.

بھارتی آرمی چیف کا بیان: امن کی منزل مزید دور

حسن اقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چوبیس دسمبر 2013ء کی پاکستان بھارت ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی ملاقات نے بہت اچھا تاثر قائم کیا۔ طویل عرصے کے بعد ہونے والی اس ملاقات میں بہت اچھے فیصلے کیے گئے اور پرانے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے بھی رضا مندی کا اظہار کیا گیا۔ اس ملاقات کے بعد لائن آف کنٹرول اور سرحدوں پر بھی مثبت صورت حال نظر آئی لیکن اچانک بھارتی آرمی چیف نے آرمی ڈے یعنی 15 جنوری سے ایک روز قبل پریس کانفرنس کی۔ ان کی ساری توجہ پیشہ وارانہ امور کی بجائے پاکستان کی طرف لائن آف کنٹرول پررہی۔ ان کی پریس کانفرنس کو ’’متحارب خطاب‘‘ کے طور پر محسوس کیا گیا اس میں بلا وجہ اس بات کا اعادہ کیا کہ جو کوئی بھی لائن آف کنٹرول کو عبور کرنے کی کوشش کرے گا اس پر فائر کھول دیا جائے گا حالانکہ یہ تمام معاملات کئی بار سفارتی اور فوجی سطح پر طے ہو چکے ہیں کہ لائن آف کنٹرول کا احترام کیا جائے گا۔

پاکستان نے ہمیشہ لائن آف کنٹرول کا احترام کیا ہے اور حالیہ ملاقات میں یہ حقیقت واضح کی گئی تھی کہ پاکستان کسی صورت میں لائن آف کنٹرول کو نہیں توڑے گا۔ ایسی صورت حال میں بقول پاکستانی ترجمان ’’بھارتی آرمی چیف کا بیان نہ صرف متحارب ہے بلکہ حقائق سے ہٹ کر ہے‘‘ ایسے بیانات واقعی امن کی کوششوں کے لیے خطرہ ہیں۔ ان سے امن کے لیے جاری کوششوں کو دھچکا لگتا ہے اور درست سمت میں اٹھائے ہوئے قدم ڈگمگانے لگتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان بھارت کی صورت حال شروع ہی سے امن کے لیے ساز گار نہیں رہی۔ اس کی وجوہات کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔ ان وجوہات میں ٹھوس حقائق سے لے کر غلط فہمیوں کی حد تک معاملات شامل ہیں۔ پاکستان کی طویل کوششوں اور جدوجہد کے باوجود بھارت نے ان ٹھوس معاملات کو حل کرنے کے لیے مثبت کردار ادا نہیں کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معاملات مزید بگڑتے چلے گئے۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ کشمیر ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے باوجود بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری نہیں کرائی۔ اب عام آدمی پارٹی جس نے دہلی میں صرف دو سال کی جدوجہد کے نتیجے میں بڑی اکثریت حاصل کی ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر کے مقبوضہ حصے میں بھارتی فوجیں رکھنے کے معاملے پر رائے شماری کرائی جائے تو متعصب ہندوؤں نے دہلی میں ان کا مرکزی دفتر توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت خطے میں صورت حال کو بہتری کی طرف نہیں لے جانا چاہتا۔

خطے میں بھارت کے کردار کو خاص طور پر امن کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ بھارت نے کسی بھی پڑوسی ملک کے ساتھ بہتر تعلقات نہیں رکھے اور ہمیشہ تناؤ کی کیفیت کو جاری رکھنے کو ترجیح دی ہے۔ چین جیسے بڑے ملک سے لے کر نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش تک تمام ممالک سے کسی نہ کسی مسئلے پر دست و گریبان ہے۔ خاص طور پر چین کے ساتھ تو باقاعدہ سرحدی جنگ لڑی جا چکی ہے۔ پاکستان کے ساتھ بھی کئی جنگیں ہو چکی ہیں اور سرحدی جھڑپوں کا لامتناہی سلسلہ ماضی میں جاری رہا ہے۔ اس پس منظر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کسی طرح بھی پڑوسی ملکوں سے امن کا خواہاں نہیں ہے۔ بھارت کی طرف سے اسلحے کی سالانہ خریداری اور میزائلوں کی دوڑ اس بات کا بین ثبوت ہے۔

