکتا ہے کیونکہ میں تو ہمارے ہاں آنے والے مہاجرین کی قربانی کے اعتراف کے الفاظ بھی نہیں پاتا لیکن بجائے اس کے کہ وہ ہماری قیادت کرتے اپنی قربانیوں کو ہمارے لیے مشعل راہ بناتے وہ دل جلا دینے والی باتیں کر رہے ہیں کیا ان کی قربانیوں کی قیمت صرف کسی ایک فرد کی رہائی ہے۔ میرے خیال میں وہ ہمیں ایک تاریخی قیادت سے محروم کر رہے ہیں۔ ہمارا ملک کسی مجرم اور دیار غیر میں مقیم سے زیادہ قیمتی ہے۔ پاکستان لاکھوں مہاجروں کا وطن عزیز۔

بشکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.