.

ایک اور ریمنڈ ڈیوس؟

طارق بٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو جس انداز میں ایک ڈیل کے ذریعے پاکستان سے نکال کر امریکہ کے حوالے کیا گیا اس سے نوازشریف کو بھی بڑی سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا اگرچہ وہ اس وقت حکومت میں نہیں تھے لیکن ان کے چھوٹے بھائی شہبازشریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔ اتفاق کی بات ہے کہ جب یہ ڈرامہ رچایاگیا تو نوازشریف لندن میں تھے اور انہوں نے اس پر ناراضگی کا بھی اظہار کیا تھا تاہم اس سے ان کو سیاسی طور پر نقصان تو ضرور ہوا تھا اور ان پر الزام لگا تھا کہ وہ بھی اس ڈیل کا مکمل طور پرحصہ ہیں۔ وزیراعظم بننے کے بعد یہ واقعہ ہر وقت نوازشریف کے ذہن پر سوار رہاہے۔ اس کی یاد انہیں بڑی شدت سے اس وقت آئی جب انہوں نے جنرل (ریٹائرڈ )پرویز مشرف پر سنگین غداری کا مقدمہ قائم کیا اور کچھ طاقتیں نہیں چاہتیں کہ اس پر مزید کارروائی ہو۔

انہیں احساس ہے کہ اگر سابق صدر کو بھی ایک دوسرا ریمنڈ ڈیوس بنادیا گیا تو عوامی سطح پر ان کو بڑی خفت ہوگی خصوصاً اس وجہ سے کہ انہوں نے سابق جنرل کے خلاف مقدمے کے بارے میں سخت موقف اختیار کیاہے جو کہ یقیناً آئین اور قانون کے مطابق ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیاہے کہ مشرف بے گناہ ہے یا مجرم فیصلہ عدالت کرے گی ٗ غداری مقدمے میں اصل مدعی ریاست اور آئین ہے ٗ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ 3نومبر 2007ء کو پاکستانی ریاست کی توہین ہوئی ہے یا نہیں ٗ آئین پامال کیاگیا یا نہیں اور اگر قانون کی نظر میں سب برابر ہیں تو ہر شہری کو عدالت کے سامنے جواب دہ ہونا چاہئے۔یہ کہہ کر دراصل انہوں نے تمام اندرونی و بیرونی عناصرکو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ مشرف کو ملک سے نہیں جانے دیں گے جب تک کہ وہ غداری کے مقدمے کا سامنا نہ کریں اور اب پاکستان میں آئین اور قانون کا بول بالا ہے۔ کچھ سیاستدانوں کے بیانات کہ مشرف کو ہر صورت پاکستان سے نکال لیا جائے گا بھی نوازشریف کو چڑا رہے ہیں۔ تاہم ان حضرات کے ذہن میں بدلا ہوا پاکستان نہیں ہے ۔

اگر نوازشریف حکومت اور پاک فوج کے تعلقات میں مشرف کی وجہ سے ہلکی سی بھی دراڑ آتی ہے تو اس سے صاف ظاہر ہو گا کہ ریٹائرڈ جنرل اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے کیونکہ وہ جب سے مارچ 2013ء میں پاکستان آئے ہیں ان کی یہی کوشش رہی ہے کہ ان کی وجہ سے حکومت اور فوج میں لڑائی ہو جائے جس سے وہ اس انجام سے بچ سکیں جو آئین اور قانون ان کیلئے تجویز کرتا ہے۔ ابھی تک پاک فوج مشرف کے خلاف مقدمات خصوصاً سنگین غداری کیس پر مکمل خاموش ہے مگر جس انداز میں انہیں راولپنڈی کے ملٹری اسپتال میں اس دن لے جایاگیا جب وہ اپنے چک شہزاد فارم ہائوس سے خصوصی عدالت جا رہے تھے ظاہر ہوتاہے کہیں نہ کہیں ان کے لئے اس حد تک نرم گوشہ ضرور موجودہے کہ انہیں موجودہ خطرناک صورتحال سے نکال لیا جائے۔ وہ یقیناً فوج کے لئے بھی پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں کیونکہ ان پر مقدمہ چلنےسے ایک دروازہ کھل جائے گا جب کہ بعض لوگوں کا گمان یہ ہے فوج نہیں چاہتی کہ ایسا ہو۔ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے وزیر اعظم سے لے کر وزیر دفاع اور وزیر اطلاعات و نشریات تک سب واضح کر چکے ہیں کہ مشرف کو آئین اور قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر مشرف کے خلاف کیس کی وجہ سے بظاہر فوج ایک مشکل صورتحال میں ہے تو حکومت بھی کسی بہت زیادہ اچھی حالت میں نہیں ہے کیونکہ اگر وہ مشرف کو پاکستان سے جانے دیتی ہے تو اسے ایک بڑے سیاسی نقصان کا سامنا ہو گا اور اگر وہ ان کا ٹرائل جاری رکھتی ہے تو ممکنہ طور فوج کے ساتھ معمول کے تعلقات کا رہنا کافی مشکل دکھائی دیتا ہے۔