خاص طور پر حالیہ جمہوری حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک بھارتی حکومت سے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے سعی مسلسل جاری رکھی ہوئی ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے بھارتی وزیر اعظم سے امریکہ میں ملاقات بھی کی اور انہیں پاکستان کے دورے کی پر خلوص دعوت دی۔ اس کے بعد پاکستانی پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے بھی بھارتی پنجاب کا دورہ کیا۔ وزیراعظم بھارت سے بھی ملاقات کی۔ پاکستان کی امن کوششوں کا اعادہ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک بار پھر وزیراعظم بھارت کو پاکستان کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی لیکن ان تمام تر سیاسی کوششوں، سفارتی رابطوں کے باوجود وزیراعظم بھارت نے پاکستان کے دورے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے طویل عرصے سے التوا میں پڑی ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی ملاقات بھی کروائی گئی۔ لیکن ان تمام تر پاکستانی کوششوں کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ بھارت آج بھی تعلقات کو بہتر کرنے کا خواہاں نہیں ہے اور خاص طور پر آرمی چیف کی حالیہ بات چیت معاملات کی منفی سمت لے جانے کی کوشش ہے۔ ماضی قریب میں فوجی کمانڈروں کی ملاقات سیاسی اور سفارتی سطح پر جو مثبت رابطے ہوئے تھے ان کے تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایک عرصے سے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارت اپنے چار سفارت خانوں اور کونسل خانوں کی مدد سے افغانستان کی طرف سے پاکستان میں مختلف گروپوں کو اسلحہ، تربیت، رقم اور معلومات فراہم کر رہا ہے۔ اب جبکہ یہ گروپ پاکستانی حکومت کے مختلف سیاسی اقدامات سے اپنی وقعت کھو رہے ہیں تو ان کی طرف سے اسلحہ اور بارود کے ساتھ ساتھ ایسا تحریری مواد بھی مل رہا ہے جس میں پاکستان کے خلاف مختلف طریقوں سے زہر اگلنے کی کوشش جاری تھی۔ اس تحریری مواد کو نوجوانوں کے درمیان تقسیم کر کے ملک کے خلاف نفرت کی لہر دوڑائی جا تی رہی۔ اس قسم کا مواد حال ہی میں تربت کے علاقے سے بھی ملا ہے۔ اس سے اندازہ بلکہ یقین کی حد تک کہ بھارت صرف مشرقی سرحد ہی نہیں بلکہ اب مغربی سرحد پر بھی نبرد آزماد ہے اور خاص طور پر امریکی فوجی کی 2014ء میں روانگی کے بعد خواہش مند ہے کہ افغانستان پر اپنے تسلط کو مضبو کرے تا کہ خطے میں اپنے دیرینہ منصوبوں پر عمل کر سکے لیکن موجدہ افغانستان کی صورت حال شاید مستقبل میں بھارت کو ان عزائم کی تکمیل کے لیے سازگار حالات مہیا نہ کر سکے۔

بھارتی آرمی چیف کے بیان نے خطے کی صورت حال میں ایک بار پھر ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ امن کی طرف رواں دواں حالات کو دھچکا لگا ہے۔ امن کے لیے کام کرنے والوں کے ذہن منتشر ہونے لگے ہیں۔ امن کے لیے جاری منصوبہ بندی بھی مختلف نوعیت کے دو راہے پر آ کر کھڑی ہو گئی ہے۔ بھارت کو یہ سوچنا چاہیے کہ خطے کا امن دونوں ممالک کے لیے کس قدر اہم ہے۔ دونوں ممالک معاشی طور پر غریب ہیں جہاں کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے رہ رہے ہیں اور روزانہ لاکھوں لوگ مزید غربت کا شکار ہو رہے ہیں۔ اگر اس طرح کی سازشیں امن کے عمل کو نقصان پہنچاتی رہیں گی تو دونوں ملک غربت کی دلدل سے باہر نہیں آ پائیں گے۔ اس طرح بھارت اسلحے کے انبار لگا کر اپنے غریب عوام کی کس طرح سے خدمت کرے گا۔ ان کی غربت کیسے دور ہو پائے گی۔ اس خطے کی خوشحالی امن میں مضمر ہے اور امن کے لیے دونوں ممالک کو مل کر چلنا ہو گا اور اگر بھارت کے آرمی چیف جیسے بیانات آئیں گے تو امن کی منزل مزید دور ہوتی چلی جائے گی۔

بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.