.

الطاف بھائی کے 9 نکات اور میرے سوالات

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایم کیو ایم کی تحریک زوروں پر تھی تو ایک نعرہ زبان زدعام ہوا’’وفا کرو گے وفا کریں گے، جفا کرو گے جفا کریں گے، ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے‘‘ الطاف بھائی سے لاکھ اختلافات سہی لیکن انہوں نے یہ عہد کبھی نہیں توڑا۔اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آج اس کڑے وقت میں جب سایہ بھی پرویز مشرف کا ساتھ چھوڑ گیا ہے تب بھی الطاف بھائی منطق واستدلال کے ساتھ ان کا مقدمہ لڑرہے ہیں۔چند روز قبل انہوں نے پرویز مشرف پر آرٹیکل 6کے تحت کارروائی کیخلاف 9نکات پیش کئے جن کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔

پرویز مشرف تو 12اکتوبر 1999ء کو ہوائی جہاز میں سوار تھے،ان کی آمد پر فوجی جرنیلوں کا اجلاس ہوا جس میں آئین کی معطلی کا فیصلہ کیا گیاتو اکیلے پرویز مشرف کو سزا کیوں دی جا رہی ہے؟عبوری آئین کے مطابق پی سی او کے تحت جسٹس سعید الزماں صدیقی سمیت 6ججوں نے حلف اٹھانے سے انکار کر دیا جبکہ جسٹس افتخار سمیت 6جج صاحبان نے پی سی او کے تحت حلف اٹھا لیا۔آئینی و قانونی ماہرین اس بات کا جواب دیں کہ ان ججوں نے کس آئین کے تحت پی سی او کا حلف اُٹھایا اور آئین کی کس شق کے تحت 12کتوبر کے اقدامات کی توثیق کی؟ 12اکتوبر کو وزیراعظم اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے پرویز مشرف کی جگہ جنرل ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف مقرر کر چکے تھے مگر کور کمانڈروں نے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور آئین کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف حکومت کا تختہ الٹ دیا بلکہ ضیاء الدین بٹ کو بھی گرفتار کر لیا تو ان ملزموں پر آرٹیکل چھ کااطلاق کیوں نہیں کیا جاتا ؟ 12اکتوبر کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دینے کے بجائے صرف 3نومبر کی ایمرجنسی پر مقدمہ کیوں چلایا جا رہا ہے؟ جنرل ایوب،جنرل یحییٰ خان اور جنرل ضیاء الحق نے بھی آئین توڑا مگر ان میں سے کسی ایک کو ایک گھنٹہ تو کیا ایک سیکنڈ کیلئے بھی قید نہیں کیا گیا، کیوں؟اگر پرویز مشرف غدار تھے تو پھر یوسف رضا گیلانی کے دور میں 24رُکنی وفاقی کابینہ نے ان سے حلف کیوں لیا؟

چونکہ الطاف بھائی نے صلائے عام دی ہے اس لئے میں ان نکات کا جواب دینے کی گستاخی کر رہا ہوں۔ جارج رافیل ویڈیلا ارجنٹائن کے جنرل ہیں جنہوں نے مارچ 1976ء میںجمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔جمہوریت کی بحالی کے بعد ان کی زندگی اسیری میں بسر ہوئی اور جیل میں ہی ان کی موت واقع ہوئی۔ان کے جرائم کی طویل فہرست کے باوجود ارجنٹائن کی عدالتوں نے انہیںانسانی حقوق کی پامالی کے دو مقدمات میں سزا دی۔ اگر ان کا معاملہ ہی پوری طرح جانچ پڑتال کے عمل سے گزرتا تو کئی سال بیت جاتے اور فیصلہ نہ ہو پاتا کیونکہ اس کے دور میں 80ہزار مخالفین قتل ہوئے اور 30ہزار افراد لاپتہ ہو گئے ان دو مقدمات میں شہادتیں اور ثبوت اس معیار کے تھے کہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جا سکتے لہٰذا ہمارے ہاں بھی بیشمار دیگر مقدمات کے بجائے 3نومبر کو آئین شکنی پر ٹرائل کیا جا رہا ہے تو اس میں کیا حرج ہے؟ایک مرتبہ اس مقدمے کا فیصلہ ہو جائے تو پھر 12اکتوبر کا معاملہ نمٹائیں،اس کے بعد ضیاء الحق کو نشان عبرت بنائیں اور گند صاف کرتے چلے جائیں لیکن عقل سلیم کا تقاضا یہ ہے کہ ترتیب نزولی ہو اور سب معاملات کو خلط ملط نہ کیا جائے۔ 3نومبر کا سوال سب سے آسان ہے ،اسے حل ہو لینے دیں پھر رفتہ رفتہ یکے بعد دیگرے بقیہ مشکل سوالات سے بھی نمٹا جا سکتا ہے۔

