.

بڑھکوں کا امتحان

طلعت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کو یہ مقدمہ بھگتنا چاہیے۔ عدالت میں یہ تاریخ بننی چاہیے کہ آپ آئین کے ساتھ من پسند کا کھیل نہیں کھیل سکتے۔ یہ فیصلہ ہو جانا چاہیے کہ عوام کے نمایندگان چاہے جیسے بھی ہوں غیر نمایندہ طاقتوں کے ہاتھوں ذلیل خوار نہیں ہو سکتے۔ ووٹ کو طاقت سے نہیں مار بھگایا جا سکتا۔ فرد واحد عوام کی منشاء پر مٹی ڈال کر خود کو طاقت کے عالی شان ایوانوں میں بادشاہ وقت نامزد نہیں کر سکتا۔ میرے لیے اس مقدمے کا فیصلہ اتنا ہی اہم ہے جتنا کسی بھی ٹیکس دینے والے پاکستانی کے لیے ہو سکتا ہے۔ ہم میں سے جو بھی قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالتے ہیں اور پھر سال ہا سال اس امید پر اپنی سیاسی دنیا قائم کرتے رہتے ہیں کہ اب ہمیں مزید مخمصوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ چاہیں گے کہ اس مرتبہ انصاف کا بول بالا ہو۔ آئین کو توڑنے والے کو سزا ملے اور اِس کے ساتھ ساتھ یہ روایت ختم ہوں کہ بڑے مجرم بیرونی سفارشوں کے ذریعے اس ملک سے نکل جانے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔

عام پاکستانی یہ سب کچھ ہوتا ہوا دیکھنا اس وجہ سے بھی چاہے گا کہ وہ خود تو ہر وقت قانون کی زد میں رہتا ہے، کبھی ٹریفک کا سارجنٹ اُس کو پکڑ لیتا ہے اور کبھی وہ پولیس کے ناکہ پر دھر لیا جاتا ہے جہاں پر گاڑی میں موجود یا موٹر سائیکل پر بیٹھے ہوئے خواتین اور بچو ں پر ٹارچوں کی لائٹیں مارتے ہوئے پولیس والا اُس سے ہر قسم کا سوال کرنے کا مجاز ہے۔ دو ہزار ٹیکس نہ دینے پر ٹیکس والے اُس کو نادہندہ قرار دے دیتے ہیں۔ اور اگر وہ غلطی سے قرضے کے ذریعے اپنی زمین کو کاشت کر کے ادائیگی کی قسط میں چند ہفتوں کی تا خیر کا مرتکب ہوتا ہے تو جیل اُس کا مقدر ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ اگر انصاف واقعی ہی اندھا نہیں ہے اور اس نظام کا دل تعصب سے سیاہ نہیں ہو چکا تو پھر جنرل پرویز مشرف کو بھی اپنا کیا بھگتنا پڑے گا۔ ذاتی طور پر بطور صحافی میں اس مقدمے کو عدالت میں چلتا ہوا اس وجہ سے بھی دیکھنا چاہتا ہوں تا کہ ہمیں معلومات ملیں۔ ہم یہ جان سکیں کہ اس ملک کی تاریخ میں ہونے والے بڑے بڑے فیصلے کیسے کیے جاتے ہیں۔ کون کس طرح نظام کو تبدیل کرتا ہے اور وہ سوچ کیسے ذہنوں سے ابل کر کاغذ پر آ جاتی ہے جس کے سامنے قانون، آئین، ضابطے سب کچھ بے وقعت قرار دے دیا جاتا ہے۔

یہ مقدمہ چلے گا تو یہ بھی پتہ چلے گا کہ کیا ایسے فیصلوں کو کر نے والے صرف فوجی حکام ہیں یا افسر شاہی اور سیا سی چوہدری بھی اِس میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ جنرل مشر ف کے ساتھ ان اداروں کے نمایندگان بھی مقدمے کے اس عمل میں بلو ائے جائیں گے جن کے پاس اُن تمام معاہدوں اور خفیہ بات چیت کا ریکارڈ موجود ہے۔ جن کے ذریعے جنرل مشرف نے اپنے نظام کو طویل عرصے کے لیے چلا یا۔ نواز لیگ سمیت تما م سیاسی جماعتوں میں سے وہ کون تھے جو باہر جمہوریت کی بڑھکیں لگا تے تھے اور اندر خا نے پنڈی والوں کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنستے کھیلتے اپنے معاملات طے کرتے تھے۔ ہم یہ بھی جان پائیں گے ۔ بڑا دلچسپ ہو گا یہ مقدمہ اس وجہ سے بھی کہ لوہے کے پر دے کے پیچھے ہونے والا جوڑ توڑ بھی کھل کر سامنے آئے گا۔ ہمیں یہ بھی معلومات ملیں گی کہ سعودیہ اور امارات کے خصوصی ایلچیو ں کے ساتھ کیا اور کیسی بات چیت ہو تی ر ہی۔ امریکا کو ہم نے اس مقدمے کے ضمن میں کیا اشارے دیے ہیں۔ صحافی معلومات کے بغیر اندھا ہوتا ہے۔ مقدمہ کی تفصیلات وہ دو آنکھیں بن جائیں گی جن کے ذریعے میں اور میر ے ہم پیشہ دوست حالیہ تاریخ کے اوراق کو کھنگال پائیں گے۔

