.

زیادہ بزدل کون ہے؟

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم جانتے ہیں کہ سیاست دان ڈوبتے جہازوں سے چھلانگ لگا دیتے ہیں اور پھر مڑ کر بھی نہیں دیکھتے۔ اس ضمن میں تاریخ ہمارے سامنے لا تعداد مثالیں رکھتی ہے۔ چنانچہ ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اصلی سیاست دان سے دلیری کی توقع عبث ہوتی ہے۔ تاہم الحمدللہ، مسلح افوا ج کے جوان اور افسران نے بھی متعدد اوقات میں ثابت کیا ہے کہ جب موقع پرستی وقت کی ضرورت ہو تو وہ بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتے ہیں۔انہیں اکیڈمیز میں پڑھایا جاتاہے کہ سب سے پہلی چیز کردار کی مضبوطی ہے، باقی تمام چیزیں، بشمول پیشہ وارانہ مہارت، ثانوی ہیں لیکن جب عملی زندگی میں چڑھتے سورج کی پوجا اور ڈوبتے سورج سے منہ موڑنے کاموقع آتا ہے تو پھر وہ بھی اپنے سیاست دان بھائیوں سے پیچھے نہیں رہتے ہیں۔

ایک عشرہ تک خود کو فیلڈ مارشل اور صدر کے عہدے پر براجمان رکھنے والے ایوب خان کو جب رخصت ہوناپڑا تو ارد گرد کو ئی مصاحب دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ان کے ایوان سے قدم باہر نکالتے ہی ان کی جماعت ’’کنونشن لیگ ‘‘ ایسے تحلیل ہوگئی جیسے موسم ِ گرما میں تپتی زمین پر گرنے والا پانی کا قطرہ ۔ سیاست دانوں کو چھوڑیں،ان کے ہاتھوں میں پلے ہوئے جنرل ، جیسا کہ یحییٰ خاں ، بھی ان سے منہ موڑ گئے۔ یحییٰ خاں نے بھٹوکے ساتھ مل کر ایوب خان سے چھٹکارا پانے کے لئے سازش کی۔ اس وقت دونوں اپنے اپنے تئیں ہوشیاری دکھا رہے تھے لیکن بھٹو زیادہ چالاک نکلے اور اُنھوں نے یحییٰ خاں کو مات دے دی۔ جب جنگ میں شکست کے بعد بھٹو مغربی پاکستان میں اقتدار پرفائز ہوئے تو یحییٰ خاں اپنی رہائش گاہ، ہارلے اسٹریٹ ، تک محدود ہوگئے۔ وہاں ان کی ڈھارس بندھانے والا کوئی نہیں تھا۔ جب وہ اقتدار میں تھے تو ہم ان کے ’’جرات مندانہ کاموں‘‘ سے واقف تھے تاہم جب ہیرو زیروہوتا ہے تو تاریخ کا بے رحم صفحہ اُسے چھوڑ کر آگے پلٹ جاتا ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ معزول ہونے کے بعد وہ اپنے گھر میں نظربند تھے، اس لیے ان تک رسائی حاصل کرنا ناممکن تھا، لیکن کیا تمام نامہ بر ختم ہوگئے تھے ؟

جنرل ضیا الحق وہ واحد فوجی حکمران تھے جن کی ’’ضیا‘‘ موت کے بعد بھی پاکستان کو شعلہ بار رکھے ہوئے ہے۔ اسکی بنیادی وجہ ہے کہ ان کی وراثت خفیہ اداروں کے ذریعے نظریاتی پیرائے میں زندہ و جاوید ہے۔ آئی ایس آئی ، جنرل حمید گل، جو ضیا کے شاگرد ِ خاص ہیں، اور پاکستان مسلم لیگ، جس کی قیادت میاں نواز شریف کے پاس ہے، ان نظریات کی من وعن حفاظت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ اس طرح عسکری اور سیاسی طور پر جنرل ضیا کی وراثت کو دوام نصیب ہوا۔ ضیا کے عقیدت مندوں کے گروہ میں شامل ہونے کی ایک وجہ پی پی پی سے نفرت بھی تھی۔یہ ماضی کی بات ہے، آج جب جنرل حمید گل اور پی ایم ایل ن کے رہنمائوں کی باتیں سنیں توایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں ضیا نامی کوئی حکمران نہیں تھا اور یہ کہ جمہوریت اور 1973 کا آئین انہی افراد کی عطا ہے۔ پھر ہم اس ملک میں جمہوریت کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں جہاں حمید گل اور خان روئیدادخان جیسے لوگ جمہوریت کے چیمپئین قرار پائیں؟ان کے ماضی کو دیکھیں اور پھر آج کل ان سے جمہوریت سے محبت کا اظہار سنیں تو جی چاہتا ہے کہ انسان سر پیٹ لے اور دیوانہ وار قہقہے لگائے۔