ایک اور نکتہ یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر پرویز مشرف غدار ہیں تو گزشتہ دور حکومت میں تمام سیاسی جماعتوں کے وزراء نے ان سے حلف کیوں لیا؟ چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی تو اس حد تک چلے گئے کہ ایک آرمی چیف غدار کیسے ہو سکتا ہے لہٰذا غدار کی اصطلاح درست نہیں۔ چوہدری صاحبان کی بات سولہ آنے درست ہے کیونکہ غداری کے لوازمات میں سے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ ملزم بلڈی سویلین ہو۔ چوہدری شجاعت نے یہ بھی کہا ہے کہ آئین کوئی کچی مٹی کی چیز نہیں کہ ٹوٹ جائے لیکن چونکہ یہ فکاہیہ کالم نہیں اس لئے ہم چوہدری صاحب کی شگفتہ اور لطیف باتوں سے آگے بڑھتے ہیں۔ الطاف بھائی گزشتہ برس انتخابات سے قبل اپنے ایک سیاسی ڈرون حملے میں فرما چکے ہیں کہ قائد اعظم نے بطور گورنر جنرل انگریز وائسرائے سےحلف لیاحالانکہ تاج برطانیہ کی حیثیت ایک غاصب،قابض اور جارح کی تھی۔اگر وہ حلف لینے سے انکار کر دیتے تو اقتدار کی منتقلی کا عمل رک جاتا۔ چلی سے نکاراگوا تک جس ملک میں بھی کسی ڈکٹیٹر نے شب خون مارا، وہاں کی سیاسی قیادت نے حکمت و تدبر کے ساتھ پہلے اس سے نجات حاصل کی اور پھر انجام تک پہنچایا۔ اگر شیر پر سوار شخص کو پہلے سے ہی معلوم ہو جائے کہ اترتے ہی اس کی گردن مار دی جائے گی تو وہ ہمیشہ اس کی گردن سے چمٹا رہے۔اگر کوئی بندوق بردار شخص میرے گھر میں گھس جائے تو عقلمندی کا تقاضا یہی ہو گا کہ کسی حیلے بہانے سے اسے باہر نکالوں اور پھر اس کے خلاف مقدمہ درج کرائوں ۔سیاسی فراست و تدبر سے آمریت سے نجات حاصل ہو گئی اب کوئی جبر نہیں لہٰذا اس غاصبانہ قبضے کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہاہے اور غداری کے مرتکب کو مکافات عمل کا سامنا ہے۔سب سے موثر و مدلل اور مضبوط دلیل یہ ہے کہ پرویز مشرف تو ہوائی جہاز میں تھا،جو کچھ بھی کیا زمین پر موجود کور کمانڈرز نے کیا،اگر وہ یہ سب نہ کرتے تو حکومت کا تختہ کیسے اُلٹا جا سکتا تھا؟

اگر اس سوال کو ایک اور انداز میں سامنے لایا جائے کہ اگر کراچی ایئرپورٹ پر قدم رکھتے ہی پرویز مشرف کہتے کہ وزیراعظم کو آئینی طور پر مجھے ہٹانے کا حق حاصل ہے لہٰذا میں یہ فیصلہ تسلیم کرتا ہوں مگر میرے طیارے کو اترنے نہیں دیا گیا، اس مقدمے کو میں سابق آرمی چیف کی حیثیت سے سپریم کورٹ لیکر جائوں گا، تو کیا مارشل لا نافذ ہو سکتا تھا؟ اگر ہو بھی جاتا تو جنرل عثمانی ،جنرل شاہد عزیز یا جنرل محمود غداری کے مرتکب ہوتے،جنرل پرویز مشرف تو صاف بچ نکلتے؟اگر یہ ممکن نہ تھا تو وہ صدر رفیق تارڑ سے کہتے۔آپ آئینی اختیارات کے تحت ایمرجنسی لگائیں اور عبوری حکومت بنائیں تو کیا وہ انکار کرتے؟ اب چند سوالات میں بھی الطاف بھائی سے کرنا چاہتا ہوں ۔ہم کہتے ہیں قائداعظم نے پاکستان بنایا،کیا قائد اعظم نے تن تنہا جدوجہد کی تھی، کوئی اور شریک جدوجہد نہ تھا؟

ہم کہتے ہیں عمران خان نے ورلڈ کپ جیتا، جب بھی ہماری ٹیم کوئی میچ جیتتی ہے تو ٹرافی ہمیشہ کپتان کو ہی ملتی ہے حالانکہ اس کامیابی میں سب کھلاڑیوں کا حصہ ہوتا ہے؟ہمارے جوہری پروگرام کی کامیابی میں سیکڑوں سائنسدانوں کا حصہ ہے مگرہم کہتے ہیں ڈاکٹر قدیر نے ایٹم بم بنایا، آخر کیوں؟ جب ان پر جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا الزام لگا تو بتایا گیا کہ انہوں نے تن تنہا یہ کام سرانجام دیا اور ہم نے مان بھی لیا،آخر کیوں؟ آخر میں ایک عامیانہ سا سوال،کراچی کی سڑکوں پر کتنے افراد ٹریفک قوانین توڑتے ہیں مگر پولیس سب کو سزا نہیں دے پاتی،صرف انہیں پکڑا جاتا ہے جو موقع واردات پر رنگے ہاتھوں پکڑے جائیں ،یہ امتیازی سلوک کیوں؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.