اگر مشرف کے کچھ وکلاء کے بیانات کو سنجیدگی سے لیا جائے تو یہ صاف ظاہر ہو رہاہے کہ مشرف ہر صورت پاکستان سے روانہ ہونا اورفوجداری مقدمات خصوصاً سنگین غداری کے کیس سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ مشرف کی وہ بہادری جس کا بڑا چرچا رہا ہے اور جس کا اظہار وہ بار بار یہ کہہ کرتے رہے ہیں ’’میں کسی سے ڈرتاورتا نہیں ‘‘ اب مکمل طورپر ٹھس ہو چکی ہے یہاں تک کہ وہ یہ برداشت کرنے کے قابل بھی نہ رہے کہ وہ خصوصی عدالت میں اپنے خلاف غداری کی چارج شیٹ بھی سن سکیں۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی والدہ محترمہ بیمار ہیں ،نہ صرف بزرگ خاتون بلکہ مشرف بھی چاہتے ہیں کہ وہ کچھ وقت اکٹھا گزار سکیں۔ تاہم اس بارے میں حکومت پہلے ہی یہ پیش کش کر چکی ہے کہ وہ ان کی والدہ کو پاکستان لانے کے لئے وزیراعظم کا خصوصی جہاز یا ایئر ایمبولینس دینے کو تیار ہے تاکہ وہ اپنے ملک میں اپنے بیٹے کے ساتھ رہ سکیں یہاں ان کے لئے علاج کی تمام سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی مگر مشرف اس کے لئے تیار نہیں ہیں۔ان کی اہلیہ محترمہ بیگم صہبا نے وزارت داخلہ کو درخواست دے دی ہے کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹایا جائے تاکہ وہ پاکستان سے باہر جاسکیں مگر حکومت کسی قیمت پر بھی ایسا کرنے کو تیار نہیں۔
مشرف اس لحاظ سے بھی بدقسمت ہیں کہ ملک کی نہ ہی کوئی بڑی اورنہ ہی کوئی چھوٹی سیاسی جماعت کھل کر ان کی حمایت کرنے کو تیار ہے۔ صرف قاف لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے ہمدردی کے کچھ بول بولے ہیں۔

تاہم متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین اپنے مخصوص انداز میں سابق آرمی چیف کی زور شور سے حمایت میں لگے ہوئے ہیں جس میں خاص طور پر مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مگر ان کے کچھ بیانات بے وقت کی راگ ہیں ۔وہ کبھی کہتے ہیں مہاجروں کیلئے سندھ میں نیا صوبہ بنایا جائے اگلے ہی دن اس سے مکر جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سندھ ان کی ماں ہے اور ماں تقسیم نہیں ہو سکتی۔ ویسے تو یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ الطاف حسین ایک بیان دیں اور پھر اس سے پھر جائیں ایسایہ وہ بہت بارہا کر چکے ہیں ۔ اب ان کا تازہ فرمان ہے کہ حقوق نہیں دینے تو سندھ کو ون اور ٹو بنا دیا جائے ٗ پیپلزپارٹی سندھ ون میں مزے اڑائے اور ہمیں سندھ ٹو میں جینے کا حق دے۔ان کے ایسے بیانات کا صرف ایک آدھ دن ہی چرچا رہتا ہے اور تمام ٹی وی چینل بھی اس پر بحث مباحثے میں لگ جاتے ہیں مگر اصل مسئلہ یعنی مشرف کے خلاف سنگنین غداری کا مقدمہ پر توجہ مبذول ہی رہتی ہے۔ الطاف حسین کے فرمودات کامقصد مشرف کے خلاف کیس سے توجہ ہٹانے کے علاوہ اپنے حمایتیوں کو بھی اعتماد دینا اور اکٹھا کرنا ہے تاکہ وہ یک سوئی سے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیں۔تاہم ایسی باتیں خطرناک ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.