آج کل ایک اور مرد ِ آہن کی قسمت کے ستارے گردش میں ہیں۔ایک مرتبہ پھر حیرت کی بات یہ ہے کہ دفاعی اداروں کے ہاتھوں پلے ہوئے سیاست دان ہی اس کے خون کے پیاسے ہورہے ہیں جبکہ بہت سے میڈیا پرسنز بھی ان کے ہم آواز ہوکر جمہوریت کا علم دونوں ہاتھوں سے بلند کررہے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے شاید اُن کو یاد نہیں کہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب وہ اسی ’’قلب ِ بیمار‘‘ پر دل وجان سے فدا تھے۔ شاید اسی لئے ڈیگال نے کہا تھا...’’ میں جتنا انسانوں کے بارے میں جانتاہوں، مجھے اتنے ہی کتے اچھے لگتے ہیں۔ ‘‘جہاں تک ریاست کے چوتھے ستون کے مجاہدوں کا تعلق ہے تویقیناً ان کے سروں پر دفاعی اداروں سمیت، کسی کابار نہیں ۔ ان کا ضمیر ان سے بہت کچھ کہتا ہوگا۔ فوج کی اکیڈیموں میں تو کردار سازی پر بہت زور دیا جاتا ہے اور آج فوج کی اعلیٰ کمان میں بہت سے ہوں گے جنھوں نے مشرف سے فائدہ اٹھایا تھا۔ اب جبکہ سابقہ کمانڈو کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں تو وہ لوگ کہاں ہیں؟جب بہارچلی جائے تو کیا درخت کاٹ دینے چاہئیں ؟

اس دنیا میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں پنڈی، اسلام آباد، لاہور کے کینٹ اور ڈیفنس ایریا، جو کہ رہائشی علاقے میں، سے زیادہ ریٹائرڈ فوجی افسران پائے جاتے ہوں گے۔ تاہم آج جب ٹیکس چور اور بنک ڈیفالٹر سیاست دانوں کے ہاتھوں ایک سابق آرمی چیف غداری کی پاداش میں’’ محدود انصاف ‘‘ کی زد میں ہے تو ہر طرف ہوکا عالم ہے۔ عام مجرم بھی اپنے ’’جیسوں ‘‘ ،چاہے ان سے ان کا واجبی سا تعلق ہی کیوں نہ ہو، کا ساتھ دیتے ہیں۔ اس وقت مشرف کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہے۔ اسے دیکھ کر انسانی فطرت کے بارے میں یقین ہوجاتا ہے ...’’ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔‘‘ق لیگ کے سیاست دانوں اور اراکین ِ پارلیمنٹ کوبھول جائیں کہ ’’کاغذی پیرہن ہر پیکر ِ تصویر کا‘‘، لیکن خاکی وردی پہننے والوں کو کیا ہوا؟

ایک وقت تھا جب فوج میں بھٹو اور پی پی پی مخالف جذبات پائے جاتے تھے ، تاہم آج ایسا کچھ نہیں ہے۔ آج ان کے نجی زندگی میں جو بھی جذبات ہوں، کچھ لوگ کہتے ہیں فوج اس معاملے پر زیادہ پریشان نہیں ہے۔ اگر فوج کا یہ رویہ جمہوریت کی بالا دستی کی خاطر ہے تو یہ حیرت انگیز بات ہے۔ اگر کسی جنرل کا کسی قومی معاملے پر احتساب ہورہا ہوتا تو دفاعی ادارے اس کی اجازت نہ دیتے... ماضی اس بات کا گواہ ہے۔ وزیر ِ اعظم گزشتہ دنوں بہاولپور میں کہہ رہے تھے کہ ہر کسی کو قوم کے سامنے سچ بولنا چاہئے۔ بہت اچھی بات ہے لیکن کیا بہتر نہیں کہ اس کے لیے اپنی مثال پیش کرتے ہوئے قوم کو صاف صاف لئے گئے قرضوں کی تفصیل بتادی جائے۔

تاہم اب یہی کہا جاسکتا ہے کہ مشرف کو عدالت کے سامنے جرأت کے ساتھ پیش ہونا چاہئے اور نتائج کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ ایک اور بات، ہم کوئی کمزور قوم نہیں ہیں۔ ایک نو سال کا بچہ ، ہنگو کا اعتزاز حسین موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکرا سکتا ہے تو ہم کن مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ تاہم ہمارے سیاست دانوں کو توفیق نہیں ہوئی کہ کوئی سامنے آکر اس کی تعریف کرتا اور قوم کچھ دیر کے لیے عدالت اور مشرف کو بھول جاتی ۔آج کیا یہ سوچنے کا مقام نہیں کہ زیادہ بزدل کون ہے؟ کم از کم نوسالہ بچے نے ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.