اس لیے مجھے دلی خوشی ہے کہ میاں محمد نواز شریف، محترم خواجہ آصف اور قابل احترام وزیر اطلاعات پرویز رشید صاحب سب نے جنرل مشرف کو کسی قسم کی خاص سہولت فراہم کرنے کے امکان کو رد کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نے ریاست اور آئین کو اس مقدمے میں بطور مدعی کے طور پر بیان کر کے قوم کے سامنے ایک ایسے استقلال کا مظاہرہ کر دیا ہے جو کسی طور متزلزل نہیں ہو گا۔ وزارت داخلہ نے صہبا مشرف کی اس درخواست کو کہ اُن کے شوہر کا نام ای سی ایل سے ہٹا دیا جائے نہ مان کر معاملات اور بھی واضح کر دیے ہیں۔ ظاہراً نواز لیگ نے وہ تمام تسلیاں دی ہیں جو اِس قوم کو ملنی چاہیے تھیں۔ سپریم کورٹ اپنے تفصیلی فیصلہ میں جنرل مشرف کے اقدامات کو قابل گرفت معاملہ قرار دے چکی ہے۔ ویسے بھی جس جرم کی گواہ تمام دنیا ہو اُس پر قانونی چارہ جوئی کرنے میں کتنا وقت صرف ہو سکتا ہے۔ فیصلہ طے شدہ ہے، تفصیلات باقی ہیں۔ جنرل مشرف اسپتال میں ہو یا فارم ہائوس میں دنیا میں ایک نہیں درجنوں ایسے مقدمات چلے ہیں جہاں پر ملزم کی غیر موجودگی میں فیصلے سنائے گے۔ عدالت کے سامنے پیش نہ ہو کر جنرل مشرف وقت تو لے سکتے ہیں لیکن احتساب سے چھٹی نہیں مل سکتی۔ اس طرح جج صاحبان کا کام بھی آسان ہے۔

اب دیکھنے کا معاملہ صرف ایک ہی ہے کہ جنرل مشرف کے مقدمہ کا نتیجہ بھی وہی نکلے گا جس کے بارے میں موجودہ حکومت نے کوہ ہمالیہ سے بھی بڑی ضمانتیں دی ہوئی ہیں۔ یا پھر تمام توقعات، وعدوں، نعروں اور اصولوں کی گردان کے باوجود ویسا ہی ہو گا جیسا ہمارے یہاں ہمیشہ ہوتا ہے۔ اس ضمن میں مجھے ایک اور مقدمے کا خیال آ رہا ہے جس پر نواز لیگ کی اعلیٰ قیادت پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان اور عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان سب متفق تھے کہ اس سے زیادہ سنجیدہ مسئلہ کوئی ہے ہی نہیں۔ میاں محمد نواز شریف مدعی بنے۔ جنرل (ریٹائرڈ) اشفاق پرویز کیانی اور جنرل (ریٹائرڈ) شجاع پاشا بطور آرمی سربراہ اور آئی ایس آئی چیف دونوں نے دستخط شدہ بیان حلفی جمع کروائے۔ اور عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان نے سماعت شروع کی۔ میمو گیٹ سکینڈل پاکستان کی ریاست کے خلاف ایک بد ترین سازش قرار پایا۔ میڈیا نے بھی خوب اچھل کود کی، ہم سب نے یہ سمجھا کہ اس میں با لآخر گندے بیرونی ہاتھ اور اُن کی کٹھ پتیلیاں سامنے آ جائیں گی جو ملک کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر پھر کیا ہوا؟ حسین حقانی آرام سے ملک سے باہر چلے گئے۔ اور آج کل اُلٹی سیدھی کتا بیں لکھ کر دنیا میں خود کو دانش ور کے طور پر مشہور کرانے میں مصروف ہیں۔دونوں جرنیل صاحبان ریٹائرمنٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ اور میاں نواز شریف کو شاید یاد بھی نہ ہو کہ وہ کبھی اپنے وکلاء کے ہمراہ مدعی بھی بنے تھے۔ لہذا ہم سب کو ہر قسم کے غیر متوقع نتیجے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس ملک کا نظام ایک حیرت کدہ ہے اور اس پر اثر انداز ہونے والے لوگ سامری جادوگر سے بھی زیادہ باکمال ہیں۔ حکومت وقت نے دعو ے تو بہت کر دیے ہیں۔ چند دنوں میں پتہ چل جائے گا کہ یہ حقیقی مقدمہ ہے یا محض ایک بڑھک۔

بشکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.